کتا پالنے کا حکم، ضرورت کی اجازت اور طبی نقصانات

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی کتاب اسلام میں حلال و حرام سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد طاھر نقاش صاحب نے کیا ہے۔

بلا ضرورت کتے پالنا :

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بلا ضرورت گھر میں کتے پالنے کی بھی ممانعت فرمائی ہے۔
ہم نے ایسے عیش پرستوں کو دیکھا ہے جو کتوں پر تو خوب خرچ کرتے ہیں، لیکن انسان کی اولاد پر خرچ کرنے میں بخل سے کام لیتے ہیں۔ اور ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنے کتے کے ناز و ادا پر مال خرچ کرنے پر ہی اکتفاء نہیں کرتے، بلکہ ان سے جذباتی وابستگی بھی پیدا کر لیتے ہیں، جبکہ وہ اپنے اقرباء سے بے رخی برتتے اور اپنے پڑوسی اور بھائی کو بھول جاتے ہیں۔
مسلمان کے گھر میں اگر کتا ہو تو اس بات کا احتمال ہوتا ہے کہ وہ برتنوں وغیرہ کو چاٹ کر نجس بنا کر نہ رکھ دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :
إذا ولغ الكلب فى إناء أحدكم فليغسله سبع مرات إحداهن بالتراب
”جب کتا کسی کے برتن میں منہ ڈالے تو اسے چاہیے کہ برتن کو سات مرتبہ دھوئے ، ان میں سے ایک مرتبہ مٹی لگا کر دھو لے۔“
بخارى كتاب الوضوء : باب اذا شرب الكلب فى اناء احدكم ح : 172 – مسلم کتاب الطهارة باب حكم ولوغ الكلب ح: 279
بعض علماء نے ممانعت کی وجہ یہ بتائی ہے کہ کتا مہمان پر بھونکتا ہے سائل کو خوف زدہ کرتا اور راہ چلنے والے کو اذیت پہنچاتا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :
آتانى جبريل عليه السلام فقال لي أتيتك البارحة فلم يمنعني أن أكون دخلت إلا أنه كان على الباب تماثيل وكان فى البيت قرام ستر فيه تماثيل وكان فى البيت كلب، فمر برأس التمثال الذى فى البيت يقطع فيصير كهيئة الشجرة ومر بالستر فليقطع فيجعل منه وسادتان توطان ومر بالكلب فليخرج
”میرے پاس جبریل علیہ السلام تشریف لائے اور کہا : گزشتہ شب میں آیا تھا لیکن گھر میں داخل نہ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ دروازہ پر مجسمہ اور گھر میں تصویروں والا پردہ تھا اور گھر میں کتا بھی تھا۔ لہذا جو مجسمہ گھر میں ہے اس کا سر آپ اس طرح کٹوا دیجئے کہ وہ درخت کی شکل میں رہ جائے۔ اور پردہ پھاڑ کر تکیے بنوا لیجئے، جن کو پامال کیا جائے اور کتے کو گھر سے باہر نکلوا دیجئے۔“
ابوداود كتاب اللباس : باب فى الصور ح : 4158 ، ترمذی کتاب الادب باب ما جاء ان الملائكة لا تدخل ح : 2806 – نسائي : كتاب الزينة : باب ذكر أشد الناس عذاباً – ح : 5367
ممانعت کا یہ حکم ان کتوں کے بارے میں ہے جن کو بلا ضرورت اور بے فائدہ پالا جائے۔

شکار اور حفاظت کے لیے کتوں کا جواز :

