عقائدِ شیعہ کا تحقیقی جائزہ: تحریفِ قرآن، امامت اور حدیث و سنت کا مسئلہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ارشاد اللہ مان کی کتاب حق کی تلاش سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

عقائدِ شیعہ:

قرآن کریم کے بارے میں شیعہ اثنا عشریہ کا عقیدہ جو ان کی پہلی بنیادی کتاب [الکافی:مصنفہ کلینی] سے لے کر آج کے دور کے شیعوں کے حاضر امام خمینی کی تصانیف تک ہر مقام پر یہ لکھا ہوا ملتا ہے اور نیز ان کی تفاسیر وغیرہ میں بھی علی الاعلان بیان کیا گیا ہے، وہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی رحلت کے فوراً بعد آپ ﷺ کے ساتھیوں نے اپنے ناپاک ارادوں کی تکمیل کے لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حقوق غصب کرنے کے لیے اپنی مرضی کے مطابق قرآن میں بے شمار تحریفیں اور تبدیلیاں کیں اور یہ قرآن وہ اصلی قرآن نہیں جو رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا تھا، (معاذ اللہ!) وہ قرآن صرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جمع کیا تھا اور اس وقت امام الزماں (امام العصر امام غائب مہدی) کے پاس ہے جو 260 ہجری سے غائب لیکن زندہ ہیں، جب وہ ظاہر ہوں گے تو اصلی قرآن نکال کر باہر لائیں گے۔

نظریۂ امامت، صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم) سے بغض و عداوت اور تحریفِ قرآن، یہ تین عقیدے ایسے ہیں جنھوں نے شیعہ صاحبان کو اہلِ سنت والجماعت سے بالکل کاٹ کر علیحدہ کر دیا ہے اور اب ان کی اسلام سے اور مسلمانوں سے کوئی قدرِ مشترک نظر نہیں آتی۔ اس کے علاوہ یہ غیراللہ کو پکارتے ہیں جس کا ذکر توحید فی العبادت اور شرک فی العبادت میں بڑی تفصیل کے ساتھ کیا جا چکا ہے۔ اور یہ لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو مشکل کشا اور حاجت روا مانتے ہیں اور حنفی بریلوی اس معاملہ میں ان کے ہم عقیدہ ہیں، حالانکہ ابوطالب جو رسول اللہ ﷺ کے حقیقی چچا تھے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے باپ تھے وہ کافر فوت ہوئے اور دوزخی ہیں، یہ قرآن میں ہے۔ (القصص:56)،(التوبه:113) سب جمہور مفسرین کے مطابق یہ دونوں آیات ابوطالب کے بارے میں نازل ہوئیں۔ (دیکھیے ترجمہ احمد رضا خان صاحب و تفسیر مراد آبادی) یہ مسئلہ بخاری و مسلم میں ہے اور حنفی فقہ کی کتابوں میں بھی ہے۔ ثابت ہوا کہ رسول اللہ ﷺ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ مشکل کشا و حاجت روا نہیں۔ کربلا کا واقعہ ہمارے سامنے ہے جس میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا سارا گھرانہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے جملہ ساتھی کربلا کے میدان میں شہید ہوئے۔ یہ واقعہ بھی ثابت کرتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ مشکل کشا یا حاجت روا نہیں بلکہ ان لوگوں نے یہ نام اپنی طرف سے رکھ لیے ہیں حالانکہ حاجت روائی، مشکل کشائی صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔

شیعہ عقائد کا اصلی روپ:

سب سے اہم انکشاف یہ ہے کہ شیعیت بذاتِ خود ایک الگ مذہب ہے جو کلمہ، بنیادی عقائد، ارکان، عبادات، فقہی مسلک وغیرہ کے ہر ایک معاملہ میں جزئیات تک قرآن و سنت کے خلاف، متوازی اور ایک الگ تعلیم دیتا ہے اور اسلام اور شیعیت آپس میں کہیں بھی نہیں ملتے۔ لہٰذا یہ نہایت عظیم اور خطرناک غلطی ہے اور ہوگی، بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ دوسرے مسلمانوں کو دھوکا دینا ہوگا کہ یوں کہا جائے کہ شیعہ مذہب کے متبعین اسلام ہی کا ایک فرقہ ہیں۔ اسلام کی ساری تعلیم کی بنیاد رسول اللہ ﷺ کی رسالت اور ختم نبوت اور آپ ﷺ پر نازل شدہ کتاب قرآن مجید اور رسول اللہ ﷺ کی سنت اور احادیث ہیں، شیعہ ان تینوں معاملات میں قطعی علیحدہ مسلک اور عقیدہ رکھتے ہیں، تفصیل حسب ذیل ہے۔

[1] قرآن کے بارے تحریف کا عقیدہ:

قرآن کریم کے بارے میں شیعہ اثنا عشریہ کا عقیدہ جو ان کی پہلی بنیادی کتاب [الکافی:مصنفہ کلینی] سے لے کر آج کے دور کے شیعوں کے حاضر امام خمینی کی تصانیف تک ہر مقام پر یہ لکھا ہوا ملتا ہے اور نیز ان کی تفاسیر وغیرہ میں بھی علی الاعلان بیان کیا گیا ہے، وہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی رحلت کے فوراً بعد آپ ﷺ کے ساتھیوں نے اپنے ناپاک ارادوں کی تکمیل کے لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حقوق غصب کرنے کے لیے اپنی مرضی کے مطابق قرآن میں بے شمار تحریفیں اور تبدیلیاں کیں اور یہ قرآن وہ اصلی قرآن نہیں جو رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا تھا، (معاذ اللہ!) وہ قرآن صرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جمع کیا تھا اور اس وقت امام الزماں (امام العصر امام غائب مہدی) کے پاس ہے جو 260 ہجری سے غائب لیکن زندہ ہیں، جب وہ ظاہر ہوں گے تو اصلی قرآن نکال کر باہر لائیں گے۔ موجودہ قرآن سے آل محمد ﷺ کے حقوق کے بارے میں، علی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ اول بننے (خلیفہ بلا فصل) کے بارے میں نیز علی رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد میں امامت کے بارے میں، ائمہ کے ناموں سمیت جو کچھ نازل ہوا تھا وہ سب کچھ نکالا گیا ہے اور بے شمار آیات تحریف اور تبدیل کر کے اس قرآن میں لکھی گئی ہیں اور داخل کی گئی ہیں۔

[2] حدیث اور سنت کو رد کرنا:

رسول اللہ ﷺ کی احادیث اور سنن قرآن پاک کی تفسیر اور تشریح ہیں، حدیث سے مراد رسول اللہ ﷺ کے اقوال اور ارشادات ہیں اور سنت سے مراد آپ ﷺ کے اعمال، اور جو اعمال آپ ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے صادر ہوئے ان کی عملی صورت کو سنت کہا جاتا ہے۔

