صحابه کرام رضی اللہ عنہم غیب نہیں جانتے تھے:
[1] سیدنا عبیداللہ رضي اللہ عنہ نے بیان کیا: کہ پھر میں نے سیدہ عائشہ رضي اللہ عنہما کی اس حدیث کا ذکر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کیا انھوں نے مجھ سے پوچھا : عائشہ (رضی اللہ عنہما) نے جن کا نام نہیں لیا جانتے ہو وہ کون تھے؟ میں نے کہا نہیں۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب، إنما جعل الإمام ليؤتم به:687]،[مسلم، کتاب الصلاة، باب استخلاف الإمام إذا عرض له… الخ:418]
[2] سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو بکر رضي اللہ عنہ سے آکر کہا: کہ کیا آپ نماز پڑھائیں گے، میں اقامت کہوں؟ (کیونکہ رسول اللہﷺصلح کروانے گئے تھے اور نماز کا وقت ہو گیا تھا) سیدنا ابو بکر رضي اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں! چنانچہ سیدنا ابو بکر رضي اللہ عنہ نے نماز شروع کر دی، اتنے میں رسول اللہﷺ تشریف لے آئے تو لوگ نماز میں تھے۔ رسول اللہﷺ صفوں سے گزرکر پہلی صف میں گئے، لوگوں نے ایک ہاتھ کو دوسرے پر مارا لیکن ابوبکررضي اللہ عنہ نماز میں کسی طرف توجہ نہیں دیتے تھے۔ جب لوگوں نے متواتر ہاتھ پر ہاتھ مارنا شروع کیا تو سیدنا صدیق اکبر رضي اللہ عنہ متوجہ ہوئے اور رسول اللہﷺ کو دیکھا اور پھر پیچھے ہٹ گئے۔ تو رسول اللہﷺ نے آگے بڑھ کر نماز پڑھائی۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب من دخل ليؤم الناس فجاء الإمام …. الخ:684]،[مسلم، کتاب الصلاة، باب تقديم الجماعة من يصلى….. الخ:421]
[3] سیدنا ابو بکررضي اللہ عنہ تین آدمی رسول اللہﷺ کے حکم کے مطابق اپنے ساتھ اپنے گھر کھانا کھلانے کے لیے لائے اور خود رسول اللہﷺ کے ہاں ٹھہر گئے۔ اور وہیں ٹھہرے رہے۔ رات کا ایک حصہ گزر جانے کے بعد آپ (یعنی) سیدنا ابو بکر رضي اللہ عنہ گھر تشریف لائے تو ان کی بیوی نے کہا کیا بات پیش آئی کہ مہمانوں کی خبر بھی آپ نے نہ لی؟ سیدنا ابو بکر رضي اللہ عنہ نے پوچھا: کیا تم نے ابھی انھیں رات کا کھانا نہیں کھلایا؟ بیوی نے کہا میں کیا کروں آپ کے آنے تک انھوں نے کھانے سے انکار کیا، کھانے کے لیے ان سے کہا گیا تھا لیکن وہ نہ مانے۔
[بخاری، کتاب مواقيت الصلاة، باب السمر مع الأهل والضيف:602]،[مسلم، كتاب الأشربة، باب إكرام الضيف و فضل إيثاره:2057]
[4] سیدنا ابو بکر رضي اللہ عنہ ہجرت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:کہ وہاں ہمیں ایک چرواہا ملا، میں نے اس سے پوچھا کہ تم کس قبیلے سے ہو، اس نے کہا فلاں سے۔
[بخاری، کتاب المناقب، باب علامات النبوة في الإسلام:3615]،[مسلم، کتاب الزهد، باب في حديث الهجرة….. الخ:2009]
[5] سیدنا عثمان رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں: کہ جب رسول اللہﷺ فوت ہوئے تو آپﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے کچھ سخت غمناک ہوئے، میں بھی ان میں سے تھا۔ میں پریشان بیٹھا ہوا تھا کہ عمر رضي اللہ عنہ کا گزر ہوا تو انھوں نے السلام علیکم کہا، مجھے ان کے گزرنے کا کچھ پتا نہ چلا۔ سیدنا عمر رضي اللہ عنہ نے ابو بکر رضی اللہ عنہ سے میرا شکوہ کیا۔ وہ دونوں اکٹھے میرے پاس آئے اور مجھ سے پوچھا کیا سبب ہے، آپ نے اپنے بھائی عمر (رضي اللہ عنہ) کے سلام کا جواب نہیں دیا؟ میں نے عرض کیا کہ مجھے بالکل علم نہیں کہ آپ میرے پاس سے گزرے ہیں اور آپ نے مجھے السلام علیکم کہا، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیا پریشانی ہے؟
