صحابہ کرام نبی کریم ﷺ کے آثار سے تبرک کیوں حاصل کرتے تھے؟

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلتہ الشیخ عبدالسلام رُستمی کی کتاب انکار حدیث سے انکار قرآن تک سے ماخوذ ہے۔

حدیث 15: صحابہ کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تھوک مبارک کو اپنے چہروں اور بدن پر ملنا

صحيح البخاري، الشروط ، باب الشروط في الجهاد والمصالحة حديث : -2732,2731
طلوع اسلام والوں کے نزدیک یہ نفاست کے خلاف ہے۔ صلح حدیبیہ کی حدیث میں اس کی تفصیل موجود ہے کہ عروہ بن مسعود ثقفی نے، جو مشرکین کی طرف سے سفیر مصالحت تھا، واپس جا کر صحابہ کرام رضي اللہ عنہم کے بارے میں پانچ ایسی باتیں بیان کیں جن سے صحابہ کرام رضي اللہ عنہم کے دلوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بے پناہ محبت اور احترام ظاہر ہوتا تھا اور مشرکین پر دباؤ پڑتا تھا، وہ پانچ باتیں یہ ہیں:
➊ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھوکتے ہیں تو صحابہ کرام رضي اللہ عنہم اسے اپنے ہاتھوں میں لے کر منہ اور بدن پر مل لیتے ہیں۔
➋ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی حکم دیتے ہیں تو وہ اس پر تعمیل میں لپکتے ہیں۔
➌ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے ہیں تو صحابہ کرام رضي اللہ عنہم وضو کا پانی لینے کے لیے لڑ پڑنے کے قریب ہو جاتے ہیں۔
➍ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بات کرتے ہیں تو وہ خاموشی کے ساتھ سنتے ہیں۔
➎ ادب اور تعظیم کی وجہ سے نظر بھر کر آپ کی طرف نہیں دیکھتے۔

جواب :

حدیث بالکل صحیح ہے لیکن افسوس منکرین حدیث کی حالت پر، ایک کافر شخص جن افعال کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم اور احترام سمجھتا ہے، یہ انہیں نفاست کے خلاف سمجھتے ہیں۔ یہ لوگ مقام محبت کو نہیں سمجھتے، والہانہ محبت میں، محبت کرنے والے پر اس سے بھی زیادہ جذباتی حالت غالب آ جاتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ انکار حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صریح دشمنی کے علاوہ اور کچھ نہیں، انہیں محبت رسول سے کیا تعلق۔