ان دونوں حدیث اور سنت کے ابتدائی پہنچانے والے راوی بھی قرآن کریم پہنچانے والوں کی طرح رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہی ہو سکتے تھے اور وہی ہیں۔ حدیث و سنت کی روشنی میں نہ صرف قرآن کریم کی صحیح منشا، معنی اور مفہوم متعین ہوتا ہے بلکہ مذہب اسلام کے ہزاروں ایسے جزئیاتی مسائل ہیں جن کی تفصیل پیغمبر کریم ﷺ کی حدیث و سنت ہی سے ملتی ہے۔ اس بارے میں بھی شیعوں کی راہ اسلام سے بالکل الگ اور جدا ہے۔ شیعہ تقیہ کر کے سنت و حدیث کا نام تو لیتے ہیں، لیکن درحقیقت حدیث و سنت سے ان کی اصل مراد رسول اللہ ﷺ کے ارشادات اور اعمال نہیں ہیں، جن کے پہلے راوی رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہو سکتے ہیں اور وہی ہیں۔ بلکہ شیعوں کے نزدیک چونکہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سوائے تین یا چار کے باقی سب ناقابل اعتبار، غاصب، منافق، لالچی، خود غرض، مرتد اور کافر تھے (نعوذ باللہ!) جنھوں نے قرآن ہی کو تبدیل کر دیا تو پھر احادیث پر کیا اعتبار۔ پھر شیعوں کے پاس احادیث کی اپنی مرتب کی ہوئی دوسری الگ کتابیں ہیں جن کی آخری سند رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی نہیں بلکہ شیعوں کے ائمہ ہیں اور سنت و حدیث سے ان کی مراد وہی روایتیں ہیں جو ائمہ کے ناموں سے منسوب ان کی کتابوں میں مرقوم ہیں۔ یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی احادیث کی مشہور کتابوں سے، جن کو کتبِ ستہ کہا جاتا ہے، شیعوں کی روایتوں کی معتبر کتابوں کو جن کو وہ [اصول اربعہ] کہتے ہیں تقابل میں لایا جائے تاکہ اصل حقیقت مکمل طور سے واضح ہو سکے۔

اسلام میں احادیث کی مشہور کتابیں:

[1] مؤطا امام مالک، از امام مالک بن انس۔ ولادت 95 ہجری، وفات 179 ہجری۔

[2] صحیح بخاری، از امام ابو عبداللہ محمد بن اسمٰعیل بخاری۔ ولادت 194 ہجری، وفات 256 ہجری۔

[3] صحیح مسلم، از امام حافظ مسلم بن حجاج القشیری۔ ولادت 204 ہجری، وفات 261 ہجری۔

[4] جامع ترمذی، از امام ابو عیسٰی محمد بن موسٰی۔ ولادت 209 ہجری، وفات 279 ہجری۔

[5] سنن ابی داؤد، از امام ابو داؤد سلیمان بن الاشعث۔ ولادت 202 ہجری، وفات 275 ہجری۔

[6] سنن نسائی، از امام ابو عبدالرحمن احمد بن شعیب۔ ولادت 212 ہجری، وفات 303 ہجری۔

[7] سنن ابن ماجہ، از ابو عبداللہ محمد بن یزید۔ ولادت 209 ہجری، وفات 273 ہجری۔

شیعہ مذہب میں ائمہ کی طرف منسوب روایات کی مشہور کتابیں (اصول اربعہ):

[1] الجامع الکافی، از ابو جعفر محمد بن یعقوب کلینی رازی۔ وفات 328 ہجری۔ حال ہی میں 1391 ہجری میں ایران سے 8 جلدوں میں چھپی ہے۔

[2] من لا یحضرہ الفقیہ، از محمد بن علی ابن بابویہ قمی۔ وفات 381 ہجری۔ حال ہی میں 1390 ہجری میں ایران سے بھی چھپی ہے، چار جلدوں میں ہے۔

[3] استبصار، از ابو جعفر محمد بن حسن طوسی۔ وفات 460 ہجری۔ حال ہی میں 1390 ہجری میں ایران سے چار جلدوں میں چھپی ہے۔

[4] تہذیب الاحکام، از ابو جعفر محمد بن حسن طوسی۔ وفات 460 ہجری۔ حال ہی میں 1390 ہجری میں ایران سے بھی دس جلدوں میں چھپی ہے۔

شیعوں کے بارے میں قرآن میں تحریف اور تبدیلی کے عقیدے کی بات تو عوام میں بھی مشہور ہے لیکن انھوں نے نبی اکرم ﷺ کی احادیث کو بھی رد کیا ہے۔ اس حقیقت سے تو ہمارے اکثر علمائے کرام بھی ناواقف ہیں اور میرے اوپر بھی یہ انکشاف تب ہوا جب میں نے ان کی اصل بنیادی کتابیں دیکھیں، جن کا میں نے یہ مختصر تعارف کرایا ہے۔

[3] ختم نبوت کے انکار کی قطعی صورت:

پہلے بیان کردہ حقائق کو سامنے رکھ کر شیعیت پر غور کیا جائے تو اس میں ختم نبوت کا معاملہ اس طرح ہے:

[1] قرآن مجید شیعوں کے نزدیک تحریف اور تبدیل شدہ ہے۔

[2] رسول اللہ ﷺ کی احادیث کو وہ رد کرتے ہیں اور ان کے پاس بالکل الگ، ائمہ کے ناموں سے ہزارہا متوازی روایات ہیں جو قرآن کریم کی واضح تعلیم اور رسول اللہ ﷺ کی متواتر احادیث کی ضد اور مقابل ہیں اور شیعہ مذہب کی پوری عمارت ان روایات کی عملی شکل ہے۔

[3] ان کے عقیدہ کے مطابق رسول اللہ ﷺ کے تمام صحابہ، جن کی تعداد کم و بیش سوا لاکھ ہے،

ان میں سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور دیگر چار افراد کے سوا باقی تمام رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد فوراً مرتد اور کافر بن گئے۔ (نعوذ باللہ من شر ذلک) شیعوں نے رسول اللہ ﷺ کی تئیس سالہ دورِ نبوت والی زندگی کے تمام سرمایہ کو بیکار بنا دیا ہے، جس کے معنی یوں سمجھنے چاہئیں کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کے آخری نبی بن کر آنے ہی کو بے فائدہ اور بے فیض کہا ہے۔ (العیاذ باللہ!) پھر جہاں رسول اللہ ﷺ کے آخری نبی بن کر مبعوث ہونے کا تصور ہی بے فائدہ بن جائے تو اس مذہب میں ختم نبوت کا حقیقی تصور بھی کہاں آئے گا، عقیدہ تو بڑی دور کی بات ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ شیعہ مذہب میں امامت کے نام سے نبوت سے بھی افضل اور اعلیٰ منصب ایجاد کیا گیا ہے، جس کی موجودگی میں رسول اللہ ﷺ کی ختم نبوت کا عقیدہ اس طرح ہو جاتا ہے کہ اس کا خالی تصور بھی تلاش کرنے سے نہیں ملتا۔

