فہم قرآن کے لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حدیث نبوی کے محتاج تھے
باب دوم میں مذکور اللہ تعالیٰ کے فرمان:
وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ
”ہم نے آپ کی طرف ذکر (قرآن) نازل کیا تا کہ آپ لوگوں کے سامنے بیان کریں جو کچھ ان کی طرف نازل کیا گیا۔“
(16-النحل:44)
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ احادیث صحیحہ قرآن کریم کی شرح ہیں، یعنی متن سمجھنے میں انسان شرح کا محتاج ہوتا ہے، لہذا تمام اہل قرآن، قرآن سمجھنے کے لیے احادیث کے محتاج ہیں۔ اس باب میں یہ بتانا مقصود ہے کہ صحابہ کرام نے قرآن کے فہم اور تفسیر کے لیے نبی کریم کی طرف رجوع کیا، حالانکہ ان کی زبان بھی عربی تھی اور ان کی عقل بھی باقی امت کی نسبت کامل تھی اور أولٰئك هم الراشدون ”وہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔“ (49-الحجرات:7) کی صفت سے بھی متصف تھے۔ اس کے لیے چند مثالیں پیش خدمت ہیں:
➊ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی:
وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ
”اور ان لوگوں کو جو اللہ کی راہ میں مارے گئے ہیں، مردہ خیال نہ کرو بلکہ وہ زندہ ہیں اور انھیں ان کے رب کے ہاں رزق دیا جاتا ہے۔“
(3-آل عمران:169)
آیت کا ظاہر لغت اور عقل کے لحاظ سے مراد نہیں لیا جا سکتا کیونکہ جو شخص قتل کیا جائے وہ لازماً مر جاتا ہے اور مرنے کے بعد اس میں زندگی کا احساس باقی نہیں رہتا وہ کھا پی نہیں سکتا تو اللہ تعالیٰ نے یہ کیسے فرمایا کہ انھیں مردہ مت سمجھو بلکہ وہ زندہ ہیں اور انھیں روزی دی جاتی ہے۔ اہل لغت اور اہل عقل اسے سمجھنے سے عاجز ہیں، اسی لیے صحابہ کرام میں سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی کریم سے اس آیت کے متعلق استفسار کیا، پھر تابعین میں سے (مسروق رحمہ اللہ) نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ یہاں زندہ ہونے اور روزی دیے جانے کا کیا مفہوم ہے تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم نے فرمایا: ”ان کی ارواح جنت میں سبز پرندوں کے اندر ہیں اور وہ جنت میں کھاتے پھرتے ہیں۔“
( صحیح مسلم، الإمارة، بيان أن أرواح الشهداء حديث: 1887)
معلوم ہوا کہ یہ برزخی زندگی ہے جس کا عقل انکار نہیں کر سکتی، اسی لیے فرمایا: ولٰكن لا تشعرون لیکن تم نہیں سمجھتے۔ (2 – البقرة: 154) پس یہ حدیث قرآن کے لیے واضح تفسیر ہے۔
اس کے علاوہ بعض دوسری آیات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ برزخ کا زمانہ موت سے لے کر حشر تک کا زمانہ ہے۔ اس مدت کی مقدار اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے۔ یہ زمانی دوری (بعد) کے ساتھ مکانی بھی ہے، کیونکہ اس حالت میں بدن ایک جگہ ہوتا ہے اور روح دوسری جگہ اور یوم حشر دونوں کو اکٹھا کیا جائے گا لیکن پرویز صاحب کے استاد حافظ اسلم کی متضاد تحریروں میں عذاب قبر سے انکار کی کوشش کی گئی ہے۔ فرماتے ہیں:
برزخ کی مدت مرنے والوں کی موت سے لے کر حشر تک ہے کہ وہ اس میں اپنے رب کی حضوری سے آڑ میں رکھے جائیں گے اور جب حشر ہوگا تو اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر کر دیے جائیں گے۔
(قرآنی فیصلے ، ص: 312)
پھر اس نظریے سے انحراف کر کے لکھتے ہیں کہ موت اور حشر میں مردوں کے لیے فصل (دوری) زمانی نہیں ہے۔
( قرآنی فیصلے، ص: 318)
پھر لکھتے ہیں: اہل برزخ کو زمانے کا مطلق احساس نہیں، اس لیے یہ سمجھنا چاہیے کہ مرنے والے کے لیے موت ہی کا دن حشر کا دن ہے۔
( قرآنی فیصلے، ص: 322)
پھر عذاب قبر پر اعتراض کرتے ہوئے لکھتے ہیں: یہاں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں انصاف ہے یہ کیونکر جائز ہو سکتا ہے کہ جس نے حضرت نوح علیہ السلام کا انکار کیا وہ پانچ ہزار سال پہلے سے عذاب میں ہے اور برزخ میں جلے اور جس نے محمد کریم کا انکار کیا وہ پانچ ہزار یا دس ہزار برس بعد۔
( قرآنی فیصلے میں : 324)
یہ متضاد نظریہ ہے اور اس کا مقصد عذاب قبر اور انعام قبر سے انکار کرنا ہے جو معتزلہ (پرانے منکرین حدیث) کا عقیدہ ہے۔
➋ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُم بِظُلْمٍ أُولَٰئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُم مُّهْتَدُونَ
”وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور انھوں نے اپنے ایمان کو ظلم (شرک) کے ساتھ آلودہ نہیں کیا تو انھی کے لیے امن ہے اور یہی صحیح راستے پر ہیں۔“
(6-الأنعام:82)
اس آیت میں لفظ ظلم کا ذکر ہے چونکہ عربی لغت اور عرف میں ظلم کے معنی میں بڑی وسعت ہے۔ خلاف اولیٰ بلکہ اجتہادی خطا سے لے کر کفر اور شرک تک اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے عذاب سے بچنے اور صحیح راستے پر ہونے کے لیے ایسے ایمان کو شرط قرار دیا ہے جس کے ساتھ ظلم کی آمیزش نہ ہو۔ اس پر صحابہ کرام نے سمجھا کہ یہاں ظلم اپنے عام مفہوم میں استعمال ہوا ہے اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ انبیاء علیہم السلام کے سوا کوئی شخص بھی گناہ سے معصوم نہیں، لہذا صحابہ کرام کو خطرہ لاحق ہوا کہ ہم سے گناہ سرزد ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ہمیں امن اور ہدایت نہیں ملے گی۔ ان کی اس فکر مندی کے پیش نظر رسول اللہ نے انھیں سمجھایا کہ یہاں ظلم سے ایک خاص قسم، یعنی ظلم عظیم مراد ہے جو کہ شرک ہے، جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ
”بلاشبہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔“
(31-لقمان:13)
(صحيح البخاري ، أحاديث الأنبياء، باب قول الله تعالى واتخذ الله إبراهيم خليلا ، حديث: 3360 ، وصحيح مسلم، الإيمان، باب صدق الإيمان وإخلاصه، حدیث: 124 )
یعنی یہاں ظلم سے مراد شرک ہے، لہذا ایسا ایمان جس کے ساتھ شرک کی آمیزش نہیں ہوگی وہ باعث امن ہے اور امن سے مراد یہ ہے کہ دائمی عذاب اور جہنم سے بچنا۔ صحابہ کرام اگر چہ اہل زبان تھے لیکن انھوں نے بھی لفظ ظلم کی وضاحت کے لیے نبی کریم کی حدیث (وحی خفی) کی طرف رجوع کیا تو انھیں اس کی حقیقت سمجھ میں آئی۔ جبکہ پرویز صاحب اور ان کے ہم خیال عجمی ہیں انھیں تو عربی لغت اور گرامر پر بھی عبور حاصل نہیں اور عقل بھی ناقص ہے تو پھر ایسے لوگ حدیث کے بغیر قرآن کریم کیسے سمجھ سکتے ہیں۔ اور انھوں نے جو فہم قرآن کا دعویٰ کیا ہے وہ تفسیر نہیں بلکہ تحریف معنوی ہے جو یہودیوں کا پیشہ ہے۔
➌ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا
”اے ایمان والو! تم بھی اس (رسول کریم) پر درود و سلام بھیجو۔“
(33-الأحزاب:56)
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں پر واجب قرار دیا ہے کہ وہ نبی کریم پر صلاۃ وسلام پڑھیں۔ لفظ صلاۃ قرآن کریم میں مختلف معانی میں استعمال ہوا ہے:
● دعا کے معنی میں (التوبہ9 : 103)
● نماز جنازہ پڑھنا (التوبہ 84:9)
● دعا (ھود 87:11)
● اہتمام شان اور تعظیم کرنا (الأحزاب 56:33)
● انزال رحمت (الأحزاب 43:33)
● درود پڑھنا (الأحزاب 56:33)
جبکہ اس آیت میں صلاۃ کا تعلق نبی کریم کے ساتھ ہے کیونکہ علیہ میں ضمیر آپ کی طرف لوٹتی ہے۔ تو صلاة على النبى کا معنی نبی کریم کے لیے خاص دعا کرنا ہے جس کا عرف میں ترجمہ درود کیا جاتا ہے۔ صحابہ کرام صلوا عليه کا مطلب تو سمجھتے تھے لیکن اس کے الفاظ کیا ہوں، اس ابہام کو دور کرنے کے لیے صحابہ کرام نے نبی کریم سے درخواست کی کہ ہم نے سلام پڑھنے کا طریقہ تو آپ سے سیکھ لیا لیکن صلاۃ پڑھنا ہم نہیں جانتے، لہذا وہ ہمیں سکھلا دیں تو نبی کریم نے انھیں درود کے وہ الفاظ سکھلائے جو مسلمان عام طور پر تشہد میں درود ابراہیمی کے طور پر پڑھتے ہیں۔
(صحيح البخاري، أحاديث الأنبياء، باب: 10 ،حدیث: 3370، ومسند أحمد: 244/4 )
اس سے دو باتیں واضح ہو گئیں۔
① صحابہ کرام عبادت اور اس کی کیفیات وہیئات اپنی طرف سے نہیں بناتے تھے بلکہ وہ اس کے متعلق رسول اللہ سے راہ نمائی حاصل کرتے تھے کیونکہ اپنی طرف سے کیفیات عبادت ایجاد کرنا صریح بدعت ہے۔
② صحابہ کرام تفسیر قرآن کے لیے نبی کریم کی طرف رجوع کرتے تھے، حالانکہ وہ اہل لغت اور اہل فہم و فراست تھے، پھر بھی وہ کیفیت درود نہیں سمجھے تھے، اس لیے انھوں نے کیفیت درود سمجھنے کے لیے نبی کریم کی طرف رجوع کیا۔
اس ضمن میں اور بھی بہت سی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔ اس بات کا خلاصہ یہ ہے کہ صحابہ کرام نے قرآن فہمی کے لیے اپنی عقل اور فہم و فراست پر انحصار نہیں کیا بلکہ انھوں نے نبی کریم کی احادیث کی طرف رجوع کیا، لہذا ثابت ہوا کہ احادیث صحیحہ دین میں یقینی حجت ہیں جن پر قرآن کریم کا فہم موقوف ہے۔