اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے کی فضیلت
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی سورۃ المائدہ میں یہود و نصاری سے دوستی کی ممانعت کے بعد دین اسلام سے ہر زمانے میں مرتد ہونے والوں کا حال بیان کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکیں گے، اللہ تعالیٰ اپنی قدرت مطلقہ سے ایسے لوگوں کو ہر زمانے میں لائے گا جو اس کے دین کی تائید کرنے والے ہوں گے اور شریعت اسلامیہ کا نفاذ کرنے والے ہوں گے، اور ان کی صفت عالیہ یہ ہوگی کہ اللہ ان سے محبت کرے گا اور وہ اللہ سے محبت کریں گے، مسلمانوں کے لیے تواضع اختیار کریں گے اور کفار کے لیے بڑے سخت ہوں گے، اللہ کے رستے میں جہاد کریں گے، اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَن يَرْتَدَّ مِنكُمْ عَن دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَافِرِينَ يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لَائِمٍ ۚ ذَٰلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ﴾
”اے ایمان والو! تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھر جائے گا، تو اللہ تعالیٰ عنقریب ایسے لوگوں کو لائے گا جن سے اللہ محبت کرے گا ، اور وہ اللہ سے محبت کریں گے ، جو مؤمنوں کے لیے جھکنے والے اور کافروں کے لیے سخت ہوں گے، اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے، اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے ، یہ اللہ کا انعام ہے، وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے، اور اللہ بڑی بخشش والا ، بڑا علم والا ہے ۔“
(5-المائدة:54)
اتباع رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وجہ سے انسان کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کا محبوب بن جاتا ہے۔ مزید یہ کہ اللہ تعالیٰ سے محبت کا طریقہ یہ ہے کہ رسول ہاشمی، محسن انسانیت، سرور کائنات محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع کی جائے۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
﴿قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ﴾
”آپ کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو، خود اللہ تم سے محبت کرے گا، اور تمہارے گناہ معاف کر دے گا، اور اللہ بڑا معاف کرنے والا ، رحم کرنے والا ہے ۔ “
(3-آل عمران:31)
اس آیت کریمہ کے بہت سے شان نزول اور اسباب وارد ہوئے ہیں۔ ایک سبب نزول یہ بھی ہے کہ :
یہود کے سردار کعب بن اشرف نے دعویٰ کیا کہ نحن أشد حبا لله۔۔۔ ہم اللہ کی محبت میں بہت سخت ہیں۔ اسی وجہ سے ہم اللہ کے پیارے ہیں۔ ”نحن أحباء الله“ تو اللہ عز وجل نے یہ آیات نازل کیں۔ فرمایا کہ ان کے دعوؤں اور خود ساختہ طریقوں سے اللہ کی محبت اور اس کی رضا حاصل نہیں ہو سکتی، اس کا تو صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ میرے پیغمبر کی اتباع کرو۔
تفصیل کے لیے دیکھیں : العجاب في بيان الاسباب: 677/2.
اس آیت کریمہ نے تمام دعوے داران کے لیے ایک کسوٹی اور معیار مہیا کر دیا ہے کہ محبت الہی کا طالب اگر اتباع محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے یہ مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے پھر تو یقیناً وہ کامیاب ہے اور اپنے دعوے میں سچا ہے ، ورنہ وہ جھوٹا اور اس مقصد کے حصول میں نا کام بھی رہے گا ۔ کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کامیابی کے اعلیٰ درجہ پر فائز تھے اور رضائے الہی کے حصول میں اس قدر کامران ہوئے کہ انہیںرضي الله عنهم ورضوا عنه کی نوید سنا ہی گئی ۔ وجہ کیا تھی؟ وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے تمام اعمال و افعال میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے تھے ۔
ہم پر نبی کریمﷺ کے حقوق ،ص: 30، از حافظ حامد محمود الخضری
اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حقیقی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ اس کی محبت کو ہر شے کی محبت پر مقدم رکھا جائے ۔باپ ہو یا بیٹا، بھائی ہو یا بیوی ، یا خاندان کا کوئی فرد، یا مال و دولت جسے آدمی اپنی کدو کاوش سے حاصل کرتا ہے، یا انواع واقسام کے اموال تجارت ، یا بلند و بالا کوٹھیاں ، ان سب کی اللہ اور اس کے رسول کے مقابلہ میں مؤمن کے دل میں کوئی بھی حیثیت نہیں ہوتی۔ جس کے ہاں یہ سب چیزیں اللہ ، رسول اور جہاد فی سبیل اللہ سے زیادہ محبوب ہوں گی وہ فاسق ہوگا ۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿قُلْ إِن كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُم مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّىٰ يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ ۗ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ﴾
”آپ کہہ دیجیے کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے کنبے قبلے، اور تمہارے کمائے ہوئے مال اور وہ تجارت جس کی کمی سے تم ڈرتے ہو، اور وہ حویلیاں جنہیں تم پسند کرتے ہو، اگر یہ تمہیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد سے بھی زیادہ عزیز ہیں تو تم اللہ کے حکم سے عذاب کے آنے کا انتظار کرو، یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ لے کر آجائے، اور اللہ تعالیٰ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔“