[4] شیعوں کے ان عقائد میں سے ہر ایک کا صریحاً کفر ہونا:

ہر شخص کو معلوم ہے کہ پوری دنیا کے علمائے کرام کا یہ متفقہ فتویٰ ہے کہ قادیانی مسلمان نہیں ہیں، کیونکہ یہ اسلام کے ایک اہم بنیادی عقیدہ ختم نبوت کے منکر ہیں اور یہ رسول اللہ ﷺ کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانتے ہیں اور اس کے اوپر وحی آنے کے قائل ہیں تو پھر یہ ظاہر ہے کہ جہاں قرآن کی تحریف کا عقیدہ ہو، امامت کے نام پر نبوت ہو، رسول اکرم ﷺ کی احادیث کو رد کیا گیا ہو، تو پھر ان لوگوں کو اسلام کا یا مسلمانوں کا ایک فرقہ کہنا یا ان لوگوں کا خود کو مسلمانوں کا ایک فرقہ کہلانا، کس طرح سے درست ہو سکتا ہے؟ یہ ایک ایسا سادہ اور آسان سوال ہے کہ کسی عام مسلمان کو بھی اس کا جواب دینے میں دیر نہیں لگے گی، بشرطیکہ اس کو مذکورہ حقائق کا صحیح علم ہو یا اس کو صحیح حقائق سے آگاہ کیا گیا ہو۔ چنانچہ شیعوں کے بارے میں بھی یہ حقیقت ثابت ہے کہ ابتدائی دور سے لے کر ہماری اسلامی دنیا کے جید علماء نے ان کے خارج از اسلام ہونے کے بارے میں فتوے دیے ہیں، یہ تین باتیں جو ،،شیعہ عقائد کا اصلی روپ،، میں بیان ہو چکیں، ان کے علاوہ علمائے اہلِ سنت کا اس بات پر بھی متفق علیہ کفر کا فتویٰ موجود ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو کافر اور مرتد کہنے والا کافر ہے، کیونکہ قرآن مجید میں بے شمار مواقع پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعریف کی گئی ہے اور ان کے لیے رسول اللہ ﷺ کی

صحیح حدیثوں میں واضح الفاظ ہیں۔ ان کے ناموں سے بھی بہت بشارتیں موجود ہیں۔ پھر ان پاکیزہ ہستیوں کے لیے بدکلامی کرنے سے قرآن کی بے شمار آیات اور رسول اللہ ﷺ کی احادیث کا انکار لازم ہو جائے گا اور یہ بات صریحاً کفر ہے۔

[5] ہمارے علمائے کرام کی حیرت انگیز لاعلمی:

یہ سب کچھ معلوم کرنے اور شیعہ مذہب کے اصلی روپ سے واقف ہونے کے بعد فطری طور پر مجھے یہ جستجو رہی کہ اس عظیم فتنہ کے بارے میں ہمارے علمائے علماء نے کیا کیا ہے اور کیا کر رہے ہیں؟ کیا لکھا اور کیا لکھ رہے ہیں؟ لیکن میری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی جب میں نے دیکھا کہ سوائے ان چند انگلیوں پر گنے جانے والے علماء کے، جو شیعہ مذہب کے اصلی روپ اور حقائق سے اچھی طرح واقف ہیں اور ان کے بارے میں وہ یقیناً مواعظ اور تقاریر کے ذریعے اپنی تمام قوتیں صرف کر رہے ہیں، باقی تمام علماء اس بارے میں قطعی لاعلم اور خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ بیشتر علماء کو شیعہ مذہب کی اصلی حقیقت، ان کے عقائد، علمی ماخذ، فقہ، شیعہ مذہب کی تاریخ وغیرہ کے بارے میں مشکل سے اتنی معلومات ہیں جتنی ایک عام درمیان درجہ کے مسلمان کو ہوتی ہیں۔ مدارسِ اسلامیہ میں بھی منطق اور فلسفہ کی تعلیم کا تو اعلیٰ سے اعلیٰ انتظام کیا ہوا ہے، قادیانیت کے فتنہ کا سدِ باب کرنے کے لیے (وہ بھی کسی حد تک) اور ختمِ نبوت کے عقیدہ کی تعلیم کا تو انتظام ہے لیکن شیعیت کے اتنے بڑے فتنہ کو سمجھنا، مسلم دنیا کے لیے خمینی صاحب کے تباہ کن توسیعی عزائم سے واقفیت رکھنا، خود پاکستان میں اندرونی اور بیرونی دباؤ سے شیعیت کا کس طرح جال بچھایا جا رہا ہے، اس میں ریڈیو اور ٹیلی ویژن انتظامیہ کیسا کردار ادا کر رہے ہیں (اس کے لیے ضروری نہیں ہے کہ خود کوئی ٹی وی دیکھنے کا پابند بنایا جائے)، اخبار و رسائل میں کیا چھپتا ہے، شیعوں کی کون کون سی کتابیں، رسائل، بلیٹن یا اشتہارات شائع یا نشر ہو کر مسلمانوں کے گھروں میں مفت، بغیر ایڈریس کے پہنچ رہے ہیں۔ دوسری طرف سنی علماء کی لائبریریوں میں شیعوں کی بنیادی ضخیم کتابیں تو دور کی بات ہے خود سنیوں کے جید علماء کی پرانی و مشہور کتابیں، مثلاً تحفہ اثنا عشریہ فارسی اور اس کا اردو ترجمہ از شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمہ اللہ، آیات بینات از نواب سید محمد مہدی علی، نصیحۃ الشیعہ از حضرت مولانا احتشام الدین مراد آبادی، تحفۃ الوہاب از حضرت مولانا عبدالوہاب گلال (سندھی میں) شیعہ حضرات سے ایک سو سوالات (اردو اور سندھی) وغیرہ بھی موجود نہیں، جہاں ہیں تو وہاں بھی صرف کتب خانوں کی زینت بنا کر رکھی گئی ہیں۔ کسے ضرورت پڑی ہے جو ان کو کھول کر مطالعہ کرے کہ ان میں شیعیت کے بارے میں کیا لکھا ہوا ہے۔ (انا للہ وانا الیہ راجعون) نتیجہ ظاہر ہے کہ ہمارے اکثر علمائے کرام بلکہ یوں کہا جائے کہ چند علماء کے سوا، جو ہمہ وقت اس عظیم فتنہ کی بیخ کنی میں مصروف ہیں، شیعیت کے بارے میں باقی سب علماء ایک عام درمیانے درجے کے مسلمان جتنا علم رکھتے ہیں اور ان چند علماء سے کیا ہو سکے گا جب کہ ان کو باقی تمام علماء کی اخلاقی مدد بھی میسر نہیں۔ حال تو یہ ہے کہ کچھ علماء دنیوی طمع میں آ کر شیعوں کی مجالس میں جا کر اور ریڈیو، ٹیلی ویژن پر شیعوں کے پروگراموں میں شریک ہو کر شیعیت کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر کے اسلام کے لیے ضرر رساں بن رہے ہیں۔ یہاں میں یہ بات بھی واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ جہاں تک میرے تحقیقی مطالعے کا تعلق ہے تو شروع سے لے کر آج تک اسلام کے نام پر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازش کے تحت صرف دو مذاہب ایک شیعیت اور دوسرا قادیانیت وجود میں آئے ہیں جن کی ہر بات اسلام (قرآن وسنت اور ختم نبوت) کی ہر بات سے تحریری طور پر ٹکرانے والی ہے اور یہ دونوں مذاہب اسلام کے خلاف مکمل طور پر کتابی صورت میں قلم بند کیے ہوئے ہیں اور ان دونوں مذاہب میں بھی شیعیت کو اولیت حاصل ہے، جس کے مندرجہ ذیل دو سبب ہیں:

[1] اسلام میں شیعیت کا فتنہ دوسرے تمام فتنوں سے پرانا اور پہلا ہے۔ پہلی صدی ہجری کی پیداوار ہے، اس مذہب کے ماننے والوں کی حکومتیں بھی رہی ہیں، لہٰذا اس مذہب کے ماننے والوں کو اسلام کے خلاف ہر بات ایجاد کرنے اور تصنیف کرنے میں حد سے زیادہ آسانیاں اور مراعات میسر رہی ہیں اور ہیں۔

[2] اسلام کے نام پر دنیا میں شیعہ مذہب پہلا مذہب ہے جس کے تصنیف کرنے والوں نے دنیا کے سامنے قرآن کو محرف کہنے اور ثابت کرنے کے لیے خود قرآن مجید میں تحریفیں کی ہیں اور ان کی اول درجے والی پہلی معتبر ترین [کتاب الکافی کلینی] (جس کے مصنف نے 328 ہجری میں وفات پائی) اس میں امامت کا عقیدہ قرآن پاک کی تحریف سے ثابت کیا گیا ہے۔ (العیاذ باللہ!)

ان شیعوں نے تحریفِ قرآن کے خود تراشیدہ عقیدہ کو ثابت کرنے کے لیے خود قرآن کریم میں تحریف کی اور ایسی بے شمار آیات انھوں نے خود بنا ڈالیں اور ان کے لیے دعوے کیے کہ قرآن میں جو فلاں فلاں آیت ہے وہ جب نازل ہوئی تو اس میں فلاں فلاں الفاظ سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور پانچ تن پاک کے نام تھے اور امامت کا ذکر تھا لیکن رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد جن لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کی نیابت، امامت، خلافت اور حکومت پر غاصبانہ قبضہ کیا (نعوذ باللہ!) انھوں نے قرآن مجید میں سے ایسے الفاظ اور آیتیں خارج کر دیں، اس لیے موجودہ قرآن میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی امامت اور خلافت اور آپ کی نسل میں امامت اور خلافت کا ذکر نہیں ملتا۔ شیعہ مذہب کے مصنفین کی تحریفِ قرآن کا عقیدہ ایجاد کرنے کی ضرورت کا اصلی پس منظر یہی ہے۔

[3] شیعہ اثنا عشریہ کے مقبول ترجمہ مع حاشیہ میں تحریف و تغیر کی تقابلی صورت میں چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں:

اس وقت میرے سامنے [مقبول تفسیر و ترجمہ مع حاشیہ] کے دو نسخے موجود ہیں۔ ایک نسخہ تیسرا ایڈیشن 944 صفحات پر مشتمل ہے۔ دوسرا نسخہ پانچواں ایڈیشن، مطبوعہ لاہور ہے اور اس کے 1306 صفحات ہیں۔ یہ ترجمہ شیعہ اثنا عشریہ کے مطابق قرآن پاک کا با محاورہ ترجمہ ہے۔ اس کے حاشیہ میں زیادہ تر ائمہ کی روایات کی صورت میں تفصیل سے اردو میں تشریحی نوٹ لکھے گئے ہیں۔ سر ورق پر کتاب کے مترجم و مفسر کا نام مولانا مولوی حکیم سید مقبول احمد شاہ صاحب دہلوی لکھا ہوا ہے۔ شیعہ مجتہد و مفسر نے اس تفسیر کے حواشی لکھنے میں جن اثنا عشریہ شیعوں کی معتبر و مستند ترین بنیادی کتابوں سے حوالہ جات لیے ہیں: وہ یہ ہیں: الکافی، الصافی، شرح نہج البلاغہ، امالی، مجمع البیان، علل الشرائع، الجوامع، تفسیر عیاشی، تفسیر قمی، کتاب التوحید، المعانی، اخبار الرضا، اکمال، الاحتجاج، تفسیر امام حسن عسکری (امام کی طرف منسوب کی ہوئی)، فصل الخطاب، روضۃ الواعظین، منہج الصادقین وغیرہ وغیرہ۔

یہ تو آپ جانتے ہیں کہ قرآن کریم کی تشریح و تفسیر رسول اللہ ﷺ نے خود فرمائی ہے اور احادیث کی کتابیں اس کی شاہد ہیں لیکن مندرجہ بالا اٹھارہ کتب میں آپ کو حدیث کی معتبر ترین ان چھ کتب صحیح بخاری، صحیح مسلم، جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن نسائی اور سنن ابن ماجہ میں سے کسی کتاب کا نام ملتا ہے؟ تو پھر یہ حالت اس حقیقت کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ شیعوں کے دین کی بنیادیں نبی ﷺ کی احادیث نہیں ہیں بلکہ وہ جعلی روایات ہیں جن کو شیعہ مذہب کے مصنفین نے خود تراش کر ائمہ کے نام منسوب کیا، جن میں خود قرآن مجید کی تحریف کا ذکر ہے اور اماموں کے لیے کتمان اور تقیہ کا اصول بنایا گیا ہے اور اماموں کو نبی اکرم ﷺ جیسا کہا گیا ہے وغیرہ وغیرہ۔

