اہل الرائے اور اہل الحدیث
امام عبداللہ بن احمد بن حنبل رحمہ اللہ (290ھ) بیان کرتے ہیں:
[سألت أبي عن الرجل يريد أن يسأل عن الشيء من أمر دينه- يعني مما يبتلى به من الأيمان في الطلاق وغيره، وفي مصره من أصحاب الرأي، ومن أصحاب الحديث لا يحفظون ولا يعرفون الحديث الضعيف ولا الإسناد القوي، فمن يسأل؟ أصحاب الرأي أو هؤلاء- أعني أصحاب الحديث- على ما كان من قلة معرفتهم؟ قال: يسأل أصحاب الحديث، ولا يسأل أصحاب الرأي. ضعيف الحديث خير من رأي أبي حنيفة.]
میں نے اپنے والد گرامی (امام اہل سنت احمد بن حنبل رحمہ اللہ) سے سوال کیا کہ ایک شخص اپنے کسی پیش آمدہ دینی معاملہ یعنی طلاق میں قسموں وغیرہ کے متعلق رہنمائی لینا چاہتا ہے، لیکن اس کے شہر میں اکثریت اہل رائے کی ہے، بعض اہل حدیث بھی موجود ہیں، مگر انہیں احادیث کی زیادہ معرفت نہیں، وہ ضعیف اور قوی حدیث کو پہچان نہیں پاتے، تو وہ شخص کس سے رہنمائی لے؟ اہل الرائے سے یا ان کم علم اہل حدیثوں سے؟ امام رحمہ اللہ نے فرمایا: وہ اہل الرائے کی بجائے، اہل حدیث سے رہنمائی لے، کیونکہ ضعیف حدیث امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی رائے سے بہرحال بہتر ہے۔
(تاريخ بغداد – ط العلمية:13/420 وسندہ صحیح)
سنی امام ابومزاحم موسیٰ بن عبید اللہ خاقانی بغدادی رحمہ اللہ (325ھ) نے ایک شعر کہا:
أهل الكلام وأهل الرأي قد عدموا
علم الحديث الذي ينجو به الرجل
لو أنهم عرفوا الآثار ما انحرفوا
عنها إلى غيرها، لكنهم جهلوا
اہل کلام اور اہل رائے کے پاس علم حدیث نہیں ہے، جس کے ذریعے آدمی نجات پا سکتا ہے۔ اگر یہ لوگ احادیث و آثار کو جانتے ہوتے، تو ان سے منحرف نہ ہوتے، لیکن وہ ان سے جاہل رہے۔
(شرف أصحاب الحديث للخطيب البغدادي: ص79 وسندہ حسن )
اہل الرائے اور اہل الحدیث دو الگ الگ مکاتب فکر ہیں اور ان کے مناہج میں ہمیشہ سے اختلاف رہا ہے، اہل الحدیث کی علمی روایت سلف صالحین کے علم و فہم کی بنیاد پر چلتی ہے اور اہل الرائے سلف سے جدا ایک گروہ ہے، جو دین کو خالص اپنی رائے سے سمجھتا ہے۔
امام ابن قتیبہ دینوری رحمہ اللہ (276ھ) فرماتے ہیں:
[لو أردنا -رحمك الله- أن ننتقل عن أصحاب الحديث ونرغب عنهم، إلى أصحاب الكلام ونرغب فيهم، لخرجنا من اجتماع إلى تشتت، وعن نظام إلى تفرق، وعن أنس إلى وحشة، وعن اتفاق إلى اختلاف.]
اگر (بالفرض) ہم اہل حدیث کو چھوڑ کر اہل کلام (اہل رائے) میں شامل ہو جائیں تو یقیناً ہم اجتماعیت کو چھوڑ کر انتشار میں، نظم کو چھوڑ کر تفرقے میں، محبت کو چھوڑ کر نفرت میں اور اتفاق کو چھوڑ کر اختلاف میں داخل ہو جائیں گے۔
[تأويل مختلف الحديث: ص 16]
تفصیل کے لیے امام ابو اسماعیل ہروی رحمہ اللہ (481ھ) کی کتاب [ذَمُّ الْكَلَامِ وَأَهْلِهِ] کا مطالعہ مفید رہے گا۔
آخر میں منہج محدثین کو اختیار کرنے کی وصیت اور نصیحت کرتے ہیں کہ پوری دنیا کے مسلمانوں کو چاہیے کہ محدثین عظام کے علم و عمل سے جڑ جائیں، یہی کامیابی کا راستہ ہے۔ یہی حق ہے، اس کے علاوہ حق نہیں۔