(9-التوبة:24)
جو مشرکین ہوتے ہیں، وہ اللہ کے بجائے دوسروں کی پرستش کرتے ہیں، اور اپنے معبودانِ باطلہ سے ایسی محبت کرتے ہیں جیسی اللہ سے کی جانی چاہیے، لیکن جو صادق الایمان ہوتے ہیں، وہ توحید باری تعالیٰ کا صحیح علم رکھنے کی وجہ سے اللہ کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہیں ٹھہراتے ، صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں، اسی پر تو کل کرتے ہیں، زندگی کے تمام اُمور میں صرف اللہ کی جناب میں پناہ لیتے ہیں اور صرف اسی سے محبت کرتے ہیں۔ اس کی محبت میں کسی دوسرے کو شریک نہیں ٹھہراتے ۔اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:
﴿وَمِنَ النَّاسِ مَن يَتَّخِذُ مِن دُونِ اللَّهِ أَندَادًا يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللَّهِ ۖ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِّلَّهِ ۗ وَلَوْ يَرَى الَّذِينَ ظَلَمُوا إِذْ يَرَوْنَ الْعَذَابَ أَنَّ الْقُوَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا وَأَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعَذَابِ .إِذْ تَبَرَّأَ الَّذِينَ اتُّبِعُوا مِنَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا وَرَأَوُا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْأَسْبَابُ. وَقَالَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا لَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّأَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوا مِنَّا ۗ كَذَٰلِكَ يُرِيهِمُ اللَّهُ أَعْمَالَهُمْ حَسَرَاتٍ عَلَيْهِمْ ۖ وَمَا هُم بِخَارِجِينَ مِنَ النَّارِ.﴾
”بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اللہ کا شریک اوروں کو ٹھہرا کر ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں جیسی محبت اللہ سے ہونی چاہیے، اور ایمان والے اللہ کی محبت میں بہت سخت ہوتے ہیں، کاش! کہ مشرک لوگ جانتے جب کہ اللہ کے عذابوں کو دیکھ کر (جان لیں گے ) کہ تمام طاقت اللہ ہی کو ہے اور اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والا ہے ( تو ہرگز شرک نہ کرتے) جس وقت پیشوا لوگ اپنے تابعداروں سے بیزار ہو جائیں گے اور عذاب کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے ، اور کُل رشتے ناتے ٹوٹ جائیں گے۔ اور تابعدار لوگ کہیں گے: اے کاش! ہم دنیا کی طرف دوبارہ جائیں تو ہم بھی ان سے ایسے ہی بیزار ہو جائیں ، جیسے یہ ہم سے ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ انہیں ان کے اعمال دکھائے گا کہ ان کے اعمال ان کے لیے باعث حسرت و ندامت بن گئے ، یہ ہرگز جہنم سے نہ نکلیں گے۔“
(2-البقرة:165 تا 167)
جب بندہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتا ہے تو اللہ عز و جل بھی بندے سے محبت کرتا ہے ۔ جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ مبارک ہے:
إن الله تبارك وتعالى إذا أحب عبدا نادى جبريل: إن الله قد أحب فلانا فأحبه فيحبه جبريل ، ثم ينادى جبريل فى السماء : إن الله قد أحب فلانا فأحبوه ، فيحبه أهل السماء ، ويوضع له القبول فى الأرض
” جب اللہ تبارک و تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبرائیل کو بلا کر کہتا ہے: ”بے شک میں فلاں بندے سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو،“ تو جبرائیل علیہ السلام بھی اس سے محبت کرتے ہیں۔ پھر جبرائیل آسمان میں یہ آواز لگاتے ہیں: ”بلاشبہ اللہ تعالیٰ فلاں بندے سے محبت کرتا ہے ، لہذا تم بھی اس سے محبت کرو۔“ چنانچہ اہل آسمان بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور وہ شخص روئے زمین پر بھی مرجع خلائق بن جاتا ہے۔“
صحیح بخاری، کتاب التفسير، رقم : 7458 .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
ایک بدو صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ قیامت کب قائم ہو گی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تو نے قیامت کے لیے کیا تیاری کی ہے؟ اس نے عرض کیا کہ (میری تیاری یہ ہے کہ میرے دل میں) اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت( ہے)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ”تو (قیامت کے دن) انہی کے ساتھ ہو گا جن سے تجھے محبت ہے۔“
صحیح مسلم، کتاب البر والصلة، رقم: 6711۔
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :
ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسا عمل بتائیے کہ جب میں عمل کروں تو اللہ مجھے اپنا محبوب بنالے، اور لوگ بھی مجھ سے محبت کرنے لگ جائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے جواب میں فرمایا: ”دنیا سے بے نیاز و بے رغبت ہو جا ، اللہ تعالیٰ تجھے محبوب رکھے گا اور لوگوں کے پاس جو کچھ ہے اس سے بھی بے نیاز ہو جا ، لوگ بھی تجھے محبوب رکھیں گے اور پسند کریں گے۔“
سنن ابن ماجہ کتاب الزهد، رقم: 4102۔ سلسلة الأحاديث الصحيحة، رقم: 475۔