صحیح اور موضوع احادیث میں فرق کیسے کیا گیا؟ محدثین کی تحقیقی خدمات

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلتہ الشیخ عبدالسلام رُستمی کی کتاب انکار حدیث سے انکار قرآن تک سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

چودھواں شبہ: موضوع احادیث کی عدم معرفت

منکرین حدیث کا ایک بڑا اعتراض یہ ہے کہ موضوع روایات اقوال رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یوں خلط ملط ہو چکی تھیں کہ حق کو باطل سے الگ کرنا ناممکنات میں سے تھا۔ حافظ اسلم نے یہ بھی اضافہ کیا ہے کہ وضاعین اشخاص نے ناقدین حدیث اور ماہرین اسماء الرجال کی گرفت سے بچنے کے لیے ایسا بھی کیا کہ سند میں مشہور ثقہ راویوں کے نام درج کر دیے تھے۔ اس طریقہ سے وہ وضعی روایات بھی قبولیت کا درجہ حاصل کر لیتی تھیں۔
مقام حدیث ، ص : 155

جواب:

اس میں تین مباحث ہیں:
➊ وضع حدیث کی حکمت
➋ وضع حدیث کی ابتدا اور اس کے اسباب
➌ موضوع روایات کی چھان بین میں علمائے امت کی محنت

وضع حدیث کی حکمت

وضع حدیث کی ایک بڑی حکمت یہ ہے کہ یہ حجیت حدیث کے لیے بہت بڑی دلیل ہے کیونکہ حدیث حجت نہ ہوتی تو حدیث گھڑنے والا شخص کس مقصد کے لیے حدیث وضع کرتا۔ اس کی مثال یہ ہے کہ ملک میں رائج الوقت کرنسی کی اہمیت ہوتی ہے تو جعلی کرنسی بنانے والا اس کے مقابلے میں اپنی جعلی کرنسی لاتا ہے۔ رائج الوقت کرنسی کی ضرورت و اہمیت نہ ہو تو پھر جعلی کرنسی بنانے والا یہ زحمت کیوں اٹھائے۔ معلوم ہوا کہ جب سے وضع حدیث کا کام شروع ہوا، اس وقت سے پہلے ہی مسلمانوں کے نزدیک حدیث حجت چلی آ رہی ہے۔
اس میں دوسری حکمت یہ ہے کہ جب وضع حدیث شروع ہوئی اسی وقت تحقیق حدیث کی جدوجہد شروع ہوئی اور جیسے وضع حدیث میں تیزی آتی گئی ویسے ہی نقد حدیث میں شدت پیدا ہو گئی۔ علم اسماء الرجال اور راویوں کے متعلق جرح و تعدیل کی بحثیں شروع ہوئیں اور موضوع احادیث کو الگ کیا گیا اور جنہوں نے یہ محنت کی ان کے لیے یہ محنت اجر عظیم کا باعث بن گئی۔

