مضمون کے اہم نکات
قرآن کریم کی رو سے سنت نبوی کا محفوظ ہونا
قرآن کریم سے یہ ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث محفوظ وحی ہیں۔ اس باب میں دو فصلیں ہیں۔ پہلی فصل میں حفاظت قرآن کا بیان ہے جبکہ دوسری فصل میں احادیث صحیحہ کی حفاظت کا اثبات بیان کیا جائے گا۔ ان شاء اللہ!
فصل اول
قرآن کریم کی حفاظت
دوسری الہامی کتابوں (تورات، زبور، انجیل اور صحیفوں) کی نسبت قرآن کریم کی یہ خصوصیت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کی ذمہ داری بذات خود لی ہے، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ
”بے شک ہم نے اس ذکر (قرآن) کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔“
(15-الحجر:9)
دوسری کتابوں بالخصوص تورات کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
بِمَا اسْتُحْفِظُوا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ وَكَانُوا عَلَيْهِ شُهَدَاءَ
”یعنی علمائے یہود کی حفاظت میں اللہ کی کتاب دی گئی تھی اور وہ اس پر گواہ تھے۔“
(5-المائدة:44)
یعنی یہود کے علماء کو تورات کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ کتاب ایک مدت تک رہنے والی تھی اور اس مدت تک علمائے یہود اس کی حفاظت کر سکتے تھے۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ تورات، زبور، اور انجیل کتابی (لکھی ہوئی) صورت میں انبیاء علیہم السلام کو عطا کی گئی تھیں، اس لیے مکتوب چیز کو تو علم اور کتابت سمجھنے والے ہی محفوظ کر سکتے تھے جبکہ عام لوگ اس سے بے خبر رہتے۔ ان دو وجوہ کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان کتابوں کی حفاظت کی ذمہ داری انبیاء علیہم السلام اور علماء کے سپرد کی تھی جبکہ قرآن کریم قیامت تک باقی رہنے والی کتاب تھی اور اس کے پہلے مخاطب ان پڑھ لوگ تھے۔ وہ بطور کتابت اس کی حفاظت نہیں کر سکتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کی ذمہ داری بذات خود قبول فرمائی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایک منظم پروگرام کے تحت کاتبین وحی کا تقرر ہوا اور انھوں نے تحریری طور پر قرآن کریم کو محفوظ کیا۔
قرآن کریم کی صفات میں اس کا محفوظ ہونا بھی شامل ہے، لہذا قرآن کریم میں لفظاً و معناً کسی بھی طریقے سے تبدیلی واقع نہیں ہو سکتی۔ ارشاد الہی ہے:
وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلًا ۚ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ
”آپ کے رب کی بات صدق و عدل کے اعتبار سے کامل ہے اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں۔“
(6-الأنعام:115)
نیز فرمایا:
وَاتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِن كِتَابِ رَبِّكَ ۖ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ
”اور اپنے رب کی کتاب پڑھتے رہیں جو آپ کی طرف وحی کی گئی ہے، اس کے کلمات کو کوئی تبدیل کرنے والا نہیں۔“
(18-الكهف:27)
نیز فرمایا:
قُلْ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أُبَدِّلَهُ مِن تِلْقَاءِ نَفْسِي
”کہہ دیجیے کہ مجھے یہ حق نہیں کہ میں اسے اپنی طرف سے بدل ڈالوں۔“
(10-یونس:15)
نیز فرمایا:
لَا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ
”اس تک باطل (تبدیلی) کو آگے سے رسائی ہے نہ پیچھے۔“
(41-حم السجدة:42)
مجاہد رحمہ اللہ نے اس آیت میں ”باطل“ کا معنی تبدیلی کیا ہے۔ لہذا قرآن کریم کی حفاظت کا معنی یہ ہے کہ قرآن کریم کے الفاظ میں کوئی تغیر و تبدل آ سکتا ہے نہ اس کے معانی میں کوئی تحریف و تغییر ہو سکتی ہے، البتہ کچھ باطل پرست لوگ یہ ناپاک کوشش کرتے ہیں کہ قرآن کریم کی آیات و الفاظ یا معانی و مفاہیم میں تبدیلی لے آئیں، جیسا کہ ہم نے پرویز صاحب کی سازش کو آشکار کیا۔ ان کی یہ کوشش و سازش ان شاء اللہ مسلمانوں میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔ ہر دور میں مسلمانوں نے اس قبیل کے باطل پرستوں کی ہر کوشش کو ناکام بنایا۔ اب بھی منکرین حدیث اس اسلام سے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش کیا تھا مسلمانوں کو بہکانے کے لیے مختلف قسم کی معنوی تحریفات و تاویلات کرتے رہتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی سازشوں اور جعل سازیوں سے امت کو آگاہ کرنے کے لیے ہر دور میں علمائے حق پیدا فرمائے جو انھیں ان کے مذموم مقصد میں کامیاب نہیں ہونے دیتے اور سادہ لوح مسلمانوں کو ان کے جھوٹے جال میں پھنسنے نہیں دیتے۔
حفاظت قرآن کے مراحل
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ
”اس کو جمع کرنا اور اس کو پڑھانا ہمارا کام ہے۔“
(75-القيامة:17)
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا: اس کتاب کا آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ مبارک میں جمع کرنا اور جبریل علیہ السلام کی وساطت سے اس کا پڑھنا یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک پر اس کی قراءت کو چلانا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔
اس تفسیر کے لحاظ سے قرآن کریم کو جمع کرنے کا یہ پہلا دور ہے لیکن اس لفظ کے اطلاق سے معلوم ہوتا ہے کہ بعد میں آنے والے ادوار (جنھیں ہم بیان کریں گے) میں بھی جمع کرنا اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے۔
جمع قرآن کے ادوار
❀ دور نبوی: اس دور میں قرآن کی حفاظت کے دو طریقے تھے، حفظ اور کتابت۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں میں سے حفظ قرآن پر زیادہ زور دیا تھا، اس کی چند وجوہ تھیں:
➊ قرآن کریم کتابی شکل میں نہیں بلکہ بواسطہ جبریل علیہ السلام صوتی انداز میں (آواز کے ذریعے سے) نازل ہوا، یعنی جس طرح جبریل علیہ السلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھایا ویسے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو سنایا اور حفظ کرایا۔ اس طریقے میں کسی رسم الخط، نقطوں اور اعراب وغیرہ کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ یہ بالکل سادہ اور فطری طریقہ تھا۔
➋ اہل عرب کا حافظہ بہت قوی تھا اور ان میں پڑھے لکھے لوگ پانچ فی صد سے بھی کم تھے۔
➌ تورات لکھی ہوئی صورت میں نازل ہوئی تھی، لہذا یہ پڑھے لکھے لوگوں کے ساتھ خاص ہوئی۔ رفتہ رفتہ انھوں نے اس میں تحریف کر ڈالی اور عوام کو اس کا علم بھی نہ ہوا کیونکہ تورات کو حفظ کرنے والے نہیں تھے۔ جبکہ قرآن کریم میں حفاظت قرآن بذریعہ حفظ کا خصوصی طور پر ذکر ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
بَلْ هُوَ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ فِي صُدُورِ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ ۚ
”بلکہ یہ کھلی اور روشن آیتیں ہیں ان لوگوں کے سینوں میں جنھیں علم دیا گیا ہے۔“