[مسند أحمد: ح 20]،[مسند أبي يعلى:ح:10]
[6] سفر کے دوران سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما کا ہار گم ہو گیا ، سب لوگ ٹھہر گئے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہاسے سخت ناراض ہوئے کہ تمھاری وجہ سے سب رک گئے۔ بعد میں سیدہ عائشہ رضي اللہ عنہا کے اونٹ کو اٹھایا گیا تو ہارا اونٹ کے نیچے سے مل گیا۔ [بخاری، کتاب التييم، باب:334]
[7] سیده عائشہ رضي اللہ عنہا سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی بیماری میں گئیں۔ سیدنا ابو بکر رضي اللہ عنہ نے ان سے دیگر باتوں کے علاوہ یہ بھی پوچھا کہ رسول اللہﷺ کی وفات کسی دن ہوئی تھی؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا پیر کے دن۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا آج کون سا دن ہے؟ سیدہ عائشہ رضي اللہ عنہا نے کہا پیر کا دن۔ انھوں نے کہا پھر مجھے بھی امید ہے کہ اب سے رات تک میں بھی رخصت ہو جاؤں گا۔ پھر اس روز سیدنا ابو بکر رضي اللہ عنہ فوت نہیں ہوئے یہاں تک کہ منگل کی رات کا کچھ حصہ گزر گیا اور آپ فوت ہو گئے اور صبح ہونے سے پہلے دفن کر دیے گئے۔
[بخاری، کتاب الجنائز، باب موت يوم الإثنين:1387]
[8] سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو مسجد نبوی میں صبح کی نماز میں جماعت کے دوران وہاں چھپے ہوئے شخص نے حملہ کر کے شدید زخمی کر دیا، بعد میں آپ فوت ہو گئے۔ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھی کوفہ میں چھپے ہوئے شخص نے شہید کر دیا، اور دونوں خلفائے راشدین کو پتا نہ چلا کہ یہاں کوئی چھپا ہوا ہے جو ہمیں شہید کرنا چاہتا ہے۔
[بخاری، کتاب فضائل أصحاب النبیﷺ، باب قصة البيعة…. الخ:3700]
[9] جب قبلہ بدلا گیا تو ایک شخص نے رسول اللہﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔ پھر نماز کے بعد وہ چلے تو انصار کی ایک جماعت پر ان کا گزر ہوا جو عصر کی نماز بیت المقدس کی طرف منہ کر کے پڑھ رہے تھے۔ انھوں نے کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہﷺ کے ساتھ وہ نماز پڑھی ہے جس میں آپ نے موجودہ قبلہ (کعبہ) کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی ہے پھر اس جماعت نے (نماز ہی میں) منہ پھیر لیا اور کعبہ کی طرف منہ کر لیا۔
[بخاری، کتاب الصلاة، باب التوجه نحو القبلة…..الخ:399]،[مسلم، کتاب المساجد، باب تحويل القبلة ……الخ:525]
[10] صحابه کرام رضی اللہ عنہم اجمعین رسول اللهﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے، رات بھر سب لوگ چلتے رہے، صبح کے وقت کے قریب پڑاؤ کیا تو سب لوگ گہری نیند سو گئے کہ سورج پوری طرح نکل آیا۔ سب سے پہلے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ جاگے پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی جاگ گئے آخر کار سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ رسول اللہﷺ کے سر مبارک کے قریب بیٹھ گئے اور بلند آواز سے اللہ اکبر کہنے لگے۔ اس سے رسول اللہﷺ بھی بیدار ہو گئے، اور وہاں سے کوچ کا حکم دے دیا۔ پھر آگے جا کر صبح کی نماز پڑھی۔