جو کتے کسی ضرورت سے پالے جائیں مثلاً : شکاری کتے یا کھیت اور مویشیوں وغیرہ کی حفاظت کرنے والے کتے تو وہ اس حکم سے مستثنیٰ ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
من اتخذ كلبا إلا كلب صيد أو زرع أوماشية انتقص من أجره كل يوم قيراط
”جو شخص کتا پالتا ہے اس کا اجر روزانہ ایک قیراط کم ہو جاتا ہے الا یہ کہ شکار یا کھیتی یا مویشیوں کے لیے پالا جائے۔“
بخاري كتاب الحرث باب اقتناء الكلب للحرث ح : 2322 – مسلم كتاب المساقاة : باب الامر بقتل الكلاب ح : 1575
اس حدیث سے بعض فقہاء نے یہ استدلال کیا ہے کہ کتا پالنے کی ممانعت کراہت کے حکم میں ہے نہ کہ حرمت کے حکم میں، کیونکہ اگر کتا پالنا حرام ہوتا تو ہر حال میں اس سے احتراز کرنا پڑتا خواہ اجر میں کمی واقع ہو یا نہ ہو۔
گھر میں کتا پالنے کی جو ممانعت کر دی گئی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کتوں کے ساتھ سنگدلانہ برتاؤ کیا جائے یا ان کو ختم کر کے رکھ دیا جائے۔ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
لولا ان الكلاب أمة من الأمم لا مرت بقتلها
”اگر کتے بھی ایک اُمت نہ ہوتے تو میں انہیں سب کو قتل کرنے کا حکم دیتا۔“
ابو داود كتاب الصيد باب فى اتخاذ الكلب للصيد وغيره : 2845 ترمذی کتاب الاحكام / باب ماجاء في قتل الكلاب ح : 1486 ، نسائی کتاب الصيد باب صفة الكلاب التي امر بقتلها ح : 4285 – ابن ماجه كتاب الصيد باب النهي عن اقتناء الكلب ح : 3205
اس حدیث کے ذریعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اہم حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا ہے اور اس مہتم بالشان حقیقت کو قرآن نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے :
وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُم
”زمین پر چلنے والا کوئی جانور اور پروں سے اڑنے والا کوئی پرندہ، ایسا نہیں جو تمہاری طرح ایک امت نہ ہو۔“
(الانعام : 38)
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو اس شخص کا قصہ سنایا جس نے صحراء میں ایک کتے کو دیکھا جو ہانپ رہا تھا اور پیاس کی شدت سے کیچڑ چاٹ رہا تھا، وہ شخص دوڑتا ہوا کنویں پر گیا اور اپنے موزہ میں پانی بھر کر لایا اور کتے کو پلا دیا یہاں تک کہ وہ سیراب ہو گیا۔ اس قصہ کو سنا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ نے اس کے اس عمل کی قدر فرمائی اور اسے بخش دیا۔
بخاری کتاب المساقاة باب فضل سقى الماء ح : 2363 ، مسلم كتاب السلام : باب فضل سقى البهائم ح : 2244

کتا پالنا علم جدید کی رو سے :

