عن الزهري قال أخبرني سعيد بن المسيب أن أبا هريرة قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول مثل المجاهد فى سبيل الله والله أعلم بمن يجاهد فى سبيله كمثل الصائم القائم وتوكل الله للمجاهد فى سبيله بأن يتوفاه أن يدخله الجنة أو يرجعه سالما مع أجر أو غنيمة
”زہری کہتے ہیں مجھے سعید بن مسیب نے خبر دی کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے مجاہد کی مثال، اور ویسے تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر طور پر جانتا ہے کہ کون حقیقتاً اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا ہے، اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جو رات میں برابر نماز پڑھتا رہے اور دن میں برابر روزے رکھتا رہے، اور اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ میں جہاد کرنے والے کے لیے ذمہ داری لی ہے کہ اللہ اسے شہادت دے گا تو اسے بے حساب و کتاب جنت میں داخل کرے گا اور یا پھر زندہ سلامت گھر ثواب و مال غنیمت کے ساتھ واپس کرے گا۔ “
( صحیح بخاری ومسلم ) (رواه البخاري كتاب الجهاد والسير باب افضل الناس مؤمن يجاهد بنفسه وماله في سبيل الله ، الرقم: 2787، واللفظ له / مسلم: كتاب الامارة باب فضل الجهاد والخروج في سبيل الله ، الرقم: 1872)
فوائد مستنبطہ
➊ یعنی نیت کا حال تو اللہ تعالیٰ ہی کو بخوبی معلوم ہے کہ وہ مخلص ہے یا نہیں۔ اگر مخلص ہے تو مجاہد ہو گا ورنہ جو دنیا کے مال و جاہ اور ناموری کے لیے لڑے وہ مجاہد فی سبیل اللہ نہیں ہے۔ حدیث بالا میں جو نماز و روزے کی مثال دی گئی ہے، اس سے نفلی نماز اور نفلی روزے مراد ہیں کہ کوئی شخص دن بھر روزہ رکھتا ہو اور رات بھر نفلی نماز پڑھتا ہو، مجاہد کا درجہ اس سے بھی بڑھ کر ہے۔
➋ مسئلہ کی وضاحت کے لیے مثال دینے کا ثبوت: حدیث بالا سے مسئلہ کی وضاحت کے لیے مثال دینے کا ثبوت ملتا ہے جیسا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجاہد فی سبیل اللہ کی مثال دن بھر روزہ دار اور رات بھر نفلی نماز پڑھنے والے سے دی ہے۔
➌ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجاہد فی سبیل اللہ کی ضمانت: اللہ تعالیٰ نے مجاہد فی سبیل اللہ کے لیے یہ ضمانت دی ہے کہ اگر مجاہد فی سبیل اللہ اللہ کی راہ میں شہید ہو کر مر جائے تو اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل کرے گا اور اگر وہ زندہ سلامت واپس اپنے گھر آ جائے تو اجر و ثواب کے ساتھ واپس ہوگا، مقصد یہ ہے کہ مجاہد فی سبیل اللہ کے لیے اللہ کی راہ میں مرنا اور جینا دونوں ہی کامیابی ہیں۔