[بخاری، کتاب المناقب، باب علامات النبوة في الإسلام:3571]،[مسلم، کتاب المساجد، باب قضاء الصلاة الفائتة…..الخ:682]
[11] سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مکہ سے چلے، لوگ ان کے ساتھ تھے، جب بیداء تک پہنچے تو ایک ببول کے درخت کے نیچے چند سوار نظر پڑے۔ سیدنا عمر رضي اللہ عنہ نے کہا جا کر دیکھو تو سہی یہ کون لوگ ہیں؟ جا کر دیکھا گیا تو وہ صہیب تھے۔ جب یہ اطلاع دی گئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا انھیں بلا لاؤ، تو جا کر انھیں کہا گیا کہ امیر المومنین بلاتے ہیں تو وہ آئے۔
[بخاری، کتاب الجنائز، باب قول النبيﷺ ((يعذب الميت ببعض بكاء ……. الخ)):1287]،[مسلم، کتاب الجنائز، باب الميت يعذب ببكاء…الخ:927،بعد928]
[12] صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا گزر ایک جنازے پر ہوا، لوگ اس کی تعریف کرنے لگے تو رسول للہﷺ نے یہ سن کر فرمایا: واجب ہوگئی ۔ پھر دوسرے جنازے کا گزر ہوا تو لوگ اس کی برائی کرنے لگے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:واجب ہو گئی۔ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا چیز واجب ہو گئی۔
[بخاری، کتاب الجنائز، باب ثناء الناس على الميت:1367]،[مسلم، کتاب الجنائز، باب فيمن يثنى عليه ….. الخ:949]
[13] سیدنا ابوذر رضي اللہ عنہ رسول اللہﷺکے ساتھ تھے، کچھ دور جانے کے بعد رسول اللہﷺنے فرمایا: ابو ذر ٹھہرے رہو۔ پھر آپﷺتشریف لے گئے اور نظروں سے اوجھل ہو گئے، اور اس کے بعد میں نے آواز سنی اور مجھ کو خطرہ ہوا کہ کہیں رسول اللہﷺکو کوئی پریشانی نہ پیش آگئی ہو، اور آپﷺکے حکم کی وجہ سے رکا رہا۔ جب ﷺواپس تشریف لائے تو سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی (ﷺ)! اللہ آپ پر مجھے قربان کرے! اس پتھریلی زمین میں آپ کس کے ساتھ باتیں کر رہے تھے۔
[بخاری، کتاب الرقاق، باب المكثرون الخ:6443]،[مسلم، کتاب الزكوة، باب الترغيب في الصدقة:33/94، بعد 991]
[14] لوگوں کا عرفات کے دن رسول اللہﷺکے روزے کے متعلق کچھ اختلاف ہو گیا۔ بعض نے کہا آپﷺ روزے سے ہیں اور بعض کہتے کہ نہیں، اس لیے انھوں نے آپ ﷺ کے پاس دودھ کا ایک پیالہ بھیجا۔رسول اللہﷺ اس وقت اونٹ پر سوار ہو کر عرفات میں وقوف فرما رہے تھے، آپ نے وہ دودھ پی لیا۔
[بخاری، کتاب الصوم، باب صوم يوم عرفة:1988]،[مسلم، کتاب الصيام، باب استحباب الفطر للحاج بعرفات يوم عرفة:1123]
[15] رسول اللهﷺ کعبہ کا طواف کر کے مقام ابراہیم کے پاس پہنچے ، دو رکعت پڑھیں ۔ آپ ﷺ کےساتھ کچھ لوگ تھے، جو آپ ﷺ کے اور لوگوں کے درمیان آڑ بنے ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک صاحب نے ابن ابی اوفی سے پوچھا کیا رسول اللہﷺ کعبہ کے اندر تشریف لے گئے تھے ؟ تو انھوں نے بتایا کہ نہیں۔
[بخاری، کتاب الصلاة، باب الصلاة بين السواري… الخ:505،504]،[مسلم، کتاب الحج، باب استحباب دخول الكعبة للحاج وغيره والصلاة فيها…..الخ:389/1329]
