الحلال والحرام فی الاسلام کا اردو ترجمہ، اجازت نامہ اور تقلید کے بجائے تحقیق کی دعوت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی کتاب اسلام میں حلال و حرام سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد طاھر نقاش صاحب نے کیا ہے۔

کتاب کی اشاعت کے لیے مصنف کا خصوصی اجازت نامہ :

الحلال والحرام فى الاسلامکے اردو ایڈیشن کی اشاعت کے لیے کتاب کے مصنف علامہ یوسف القرضاوی رحمہ اللہ کا خصوصی اجازت نامہ۔
إن الحمد لله نحمده ونستعينه ، ونستغفره ، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا ومن سيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل ومن يضلل فلا هادي له و أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله.
اما بعد ! اخی المحترم مولانا مختار احمد ندوی سلفی رحمہ اللہ نے مجھ سے میری کتاب ”الحلال والحرام فی الاسلام“ کے اردو ترجمہ اور ”الدار السلفیہ“ بمبئی کے زیر اہتمام اس کی اشاعت کی مجھ سے اجازت مانگی تاکہ ہمارے ہندوستانی مسلمان بھائی بھی اس اہم کتاب سے مستفید ہوسکیں۔ مجھے موصوف کو اس کی اجازت دے کر ان کے اس شوق ورغبت کو پورا کرنے میں ذرا بھی تامل نہیں ہوا کیونکہ ہمارے ہندوستانی مسلمان بھائیوں کا ہم پر یہ حق تھا، اس لیے بھی کہ ہم عرب مسلمانوں نے علماء ہند کے قلمی ثمرات اور علوم اسلامیہ خصوصاً سنت نبویہ کی خدمت میں ان کی علمی کوششوں سے بھر پور فائدہ اٹھایا ہے۔ اس لیے بھی ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد بھی کچھ کم نہیں ہے کہ اس سے غفلت برتی جائے بلکہ وہ تو اس وقت دنیا میں دوسری بڑی اسلامی سوسائٹی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ لہذا ہمارے اور ان کے درمیان زبان کا حجاب حائل نہیں ہونا چاہیے۔ علماء و مفکرین اسلام کا فرض ہے کہ وطن اور زبان کے اختلاف کو افکار و نظریات کے تبادلہ میں کسی طرح بھی حائل نہ ہونے دیں۔ خاص طور پر اب جب کہ ملکوں اور حکومتوں کے فاصلے سمٹ گئے ہیں، بلکہ ایک معاصر مفکر کے بقول ہماری موجودہ دنیا ایک بڑی بستی کی طرح بن گئی ہے۔
جب ساری دنیا کا یہ حال ہو گیا ہے تو عالم اسلام اور خاص طور پر مسلمانوں کے حالات کیوں نہ بدلیں، نیز اللہ کریم کی منشاء اور مرضی بھی یہی ہے کہ مسلمان ایک امت بن کر رہیں اور فکر وشعور میں ہمیشہ کے لیے متحد ہوں۔
آخر میں اپنے بھائی شیخ مختار احمد ندوی رحمہ اللہ اور ان کے تمام اخوان و انصار کا بھی میں شکر گزار ہوں، جنہوں نے اس کتاب کے ترجمہ اور اشاعت میں تعاون کیا ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کتاب کے پڑھنے والوں کو استفادہ کی توفیق بخشے اور سب کو جزائے خیر عطا کرے اور یہ کتاب میری مغفرت اور رضاء الہی کا ذریعہ بنے۔ تمام ہندوستانی مسلم بھائیوں کو میری طرف سے دعائیں اور نیک تمنائیں پہنچیں۔ وصلى الله عليه محمد واله وصحبه اجمعين

تقلید کی جکڑ بندیاں تحقیقی کام کے رک جانے کا باعث :

اس کتاب کے مؤلف یوسف القرضاوی رحمہ اللہ قطر کے جید عالم دنیائے عرب کے ممتاز مصنف و محقق اور عالم اسلام کی مشہور شخصیت ہیں۔ موصوف نے ”الحلال والحرام فی الاسلام اور فقہ الزکوۃ“ جیسی گراں قدر بلند پایہ اور محققانہ کتابیں تصنیف فرمائی ہیں۔