وضع حدیث کی ابتدا اور اس کے اسباب

وضع حدیث کا ایک واقعہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں رونما ہوا تھا۔ بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مدینہ سے دو میل کے فاصلے پر بنو حارث کا ایک ذیلی قبیلہ آباد تھا۔ اس قبیلے کے ایک شخص نے دور جاہلیت میں کسی شخص کو اس کی بیٹی کے لیے پیغام نکاح بھیجا تو قبیلے والوں نے انکار کر دیا، پھر وہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لباس جیسا لباس پہن کر ان کے پاس آیا اور انہیں کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور نشانی یہ لباس پہنا کر تمہارے پاس بھیجا ہے تا کہ میں تمہارے مالوں اور جانوں کے متعلق فیصلہ کروں، پھر وہ شخص اس عورت کے پاس گیا جسے پیغام نکاح بھیجا تھا تا کہ زبردستی اس سے نکاح کر لے۔ اس قبیلے والوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قاصد بھیجا اور اس نے پورا واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو آپ نے فرمایا: ”اللہ کے اس دشمن نے جھوٹ بولا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص بھیجا اور اسے فرمایا: ”اگر تم اس شخص کو زندہ پاؤ تو اسے قتل کر دینا اور اگر مردہ پاؤ تو اسے جلا دینا۔“ جب وہ شخص وہاں پہنچا تو اس نے دیکھا کہ ایک بڑے سانپ نے اسے ڈس لیا تھا جس سے وہ ہلاک ہو چکا تھا، چنانچہ اس قاصد نے اسے جلا دیا۔ اس وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من كذب على متعمدا فليتبوأ مقعده من النار
”جو شخص عمداً مجھ پر جھوٹ باندھے تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔“
اس واقعے کے بغیر یہ حدیث صحیح بخاری میں موجود ہے۔ صحیح البخاري، العلم، باب إثم من كذب على النبي صلى الله عليه وسلم ، حدیث : 110 اور یہ واقعہ الموضوعات الكبرى لملا علي قاري، ص : 4 میں ہے۔ جبکہ اس معنی کی ایک حدیث المعجم الأوسط للطبراني : 568/1 ، حدیث : 2091 میں بھی ہے۔
اس واقعے سے معلوم ہوا کہ وضع احادیث کی ابتداء نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے ہوئی تھی لیکن اس سے تقریباً بیس سال بعد عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت کے آخر میں یہ فتنہ اجتماعی صورت میں نمودار ہوا۔ اس فتنے کا سرغنہ عبد اللہ بن سبا یہودی تھا جس نے اسلام کا دعویٰ کیا لیکن اس نے اپنی طرف سے کچھ غلط عقیدے وضع کیے اور اپنے عقائد پھیلانے کے لیے اس نے کوفہ، بصرہ، شام اور مصر کا رخ کیا کیونکہ وہاں کے باشندے نئے نئے مسلمان ہوئے تھے۔ مصر میں بالخصوص عبد اللہ بن سبا کی تحریک کامیاب ہوئی۔ اس نے علی رضی اللہ عنہ کے متعلق کہا کہ خلافت کے حقیقی حق دار تو علی رضی اللہ عنہ ہوتے ہیں۔ اسی فتنے کی وجہ سے عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا۔ اسی ٹولے کی سازشوں کی وجہ سے جنگ جمل اور جنگ صفین ہوئیں اور مسلمان دو فرقوں میں تقسیم ہو گئے۔ بعض شیعان علی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خدا کا درجہ دے دیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان زندیقوں کو آگ میں جلا دیا تو انہوں نے کہا: ہم صحیح کہتے تھے کہ علی رضی اللہ عنہ خدا ہیں کیونکہ خدا اپنے بندوں کو آگ میں جلانے کا اختیار رکھتا ہے۔ خوارج نے علی رضی اللہ عنہ کی تنقیص کی یہاں تک کہ وہ انہیں کافر سمجھنے لگے، پھر ان دونوں فریقوں نے اپنی حقانیت ثابت کرنے کے لیے احادیث بنانا شروع کر دیں۔ پہلے فریق نے علی رضی اللہ عنہ کی تعریف میں غلو سے کام لے کر احادیث وضع کر کے علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کیں۔ اسی طرح انہوں نے ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما کی تنقیص اور ان کو غاصب ثابت کرنے کے متعلق احادیث، علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کر کے وضع کیں، البتہ خوارج نے وضع حدیث میں بہت کم حصہ لیا۔
اس کے بعد جتنے مبتدعین پیدا ہوئے انہوں نے اپنے بدعی عقائد و اعمال کے اثبات اور پرچار کے لیے اپنی طرف سے احادیث وضع کیں۔