(29-العنكبوت:49)
اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت سینکڑوں حفاظ کرام موجود تھے۔ معرکہ بئر معونہ جو 4 ہجری میں ہوا اس میں تقریباً ستر حفاظ شہید ہوئے اور ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دور خلافت میں لڑی جانے والی جنگ یمامہ میں تقریباً سات سو حفاظ قرآن شہید ہوئے تھے۔ کتابت کا طریقہ یہ تھا کہ جب بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی آیت یا کوئی سورت نازل ہوتی تو آپ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ یا کسی دوسرے کاتب وحی کو بلا کر فرماتے کہ یہ آیت فلاں جگہ اور یہ آیت فلاں جگہ لکھ دو۔
چنانچہ صحابہ کرام حفظ کے ساتھ ساتھ کتابت بھی کر رہے تھے۔ اس دور میں کتابت کے لیے درج ذیل چیزیں استعمال کی جاتی تھیں:
➊ دباغت دی ہوئی باریک کھال۔
➋ پتھر کی سلیں۔
➌ اونٹ کے شانے۔
➍ کھجور کی شاخوں کے چھلکے۔
➎ اونٹ کے کجاوے کی چھوٹی لکڑیاں۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سارے کا سارا قرآن، آیات اور سورتیں، ترتیب کے ساتھ ٹکڑوں کی صورت میں محفوظ تھا لیکن کتابی شکل میں ایک جگہ جمع نہیں تھا۔ حفاظ کرام نے بھی اس مجموعے کو حفظ کیا تھا اور یوں مجموعی طور پر تمام قرآن کریم کے حفاظ موجود تھے۔ اس کے علاوہ جبریل علیہ السلام بھی ہر سال رمضان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرآن کریم کا دور کیا کرتے تھے۔
❀ دور صدیقی: امام بخاری رحمہ اللہ دیگر محدثین کرام اور مؤرخین نے تفصیل کے ساتھ دور صدیقی میں جمع قرآن کا ذکر کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جب جنگ یمامہ میں تقریباً سات سو حفاظ کرام شہید ہو گئے تو یہ خطرہ محسوس ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان حفاظ کے ختم ہونے سے قرآن کریم سارے کا سارا یا اس کا کچھ حصہ ضائع ہو جائے۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو رائے پیش کرتے ہوئے قرآن کریم کو کتابی شکل میں ایک جگہ جمع کرنے کی اشد ضرورت ہونے پر زور دیا۔ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ابتدا میں عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی رائے کی مخالفت کرنے کے بعد ان کی رائے پر رضامندی ظاہر کر دی، پھر زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو اس کام پر آمادہ کیا۔ صحابہ کرام کے پاس قرآن کریم کا جو جو حصہ لکھا ہوا تھا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بہت محنت اور جدو جہد سے اسے دو دو حافظوں کی شہادت و گواہی کے بعد اکٹھا کیا اور اس مجموعے کو ایک کتابی صورت میں مصحف بنا کر حکومت کی نگرانی میں رکھ دیا جو ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات تک ان کے پاس رہا اور ان کے بعد عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس رہا۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد یہ مصحف ام المؤمنین حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے پاس رہا۔
(صحيح البخاري، تفسير القرآن باب قوله تعالى: لقد كان لكم فى رسول ، حديث: 4679)
مختصر یہ کہ اس دور میں یہ کام کیا گیا کہ قرآن کریم جو مختلف حصوں میں مختلف صحابہ کرام کے پاس تھا اسے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی نگرانی میں اکٹھا کر کے ایک کتابی صورت میں جمع کیا گیا۔ آیات اور سورتوں کی ترتیب وہی تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں تھی۔ اس کی تفصیل بعد میں آئے گی۔
❀ دور عثمانی: ائمہ حدیث اور مؤرخین اسلام نے دور عثمانی میں جمع قرآن کا تذکرہ بھی اپنی کتابوں میں تفصیل کے ساتھ کیا ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے، جب عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو اسلام عرب سے نکل کر روم اور ایران کے دور دراز علاقوں تک پہنچ چکا تھا۔ ہر نئے علاقے کے لوگ جب مسلمان ہوتے تو وہ ان مجاہدین اسلام یا ان تاجروں سے قرآن کریم سیکھتے جن کی بدولت انھیں اسلام کی نعمت حاصل ہوئی تھی۔ اور یہ بات تو آپ کے علم میں بھی ہے کہ قرآن کریم سات حروف پر نازل ہوا تھا اور مختلف صحابہ کرام نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مختلف قراءتوں کے مطابق سیکھا تھا، اس لیے ہر صحابی نے اپنے شاگردوں کو اسی قراءت کے مطابق پڑھایا جس کے مطابق خود اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پڑھا تھا، اس طرح قراءتوں کا یہ اختلاف دور دراز ممالک تک پہنچ گیا۔ جب تک لوگ اس حقیقت سے واقف تھے کہ قرآن کریم سات حروف پر نازل ہوا ہے اس وقت تک اس اختلاف سے کوئی خرابی پیدا نہیں ہوئی۔ لیکن جب یہ اختلاف دور دراز ممالک میں پہنچا اور یہ بات ان میں پوری طرح مشہور نہ ہو سکی کہ قرآن کریم سات حروف پر نازل ہوا ہے۔ تو اس وقت لوگ آپس میں جھگڑنے لگے، بعض لوگ اپنی قراءت کو صحیح اور دوسرے کی قراءت کو غلط قرار دینے لگے، ان جھگڑوں سے ایک طرف تو یہ خطرہ تھا کہ لوگ قرآن کریم کی متواتر قراءتوں کو غلط قرار دینے کی سنگین غلطی میں مبتلا ہوں گے، دوسرے سوائے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے لکھے ہوئے ایک نسخے کے جو مدینہ منورہ میں موجود تھا، پورے عالم اسلام میں ایسا کوئی اور معیاری نسخہ موجود نہیں تھا جو پوری امت کے لیے تصحیح کا معیار بن سکے، کیونکہ دوسرے نسخے انفرادی طور پر لکھے ہوئے تھے اور ان میں ساتوں حروف کو جمع کرنے کا کوئی اہتمام نہیں تھا، اس لیے ان جھگڑوں کے تصفیہ کی قابل اعتماد صورت یہی تھی کہ ایسے نسخے پورے عالم اسلام میں پھیلا دیے جائیں جن میں ساتوں حروف جمع ہوں اور انھیں دیکھ کر یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ کون سی قراءت صحیح ہے اور کون سی غلط؟ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اپنی نگرانی میں یہی عظیم الشان کارنامہ انجام دیا۔
ترتیب قرآن
ترتیب قرآن کی تین قسمیں ہیں:
❀ ترتیب نزولی: حسب واقعہ کوئی آیت یا کوئی سورت نازل ہوتی تھی۔ چونکہ واقعات کا آپس میں کوئی ربط و تناسب نہیں ہوتا تھا، اس لیے ترتیب نزولی میں بھی ربط و تناسب کا لحاظ نہیں ہے۔ کوئی آیت یا سورت مکہ میں نازل ہوئی تو کوئی مدینہ میں، کوئی سفر میں تو کوئی حضر میں اور کوئی رات کے وقت نازل ہوئی تو کوئی دن کے وقت۔
❀ ترتیب کتبی: اس سے مراد قرآن کریم کے لکھنے کی ترتیب ہے۔ نزول کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہتمام کیا کہ فلاں آیت فلاں آیت کے بعد فلاں سورت میں اور فلاں سورت فلاں سورت کے بعد لکھی جائے۔ اگرچہ یہ مختلف ٹکڑے تھے مگر حقیقت میں ان میں پوری ترتیب تھی۔ حفاظ کرام نے بھی اسی ترتیب سے قرآن کریم حفظ کیا تھا۔ اور جبریل علیہ السلام بھی رمضان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسی ترتیب کے ساتھ دور کیا کرتے تھے، لہذا ترتیب آیات بالاجماع توقیفی ہے اور صحیح قول کے مطابق سورتوں کی ترتیب بھی توقیفی ہے۔ اس کے دلائل درج ذیل ہیں۔