میں نے اس مقبول تفسیر و ترجمہ کو شیعوں کے ہاں قرآن کی تحریف کا عقیدہ ثابت کرنے میں مندرجہ ذیل خاص وجوہ کی بنا پر اولین درجہ دیا ہے:

[1] یہ قرآن مجید کا مقبول ترجمہ و تفسیر برصغیر پاک و ہند میں، اردو زبان میں ایک شیعہ اثنا عشریہ مجتہد اور مفسر کا 1331 ہجری بمطابق 1913ء میں تحریر کردہ ہے اور 1955ء تک پانچ مرتبہ طبع ہوا ہے، اس کے بعد کتنی مرتبہ چھپا اس کی کوئی خبر نہیں ہے۔ اس سے یہ بات ثابت ہے کہ یہ تفسیر شیعہ اثنا عشریہ کی برصغیر کے تمام شیعہ علماء کے نزدیک، چاہے وہ اردو دان ہوں یا سندھی، سب کے نزدیک شیعہ مذہب کی صحیح ترجمانی کرنے والی تفسیر ہے۔

[2] اس تفسیر کے سرورق پر تحریر شدہ عبارت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ تفسیر شیعوں کے عقیدہ کے مطابق اہلِ بیت کے مذہب کے مطابق لکھی گئی ہے۔

[3] اس تفسیر کی 12 شیعہ مجتہد العصر علماء نے کم و بیش ان الفاظ میں تصدیق کی ہے کہ اس تفسیر کا ماخذ وہ روایتیں ہیں جو حضراتِ اہلِ بیت سے منقول ہیں۔

[4]اس تفسیر کے تمام حواشی شیعہ اثنا عشریہ کی مذہبی، بنیادی اور مستند ترین اٹھارہ سے زیادہ کتابوں میں سے ائمہ کی طرف منسوب کردہ روایات سے مرتب کیے گئے ہیں اور یہ تمام مواد مترجم نے خود اردو زبان میں ترجمہ کر کے تحریر کیا ہے، جس میں غیر شیعہ کی طرف سے تغیر یا غلط معنی کرنے کے شک کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا اور یہ بڑی اہم بات ہے۔

[5] اس ایک ہی تفسیر پڑھنے سے ایک قاری کو شیعہ مذہب کی اٹھارہ معتبر ترین کتب سے وہ مواد مل جاتا ہے جو شیعہ مذہب کے مصنفین نے تحریفِ قرآن کے بارے میں ائمہ کی طرف منسوب کردہ روایات سے لکھ دیا ہے اور اس ایک ہی کتاب کے مطالعہ سے یوں معلوم ہوتا ہے گویا کہ شیعہ مذہب کی اٹھارہ کتابیں مطالعہ کر لیں، جن کے اوپر شیعہ مذہب کی عمارتِ تعمیر شدہ ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ تفسیر شیعوں کے جملہ عقائد اور تقریباً تمام اہم مسائل کی ائمہ کی روایات کے حوالہ سے ترجمانی کر رہی ہے اور یہ بات بھی اس کی اہمیت پر دلالت کرتی ہے۔

[6] اس تفسیر کے پڑھنے سے یہ حقیقت منکشف ہو جاتی ہے کہ شیعہ مذہب کے مصنفین نے رسول اللہ ﷺ کی احادیث کے پورے ذخیرہ کو رد کر کے، ان کے مقابلے میں ائمہ کے ناموں سے روایات بنا کر قرآن میں جہاں بھی ان کو ضرورت پیش آئی وہاں لفظی تحریف کر کے اور باقی پورے قرآن میں معنوی تحریف کر کے شیعہ مذہب کی عمارت تعمیر کی ہے، لہٰذا اسلام الگ چیز ہے اور شیعیت الگ چیز ہے، ان کا آپس میں دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔

اب حقیقت یہ ہے کہ یہ اٹھارہ کتابیں اور ان جیسی دیگر کتابیں، جن میں قرآن میں تحریف کے مضامین اور روایات شد و مد کے ساتھ موجود ہیں، یہ تمام پڑھ کر شیعوں کے علماء و مجتہدین بن رہے ہیں اور ان کا تحریفِ قرآن کا عقیدہ ہوتا ہے تو وہ پھر کیسے تحریفِ قرآن کے عقیدہ کا انکار کرتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ ان کا ریڈیو یا ٹیلی ویژن پر مسلمانوں کے سامنے یا جاہل ناواقف شیعوں کے سامنے شیعیت میں قرآن کی تحریف کے عقیدے کا انکار سراسر کتمان یا تقیہ (یعنی) دوسروں کو دھوکا دے کر شیعیت کی طرف راغب کرنے اور شیعہ بنانے کی ایک چال ہے، جس کا ان کے اصلی مذہب سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ اب شیعوں کے ہاں قرآن مجید میں تحریف کو آیات کے مقابلہ کی صورت میں بغیر ترجمہ کے حوالہ جات سے پیش کرتا ہوں، تاکہ صرف لفظی تحریف آسانی سے دیکھی جا سکے اور سمجھنے میں زیادہ آسانی ہو۔

اہل تشیع کی قرآن میں تحریف:

مندرجہ ذیل مقامات پر شیعوں نے قرآن کی آیات میں تحریف کی ہے۔ ان سب آیات میں پہلے قرآن شریف کی آیات دی گئی ہیں اور اس کے بعد شیعوں کے ہاں تحریف شدہ آیات ترتیب وار دی گئی ہیں:

[1] [اِنَّ اللّٰہَ اصۡطَفٰۤی اٰدَمَ وَ نُوۡحًا وَّ اٰلَ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ اٰلَ عِمۡرٰنَ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ][آل عمران:33]

[اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰ٘ى اٰدَمَ وَ نُوْحًا وَّ اٰلَ اِبْرٰهِيْمَ وَ اٰلَ عِمْرٰنَ وَ اٰلَ مُحَمَّدٍ عَلَى الْعٰلَمِيْنَ](تفسیر مقبول: 105)

[2] [وَ اِذۡ اَخَذَ اللّٰہُ مِیۡثَاقَ النَّبِیّٖنَ][آل عمران:81]

(وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ اُمَمِ النَّبِيّٖنَ) (تفسیر مقبول:118)

[3] [وَلۡتَکُنۡ مِّنۡکُمۡ اُمَّۃٌ][آل عمران:104]

(وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ اَئِمَّةٌ) (تفسیر مقبول:124)

[4] [کُنۡتُمۡ خَیۡرَ اُمَّۃٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ] [آل عمران:110]

(اَنْتُمْ خَيْرُ اَئِمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ) (تفسیر مقبول:125)

[5] [وَّ اَنۡتُمۡ اَذِلَّۃٌ] [آل عمران:123]