موضوع روایات کی چھان بین کے بارے میں علمائے امت کی محنت

سب سے پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے سبائیوں کی تکذیب میں واضح الفاظ میں فرمایا:
مالي ولهٰذا الخبيث الأسود ۖ معاذ الله أن أضمر لهما إلا الحسن الجميل
”مجھے اس کالے خبیث (ابن سبا) سے کیا سروکار۔ اللہ کی پناہ! کہ میں ان دونوں (ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما) کے حق میں اچھی بات کے سوا کچھ کہوں۔“
آپ رضی اللہ عنہ یہ فرما کر منبر پر تشریف لائے حتیٰ کہ لوگ اکٹھے ہو گئے، پھر انہوں نے ان دونوں کی مدح میں ایک لمبا واقعہ بیان کیا۔
لسان الميزان : 344/3
نیز آپ رضی اللہ عنہ نے سبائی فرقے کے متعلق مندرجہ ذیل سخت کلمات فرمائے:
قاتلهم الله أى عصابة بيضاء سودوا و أى حديث من حديث رسول الله صلى الله عليه وسلم أفسدوا
”اللہ تعالیٰ ان (سبائیوں) کو غارت کرے۔ انہوں نے کتنی روشن جماعت (امت مسلمہ) کو سیاہ کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کتنی احادیث کو خراب کر دیا۔“
تذكرة الحفاظ : 15/1
اس طرح کے واقعات کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے موضوع احادیث کے مقابلے میں صحیح احادیث کی عام تشہیر کا پختہ عزم کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کی تلوار کی نیام میں زکاۃ، دیت اور فرائض کے احکام پر مشتمل جو صحیفہ پڑا ہوتا تھا اس کی اشاعت کی اور اپنے ساتھیوں کو اس کے لکھنے کی ترغیب دی تا کہ لوگ اس میں مشغول ہو کر موضوع احادیث سے توجہ ہٹا لیں۔
مزید برآں علماء نے موضوع احادیث پہچاننے کے لیے ایک ایسا معیار بتایا ہے جس کے پہچاننے سے حدیث کا موضوع ہونا معلوم ہو جاتا ہے۔ علامہ ابن الجوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
كل حديث يخالف العقول ويناقض الأصول فاعلم أنه موضوع
”ہر وہ حدیث جو عقل کی مخالفت کرتی ہو اور اصول شرعیہ کی مخالف ہو تو جان لو کہ وہ حدیث موضوع ہے۔“
أو يكون مما يدفعه الحس والمشاهدة أو مباينا لنص من الكتاب والسنة المتواترة أو الإجماع القطعي حيث لا يقبل شيء من ذٰلك التأويل
”یا وہ (موضوع حدیث) ایسی ہو کہ حس و مشاہدہ اسے قبول نہ کرتا ہو، یا وہ قرآن کریم کے کسی حصے اور سنت متواترہ یا قطعی اجماع، جس کی تاویل کی کوئی گنجائش نہ ہو، کی مخالف ہو۔“ ( تو سمجھو کہ وہ روایت موضوع ہے)
فتح الملهم : 43/1
اموی خلیفہ عبد الملک بن مروان خود بھی محدث تھے، انہوں نے کہا: ”ہم پر مشرق (عراق، کوفہ، بصرہ وغیرہ) کی طرف سے احادیث کا سیلاب آ گیا جنہیں ہم پہچانتے نہیں۔“
الطبقات الكبرى لابن سعد : 233/5
نیز انہوں نے موضوع احادیث کے سیلاب کو روکنے کے لیے مشہور وضاع حارث بن سعید کذاب کو تختہ دار پر لٹکا دیا۔ ان کے بیٹے ہشام بن عبد الملک نے اسی جرم کی وجہ سے غیلان دمشقی کو قتل کر دیا۔ اس کے بعد بنو امیہ کے مشہور گورنر خالد بن عبد اللہ القسری نے ایک شخص کو وضع حدیث کے جرم میں قتل کیا۔
اس کے بعد عباسی خلفاء کے دور میں وضع حدیث کے خلاف بھرپور طریقے سے جہاد شروع کیا گیا۔ ابو جعفر منصور عباسی نے اس جرم کی پاداش میں محمد بن سعید کو سولی پر چڑھایا۔
یہ تمام واقعات آئینہ پرویزیت ، ص : 594 میں موجود ہیں
محمد بن سلیمان عباسی نے مشہور وضاع ابن ابی العوجاء کو قتل کیا۔
قاضی اسماعیل بن اسحاق نے پیشم بن سہل کو اس وجہ سے خوب مارا کہ وہ موضوع روایات بیان کر رہا تھا۔
بعد کے ادوار میں جب موضوع روایات کا بازار گرم ہوتا رہا تو علمائے حق نے اس کے مقابلے کے لیے ایسے طریقے اختیار کیے جن کے سامنے وضع حدیث کارگر ثابت نہ ہو سکی۔ وہ دو قسم کے طریقے ہیں:
➊ نظری طریقہ
➋ عملی طریقہ