➊ امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں قرآن کریم کی سورتیں اور آیتیں، سورۃ الانفال اور سورۃ التوبہ کے سوا سب اسی (موجودہ) ترتیب کے ساتھ مرتب تھیں۔
(الإتفان في علوم القرآن للسيوطي: 196/1. حقیقت میں یہ دونوں سورتیں بھی مرتب تھیں مگر اس وقت صحابۂ کرام کے ذہنوں سے ان کی یہ حقیقی ترتیب او جھل رہی )
➋ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زہراوین (سورۃ البقرہ اور سورۃ آل عمران) پڑھا کرو۔
(صحيح مسلم، صلاة المسافرين و قصرها، باب فضل قراءة القرآن وسورة البقرة حديث : 804)
➌ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک رکعت میں سات لمبی سورتیں (بقرہ، آل عمران، نساء، انعام، اعراف اور انفال مع التوبہ) پڑھی تھیں۔ مصنف ابن ابی شیبہ۔
➍ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: سورۃ بنی اسرائیل، کہف، مریم، طہ اور انبیاء (مرتب طریقے سے) کھری کھری پرانی سورتوں میں سے ہیں۔
( صحيح البخاري ، فضائل القرآن باب تأليف القرآن، حدیث : 4994)
➎ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سونے سے پہلے اپنے بستر پر (ترتیب وار) سورۃ الاخلاص اور معوذتین پڑھا کرتے تھے۔
( صحيح البخاري، الطب، باب النفث في الرقية، حديث: 5748)
➏ ابو جعفر نحاس نے کہا: مختار قول یہ ہے کہ سورتوں کی یہ ترتیب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ انھوں نے حدیث واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے استدلال کیا ہے جس میں درج ہے کہ مجھے تورات کے بدلے میں سبع طوال (سات لمبی سورتیں) دی گئی ہیں۔
( مسند أحمد: 107/4 ، حدیث: 17107)
➐ ابن حجر رحمہ اللہ نے مسند احمد اور سنن ابی داود کی اوس بن حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث سے استدلال کیا ہے کہ سورتوں کی ترتیب توقیفی ہے۔ انھوں نے کہا: صحابہ کرام نے قرآن کریم کو سات منزلوں میں تقسیم کیا تھا۔
( سنن أبي داود، الصلاة، تحزيب القرآن، حديث: 1393 ، و مسند أحمد: 9/4، حديث: 16266 (اوس بن حذیفہ ) فيه رجل مقبول اسمه عثمان)
جس کا طریقہ کار یہ تھا۔
● تین سورتیں
● پانچ سورتیں
● سات سورتیں
● نو سورتیں
● گیارہ سورتیں
● تیرہ سورتیں
• اور حزب المفصل (سورۃ ق سے ناس تک)
پھر انھوں نے کہا کہ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن کریم کی سورتوں کی موجودہ ترتیب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھی۔
امام سیوطی رحمہ اللہ نے فرمایا: سات حوامیم ”حم“ اور تین طواسین ”طسم“ کو ایک ترتیب سے لکھا گیا اور مسبحات سورتوں کو ایک ترتیب سے نہیں لکھا گیا۔ اگر یہ ترتیب اجتہادی ہوتی تو حوامیم کی طرح مسبحات کو بھی اکٹھا رکھنا مناسب تھا۔
ان روایات سے معلوم ہوا کہ سورتوں کی موجودہ ترتیب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں موجود تھی، نیز آپ اور صحابہ کرام اسی ترتیب سے قرآن کریم پڑھا کرتے تھے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پرویز صاحب کا بھی یہی نظریہ ہے تو پھر فرق کیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ پرویز صاحب کے نظریے اور مذکورہ بیان میں بہت فرق ہے۔ انھوں نے لکھا ہے: ”اس کتاب کی ایک مستند کاپی مسجد نبوی میں ایک ستون کے قریب صندوق میں رکھی رہتی تھی۔ یہ وہ نسخہ تھا جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے وحی لکھوایا کرتے تھے۔ اسے ام الکتاب کہا کرتے تھے۔ اور اس ستون کو استوانہ مصحف کہا جاتا تھا۔ صحابہ اس ستون کے پاس بیٹھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیر نگرانی اس مصحف سے اپنے اپنے مصاحف نقل کیا کرتے تھے۔“
(طلوع اسلام، فروری، 1982 ء، ص: 112 )
پرویز صاحب مزید لکھتے ہیں: اس کتاب کے متعلق عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کے آخری لمحات میں کہا تھا: حسبنا كتاب الله
پرویز صاحب کے اس کلام پر ایک ناقدانہ نظر ڈالتے ہیں۔
➊ وہ لاکھوں افراد جن کے پاس اس کاپی سے نقل شدہ مصاحف موجود تھے ان میں سے چند اصحاب کا نام تحریر کرنا چاہیے۔
➋ امام دراصل وہ مستند مصحف ہے جو عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے سات کی تعداد میں نقل کروا کر مختلف شہروں میں ارسال کیے۔
➌ عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں جو نسخہ مدینہ میں رکھا گیا تھا اسے انھوں نے اس استوانہ (ستون) کے ساتھ رکھا تھا، جو بعد میں استوانہ مصحف کے نام سے مشہور ہوا۔
➍ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے قول حسبنا كتاب الله میں کتاب سے مراد اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام ہیں کیونکہ لفظ کتاب قرآن کریم میں مختلف معانی میں استعمال ہوا ہے، مثلاً:
● فرض شدہ چیز یا معاملہ (النساء 4:103)
● حجت اور دلیل (الصافات 157:37)
● موت کا مقرر شدہ وقت (الحجر 4:15)
● غلام اور لونڈی کو مکاتب بنانا (النور 33:24)
● لکھنا (النبا 29:78)
● اعمال نامہ (بنی اسرائیل 13:17)
● لوح محفوظ (الواقعہ 78:56)
عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے قول سے مراد وہ مکتوب ہے جو صحابہ کرام کے پاس مختلف رقعات وغیرہ میں لکھا ہوا تھا یا قرآن کا وہ حصہ جو مختلف صحابہ کرام کے سینوں میں جمع تھا یا وہ احکام مراد ہیں جو قرآن و سنت میں فرض قرار دیے گئے ہیں۔
❀ ترتیب تلاوت: اگر چہ اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ یہ ترتیب ضروری ہے یا نہیں، تاہم صحیح یہ ہے کہ تلاوت کے وقت قرآن مجید کی موجودہ ترتیب کی پابندی کرنا ضروری نہیں، خواہ تلاوت نماز میں ہو یا نماز کے علاوہ عام اوقات میں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے بہت سے صحابہ کرام اور سلف صالحین سے نقل کیا ہے کہ وہ سورتوں کی ترتیب کے مطابق تلاوت کرنا ضروری نہیں سمجھتے تھے۔
اسی طرح ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی تالیف سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تلاوت کے وقت موجودہ ترتیب کتبی کا لحاظ نہیں کیا کرتے تھے۔ اگر چہ اکثر حالات سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورتوں کی ترتیب سے تلاوت فرمایا کرتے تھے، (جیسا کہ ترتیب کتبی کے اثبات کے لیے دلائل پیش کیے گئے) لیکن آپ کبھی کبھی اس ترتیب کو اس لیے چھوڑ دیا کرتے تھے کہ یہ لازمی نہیں، البتہ امر مستحب ہے اور ترتیب کا لحاظ نہ کرنے میں کوئی کراہت نہیں، تاہم اس ترتیب کے متعلق یہ کہنا کہ اس کی کوئی شرعی حیثیت نہیں (جیسا کہ مولانا عبدالرحمن کیلانی رحمہ اللہ نے کہا ہے) درست نہیں۔ یہ کسی فتنے کا پیش خیمہ بن سکتا ہے اور اس وجہ سے عوام الناس کے دلوں میں مرتب شدہ قرآن کریم کے متعلق شکوک و شبہات پیدا ہو جانے کا خطرہ ہے۔