ہمیں اپنے ملک میں اکثر ایسے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے جو مغربی تہذیب کے دلدادہ ہوتے ہیں اور اپنے آپ کو رحم دل انسانیت نواز اور ہر جاندار مخلوق کے حق میں مہربان خیال کرتے ہیں۔ یہ لوگ اسلام پر اعتراض کرتے ہیں کہ اس نے کس طرح ایک ایسے جانور سے باز رکھا ہے جو سنجیدہ مانوس اور امانت دار ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کی خدمت میں ہم ایک ٹھوس علمی مقالہ پیش کرنا چاہتے ہیں جسے ایک جرمن اسکالر نے لکھا ہے اور جو ایک جرمن رسالہ میں شائع ہوا ہے۔ اس مقالہ میں ان اہم خطرات کو بیان کیا گیا ہے جو کتے کو پالنے یا اس کے قریب رہنے کی صورت میں لاحق ہوتے ہیں :
گزشتہ چند برسوں میں لوگوں کے اندر کتا پالنے کا شوق کافی بڑھ گیا ہے، جس کے پیش نظر ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ لوگوں کی توجہ ان خطرات کی طرف مبذول کرائی جائے جو اس سے پیدا ہوتے ہیں، خصوصاً جبکہ لوگ کتا پالنے ہی پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ اس کے ساتھ خوش طبعی بھی کرنے لگتے ہیں اور اس کو چومتے بھی ہیں، نیز اس کو اس طرح چھوڑ دیا جاتا ہے کہ وہ چھوٹوں اور بڑوں کے ہاتھ چاٹ لے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچا ہوا کھانا کتوں کے آگے اپنے کھانے کی پلیٹوں میں رکھ دیا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں یہ عادتیں ایسی معیوب ہیں کہ ذوق سلیم ان کو قبول نہیں کرتا اور یہ شائستگی کے بھی خلاف ہیں۔ مزید برآں یہ صحت و نظافت کے اصول کے بھی منافی ہیں۔
طبی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو کتے کو پالنے اور اس کے ساتھ خوش طبعی کرنے سے جو خطرات انسان کی صحت اور اس کی زندگی کو لاحق ہوتے ہیں ان کو معمولی خیال کرنا کسی طرح صحیح نہیں ہے۔ بہت سے لوگوں کو اپنی نادانی کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ کتوں کے جسم پر ایسے جراثیم ہوتے ہیں جو دائمی اور لا علاج امراض کا سبب بنتے ہیں، بلکہ کتنے ہی لوگ اس مرض میں مبتلا ہو کر اپنی جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔
اس جرثومہ کی شکل فیتہ کی طرح ہوتی ہے اور یہ انسان کے جسم پر پھنسی کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں۔ گو اس قسم کے جراثیم مویشیوں اور خاص طور سے سوروں کے جسم پر بھی پائے جاتے ہیں، لیکن نشو ونما کی پوری صلاحیت رکھنے والے جراثیم صرف کتوں کے جسم پر ہوتے ہیں۔
یہ جراثیم گیدڑ اور بھیڑئیے کے جسم پر بھی ہوتے ہیں، لیکن بلیوں کے جسم پر شاذ ہی ہوتے ہیں۔ یہ جراثیم دوسرے فیتہ والے جراثیم سے مختلف ہوتے ہیں اور اتنے باریک ہوتے ہیں کہ دکھائی دینا مشکل ہے۔ ان کے بارے میں گزشتہ چند سالوں ہی میں کچھ معلومات ہوسکیں ہیں۔
مقالہ نگار آگے لکھتا ہے :
یہ جراثیم انسان کے جگر میں داخل ہو جاتے اور وہاں مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتے ہیں۔ یہ اکثر پھیپھڑے عضلات، تلی گردہ اور سر کے اندرونی حصہ میں داخل ہوتے ہیں۔ ان کی شکل بہت کچھ بدل جاتی ہے یہاں تک کہ خصوصی ماہرین کے لیے بھی ان کی شناخت مشکل ہو جاتی ہے۔
بہر حال اس سے جو زخم پیدا ہوتا ہے خواہ جسم کے کسی حصہ میں پیدا ہو صحت کے لیے وہ سخت مضر ہے۔ ان جراثیم کا علاج اب تک دریافت نہیں کیا جاسکا ہے۔ ان وجوہ سے ضروری ہے کہ ہم تمام ممکنہ وسائل کے ساتھ اس لا علاج بیماری کا مقابلہ کریں اور انسان کو اس کے خطرات سے بچائیں۔
جرمن ڈاکٹر نوللر کا بیان ہے کہ کتے کے جراثیم سے انسان کے جسم پر جو زخم ابھر آتے ہیں ان کی تعداد ایک فی صد سے کسی طرح کم نہیں ہے اور بعض ممالک میں تو بارہ فی صد تک اس میں مبتلا پائے جاتے ہیں اس مرض کا مقابلہ کرنے کی بہترین صورت یہ ہے کہ ان جراثیم کو کتوں تک ہی رہنے دیا جائے اور انہیں پھیلنے نہ دیا جائے۔
انسان اگر اپنی صحت کو محفوظ اور اپنی زندگی کو باقی رکھنا چاہتا ہے تو اسے کتوں کے ساتھ خوش طبعی نہیں کرنی چاہیے، انہیں قریب آنے سے روکنا چاہیے، بچوں کو ان کے ساتھ گھل مل جانے سے باز رکھنا چاہیے، کتوں کو ہاتھ چاٹنے کے لیے چھوڑ نہیں دینا چاہیے اور نہ ان کو بچوں کے کھیل کود اور تفریح کے مقامات میں رہنے اور وہاں گندگی پھیلانے کا موقع دینا چاہیے۔ لیکن بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کتوں کی بڑی تعداد بچوں کی ورزش گاہوں میں پائی جاتی ہے۔
اسی طرح ان کے کھانے کے برتن الگ ہونے چاہئیں۔ انسان اپنے کھانے کے لیے جو پلیٹیں وغیرہ استعمال کرتا ہے ان کو کتوں کے آگے چاٹنے کے لیے نہ ڈال دیا جائے اور نہ ان کو بازاروں اور ہوٹلوں وغیرہ میں داخل ہونے دیا جائے۔ غرضیکہ پوری احتیاط سے کام لے کر ان کو کھانے پینے کی تمام چیزوں سے دور رکھا جائے۔
اس بیان کو سامنے رکھئے اور غور کیجئے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کے ساتھ گھل مل جانے سے جو روکا ہے وہ کس قدر مبنی بر حقیقت ہے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانے پینے کے برتنوں میں کتے کے منہ ڈالنے سے احتراز کرنے کی بھی ہدایت فرمائی ہے نیز بلا ضرورت کتا پالنے سے بھی منع فرمایا ہے۔ غور کیجئے اس میں کتنی عظیم مصلحت پوشیدہ ہے!
جدید علمی و طبی تحقیقات آج ایک اُمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے کس قدر ہم آہنگ ہو رہی ہیں! اس حقیقت کو دیکھ کر بے ساختہ ہماری زبان پر قرآن کریم کے یہ کلمات جاری ہو جاتے ہیں :
وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى
”وہ اپنی خواہش نفس سے نہیں بولتا، یہ تو ایک وحی ہے جو اس کی طرف کی جاتی ہے۔“
(النجم : 3-4)