احادیث کی تعداد اتنی زیادہ کیوں ہے؟ کثرتِ حدیث کی حقیقت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلتہ الشیخ عبدالسلام رُستمی کی کتاب انکار حدیث سے انکار قرآن تک سے ماخوذ ہے۔

تیرہواں شبہ: کثرت احادیث

کثرت احادیث کے متعلق منکرین حدیث اپنے زعم میں یہ اعتراض نہایت شد و مد کے ساتھ کرتے ہیں کہ محدثین نے احادیث کا اتنا بڑا ذخیرہ کہاں سے حاصل کیا، پھر کہتے ہیں کہ محدثین نے اس ذخیرہ احادیث کا 95 فیصد موضوع قرار دے کر رد کر دیا اور باقی پانچ فیصد میں اتنا اختلاط ہے کہ اس کا الگ الگ کرنا کسی انسان کے بس کا کام نہیں۔

جواب:

ان لوگوں کا پہلا تعجب کثرت احادیث پر ہے جسے وہ انکار حدیث کا سبب بنا رہے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے خود ساختہ دعویٰ کیا ہے کہ ان میں سے 95 فیصد موضوع روایات ہیں۔ پہلی بات کا جواب یہاں عرض کیا جاتا ہے جبکہ دوسری بات کا جواب ان شاء اللہ چودھویں شبہ کے جواب میں دیا جائے گا۔
کثرت احادیث عقل کے لحاظ سے کوئی تعجب کی بات نہیں، علامہ فضل احمد غزنوی نے لکھا ہے کہ ماہرین لسانیات تسلیم کرتے ہیں کہ ایک شخص روزانہ اوسطاً 36 ہزار کلمات بولتا ہے۔
صحیح مقام حدیث
پرویزی اور دیگر منکرین حدیث سائنس دانوں کی بات کو قرآن و حدیث سے بھی زیادہ قوی سمجھتے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نبوت کی 23 سالہ زندگی کے شب و روز دعوت و تبلیغ میں صرف کیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے 36 ہزار روزانہ کلمات کے حساب سے 23 سال کے کلمات کا اندازہ لگائیں تو یہ 29 کروڑ 80 لاکھ اور 80 ہزار کلمات بنتے ہیں۔ صحابہ کرام رضي اللہ عنہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و احوال کو حفظ کیا اور کتابت و روایت کے ذریعے سے انہیں محفوظ رکھا تو اس میں کون سی حیرت کی بات ہے۔ لہذا کثرت احادیث سے انکار کرنا بے دینی کے علاوہ بے عقلی کی بھی انتہا ہے۔

کثرت احادیث کے اسباب

➊ کثرت احادیث کے اسباب میں سے بنیادی سبب ایک ہی متن کے لیے کئی سندوں کا ہونا ہے۔ متن حدیث ایک ہوتا ہے لیکن مختلف راویوں کے بیان کرنے اور سندوں کی کثرت سے وہ ایک ہی حدیث محدثین کی اصطلاح میں کئی حدیثیں شمار ہوتی ہیں۔
علاوہ ازیں محدثین کے نزدیک حدیث کا مفہوم عام ہے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مرفوع احادیث اور صحابہ کرام رضي اللہ عنہم کے موقوف آثار کو بھی حدیث کہتے ہیں بلکہ بعض تو تابعین کی مقطوع روایات کو بھی حدیث کہتے ہیں، اس طرح احادیث کی کثرت کی انتہا نہیں ہو سکتی۔ خاص طور پر بعض مسانید اور مصنفات، جیسے مصنف ابن ابی شیبہ اور مصنف عبد الرزاق وغیرہ میں تو مرفوع، موقوف اور مقطوع سب روایات جمع کی گئی ہیں۔
➋ جب صحابہ کرام رضي اللہ عنہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مرفوع روایات کو عمل میں لائے اور وہ ان روایات کی کیفیات و تفصیلات لکھنے لگے تو ان تھوڑے تھوڑے ارشادات سے بڑے بڑے دفاتر بن گئے۔ یہ احادیث موقوف عملی ہیں۔
➌ محدثین نے موضوع احادیث کی اسناد اور طرق یاد رکھے اور انہیں اپنی کتابوں میں جمع کیا تا کہ لوگوں کو بتایا جائے کہ یہ احادیث موضوع ہیں اور وہ ان پر عمل کرنے سے اجتناب کریں تو ایسی روایات بھی جمع کرنے سے احادیث کی کثرت ہو گئی۔ اگرچہ وہ موضوع روایات فی نفسہ احادیث نہیں۔