پرویز صاحب نے اپنے اس نظریے (کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پورا مرتب شدہ قرآن کتابی شکل میں موجود تھا) کے اثبات کے لیے صحیح بخاری، کتاب فضائل القرآن کے حوالے سے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث پیش کی ہے کہ کسی نے ان سے پوچھا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کے لیے کیا چھوڑا ہے؟ تو انھوں نے فرمایا:
ما ترك إلا ما بين الدفتين
”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف یہ دو گتوں کے مابین (مجلد) کتاب چھوڑی ہے۔“
(صحيح البخاري ، فضائل القرآن، باب من قال لم يترك النبي إلا حديث: 5019)
اس کا جواب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی عمر تیرہ یا چودہ برس تھی۔ آپ نے خلفائے راشدین کا زمانہ پایا اور 65 ہجری میں وفات پائی۔ ان کے مذکورہ جواب کا مطلب یہ ہے کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ یا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں قرآن کریم کو کتابی شکل میں جمع کیا گیا اور وہ دو گتوں کے مابین مجلد صورت میں تیار ہو گیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہا نے اس کی طرف اشارہ فرمایا کہ آپ نے یہی کتاب چھوڑی تھی۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ قرآن کریم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اس طرح مجلد صورت میں موجود تھا۔
عثمان رضی اللہ عنہ کے دور سے لے کر آج تک قرآن کریم کسی تغیر و تبدل کے بغیر تمام اہل اسلام کے پاس موجود اور حفاظ کرام کے سینوں میں محفوظ ہے۔ اگر کوئی شخص قصدًا یا سہوًا کوئی لفظ غلط پڑھے یا قرآن کی طباعت میں کوئی لفظی غلطی آ جائے تو پھر اس قراءت اور طباعت کی غلطی درست کرنے کے لیے ہر طرف سے آواز بلند ہو جاتی ہے۔ طباعت کرنے والے کو تنبیہ کی جاتی ہے اور اس غلطی کی تصحیح کی جاتی ہے۔ یہ ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کریم کی حفاظت اور یہی
وإنا له لحافظون
”اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔“ کا مصداق ہے۔
فصل دوم
حفاظت احادیث
حفاظت حدیث کے اثبات کے لیے قرآن کریم سے استدلال
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ
”پھر اس کو بیان کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔“
(75-القيامة:19)
نیز فرمایا:
وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ
”اور ہم نے آپ کی طرف ذکر نازل کیا تا کہ آپ لوگوں کے لیے واضح کر دیں جو ان کی طرف نازل کیا گیا۔“
(16-النحل:44)
ان آیات سے استدلال اس طرح سے ہے کہ قرآن کریم بالاتفاق الفاظ اور معانی کا نام ہے۔ معانی اس وجہ سے کہ اگر معانی نہ ہوں تو سارے الفاظ مہمل رہ جاتے ہیں اور مہمل چیز اللہ تعالیٰ کی کتاب ہدایت نہیں بن سکتی۔ الفاظ اس وجہ سے قرآن ہیں کہ نازل ہونا الفاظ کی صفت ہے۔ پہلی فصل میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حفاظت کی ہے، کر رہا ہے اور کرتا رہے گا، لہذا اس سے الفاظ اور معانی دونوں کی حفاظت مراد ہے، پھر ہر لغت میں ہر لفظ کے معنی کے لیے مستقل لفظ استعمال کیا جاتا ہے، مثلاً: الحمد لله کا معنی الحمد للہ نہیں بلکہ عربی لغت میں اس کا معنی الثناء الحسن اردو میں تعریف اور صفت بیان کرنا جبکہ فارسی میں ستودن یا ستائش کردن ہے۔ یہ معانی بھی الفاظ ہیں۔ سورۃ القیامہ کی مذکورہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کا بیان اپنے ذمے لیا ہے، یعنی بیان کے مقصد معنی اور مفہوم کو واضح کرنا بھی اپنے ذمہ لیا ہے۔ جبکہ سورۃ النحل کی مذکورہ آیت میں تبیان کی ذمہ داری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سونپی گئی ہے اور تبیان کا مطلب ہے ”تشریح کرنا“۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کا مفہوم اور معنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کی صورت میں محفوظ فرمایا۔ قرآن کریم کی شرح جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے لگائی گئی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں ہے، مثلاً: قرآن کریم میں اقامت صلاۃ اور ایتائے زکاۃ کا تذکرہ اجمالی طور پر ہے اور ان کی شرح اور مفہوم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں ہے، اس لیے قرآن کریم کی شرح اور معانی کے لحاظ سے حفاظت، حفاظت حدیث سے عبارت ہے، یعنی حفاظت قرآن، حفاظت حدیث کے بغیر ممکن ہی نہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ
”بلاشبہ ہم نے اس ذکر کو نازل فرمایا اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔“
(15-الحجر:9)
اس آیت سے حفاظت حدیث کے لیے دو طرح سے استدلال کیا جا سکتا ہے۔
➊ آیت میں لفظ الذكر استعمال کیا گیا ہے جس کا معنی قرآن ہے۔ عام مفسرین نے یہی معنی لیا ہے اور پرویز صاحب بھی اسی معنی کے قائل ہیں، چنانچہ آیت میں حفاظت قرآن کا وعدہ کیا گیا ہے اور پہلے یہ واضح کیا جا چکا ہے کہ قرآن الفاظ اور معانی دونوں کا نام ہے اور معانی احادیث کی صورت میں موجود ہیں تو اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ تعالیٰ نے حدیث کی حفاظت کا بھی وعدہ کیا ہے۔
➋ الذكر سے مراد صرف قرآن نہیں بلکہ الذكر بمعنی وحی ہے اور یہ بھی ثابت کیا جا چکا ہے کہ احادیث بھی وحی الہی ہیں، لہذا آیت مذکورہ حفاظت حدیث کے لیے بھی نص کا درجہ رکھتی ہے۔ اور الذكر سے مطلق وحی مراد لینے کی وجہ یہ ہے کہ اگر اس سے مراد صرف قرآن ہوتا تو پھر الذكر کے بجائے قرآن یا فرقان یا کتاب کا لفظ استعمال کرنا چاہیے تھا کیونکہ حفاظت کا مسئلہ بہت اہم ہے اور اہمیت کے مقام میں صریح لفظ استعمال کرنا ضروری ہوتا ہے، لہذا معلوم ہوا کہ یہاں الذكر سے صرف قرآن مراد نہیں بلکہ مطلق وحی مراد ہے۔
قرآن کریم میں لفظ الذكر کے متعدد معانی ہیں۔ امام سیوطی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ”الإتقان فى علوم القرآن“ میں اس کے 22 معانی نقل کیے ہیں جبکہ ان سے ایک معنی رہ گیا ہے اور وہ ہے ”ذکر“ بمقابلہ نسیان، یعنی یاد کرنا۔
چنانچہ ارشاد ہوا:
فَالتَّالِيَاتِ ذِكْرًا ﴿٣﴾
”پس ان کی قسم جو ذکر (وحی، قرآن) کی تلاوت کرتے ہیں۔“
(37-الصافات:3)
پھر فرمایا:
فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ
”پس اہل ذکر (وحی والوں) سے پوچھو۔“
(16-النحل:43)