(وَ اَنْتُمْ ضُعَفَاءُ) [تفسیر مقبول: 129]

[6] [فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِہٖ مِنۡہُنَّ فَاٰتُوۡہُنَّ اُجُوۡرَہُنَّ فَرِیۡضَۃً] [النساء:24]

(فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهٖ مِنْهُنَّ اِلٰی اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ فَرِيْضَةً) (تفسیر مقبول:161)

[7] [فَرُدُّوۡہُ اِلَی اللّٰہِ وَ الرَّسُوۡلِ اِنۡ کُنۡتُ] [النساء:59]

(فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ اِلَى الرَّسُوْلِ وَ اِلٰى الْاَمْرِ مِنْكُمْ) (تفسیر مقبول:173)

[8] [جَآءُوۡکَ فَاسۡتَغۡفَرُوا اللّٰہَ] [النساء:64]

(جَاءُوْكَ يَا عَلِيُّ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ) (تفسیر مقبول:173)

[9] [مَا یُوۡعَظُوۡنَ بِہٖ] [النساء:66]

(مَا يُوْعَظُوْنَ بِهٖ فِيْ عَلِيٍّ لَّكَانَ) (تفسیر مقبول : 175)

[10] [لٰکِنِ اللّٰہُ یَشۡہَدُ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اِلَیۡکَ اَنۡزَلَہٗ بِعِلۡمِہٖ] [النساء: 166]

(لٰكِنِ اللّٰهُ يَشْهَدُ بِمَا اَنْزَلَ اِلَيْكَ فِيْ عَلِيٍّ اَنْزَلَهٗ بِعِلْمِهٖ) (تفسیر مقبول : 206)

[11] [اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ ظَلَمُوۡا لَمۡ یَکُنِ اللّٰہُ] [النساء:168]

(اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ ظَلَمُوْا اٰلَ مُحَمَّدٍ حَقَّهُمْ لَمْ يَكُنِ اللّٰهُ) (تفسیر مقبول:206، 207)

[12] [قَدۡ جَآءَکُمُ الرَّسُوۡلُ بِالۡحَقِّ مِنۡ رَّبِّکُمۡ فَاٰمِنُوۡا خَیۡرًا لَّکُمۡ ؕ وَ اِنۡ تَکۡفُرُوۡا فَاِنَّ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ] [النساء:170]

(قَدْ جَآءَكُمُ الرَّسُوْلُ بِالْحَقِّ مِنْ رَّبِّكُمْ فِيْ وِلَايَةِ عَلِيٍّ فَاٰمِنُوْا خَيْرًا لَّكُمْ وَاِنْ تَكْفُرُوْا بِوِلَايَةِ عَلِيٍّ فَاِنَّ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ) (تفسیر مقبول:206، 207)

[13] [ذَوَا عَدۡلٍ مِّنۡکُمۡ] [المائدہ:95]

(ذُوْ عَدْلٍ مِّنْكُمْ) (تفسیر مقبول: 244)

[14] [فَاِنَّہُمۡ لَا یُکَذِّبُوۡنَکَ] [الانعام:33]

(فَاِنَّهُمْ لَا يَكْذِبُوْنَكَ) (تفسیر مقبول:260)

[15] [اِنَّ الَّذِیۡنَ فَرَّقُوۡا دِیۡنَہُمۡ وَ کَانُوۡا شِیَعًا] [الانعام:159]

(اِنَّ الَّذِيْنَ فَارَقُوْا دِيْنَهُمْ وَكَانُوْا شِيَعًا) (تفسیر مقبول:296)

گزشتہ صفحات میں شیعہ اثنا عشریہ کے مقبول ترجمہ و تفسیر مع حاشیہ میں سے میں نے صرف چند تحریف شدہ آیات کے بیان پر اکتفا کیا ہے۔ آیات کے الفاظ میں تحریف کے علاوہ اس ترجمہ و تفسیر کے مکمل حواشی معنوی تحریف سے بھرے پڑے ہیں۔ پھر بھی یہاں میں مقبول حاشیہ میں سے صرف چند معنوی تحریفات کو نمونہ کے طور پر پیش کرتا ہوں، جن سے آپ کو شیعہ مذہب کے اصل خدوخال کی معلومات حاصل ہو جائیں گی اور آپ آسانی سے جان لیں گے کہ اس مذہب کے مصنفین اور موجد کون تھے؟

[16] [یَوۡمًا لَّا تَجۡزِیۡ نَفۡسٌ] [البقرۃ:49]

مقبول حاشیہ میں آیت کی تشریح کا خلاصہ۔ ایک شیعہ نے اعمالِ صالحہ کچھ بھی نہ کیے ہوں گے تو اس کے عوض ایک لاکھ سنی مسلمانوں کو جہنم میں بھیج کر اس کو جہنم سے بچایا جائے گا۔ (تفسیر مقبول:13)

[17] [وَ مَنۡ یَّنۡقَلِبۡ عَلٰی عَقِبَیۡہِ] [آل عمران:144]

مقبول حاشیہ میں امام محمد باقر سے مروی ہے کہ بعد جنابِ رسول اللہ ﷺ کے سوائے تین شخصوں کے اور سب مرتد ہو گئے۔ (امام جعفر صادق نے) ارشاد فرمایا کہ دو عورتوں نےرسول اللہ ﷺ کو موت سے پہلے زہر دے دیا تھا۔ (قولِ مترجم) مطلب حضرت کا وہی دو عورتیں ہیں، رب ان پر اور ان کے باپوں پر لعنت کرے۔ (تفسیر مقبول: 133)

یہاں سے یہ بات معلوم ہوئی کہ شیعہ مذہب کے تمام متقدمین و متاخرین علماء و مجتہدین اس بات پر متفق ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد تین یا چار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے سوا باقی سب (نعوذ باللہ) مرتد اور کافر ہو گئے تھے۔ اور یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے اہل بیت ازواج مطہرات میں سے خصوصاً سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا پر تو لعن طعن اور تبرا کرتے ہیں، جیسا کہ آپ نے مولوی مقبول احمد شاہ کے خود نوشتہ الفاظ پڑھے۔