[16] سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہمانے بیان کیا: کہ رسول اللہﷺ کعبہ کے اندر تشریف لے گئے، سیدنا بلالرضی اللہ عنہ اور دو اور صحابی آپﷺ کے ساتھ تھے۔ پھر کعبہ کا دروازہ بند کر دیا گیا اور آپ ﷺ اس میں ٹھہرے رہے۔ جب آپﷺ باہر نکلے تو میں نے سیدنابلال رضي اللہ عنہ سے پوچھا :کہ رسول اللہﷺ نے اندر کیا کیا؟
[بخاری، کتاب الصلاة، باب الصلاة بين السواري… الخ:505،504]،[مسلم، کتاب الحج، باب استحباب دخول الكعبة للحاج وغيره والصلاة فيها…..الخ:389/1329]
[17] سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کہ میرے ایک انصاری دوست تھے، جب میں رسول اللہﷺ کی مجلس میں حاضر نہ ہوتا تو وہ مجلس کی تمام باتیں مجھے آکر بتایا کرتے اور جب وہ حاضر نہ ہوتے تو میں انھیں بتایا کرتا تھا۔ اس زمانے میں ہمیں غسان کے بادشاہ کی طرف سے ڈر تھا۔ اطلاع ملی تھی کہ وہ مدینہ پر چڑھائی کا ارادہ کر رہا ہے، چنانچہ ہم کو ہر وقت یہی خطرہ رہتا ۔ ایک دن میرے انصاری دوست نے دروازہ کھٹکھٹایا اور کہا کہ کھولو۔ میں نے کہا معلوم ہوتا ہے کہ غسانی آگئے ہیں۔ انھوں نے کہا اس سے بھی زیادہ اہم معاملہ پیش آگیا ہے، کہ رسول اللہﷺ نے اپنی بیویوں سے علیحدگی اختیار کرلی ہے۔
[بخاری، کتاب العلم باب التناوب في العلم:89]،[مسلم کتاب الطلاق، باب في الإيلاء واعتزل النساء …. الخ:31/1479]
اسی طرح احادیث کی کتابوں میں بے شمار واقعات درج ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ صحابہ کرام کو غیب کا علم نہ تھا۔ احادیث کی معتبر کتابوں کے مطالعہ کے بعد یہ بات کلی طور پر ثابت ہو جاتی ہے کہ بڑے بڑے اکابر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم غیب کا علم نہیں رکھتے تھے تو پھر آج کے بزرگوں کا ان کے سامنے کیا مقام ہے؟
اور مراد آبادی صاحب نے [آل عمران کی تفسیر :170،169، ف:332 تا 334] میں یہی لکھا کہ شہدائے احد کے بارے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اللہ تعالی نے خبر دی کہ وہ جنت میں کس حال میں ہیں۔ اس سے پہلے صحابہ کو شہدائے احد کے انجام کا پتا نہ تھا۔
اس سے ثابت ہوا کہ ارواح باقی ہیں، جسم کے فنا ہونے کے ساتھ فنا نہیں ہوتیں۔[ف:333] اور زندوں کی طرح کھاتے پیتے عیش کرتے ہیں۔ سیاق آیت اس پر دلالت کرتا ہے کہ حیات روح و جسم دونوں کے لیے ہے۔ علماء نے فرمایا: کہ شہداء کے جسم قبروں میں محفوظ رہتے ہیں مٹی ان کو نقصان نہیں پہنچاتی اور زمانہ صحابہ میں اور اس کے بعد بکثرت معائنہ ہوا ہے کہ اگر کبھی شہداء کی قبریں کھل گئیں تو ان کے جسم تروتازہ پائے گئے۔ [ف:334] فضل و کرامت اور انعام واحسان موت کے بعد حیات دی، اپنا مقرب کیا، جنت کا رزق اور اس کی نعمتیں عطا فرمائیں۔
مراد آبادی صاحب کے مندرجہ بالا بیان اور [البقرۃ:154، ف:281] کے مطالعہ کے بعد یہ بات قطعی طور پر ثابت ہو جاتی ہے۔ کہ شہداء قبروں میں زندہ نہیں، ان کی روحیں اجسام سے الگ ہیں، اجسام قبروں میں، روحیں جنت میں، اگر شہیدوں کی روحیں جنت میں اور اجسام قبروں میں ہیں، تو انبیاء اور صدیق (یعنی) سچے متبعین کی روحیں اور اجسام بھی الگ الگ ہیں، کیونکہ