ان آیات میں ذکر بمعنی وحی ہے تو سورۃ الحجر کی آیت کا معنی یہ ہے کہ ہم نے وحی نازل فرمائی ہے اور ہم ہی اس وحی کی حفاظت کرنے والے ہیں اور یہ ثابت کیا جا چکا ہے کہ احادیث صحیحہ بھی وحی الہی ہیں، لہذا ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح قرآن کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے اسی طرح حدیث کی حفاظت کا بھی ذمہ لیا ہے اور جس طرح قرآن کی دو طریقوں، حفظ اور کتابت کے ذریعے سے حفاظت کی گئی اسی طرح حدیث کی حفاظت بھی انھی دو طریقوں سے کی گئی ہے۔
حفاظت حدیث بذریعہ سماع اور حفظ
اگر غور کیا جائے تو کسی بات، خبر اور قصے وغیرہ کی حفاظت کی پہلی بنیاد حفظ ہے، یعنی اسے اپنے دل و دماغ میں محفوظ کر کے یاد کر لینا جبکہ ضبط تحریر میں لانے کی اہمیت اس کے بعد ہے۔ حفظ میں تغیر آنے کا امکان کم اور کتابت میں زیادہ ہے، اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتابت حدیث کی نسبت حفظ حدیث کی زیادہ ترغیب دیا کرتے تھے، چنانچہ وفد عبدالقیس کے واقعے میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انھیں چار چیزوں کا حکم فرمایا اور چار چیزوں سے منع کیا تو ارشاد ہوا:
احفظوهن وأخبروا بهن من وراءكم
”اسے یاد کرو اور اپنے پیچھے والے لوگوں کو اس کے متعلق بتاؤ۔“
(صحيح البخاري الإيمان، باب أداء الخمس من الإيمان، حديث: 53)
اور آپ نے ترغیب کے طور پر فرمایا:
نضر الله عبدا سمع مقالتي فوعاها ثم أداها إلى من لم يسمعها
”اللہ اس بندے کو خوش و خرم رکھے: جس نے میرے فرامین سنے، پھر انھیں یاد کیا اور پھر جنھوں نے نہیں سنا ان تک پہنچا دیا۔“
( مسند أحمد: 82/4، وجامع الترمذي، العلم، باب ماجاء في الحث على تبليغ السماع، حديث: 2657)
اور ایک روایت میں ہے:
رحم الله امرأ سمع مني حديثا فحفظه
”اللہ تعالیٰ اس آدمی پر رحم فرمائے جس نے مجھ سے حدیث سن کر یاد کی۔“
(صحيح ابن حبان: 270/1، حدیث: 67)
ان اوامر اور ترغیبات کی وجہ سے صحابہ کرام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر فرمان کو سننے کے بعد یاد کیا اور آپ کے ہر فعل کو دیکھ کر اس کے مطابق اپنی عملی زندگی بنائی اور تمام افعال نبوی ذہن نشین کر لیے۔
قوت حافظہ اور صحابہ کرام
عرب کے باشندے قدرتی طور پر قوی الحافظہ واقع ہوئے ہیں۔ ان کے شعراء اور خطباء کے بہت سے ایسے واقعات ہیں جنھیں سن کر انسان حیرت میں پڑ جاتا ہے۔ اہل عرب ہزاروں اشعار، قصیدے اور امثال ایک ہی وقت میں زبانی سنا دیا کرتے تھے۔ ابن عبد البر نے لکھا ہے:
اہل عرب میں سے بعض لوگ ایسے بھی تھے جو کسی کے اشعار صرف ایک ہی دفعہ سن کر یاد کر لیا کرتے تھے۔“
صحابہ کرام کی قوت حافظہ کے دو خصوصی اسباب تھے: ایک ظاہری اور طبی سبب، یعنی کم کھانا، کم سونا اور کم گوئی، ان معمولات سے انسان کی قوتیں مزید بیدار ہو جاتی ہیں کیونکہ زیادہ کھانا اور زیادہ سونا بہت سے امراض کا سبب بنتا ہے۔ دور حاضر میں یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو چکی ہے۔ مزید برآں دنیوی مشاغل اور کثرت اموال بھی صحابہ کرام کی صفت نہیں تھی جو حافظے کے لیے نقصان دہ ہے۔
ایک اور معنوی اور روحانی سبب تقویٰ ہے۔ اس کے علاوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائیں، آپ کی بابرکت مجالس، دین داری اور گناہوں سے بچنا قوت حافظہ کے لیے انتہائی اہم اسباب ہیں۔ گناہ گار قسم کے لوگ زیادہ تر نسیان کے مریض ہوتے ہیں جبکہ صحابہ کرام کی دیانت اور تقویٰ تو ساری امت کے لیے عظیم نمونہ ہے۔ قرآن کریم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے اتباع نے ان کی روحانی قوت میں بے پناہ اضافہ کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجالس مبارکہ سے مستفیض ہوتے رہتے تھے۔ بسا اوقات برکات نبویہ کا بطور خرق عادت ظہور بھی ان کے لیے ہوتا تھا، چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کے جواب میں جنھوں نے ان پر کثرت روایات کا طعن کیا تھا، فرمایا: میں اس لیے کثرت سے روایات بیان کرتا ہوں کہ ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مجلس میں فرمایا: وہ کون شخص ہے جو اس مجلس میں اپنا کپڑا بچھائے اور پھر اختتام مجلس پر وہ اپنا کپڑا جمع کر کے اپنے سینے سے لگا لے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: یہ سعادت مجھے نصیب ہوئی کہ میں نے جلدی سے چادر بچھائی اور مجلس کے اختتام پر وہ چادر اپنے سینے سے لگا لی۔ اس کے بعد مجھے کوئی حدیث نہیں بھولی۔
(صحیح مسلم، فضائل الصحابة، باب من فضائل أبي هريرة رضی اللہ عنہ ، حدیث:2492)
محدثین نے بیان کیا ہے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے 5374 احادیث نقل کی ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح بخاری میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی امتیازی شان میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا اپنے بارے میں قول نقل کیا ہے۔
يحفظ ما لا يحفظون
”ابو ہریرہ وہ احادیث بھی یاد کرتے تھے جو دوسرے نہیں یاد کرتے تھے۔“
( صحيح البخاري ، العلم، باب حفظ العلم، حدیث: 118)
دوسرا قول ہے:
حفظت من رسول الله صلى الله عليه وسلم وعاءين فأما أحدهما فبثثته
”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے علم کی دو انواع حفظ کی ہیں، جن میں سے ایک کو میں نے لوگوں میں پھیلایا ہے۔“
( صحيح البخاري ، العلم، باب حفظ العلم، حديث: 120)
ان کے علاوہ باقی صحابہ کرام نے بھی اپنی استطاعت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث حفظ کیں۔
قوت حافظہ اور تابعین و ائمہ محدثین رحمہ اللہ
حفظ حدیث کا سلسلہ جاری رکھنے کے لیے تابعین میں بھی بڑے بڑے علماء اور حفاظ حدیث پیدا ہوئے جنھوں نے حفاظت حدیث میں بہت محنت کی ہے۔ ان میں سے چند حفاظ حدیث درج ذیل ہیں:
ابراہیم بن یزید تیمی، ابراہیم نخعی، احنف بن قیس، اسماعیل بن ابو خالد، اسود بن یزید، عروہ بن زبیر، سلیمان بن مہران اعمش، اویس قرنی، ایوب بن ابو تمیمہ، بسر بن سعید، بکر بن عبد اللہ مزنی، ثابت بن اسلم، جابر بن زید، جعفر بن محمد، حسن بن حسن، حسن بصری، خالد بن معدان، سعید بن جبیر، سعید بن مسیب اور سالم بن عبد اللہ ۔
ان کے علاوہ بے شمار تابعین اصاغر و اکابر نے حفظ حدیث کا اہتمام کیا۔ ان میں سے ایک امام ابن شہاب زہری رحمہ اللہ ہیں۔ امام ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی قوت حافظہ کا ایک واقعہ نقل کیا ہے کہ خلیفہ ہشام بن عبد الملک نے امام ابن شہاب زہری کی قوت حافظہ کا امتحان لینے کے ارادے سے انھیں کہا: میرے بیٹے کے لیے کچھ احادیث لکھ کر بھیج دیں۔ ابن شہاب نے کاتب سے چار سو احادیث تحریر کرائیں اور مسودہ خلیفہ کو بھیج دیا۔ کچھ مدت بعد ابن شہاب خلیفہ سے ملاقات کے لیے تشریف لے گئے تو خلیفہ نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا: آپ نے جو احادیث بھیجی تھیں ان کا مسودہ گم ہو گیا ہے۔ امام زہری نے فرمایا: پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ اسی وقت کاتب کو بلوایا اور وہی چار سو احادیث دوبارہ لکھوا دیں۔ امام زہری رحمہ اللہ کے رخصت ہو جانے کے بعد خلیفہ نے چار سو احادیث کے پرانے مسودے کا اس نئے مسودے سے موازنہ کیا تو انھیں معلوم ہوا کہ امام زہری نے کہیں بھی کوئی غلطی نہیں کی۔