رسول اللہ ﷺ کو دو عورتوں نے زہر دیا، ان سے شیعوں کی مراد ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور ام المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ (نعوذ باللہ!) رسول اللہ ﷺ کے اہل بیت ازواج مطہرات پر تہمت اور بہتان باندھنے کے بارے میں اس مذہب کے لیے کیا کہا جائے جو مذہب مکمل جھوٹ و فریب پر مبنی ہو تو اس کے کس کس جھوٹ کی نفی کی جائے، حالانکہ سیرت اور احادیث کی تمام کتابوں میں یہ واقعہ مرقوم ہے کہ خیبر کی فتح کے بعد رسول اللہﷺ نے چند دن خیبر میں قیام فرمایا تھا، انہی دنوں ایک یہودی عورت زینب بنتِ حارث زوجہ سلام بن شکم نے بکری کا گوشت بھون کر رسول اللہﷺ کو ہدیہ کے طور پر پیش کیا تھا، آپ ﷺ نے اس گوشت سے ایک لقمہ اٹھایا پھر فوراً ہاتھ روک لیا۔ آپ کے ساتھ سیدنا بشر بن براء بن معرور رضی اللہ عنہ کھانے میں شریک تھے، انھوں نے کچھ زیادہ کھا لیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کو بھی روک دیا لیکن چونکہ وہ زیادہ کھا چکے تھے، لہٰذا زہر نے اثر کیا اور وہ فوت ہو گئے۔ (سیرت المصطفیٰ: 2/2) اس زہر کا اثر رسول اللہ ﷺ کی آخری عمر تک رہا، جیسا کہ صحیح بخاری کی روایت میں آتا ہے کہ آپ ﷺ آخری وقت میں بھی فرماتے رہے کہ یہ اس زہر کا اثر ہے جو میں نے کھایا تھا۔

[بخاری، کتاب المغازی، باب مرض النبی ﷺ ووفاتہ: 4428]

اور یہی اعتراف بعض شیعہ بھی کرتے ہیں جیسا کہ اس وقت شیعہ مذہب کی امامت اور ائمہ کے بارے میں ایک چارٹ میرے آگے ہے۔ یہ چارٹ شیعہ ویلفیئر آرگنائزیشن نواب شاہ کا طبع کردہ ہے اور شیعہ مجتہد علامہ علی احمد نجفی بلوچ، خطیب جامع مسجد مرتضوی نواب شاہ کا تصدیق شدہ ہے۔ اس چارٹ میں مختلف عنوانات سے 26 کالم ہیں، جن میں رسول اللہ ﷺ، سیدہ فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا اور بارہ ائمہ کے تفصیلی حالات ہیں۔ ان کالموں میں سے 22 نمبر کالم کا عنوان ہے [قاتل کا نام] اس کالم میں رسول اللہ ﷺ کے قاتل کا نام ایک یہودی عورت دیا گیا ہے، جس سے بخاری شریف کی روایت کی تائید و تصدیق بھی ہوتی ہے۔ یہ بھی اللہ رب العزت کی حکمت ہے کہ کبھی کبھی اسلام اور مسلمانوں کے رہنماؤں کے حقیقی دشمنوں سے بھی حق اور سچ بات کہلوا اور لکھوا کر حق کو ثابت کرتا ہے۔ بے شک اللہ بہت بڑا ہے، بہت بڑا۔

[18] [لِیَمِیۡزَ اللّٰہُ الۡخَبِیۡثَ مِنَ الطَّیِّبِ] [الانفال:37]

رب تعالیٰ مومن (شیعہ) کے طینت (مٹی) میں کافر (سنی، ناصبی) کی طینت کا کچھ حصہ ملا دیتا ہے اور کافر (سنی، ناصبی) کی طینت میں مومن (شیعہ) کی طینت کا کچھ حصہ ملا دیتا ہے۔ (تفسیر مقبول: 360)

[19] [وَ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلٰی مُوۡسٰی وَ اَخِیۡہِ] [یونس:87]

سوائے علی رضی اللہ عنہ اور اولادِ علی رضی اللہ عنہم کے اور کسی کے لیے حلال نہیں ہے کہ میری مسجد میں عورتوں سے مقاربت کرے اور جنبی حالت میں شب باش ہو۔ (العیاذ باللہ!) (تفسیر مقبول ص:434) یہ روایت رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کی گئی ہے، اس روایت سے خود رسول اللہ ﷺ کے لیے کیا سمجھا جائے گا، ذرا غور کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ روایت بھی اللہ کے گھر کو شیعوں کے امام باڑہ کے برابر کرنے کا مہم کا ایک حصہ ہے، اللہ تعالیٰ اپنے گھر کی خود حفاظت فرمائے اور اس کی عظمت اور فضیلت برقرار رکھے۔

[20] [وَ قَالَ الشَّیۡطٰنُ] [ابراہیم:22]

قرآن مجید میں جہاں وَ قَالَ الشَّيْطٰنُ آیا ہے وہیں ثانی (عمر) مراد ہے۔ (العیاذ باللہ!) (تفسیر مقبول:512)

[21] [لَقَدۡ عَلِمۡتَ] [بنی اسرائیل:102]

جن لوگوں نے قرآنِ ناطق (بولتے قرآن علی رضی اللہ عنہ) چھوڑ دیا ہے ان کا قرآنِ صامت (بے زبان قرآن) کے الفاظ کو اس طرح زیر و زبر کرنا (تباہ کرنا) کچھ بعید نہیں۔ (تفسیر مقبول ص:583)

[22] [وَ لَمۡ نَجِدۡ لَہٗ عَزۡمًا] [طہ:115]

سارے اولوالعزم انبیاء نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ، ان کے اوصیاء اور غائب مہدی کو ماننے کا عہد کیا سوائے آدم کے، جس نے نہ اقرار کیا اور نہ انکار کیا (تقیہ کیا اور اللہ کو بھی دھوکا دیا۔ (مصنف کی جانب سے) (معاذ اللہ!) (تفسیر مقبول: 637)

[23] [لَئِنۡ لَّمۡ یَنۡتَہِ الۡمُنٰفِقُوۡنَ] [الاحزاب:60]

اس آیت کی رو سے ایسے لوگوں پر لعنت واجب ہے جیسے کہ اس آیت میں مذکور ہیں۔ (تفسیر مقبول:850)

ان عبارات کو غور سے دیکھیں کہ کس طرح قرآن مجید میں منافقوں کی مذمت کے بارے میں نازل شدہ آیات کو پیغمبر کریم ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر چسپاں کر دیا گیا ہے۔ اس میں امام غائب مہدی کا بھی خاص کارنامہ ذکر کیا گیا ہے۔

[24] [وَ الۡعَنۡہُمۡ لَعۡنًا کَبِیۡرًا] [الاحزاب:68]

(وَ لَعَنْهُمْ لَعْنًا كَثِيْرًا)(تفسیر مقبول:851)