زیر نظر کتاب موصوف کی تالیف ”الحلال والحرام“ کا اردو ترجمہ ہے۔ اس کتاب میں فاضل مؤلف نے بڑی عمدگی اور نہایت مدلل طریقہ سے حلت و حرمت کے اہم مسائل پر بحث کی ہے اور شرعی احکام کی حکمتوں مصلحتوں کو اجاگر کیا ہے۔ نیز جن جدید مسائل سے مسلمانوں کو واسطہ پڑتا ہے اور ان کے سلسلہ میں جواز یا عدم جواز کا سوال پیدا ہوتا ہے۔ ان پر سیر حاصل گفتگو کی ہے اور افراط و تفریط سے بچتے ہوئے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔
کتاب کی افادیت کا صحیح اندازہ تو اس کے مطالعہ ہی سے ہوگا تا ہم اس سلسلہ میں چند مشہور علماء کی آراء پیش خدمت کی جاتی ہیں۔
◈ مولانا ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
”اس کتاب کو میں اپنے کتب خانہ کے لیے ایک اہم اضافہ تصور کرتا ہوں۔“
◈ فقہ کے زبر دست عالم استاد مصطفی زرقاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
”اس کتاب کو حاصل کرنا ہر مسلمان خاندان کے لیے ضروری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مؤلف نے اس کتاب کے ذریعہ مسلمانوں کی طرف سے فرض کفایہ ادا کر دیا ہے۔“
◈ شام کے ادیب استاذ علی طنطاوی رحمہ اللہ نے اس کتاب کو مکہ مکرمہ کے کلیہ شرعیہ میں داخل کرایا۔
◈ دمشق کے کلیہ شریعہ کے پرنسپل استاذ محمد المبارک رحمہ اللہ نے اس پر تقریظ لکھی۔
◈ لاہور کی پنجاب یونیورسٹی نے ایم اے کے نصاب میں اس کتاب کو شامل کر لیا۔
◈ اس کتاب میں جو حدیثیں بیان کی گئی ہیں ان کے حوالہ جات مرتب کرنے کی خدمت دیار شام کے مشہور محدث شیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے انجام دی۔
فاضل مؤلف نے کتاب کے دیباچہ میں اپنا نقطہ نظر وضاحت کے ساتھ پیش فرمایا ہے، جس کا خلاصہ درج ذیل ہے :
موجودہ زمانہ میں اسلام کے بارے میں بحث و گفتگو کرنے والے دو گروہوں میں ہیں۔ ایک گروہ وہ ہے جس کی آنکھیں مغربی تہذیب کی جگمگاہٹ سے خیرہ ہو گئی ہیں۔ یہ لوگ اس بت کے آگے سر نیازمند جھکائے قربانیاں اور نذرانے گزارنے کے لیے ادب سے کھڑے ہیں۔ وہ مغرب کے اصولوں اور اس کی تقلید پر اس قدر مطمئن ہیں کہ ان کے نزدیک اس مسئلہ پر بحث کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اگر اتفاق سے مغربی تہذیب کی کوئی ایسی بات سامنے آجائے جس کی تائید اسلام بھی کرتا ہو تو وہ تہلیل و تکبیر کرنے لگتے ہیں، اور اگر وہ بات اسلام کے خلاف پڑتی ہو تو وہ تاویل و تحریف سے کام لینے لگتے ہیں۔ گویا یہ بات طے شدہ ہے کہ مغربی تہذیب کے آگے سرنگوں ہونا ہے۔ ان کی نظر میں حلال وہ ہے جسے مغرب نے حلال قرار دیا ہو اور حرام وہ ہے جسے مغرب نے حرام قرار دیا ہو۔ یہ لوگ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ اسلام اللہ تعالیٰ کا کلمہ ہے اور اللہ کریم کا کلمہ ہی ہمیشہ بلند رہتا ہے اور رہے گا نیز وہی لائق اتباع ہے۔
دوسرا گروہ وہ ہے جو حلال و حرام کے مسائل میں ایک متعین رائے پر جامد ہو کر رہ گیا ہے۔ یہ لوگ صرف نصوص کے الفاظ اور اس کی عبارتوں کے متبع ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اصل اسلام یہی ہے۔ وہ اپنی رائے سے بال برابر ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور نہ اپنی رائے اور مسلک کو دلائل کے ذریعہ پرکھنے اور دوسروں کے دلائل سے موازنہ کرنے کے لیے ہی تیار ہیں، کہ اس کے بعد جو حق نکھر کر سامنے آئے اسے قبول کر لیں۔ وہ بزعم خود آسانی کے ساتھ بہت سی چیزوں پر حرام کا حکم لگاتے ہیں اور سلف صالحین کا یہ طریقہ بھول جاتے ہیں کہ وہ کسی چیز پر حرام کا اطلاق نہیں کرتے تھے بجز ان چیزوں کے جن کی حرمت قطعی ہو۔ ان کے علاوہ دوسری چیزوں کے بارے میں وہ مکروہ یا ناپسندیدہ وغیرہ جیسے الفاظ استعمال کرتے تھے۔