(تذكرة الحفاظ : 84,83/1 )
قوت حافظہ اور تبع تابعین
یہ تابعین کے شاگرد تھے۔ ان کا دور 180 ہجری سے 300 ہجری تک ہے۔ اس دور میں بڑے بڑے حفاظ حدیث اور ائمہ حدیث پیدا ہوئے۔ اسی دور کے حفاظ حدیث میں سے امام محمد بن اسماعیل بخاری، ابن اسحاق، امام مالک، حماد بن سلمہ، سفیان ثوری، امام اوزاعی، عبد اللہ بن مبارک، سفیان بن عیینہ، لیث بن سعد، شعبہ بن حجاج، محمد بن حسن، امام احمد بن حنبل، اسحاق بن راہویہ، ابن ابی شیبہ، امام محمد بن ادریس الشافعی، امام مسلم، امام ابو داود، امام ترمذی، امام نسائی، امام ابن ماجہ اور امام دارمی قابل ذکر ہیں۔ یہ تمام ائمہ کرام حفاظ حدیث کے ساتھ ساتھ مؤلفین کتب بھی تھے جس کا تذکرہ بعد میں آئے گا۔ ان میں سے سفیان ثوری رحمہ اللہ کو تیس ہزار، شعبہ کو دس ہزار، یزید بن ہارون کو چوبیس ہزار اور اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ کو ایک لاکھ احادیث یاد تھیں۔
(تذكرة الحفاظ: 153/1 و 232/1 )
ابن کثیر رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”میں نے دس سال کی عمر میں موطا امام مالک حفظ کر لی تھی۔“
گذشتہ صفحات میں حفظ و سماع کے ذریعے سے حفاظت حدیث پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس سے واضح ہوا کہ سماع اور نقل حدیث کا سلسلہ مذکورہ قرون میں کبھی بھی منقطع نہیں ہوا۔ عرب و عجم کے تمام اطراف میں حفظ حدیث، سماع حدیث اور دروس حدیث کا چرچا اور دور دورہ تھا۔
کتابت اور تالیف و تدوین کے ذریعے سے حفاظت حدیث
حفاظت حدیث کا یہ دوسرا طریقہ ہے، یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے لے کر قرون ثلاثہ (جس کے بھلائی پر ہونے کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی) میں یہ سلسلہ جاری تھا۔ ہر کاتب و مؤلف حدیث نے اپنی سند کو سماع صحابہ کی سند سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچایا ہے۔
دور نبوی میں کتابت حدیث
امام بخاری رحمہ اللہ نے كتاب العلم، باب كتابة العلم میں چار احادیث درج کی ہیں جن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں کتابت حدیث کا ثبوت ملتا ہے۔
➊ علی رضی اللہ عنہ کی روایت جس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: کیا آپ کے پاس کوئی (خاص) کتاب ہے (جیسا کہ شیعوں کا باطل عقیدہ ہے)۔ آپ نے فرمایا: ہمارے پاس صرف کتاب اللہ ہے، دوسری وہ سمجھ و دانائی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی مسلمان آدمی کو دی جائے۔ تیسری چیز ایک خاص رسالہ ہے جو میرے پاس ہے اور اس کے اندر دیت دینے اور قیدی چھڑانے کے تفصیلی احکام ہیں۔ اس میں یہ حکم بھی ہے کہ کسی کافر کے بدلے میں مسلمان کو قتل نہیں کیا جائے گا۔
(صحيح البخاري ، العلم، باب كتابة العلم، حديث: 111)
➋ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر بہت لمبا خطبہ ارشاد فرمایا، جس میں بہت سے آداب و احکام بیان فرمائے۔ ایک یمنی شخص ابو شاہ نے آپ کے قریب آ کر عرض کیا: یہ احکام میرے لیے لکھوا دیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابو فلاں، یعنی ابو شاہ کو لکھ دو۔“
(صحيح البخاري ، العلم، باب كتابة العلم، حديث: 112)
➌ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی دوسری حدیث میں ہے کہ عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے سوا مجھ سے زیادہ احادیث نقل کرنے والا کوئی نہیں ہے کیونکہ وہ احادیث لکھ لیا کرتے تھے جبکہ میں نہیں لکھا کرتا تھا۔
(صحيح البخاري ، العلم، باب كتابة العلم، حديث: 113)
➍ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض الموت میں فرمایا تھا: ایک کتاب لاؤ تا کہ میں تمھارے لیے ایسی چیز لکھوں جس کے بعد تم گمراہ نہیں ہو گے۔
(صحيح البخاري ، العلم، باب كتابة العلم، حديث: 114)
یہی چیز جو صحابہ کے اختلاف کی وجہ سے آپ نے نہ لکھی زبانی طور پر صحابہ کو بیان فرما دی:
● جب کوئی وفد آئے تو اس کا احترام کرو۔
● مشرکین کو جزیرۃ العرب سے نکال دو۔
● میری قبر کو نہ بنانا کہ اس کی عبادت کی جائے۔
● امام بخاری رحمہ اللہ نے كتاب الجهاد والسير میں باب كتابة العلم للناس کے زیر عنوان بیان کیا ہے کہ پندرہ سو صحابہ کے نام رجسٹر میں لکھے گئے تھے۔ اور اس وقت یہ ضروری تھا کہ پورا نام مع ولدیت اور کنیت لکھا جائے۔
بخاری کے علاوہ دیگر کتب میں کتابت حدیث کے حکم کا ثبوت
● عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کا ایک ہزار احادیث پر مشتمل ”الصحيفة الصادقة“ یا ”الرساله الصادقه“ تھا۔
(أسد الغابة: 346/3)
●رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم آپ سے احادیث سنتے ہیں تو کیا انھیں لکھ لیا کریں؟ آپ نے فرمایا:
اكتبوا ولا حرج
”لکھ لیا کرو کوئی حرج نہیں۔“
( المعجم الكبير للطبراني: 276/4)
●فتح الباری اور سیرت ابن ہشام میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے نام خط بھیجا کہ اپنے ملک یمامہ سے اہل مکہ کو غلہ بھیجنا بند نہ کریں۔
( سیرت ابن هشام: 269/4)
● عبد اللہ بن حکیم رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ :
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے ایک ماہ قبل اہل جہینہ کو خط لکھا جس میں لکھا ہوا تھا: ”مردار سے نفع حاصل نہ کرو۔“
( سنن أبي داود، اللباس، باب من روى أن لا يستنفع حديث: 4128، وجامع الترمذي، اللباس، باب ماجاء في جلود الميتة إذا دبغت، حديث: 1729)
● نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کے شہر جرش کے لوگوں کو کھجور اور کشمش کو اکٹھا بھگونے سے لکھ کر منع کیا تھا۔
(صحيح مسلم، الأشربة، باب كراهة انتباذ التمر والزبيب مخلوطين، حديث: 1990)
اسی طرح نسائی کی روایت میں ہے کہ آپ نے ایسا ہی خط اہل ہجر کے نام بھی لکھا تھا۔
( سنن النسائي، الأشربة، باب خليط البسر والتمر، حديث: 5559)
● معاذ رضی اللہ عنہ یمن میں بطور گورنر مقرر تھے۔ مدینہ میں ان کے بیٹے وفات پا گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں تعزیتی خط لکھا۔
( تاریخ بغداد: 89/2 ، وحلية الأولياء: 307/1)
● نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کے نام یمن خط لکھا کہ ہر بالغ مرد و عورت (اہل ذمہ) سے ایک دینار جزیہ لیں۔ یہ بھی لکھا کہ بارانی علاقے سے دسویں حصے کی شرح سے عشر لیں اور جو کھیتیاں کنویں وغیرہ سے سیراب کی جائیں ان کی پیداوار سے بیسواں حصہ وصول کریں، نیز گندم، جو، کھجور اور کشمش سے زکاۃ لیا کریں۔