یہ شہداء سے افضل ہیں۔ دیکھیے:[ترجمہ مع تفسیر احمد رضا خان النساء:69، ف:181 تا 183] ان کی روحیں جنت میں اور اجسام قبروں میں ہیں۔ اور مراد آبادی نے یہ بھی لکھا کہ فوت ہونے کے بعد انسان کا عمل منقطع ہو جاتا ہے۔ [الشعراء:89 ، ف:92]
ان تفاسیر سے قبر پرستوں کا واضح رد ہو جاتا ہے جو کہتے ہیں کہ ہم قبر والوں کو اس لیے پکارتے ہیں کہ وہ قبروں میں زندہ ہیں۔
قرآن مجید غیب کے متعلق کیا کہتا ہے:
[1] عزیر(علیہ السلام) کو اللہ تعالی نے سو برس کے لیے موت دے دی، جب ان کو اللہ تعالٰی نے دوبارہ زندہ کیا تو اللہ تعالی نے ان سے پوچھا تم یہاں کتنی دیر رہے؟ انھوں نے جواب دیا ایک دن یا دن کا کچھ حصہ۔ [البقرة:259]
[2] اصحاب کہف کو ایک غار میں اللہ تعالیٰ نے سلا دیا، وہ وہاں 309 برس سوئے رہے۔ بعد میں جب ان کو اللہ تعالیٰ نے جگا دیا تو ان میں سے ایک نے کہا تم کتنی دیر یہاں ٹھہرے ہو؟ انھوں نے کہا ہم ایک دن یا دن سے کم ٹھہرے ہیں۔
اسی طرح ہم نے انھیں جگا کر اٹھا دیا کہ آپس میں پوچھ گچھ کر لیں۔ ایک کہنے والے نے کہا تم کتنی دیر ٹھہرے رہے ؟ انھوں نے جواب دیا کہ ایک یا ایک دن سے بھی کم۔ کہنے لگے کہ تمھارے ٹھہرے رہنے کا بخوبی علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ [الكهف:19]
وہ لوگ اپنے غار میں تین سو سال تک رہے اور 9 سال اور زیادہ گزارے۔ [الكهف:25]
اصحاب کہف اپنے غار میں تین سو نو سال تک سوئے رہے، یہ اللہ کے تسلیم شدہ ولی ہیں، لیکن جب[309]سال کے بعد وہ اٹھے تو آپس میں کہنے لگے کہ ہم یہاں ایک دن رہے یا ایک دن سے کم رہے؟ پس ثابت ہوا کہ جن کو اللہ نے ولی کہا ان کو بھی غیب نہ تھا۔ اور آج ان لوگوں کے بارے میں یہ کیسے خیال کیا جا سکتا ہے، جن کے ولی ہونے کی کوئی سند نہیں ہے کہ وہ غیب جانتے ہیں۔
[3] جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام سیدنا خضر علیہ السلام کی طرف چلے، خادم ہمراہ تھا، کھانا پاس تھا، راستے میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام سو گئے ، جاگ کر جب آگے چلے تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے خادم سے کہا کھانا لاؤ تو خادم نے جواب دیا مچھلی تو زندہ ہو کر دریا میں کود گئی تھی۔
[الکہف:60 تا 63]
[بخاری، کتاب العلم، باب ما يستحب للعالم إذا سئل… الخ:122،74]
[4] [سورہ یس] میں ہے کہ جب ایک آدمی شہر کے دوسرے کنارے سے دوڑتا ہوا آیا، اور اپنی قوم کو تین رسولوں کی دعوت پر ایمان لانے کو کہا، اور اپنے ایمان کا اقرار کیا (تو اس کی قوم نے اس کو شہید کر دیا) اللہ نے اس کو جنت دے دی، وہ مومن شخص کہنے لگا اے کاش!میری قوم بھی جان لیتی کہ میرے رب نے مجھے بخش دیا اور مجھے عزت والوں میں کر دیا۔ [یس:26 تا 37]
[معلوم ہوا کہ وہ مومن شهید عالم برزخ میں جا کر اپنی قوم سے رابطہ نہیں کر سکتا تھا]۔
[5] جب اللہ تعالیٰ اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان قیامت کے دن گفتگو ہو گی اور اللہ تعالی فرمائے گا: اے عیسی! کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ اللہ کے سوا مجھے اور میری ماں دونوں کو معبود بنا لو ، وہ عرض کریں گے تو پاک ہے، مجھے لائق نہیں کہ ایسی بات کہوں جس کا مجھے حق نہیں۔ اگر میں نے یہ کہا ہو گا تو تجھے ضرور معلوم ہوگا اور جو میرے دل میں ہے تو جانتا ہے اور جو تیرے دل میں ہے وہ میں نہیں جانتا۔ اور میں اس وقت تک ان کا نگران تھا، جب تک ان میں رہا پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان کا نگران تھا اور تو ہر چیز سے باخبر ہے۔ [المائدة:112 تا 117]
