حدیث 23: بیل اور بھیڑیے کا باتیں کرنا
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گزشتہ اقوام میں ایک شخص بیل پر سوار تھا بیل نے اس سے مخاطب ہو کر کہا: ہم سواری کے لیے نہیں پیدا کیے گئے بلکہ ہم کھیتی باڑی کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں، ابو بکر اور عمر (رضی اللہ عنہما) اس بات پر یقین رکھتے ہیں۔“ اور ایک بھیڑیے نے بکری پکڑ لی۔ چرواہا اس کے پیچھے دوڑا اور بکری کو اس کے منہ سے چھڑا لیا تو بھیڑیے نے کہا: یوم السبع میں بکریوں کا محافظ کون ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں، ابو بکر اور عمر (رضی اللہ عنہما) اس بات پر یقین رکھتے ہیں۔
صحيح البخاري، الحرث والمزارعة ، باب استعمال البقر للحراثة، حديث: 2324
اس حدیث میں طلوع اسلام والوں کے لیے باعث اعتراض بات یہ ہے کہ اس میں بیل اور بھیڑیے کا بات کرنا ثابت ہوتا ہے جو خلاف عقل ہے، لہذا وہ حدیث سے انکار کرتے ہیں۔
جواب :
قرآن کریم سے ثابت ہے کہ پرندے اور دیگر حیوانات باتیں کرتے ہیں، سلیمان علیہ السلام کے واقعے میں چیونٹی اور ہدہد کا باتیں کرنا ثابت ہے۔ سلیمان علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے یہ معجزہ عطا کیا تھا کہ وہ ان کی باتیں سمجھتے تھے۔
یہ واقعہ جو حدیث میں مذکور ہے اس میں غالب احتمال یہ ہے کہ یہ سوار شخص اور چرواہا اللہ تعالیٰ کے نیک بندے ہوں اور یہ ان کی کرامت ہو جو ہمیشہ نہیں ہوتی اور کسی کے اختیار میں بھی نہیں ہوتی، صرف اللہ تعالیٰ ایسے خرق عادت امور کا اظہار اس لیے کرتا ہے کہ بندہ مومن اس واقعے کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرے تاکہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت کے لیے مستقل دلیل بن جائے۔