( مراسيل أبي داود، ص 134,133، حدیث: 117 ، والمحلى لابن حزم: 12/6,222/5)
● حسن بن عمرو سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اپنے گھر لے گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثوں کی بہت سی کتابیں دکھائیں اور فرمایا کہ یہ میرے پاس لکھی ہوئی کتاب ہے۔
(فتح الباري: 207/1، تحت حديث 113 )
● نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے فرمایا تھا: ”میری حدیثیں لکھا کرو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس منہ سے صرف حق ہی نکلتا ہے۔“
( سنن أبي داود، العلم، باب كتابة العلم، حديث: 3646)
● معبد بن ہلال فرماتے ہیں: ہم حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بکثرت مسائل پوچھتے تھے، پھر ایک دفعہ انھوں نے ایک رجسٹر نکال کر فرمایا: یہ وہ احادیث ہیں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھیں اور پھر لکھ کر آپ کو پیش کی تھیں۔
(المستدرك للحاكم:574,573/3، حدیث: 6452 )
● ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے اور جو کچھ آپ سے سنتے اسے لکھ لیا کرتے تھے۔
(مجمع الزوائد: 150/1 ، حديث: 672)
● ایک انصاری (صحابی) احادیث سنتے مگر انھیں یاد نہیں رہتی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں فرمایا: ”اپنے دائیں ہاتھ سے مدد لیا کرو۔
( جامع الترمذي، العلم، باب ماجاء في الرخصة فيه، حديث: 2666)
یعنی آپ نے لکھنے کی طرف اشارہ فرمایا۔
منکرین حدیث نے بھی ان احادیث کا سہارا لیا ہے جن میں حدیث لکھنے کی ممانعت ہے۔ وہ روایات درج ذیل ہیں:
➊ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے قرآن کریم کے علاوہ مجھ سے کچھ لکھا ہے وہ اسے مٹا دے اور مجھ سے حدیث بیان کرتے رہو، کوئی حرج نہیں۔“
( صحيح مسلم، الزهد، باب التثبت في الحديث حدیث: 3004)
➋ صحابہ کرام فرماتے ہیں کہ ہم نے (قرآن کریم کے علاوہ) مکتوبات جمع کر کے جلا دیے۔
( مجمع الزوائد : 151/1، حديث: 672 )
➌ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ باہر تشریف لائے تو فرمایا: ”کیا لکھتے ہو؟“ ہم نے عرض کیا: احادیث جو آپ سے سنتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”کیا اللہ تعالیٰ کی کتاب کے علاوہ دوسری کتاب؟“
پچھلی امتیں اسی وجہ سے گمراہ ہوئیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ دوسری کتابیں لکھتے تھے۔
(تقييد العلم للخطيب بغدادي:34,33/1)
➍ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ہے اس میں بھی کتابت حدیث سے منع کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
( سنن أبي داود، العلم، باب كتابة العلم، حدیث: 3647)
اسی طرح پرویز صاحب نے ابو بکر رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی ہے کہ آپ نے اپنے مکتوبات احادیث جلا دیے تھے۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی استخارہ کرنے کے بعد احادیث کا مجموعہ لکھنے سے رک گئے۔ علی رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبے میں احادیث مٹانے کا حکم دیا تھا۔ان تمام روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ احادیث کی کتابت ممنوع ہے اور جو کتابت ہو چکی تھی اسے مٹایا یا جلایا گیا۔
➊ منکرین حدیث کی یہ عجیب منطق ہے کہ ایک طرف تو کہتے ہیں کہ احادیث حجت نہیں اور دوسری طرف اپنا مدعا ثابت کرنے کے لیے احادیث ہی سے استدلال کرتے ہیں۔
➋ ہم نے کتابت حدیث کے اثبات کے لیے جو روایات بیان کی ہیں وہ احادیث ممانعت کتابت کے ساتھ متعارض ہیں۔ علم اور عقل کا تقاضا یہ ہے کہ تعارض کے وقت جب ایک روایت پر عمل کیا جائے تو دوسری روایت کی ضرور کوئی توجیہ یا وجہ ترجیح بیان کی جاتی ہے لیکن منکرین حدیث نے ان روایات سے جن میں کتابت حدیث کا ذکر ہے بالکل صرف نظر کیا ہے۔ ان احادیث کا ان کے پاس کوئی جواب بھی نہیں۔ یہ بڑی علمی خیانت ہے۔ ہاں، ان کے پاس ایک عذر لنگ ہے۔ پرویز صاحب کے مطابق صحابہ کرام سے جو کتابت حدیث کی روایات نقل ہیں ان کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق نہیں۔ یہ تو سراسر جہل مرکب کی بات ہے۔ اثبات کتابت حدیث کے بارے میں جو روایات ہیں ان میں سے بعض کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم موجود ہے۔ بعض میں صحابہ کرام کا اپنے تحریری ذخیرہ احادیث کو آپ کی خدمت میں پیش کرنے کا ذکر ہے اور بعض میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے تشریعی احکام کا تذکرہ ہے۔ اس سے زیادہ تصدیق کی کیا ضرورت ہے؟
➌ علمائے امت اور شارحین حدیث نے اتفاق کیا ہے کہ احادیث کی کتابت سے ممانعت کا حکم شروع میں دیا گیا تھا تا کہ لوگوں کو قرآن کریم کے متعلق کوئی اشتباہ نہ ہو، تاہم بعد میں وہ حکم منسوخ ہو گیا۔
(فتح الباري: 208/1، تحت حديث 113)
➍ احادیث لکھنے کی ممانعت کے متعلق احادیث اکثر ضعیف ہیں جبکہ اثبات کتابت کے متعلق احادیث اکثر صحیح ہیں۔
ابو بکر رضی اللہ عنہ کے متعلق روایت، کہ آپ نے اپنی تحریری احادیث کو جلا دیا، کی سند میں علی بن صالح مجہول، محمد بن موسیٰ ضعیف اور موسیٰ بن عبد اللہ متکلم فیہ راوی ہے۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی روایت، کہ انھوں نے اپنی احادیث جلا دی تھیں، بھی سند کے لحاظ سے منقطع ہے۔ اس کے مقابلے میں عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کی صحیح روایت موجود ہے جس میں منقول ہے کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی لکھی ہوئی احادیث، ان کی اولاد کی طرف منتقل ہوئیں،
( الموطأ للإمام مالك، ص: 109)
نیز عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے اس کتاب سے احادیث نقل کر کے ان پر عمل کیا۔ امام دار قطنی نے فرمایا: یہ روایت سند کے لحاظ سے صحیح ہے۔
( سنن الدار قطني، ص: 200)
علی رضی اللہ عنہ کے اس فرمان ”مکتوب احادیث مٹا دو“ والی روایت کا راوی جابر جعفی، کذاب ہے۔ اس کے مقابلے میں علی رضی اللہ عنہ سے مروی صحیح حدیث پہلے بیان کی گئی ہے کہ ان کے پاس صحیفہ تھا جس میں بعض احکام تحریر تھے، الہذا منع کتابت کے متعلق اس حدیث کو صحیح روایت کے مقابلے میں پیش کرنا جہل اور حماقت کے سوا کچھ نہیں۔
حدیث مسلم جو ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ اگر چہ امام مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمہ اللہ نے اس کی تخریج نہیں کی ہے۔ اس لیے کہ یہ ان کی شرط کے مطابق نہ تھی۔ بہر صورت اس کا اصل جواب وہی ہے جو پہلے ذکر ہوا کہ احادیث کے لکھنے سے ممانعت کا حکم ابتدا میں تھا بعد میں منسوخ ہو گیا۔
عہد صحابہ کرام کے بعد تدوین حدیث