نظری طریقہ

نظری طریقے میں ایک قسم کا تعلق متن حدیث کے ساتھ متعلق ہے جس کے لیے انہوں نے گیارہ اصول مقرر کیے ہیں جن سے موضوع روایات پہچانی جا سکتی ہیں:
➊ عقل کے خلاف ہو۔
➋ مشاہدے کے خلاف ہو۔
➌ قرآن کی قطعی دلالت والی نص یا متواتر حدیث یا اجماع کے خلاف ہو۔
➍ عذاب و ثواب میں بے حد مبالغہ ہو۔
➎ ایسا تاریخی واقعہ جو بڑے مجمع میں ہوا ہو لیکن اسے صرف ایک ہی راوی نقل کرے جبکہ دوسرے لوگ اس سے بے خبر ہوں۔
➏ نسلی اور قومی تعصبات کے متعلق احادیث۔
➐ فرقہ وارانہ روایات۔
➑ مستند تاریخ کے خلاف ہو۔
➒ راوی کا غیر طبعی طویل عمر کا دعویٰ ہو۔
➓ کشف اور خواب پر مبنی روایات۔
⓫ الفاظ یا معانی کی رکاکت درج ہو۔
یہ وہ اصول ہیں جو وضع حدیث پر دلالت کرتے ہیں۔ ان اصولوں میں خلاف عقل سے مراد یہ ہے کہ وہ تمام اہل عقل کی عقل کے خلاف ہو۔ یہ نہیں کہ منکرین حدیث کے چند افراد کی عقل کے خلاف ہو کیونکہ وہ تو صحیح احادیث کو بھی اپنی ناقص عقل کی بنا پر رد کر دیتے ہیں۔
مندرجہ بالا گیارہ اصول مولانا عبدالرحمن کیلانی رحمہ اللہ نے مثالوں کے ساتھ بیان کیے ہیں۔
آئینہ پرویزیت، ص: 597-599
نظری طریقہ کی دوسری قسم اسناد کے متعلق ہے۔ اس کے لیے علمائے سلف نے چار بڑے علوم میں جدوجہد کر کے اسانید کی چھان بین کرنے کے لیے راستہ ہموار کیا ہے:
● علم الجرح والتعدیل
● علم التاریخ والرواة
● معرفة الصحابة والتابعین
●علم الأسماء والكنى
اور علمائے سلف نے ان علوم میں بڑی بڑی کتابیں تالیف کی ہیں۔

عملی طریقہ

محدثین نے وضاعین کے ناموں کی فہرستیں تیار کی ہیں اور موضوعات کے لیے مستقل کتابیں تالیف کی ہیں۔ ابن جوزی، سیوطی، ملاعلی قاری اور شوکانی رحمہم اللہ ایسے علماء ہیں جنہوں نے موضوع روایات کے متعلق مستقل کتابیں تالیف کی ہیں۔ موجودہ دور میں فضیلۃ الشیخ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس موضوع پر تاریخی خدمت سرانجام دی ہے۔ اکثر محدثین نے اپنی کتابوں میں حدیث کے ساتھ اس کی اسنادی حیثیت جیسے صحیح، حسن، ضعیف اور موضوع وغیرہ بیان کرنے کے ساتھ ساتھ ان راویوں کا بھی ذکر کیا ہے جن پر کوئی کلام ہو یا وہ کذاب یا وضاع ہوں۔
اس تفصیل کے بعد منکرین حدیث کا یہ شبہ، بلکہ بہانہ بالکل باطل قرار پاتا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ موضوع احادیث صحیح احادیث کے ساتھ اس طرح خلط ملط ہوئی ہیں کہ ان کے درمیان فرق کرنا مشکل ہو گیا ہے، یا کسی راوی نے اپنی موضوع روایت کے لیے ثقہ راوی کی سند بیان کی ہو۔ سابقہ تفصیل سے معلوم ہوا کہ منکرین حدیث کے اس طرح کے بہانے اب مسلمانوں کے ہاں نہیں چل سکتے۔