سیدنا عیسی علیہ السلام کتنے واضح الفاظ میں اپنی بابت علم الغیب کی نفی فرما رہے ہیں۔ یہ صفت علم اللہ تعالٰی کے سوا کسی اور میں نہیں۔ اس لیے عالم الغیب صرف ایک اللہ ہی کی ذات ہے۔ اس کے علاوہ کوئی عالم الغیب نہیں، کیونکہ یہ عقیدہ قرآن کے خلاف ہے اور جو کوئی قرآن کی ایک آیت کا بھی انکار کرے تو وہ کافر ہے اور دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔
توحید فی العلم میں شرکیہ امور:
قرآن و حدیث سے بخوبی ثابت ہو چکا کہ غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے (وہ باتیں جو بتا دی گئیں وہ علم ہیں اور جو نہیں بتائی گئیں وہ غیب ہیں):
[وَ لَئِنِ اتَّبَعۡتَ اَہۡوَآءَہُمۡ بَعۡدَ الَّذِیۡ جَآءَکَ مِنَ الۡعِلۡمِ ۙ مَا لَکَ مِنَ اللّٰہِ مِنۡ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیۡرٍ]
اور اگر تو نے ان کی خواہشات کی پیروی کی، اس علم کے بعد جو تیرے پاس آیا ہے، تو تیرے لیے اللہ سے (چھڑانے میں) نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی مدد گار۔ [البقرة:120]
ثابت ہوا کہ جب رسول اللہﷺ پر ابھی یہ آیات نازل نہ ہوئی تھیں تو یہ آپ ﷺ کے لیے غیب تھا۔ جب یہ آیات نازل ہو گئیں تو غیب نہ رہا بلکہ علم ہو گیا۔
غیب کا علم اللہ تعالی کے سوا کسی کو نہیں جیسا کہ بیان ہو چکا۔ [النمل:65]
اسی طرح فوت شدگان کو کوئی علم نہیں کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے:
[اَفَمَنۡ یَّخۡلُقُ کَمَنۡ لَّا یَخۡلُقُ ؕ اَفَلَا تَذَکَّرُوۡنَ]،[وَ اِنۡ تَعُدُّوۡا نِعۡمَۃَ اللّٰہِ لَا تُحۡصُوۡہَا ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَغَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ]،[وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ مَا تُسِرُّوۡنَ وَ مَا تُعۡلِنُوۡنَ]،[وَ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ لَا یَخۡلُقُوۡنَ شَیۡئًا وَّ ہُمۡ یُخۡلَقُوۡنَ]،[اَمۡوَاتٌ غَیۡرُ اَحۡیَآءٍ ۚ وَ مَا یَشۡعُرُوۡنَ ۙ اَیَّانَ یُبۡعَثُوۡنَ]
[تو کیا وہ جو پیدا کرتا ہے، اس کی طرح ہے جو پیدا نہیں کرتا؟ پھر کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے]،[ اور اگر تم اللہ کی نعمت شمار کرو تو اسے شمار نہ کر پائو گے۔ بے شک اللہ یقینا بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے]،[ اور اللہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو]،[ اور وہ لوگ جنھیں وہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں، وہ کچھ بھی پیدا نہیں کرتے اور وہ خود پیدا کیے جاتے ہیں]،[ مردے ہیں، زندہ نہیں ہیں اور وہ نہیں جانتے کب اٹھائے جائیں گے] [النحل:17 تا 21]
یاد رہے کہ یہ عقیدہ کہ فوت شدگان کو علم ہے کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے، شرک کی ہمیشہ سے بنیادی وجہ رہا ہے اور قرآن کہتا ہے کہ فوت شدگان کو کوئی علم نہیں اور ان کو کوئی اختیار نہیں۔
[الفاطر:11 تا 23]


