کیا جنابت کی حالت میں سحری کھا کر روزہ رکھا جا سکتا ہے؟

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلتہ الشیخ عبدالسلام رُستمی کی کتاب انکار حدیث سے انکار قرآن تک سے ماخوذ ہے۔

حدیث 14: رمضان میں جنابت سے غسل کیے بغیر روزہ رکھنا

صحيح البخاري، الصوم، باب اغتسال الصائم، حديث : 1931
پرویز نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث نقل کی ہے، انہوں نے کہا: میں یقین کے ساتھ بیان کرتی ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احتلام کے بغیر جماع کی وجہ سے بحالت جنابت صبح کرتے اور پھر روزہ رکھ لیتے تھے۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بھی اس بات کی تائید کی، پھر ابو جعفر کی روایت بیان کی کہ میں نے ابو عبد اللہ سے پوچھا کہ اگر کوئی شخص قصداً کھا پی کر روزہ توڑ دے تو کیا وہ جماع کرنے والے کی طرح کفارہ دے گا۔ انہوں نے کہا: نہیں، کیا تم دیکھتے نہیں کہ حدیث میں یہ الفاظ صاف موجود ہیں:
لم يقض عنه صيام الدهر
”ساری عمر کے روزے بھی اس کی قضا نہیں دے سکتے۔“
سنن أبي داود الصيام، باب التغليظ فيمن أفطر عمدا ، حديث: 2396 ، و مقام حدیث ، ص : 322

جواب :

جو حدیث اول صحیح ہے۔ یہاں دو روایات کو جمع کر دیا گیا ہے۔ اس حدیث میں منکرین کو کون سی قباحت محسوس ہوتی ہے کہ انہوں نے اس پر بھی اعتراض کیا ہے۔ اگر انسان پر غسل جنابت فرض ہو لیکن وہ وقت کی کمی کی وجہ سے پہلے سحری کھا کر روزہ رکھ لے اور پھر بعد میں غسل کر لے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
مزید برآں مجامعت کی وجہ سے روزہ توڑنا اور کچھ کھا پی کر روزہ توڑنے میں طبعی فرق ہے، شہوت کے غلبہ سے انسان کبھی مغلوب الحال ہو جاتا ہے تو اس کے لیے کفارہ دینے سے تلافی ہو سکتی ہے لیکن کھانے پینے کی حالت میں انسان اتنا مغلوب الحال نہیں ہوتا کہ اسے معذور سمجھ کر یہ رخصت دی جائے، لہذا کھانے پینے سے روزہ توڑنا زیادہ بڑا جرم ہے۔ یاد رہے کہ لم يقض والی حدیث ثابت نہیں ہے، لہذا اس کے ساتھ اعتراض کرنا درست نہیں۔ جتنی بات حدیث میں ثابت ہے وہی قبول ہے۔