لعنت کرنے سے باز رہنے اور دوسروں کو لعنت کرنے سے روکنے والوں کو قیامت کے دن [يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوْهُهُمْ فِي النَّارِ] (یعنی) ان کو منہ کے بل دوزخ میں ڈالا جائے گا۔ یہاں سے آپ کو شیعہ مذہب میں (معاذ اللہ!) تبرا کرنے اور لعن طعن کرنے کا ثبوت ملا اور اس کی اہمیت کا بھی اندازہ ہو گیا یا نہیں؟ یہاں شیعوں نے قرآن کی معنوی تحریف کر کے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نیز آپ کے اہل بیت ازواج مطہرات پر لعنت اور تبرا کرنے کا جواز بھی قرآن سے پیدا کیا ہے۔ آپ کیا سمجھتے ہیں؟ کیا آپ کوئی صرف ایک مثال دکھا سکتے ہیں کہ کسی یہودی یا نصرانی نے قرآن مجید سے ایسا ظلم اور زیادتی کی ہو؟

[25] [لَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ نَصۡرَہُمۡ ۙ وَ ہُمۡ لَہُمۡ جُنۡدٌ مُّحۡضَرُوۡنَ] [یٰس:75]

مشرکوں کو جو حالت بت پرستی کے سبب پیش آئے گی وہی ثلاثہ پرستوں کو اپنے ٹھاکروں کے ذریعہ سے سہنی پڑے گی۔ (تفسیر مقبول:888)

[26] [فَیَوۡمَئِذٍ لَّا یُسۡـَٔلُ عَنۡ ذَنۡۢبِہٖۤ اِنۡسٌ وَّ لَا جَآنٌّ] [الرحمن:39]

میسرہ کہتے ہیں کہ میں نے امام رضا کو یہ فرماتے سنا کہ تم میں سے دو بھی جہنم میں دکھائی نہ دیں گے، نہیں واللہ! بلکہ ایک بھی نہیں۔ (تفسیر مقبول: 1063)

[27] [وَ السّٰبِقُوۡنَ السّٰبِقُوۡنَ] [الواقعہ:10]

علی اور ان کے شیعہ ،،سابقین،، ہیں۔

[28] [اَصْحٰبُ الْيَمِيْنِ] [الواقعہ:27]

،،اصحاب الیمین،، شیعہ ہیں۔

[29] [طَلْعٍ مَّنْضُوْدٍ] [الواقعہ:29]

(طَلْحٍ مَّنْضُوْدٍ) (لفظی تحریف) (تفسیر مقبول:1067)

اب یہ بات ذہن میں رہے کہ مذکورہ شیعہ اثنا عشریہ کے اس مقبول ترجمہ کے تفسیری حواشی شیعوں کے اٹھارہ (18) سے بھی زیادہ معتبر ترین بنیادی کتابوں سے مرتب کیے ہوئے ہیں، جس کا مطلب یہ ہوا کہ شیعوں کے ان اٹھارہ کتابوں سے بھی زیادہ کتابوں کے مصنفین اور متصدقین تمام کے تمام قرآن مجید کی تحریف اور اس میں رد و بدل کے کفریہ عقیدے کے قائل ہیں اور اس کفریہ کارنامہ میں سو فیصد ملوث ہیں۔ اب اگر وقت کے لحاظ سے دیکھیں تو شیعہ مذہب کی سب سے زیادہ معتبر ترین کتاب اصولِ کافی کے مصنف ابو جعفر بن یعقوب بن اسحاق کلینی نے 328۔ 329 ہجری میں وفات پائی ہے۔ اس کتاب میں سب سے زیادہ قرآن کی تحریف اور تغیر کی روایات ہیں، جن کی بنا پر امامت کے عقیدہ کو تصنیفی طور پر تخلیقی جامہ پہنایا گیا ہے اور ان دونوں عقائد یعنی قرآن کی تحریف اور امامت کے عقیدہ کی تصنیفی طرح ایک ہی وقت میں تخلیق ہوئی ہے۔ (328ھ ،1410ھ) یہ ایک ہزار بیاسی (1082) برس بنتے ہیں۔ اس عرصہ میں شیعوں کے ہزاروں کی تعداد میں محدث و مجتہد بنے ہیں کہ ان میں سے بعض کی تصنیفات ہیں اور بعض کی کوئی تصنیف نہیں ہے لیکن یہ سب کے سب قرآن مجید کی تحریف کے عقیدہ پر متفق رہے ہیں کیونکہ قرآن کی تحریف کے عقیدہ سے انکار کا نتیجہ امامت کے عقیدہ کے انکار کو جنم دیتا ہے اور امامت کے انکار کے معنی شیعہ مذہب کا انکار ہے۔ اب آپ خود اندازہ لگائیں کہ شیعہ مذہب میں تحریفِ قرآن کے عقیدہ کی کتنی اہمیت ہے۔ اب بھی اگر کوئی شیعہ مجتہد قرآن کی تحریف کا انکار کرے تو وہ کتمان اور تقیہ کی علامت ہے جس کا سچائی سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے اور یہ سراسر دجل و فریب ہے۔

ہم شیعہ صاحبان کے متعلق پہلے ہی اس کتاب میں کافی کچھ لکھ چکے ہیں لیکن کچھ مزیدباتوں کا ذکر کرنا بھی مناسب ہے:

[1] واقعہ کربلا کو 1365 قمری اور 1344 شمسی سال مکمل ہو گئے اور شریعت میں 3 دن سے زیادہ سوگ نہیں تو اب تک ہر سال سوگ منانا کتنی بڑی نادانی اور نا سمجھی ہے۔

[2] اب محرم الحرام 1426 ہجری ہے، ہمارے شہر شیخوپورہ میں شیعہ صاحبان ماتم کر رہے ہیں اور اشتہار بھی ہر گلی محلے میں لگائے ہیں۔ ایک بہت بڑا اشتہار ہماری نظر سے گزرا جس کے سب سے اوپر دائیں طرف لکھا ہے: ،،یا علی مدد،، اور سب سے اوپر بائیں طرف لکھا ہے ،،یا رسول اللہ مدد،، ۔ حیرت ہوئی، افسوس ہوا کہ خالقِ کائنات کو تو ان لوگوں نے بالکل فارغ کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا اس اشتہار میں ذکر تک نہیں اور دوسری بات یہ ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ پر فوقیت دے دی۔ قیامت کے دن ان لوگوں کا کیا انجام ہو گا؟

اگر آپ شیعوں کے بارے میں مزید تحقیق اور آگاہی چاہتے ہیں:

تو مندرجہ ذیل کتب کا ضرور مطالعہ فرمائیں، سب کچھ واضح ہو جائے گا:

[1] شیعیت کا اصلی روپ۔ مصنف غلام محمد میمن، مکان نمبر اے-300، غریب آباد کالونی، نزد زبیدہ گرلز کالج حیدر آباد سندھ۔

[2] اصلاحِ شیعہ (عربی) مصنف ڈاکٹر موسیٰ الموسوی۔ اردو ترجمہ ابو مسعود آلِ امام۔

[3] آیاتِ بینات۔ مصنف محسن الملک نواب سید محمد مہدی علی خان۔