دینی مسائل میں اہل الحدیث سے رجوع، اہل الرائے سے نہیں

فونٹ سائز:
تحریر: فضیلۃ الشیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ

اہل الرائے اور اہل الحدیث

امام عبداللہ بن احمد بن حنبل رحمہ اللہ (290ھ) بیان کرتے ہیں:

[سألت أبي عن الرجل يريد أن يسأل عن الشيء من أمر دينه- يعني مما يبتلى به من الأيمان في الطلاق وغيره، وفي مصره من أصحاب الرأي، ومن أصحاب الحديث لا يحفظون ولا يعرفون الحديث الضعيف ولا الإسناد القوي، فمن يسأل؟ أصحاب الرأي أو هؤلاء- أعني أصحاب الحديث- على ما كان من قلة معرفتهم؟ قال: يسأل أصحاب الحديث، ولا يسأل أصحاب الرأي. ضعيف الحديث خير من رأي أبي حنيفة.]

میں نے اپنے والد گرامی (امام اہل سنت احمد بن حنبل رحمہ اللہ) سے سوال کیا کہ ایک شخص اپنے کسی پیش آمدہ دینی معاملہ یعنی طلاق میں قسموں  وغیرہ کے متعلق رہنمائی لینا چاہتا ہے، لیکن اس کے شہر میں اکثریت اہل رائے کی ہے، بعض اہل حدیث بھی موجود ہیں، مگر انہیں احادیث کی زیادہ معرفت نہیں، وہ ضعیف اور قوی حدیث کو پہچان نہیں پاتے، تو وہ شخص کس سے رہنمائی لے؟ اہل الرائے سے یا ان کم علم اہل حدیثوں سے؟ امام رحمہ اللہ نے فرمایا: وہ اہل الرائے کی بجائے، اہل حدیث سے رہنمائی لے، کیونکہ ضعیف حدیث امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی رائے سے بہرحال بہتر ہے۔

(تاريخ بغداد – ط العلمية:13/420 وسندہ صحیح)