تصویریں بنانے کی ممانعت
① سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الذين يصورون هذه الصور يعذبون يوم القيامة يقال لهم: أحيوا ما خلقتم
”جو لوگ یہ تصویریں بناتے ہیں، انہیں قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا، انہیں کہا جائے گا تم نے جو تخلیق کیا تھا اسے زندہ کرو۔“
بخاری، کتاب اللباس 5951، مسلم، كتاب اللباس والزينة 2108/97۔
② سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
كل مصور فى النار يجعل الله له بكل صورة صورها نفسا فيعذبه فى جهنم
”ہر مصور جہنم میں ہے، اللہ اس کی بنائی ہوئی ہر تصویر کو جسم عطا کرے گا اور جہنم میں عذاب دیا جائے گا۔“
بخاری، کتاب التعبير 7042، نسائي في الزينه 8 / 190۔ مسند احمد، ومن مسند بنی هاشم 317/1۔
③ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن أشد أهل النار يوم القيامة عذابا المصورون
”قیامت کے دن تصویر بنانے والوں کو جہنم میں سب سے سخت عذاب دیا جائے گا۔“
بخاری، کتاب اللباس 5950، مسلم، اللباس والزينة 98/ 2109۔
گھر میں تصویریں رکھنے کی ممانعت
① سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر میں تصویر رکھنے اور ایسا کرنے سے منع فرمایا۔
ترمذی، کتاب اللباس 1749، مسند احمد، باقی مسند الانصار 411/3، حدیث 14608۔
② ابو طلحہ زید بن جہنی انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تدخل الملائكة بيتا فيه كلب ولا تصاوير
”جس گھر میں کتا اور تصویریں ہوں وہاں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔“
اور ایک روایت میں ہے:
تماثيل
”جس گھر میں مورتیاں ہوں۔“
بخاري، كتاب اللباس 5949، مسلم، اللباس والزينة 2106/83۔
جس گھر میں تصویریں ہوں وہاں جانے کی ممانعت
① سیدنا ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تدخل الملائكة بيتا فيه كلب ولا صورة
”جس گھر میں کتا اور تصویر ہو وہاں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔“
اور ایک روایت میں ”مجسموں “کا ذکر ہے۔
اور ایک روایت میں ”تصاویر “کا ذکر ہے۔
بخاری، کتاب المغازی 4002، مسلم، کتاب اللباس والزینة 2106/87۔
سر کو پراگندہ کرنے کی ممانعت
① سیدنا عطاء بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے کہ ایک آدمی آیا جس کے سر اور داڑھی کے بال بکھرے ہوئے تھے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دستِ مبارک سے اشارہ فرمایا، گویا کہ آپ اسے اپنے بال اور اپنی داڑھی کو سنوارنے کا حکم فرما رہے ہیں، پس اس نے بال سنوارے اور پھر دوبارہ حاضرِ خدمت ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أليس هٰذا خيرا من أن يأتى أحدكم ثائر الرأس كأنه شيطان
”کیا یہ اس سے بہتر نہیں کہ تم میں سے کوئی بکھرے ہوئے بال لے کر آئے گویا کہ وہ شیطان ہے؟“
الموطأ، کتاب الجامع 2/ 946، حدیث 7۔
② سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکھرے ہوئے بالوں والا ایک آدمی دیکھا تو فرمایا:
أما يجد هٰذا ما يسكن به شعره
”کیا یہ کوئی ایسا شخص نہیں پاتا جو اس کے بال سنوار دے؟“
نسائی، فی الزینة 8/ 160، باب تسکین الشعر۔