میں نے کوشش کی ہے کہ ان میں سے کسی گروہ میں شامل نہ ہو جاؤں۔ میں مغرب کو اپنا معبود نہیں بنانا چاہتا، جب کہ میں نے اسلام کو دین کی حیثیت سے قبول کیا ہے۔ اور نہ مجھے یہ بات پسند ہے کہ فقہی مسائل میں خطا وصواب سے قطع نظر کر کے کسی متعین مسلک کی تقلید کروں۔ تقلید تو بقول علامہ ابن جوزی رحمہ اللہ غور و فکر اور تدبیر کی صلاحیت ہی کو ختم کر دیتی ہے اور مقلد کی مثال اس شخص سے بھی زیادہ بری ہے جس کو روشنی حاصل کرنے کے لیے چراغ دیا گیا لیکن اس نے اسے بجھا دیا اور تاریکی میں چل پڑا۔
یہ صحیح ہے کہ میں نے خود کو مروجہ فقہی مسالک میں سے کسی خاص مسلک کے ساتھ (تقلید کرتے ہوئے) باندھ نہیں دیا ہے۔ اس لیے بھی کہ ان معروف مذاہب کے اماموں نے بھی اپنے معصوم ہونے کا دعویٰ نہیں کیا تھا۔ امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں کوئی شخص ایسا نہیں جس کی تمام باتیں لینے کے قابل ہوں سوائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں میری رائے درست ہے لیکن خطاء کا احتمال ہے اور دوسرے شخص کی رائے غلط ہے لیکن اس کے درست ہونے کا امکان ہے۔
لہذا کسی مسلمان عالم کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ موازنہ نہ کرنے اور ترجیح دینے کے وسائل رکھنے کے باوجود کسی ایک مسلک کا اسیر یا کسی مخصوص فقہی رائے کا پابند ہو کر رہ جائے بلکہ اس پر واجب ہے کہ وہ صرف دلیل و حجت کی پابندی قبول کرے۔ اور دلیل سے جو بات بھی صحیح ثابت ہو جائے اس کی اتباع کرے اور جس کی سند ضعیف اور دلیل بودی ہو اس کو رد کر دے خواہ وہ کسی کا بھی قول ہو۔
در حقیقت اس وسیع النظری کے بغیر نہ تحقیق کا حق ادا کیا جا سکتا ہے اور نہ موجودہ زمانہ کے پر پیچ مسائل کا متوازن حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔ بنابریں فاضل مؤلف کی مساعی نہایت قابل قدر ہیں۔ ضروری نہیں کہ ان کی تحقیق کو حرف آخر سمجھا جائے اور ان کی ہر رائے سے اتفاق کیا جائے۔ راقم الحروف نے بھی ترجمہ کرتے ہوئے جہاں ناگزیر سمجھا ہے اختلافی یا تشریحی نوٹ دے دیا ہے۔
ہمارے ملک میں قوت اجتہاد کی کمی، فقہی مسائل میں تنگ نظری اور تقلید کی جکڑ بندیوں کی وجہ سے شرعی مسائل میں تحقیق اور ریسرچ کا کام آگے نہیں بڑھ رہا ہے، جس سے ملت اسلامیہ کی مشکلات میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے حالانکہ کتنے ہی قدیم اور بے شمار جدید مسائل، فکر و اجتہاد کی دعوت دے رہے ہیں۔ ایسی صورت میں یہی غنیمت ہے کہ ان جدید عربی کتب کا اردو ترجمہ شائع ہو جائے جو تحقیقی انداز میں لکھی گئی ہیں۔ اس طرح غور و فکر کے لیے کافی قیمتی مواد سامنے آئے گا اور نظر میں وسعت پیدا ہو سکے گی۔
مؤلف کا منشاء اس کتاب میں حلال و حرام کا استقصاء کرنا نہیں ہے بلکہ خاص طور سے ان مسائل کی حلت و حرمت کو کتاب وسنت کی روشنی میں واضح کرنا ہے جو نہایت اہم ہیں یا جن سے واقفیت ناگزیر ہے مگر عام طور سے لوگ ان سے غفلت برتتے ہیں۔
کتاب کا عربی سے اردو ترجمہ کرنے میں راقم الحروف نے اس بات کی کوشش کی ہے کہ ترجمہ با محاورہ ہو اور طوالت سے بچنے کے لیے کہیں کہیں اختصار سے بھی کام لیا ہے۔
قابل صد مبارکباد ہیں ہمارے مخلص دوست مولانا مختار احمد صاحب ندوی رحمہ اللہ جنہوں نے ایک اہم تحقیقی کتاب کی اشاعت کا اہتمام فرمایا جب کہ ٹھوس دینی کتابوں کی اشاعت بالخصوص عہد نو کوئی آسان کام نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ اس کتاب کی افادیت کو عام کرے اور مؤلف کی خدمات کو قبولیت سے نوازے۔ آمين