جس طرح حفظ حدیث کا تسلسل جاری رہا اسی طرح کتابت حدیث بھی مسلسل جاری رہی یہاں تک کہ تدوین حدیث نے مختلف اقسام کی کتب، مثلاً: مصنفات، مسانید، جوامع سنن اور معجمات وغیرہ کی صورت اختیار کی اور امت کو احادیث رسول کا مجموعہ محفوظ طریقے سے پہنچ گیا۔ ذیل میں جمع احادیث کے چند ادوار بیان کیے جاتے ہیں۔
تدوین حدیث کا پہلا دور (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم)
صحابہ کرام کے تحریری مجموعے
➊ صحیفہ صادقہ : یہ صحیفہ صادقہ: عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کا ہے جو اب مسند احمد میں مکمل طور پر موجود ہے۔ اس صحیفے کی روایت عمرو بن شعیب بن محمد بن عبداللہ بن عمرو بن عاص کے توسط سے پوری طرح منقول ہے اور اکابر محدثین نے اس روایت پر اعتماد کر کے اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے۔
(تاریخ الحدیث والمحدثین، ص: 210)
➋ صحیفہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ: اس میں صدقات اور زکاۃ کے احکامات درج ہیں۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے یہ صحیفہ پڑھا ہے۔ عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے جب تدوین حدیث کا کام شروع کیا تو یہ صحیفہ انھیں عمر بن عبد العزیز کے خاندان سے موصول ہوا۔
(الموطأ للإمام مالك، ص: 109)
➌ صحیفہ عثمان رضی اللہ عنہ: اس صحیفے میں زکاۃ کے احکام درج تھے۔ اس کے متعلق امام بخاری رحمہ اللہ نے کتاب الجہاد میں واقعہ بیان کیا ہے۔
➍ صحیفہ علی رضی اللہ عنہ: اس میں زکاۃ، صدقات، دیت، قصاص، حرمت مدینہ، خطبۂ حجۃ الوداع اور اسلامی دستور کے نکات درج تھے۔ یہ صحیفہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بیٹے محمد بن حنفیہ کے پاس تھا، پھر امام جعفر کے پاس آیا اور انھوں نے حارث کو لکھ کر دیا۔
( تدوین حدیث برہان دہلی، و صحيح البخاري، العلم، باب كتابة العلم، حدیث: 111)
➎ مسند ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ: اس کے بہت سے صحیفے عہد صحابہ میں لکھے گئے تھے۔ اس کی ایک نقل عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے والد عبد العزیز بن مروان والے مصر کے پاس تھی۔ عبدالعزیز بن مروان نے کثیر بن مرہ کو لکھا تھا کہ آپ کے پاس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جتنی مرویات ہیں وہ ہمیں لکھ کر بھیج دیں مگر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی مرویات بھیجنے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ پہلے ہی ہمارے پاس موجود ہیں۔
( الطبقات الكبرى لابن سعد: 448/7)
اس کے علاوہ صحیفہ انس، خطبہ فتح مکہ (جو ابو شاہ کے لیے لکھا گیا تھا)، صحیفہ جابر بن عبداللہ، مرویات ابن عباس رضی اللہ عنہما، مرویات عائشہ رضی اللہ عنہا اور صحیفہ عمرو بن حزم (جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن کا گورنر مقرر کیا تو انھیں یہ لکھ کر دیا گیا۔ اس صحیفے میں فرائض، سنن، صدقات و دیات اور دیگر 21 فرامین نبویہ شامل ہیں۔ مزید براں رسالہ سمرہ بن جندب، رسالہ سعد بن عبادہ اور صحیفہ عبداللہ بن مسعود بھی ہیں جس کے بارے میں ان کے بیٹے عبدالرحمن نے حلفاً کہا تھا کہ یہ ان کے باپ (عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) نے اپنے ہاتھ سے لکھا تھا۔
(جامع بيان العلم: 300/1)
یہ تمام صحیفے، رسالے اور کتب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تحریریں تھیں جن میں انھوں نے مرفوع احادیث جمع کی تھیں۔
تدوین حدیث کا دوسرا دور
خلفائے اربعہ رضی اللہ عنہم کے زمانے میں کثرت سے غزوات کے وقوع اور بعض فتنوں کے ظہور کی بنا پر وہ تدوین احادیث کی طرف توجہ نہ کر سکے۔ صرف انفرادی طور پر ان کے پاس مندرجہ بالا صحیفے موجود تھے۔ خلافت راشدہ کے بعد عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ صفر 99 ہجری میں خلیفہ بنے جنھیں خلفائے راشدین میں شمار کیا جاتا ہے۔ آپ نے دین کی حفاظت کے لیے تدوین اور جمع حدیث کی طرف توجہ مبذول فرمائی، چنانچہ آپ نے مدینہ طیبہ کے حاکم ابوبکر محمد بن عمرو بن حزم کے نام خط لکھا کہ عمرہ بنت عبدالرحمن اور قاسم بن محمد (دونوں عائشہ رضی اللہ عنہا کے شاگرد تھے اور قاسم بھی تھے۔) کے پاس جو احادیث کا ذخیرہ ہے اسے قلم بند کر لیں۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی مرویات ہمارے پاس موجود ہیں انھیں لکھنے کی ضرورت نہیں۔ آپ نے اس کام کے لیے بارہ ماہر محدثین کی ایک کمیٹی بنائی جس کا سربراہ امام شہاب زہری کو مقرر کیا، اس لیے انھیں مدوّنِ اوّل کہا جاتا ہے۔ ان بارہ محدثین نے احادیث کے الگ الگ مجموعے تیار کر کے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے پاس بھیج دیے۔ چونکہ ان کا زمانہ خلافت مختصر تھا، اس لیے آپ ان مجموعات کی تنقیح و تدوین اور انھیں اطراف میں تقسیم کا کام نہ کر سکے۔ جس طرح زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بذات خود جمع قرآن کو ناگوار سمجھا تھا، لیکن پھر اسی کام کے سربراہ رہے، اسی طرح کہا جاتا ہے کہ امام زہری رحمہ اللہ جمع حدیث کو پسند نہیں کرتے تھے لیکن باوجود اس کے یہی کام انھوں نے بہت محنت سے سرانجام دیا۔ اس کے بعد سلسلۂ تدوین جاری رہا یہاں تک کہ 110 ہجری سے 190 ہجری تک متعدد کتب حدیث تیار ہوئیں جن میں سے موطا امام مالک، جامع سفیان ثوری، جامع ابن مبارک، جامع امام اوزاعی، جامع ابن جریج، کتاب الخراج از امام ابو یوسف اور کتاب الآثار از امام محمد بن حسن شیبانی زیادہ مشہور ہیں اور ان میں سے موطا اور آخری دو کتب تو اب بھی محفوظ ہیں۔ جب موطا امام مالک تیار ہوئی تو مدینہ کے ستر علماء اور فقہاء نے اس کی صحت پر اتفاق کیا، اس لیے اس کا نام موطا رکھا گیا، پھر یہ کتاب امام مالک رحمہ اللہ سے تقریبا ایک ہزار شاگردوں نے سنی اور اسے ضبط تحریر میں لائے۔ فی الوقت وہ تمام مسودات موجود نہیں بلکہ ان میں سے صرف 16 باقی رہ گئے ہیں۔ اب جو متداول نسخہ ہے وہ سب نسخوں سے زیادہ قابل اعتماد ہے۔ یہ یحییٰ بن یحیی مصمودی کا مرتب کردہ ہے۔ دوسری صدی ہجری میں چند مسانید منظر عام پر آئیں: مسند ابی ہریرہ، یہ مسند احمد میں مکمل موجود ہے۔ مسند احمد، مسند شافعی، مسند البزار، مسند امام موسیٰ کاظم بن جعفر، مسند ابوسفیان وکیع بن جراح اور مسند امام اوزاعی جو مسند الشامین کے نام سے مشہور ہے۔ یہ مسانید وہ ہیں جو دوسری صدی ہجری کے اختتام سے پہلے مرتب ہو چکی تھیں۔
تیسری صدی ہجری کا دور
دوسری صدی میں مرفوع اور موقوف دونوں قسم کی احادیث کو جمع کیا گیا تھا لیکن تیسری صدی میں ایسے اہل علم اور ائمہ حدیث پیدا ہوئے جنھوں نے اس بات کا اہتمام کیا کہ مرفوع احادیث کو مستقل حیثیت دی جائے، چنانچہ انھوں نے اپنی کتابوں میں صرف مرفوع احادیث کو جمع کیا۔ ان ائمہ کرام میں سے چند درج ذیل ہیں۔
امام احمد بن حنبل (متوفی 231 ہجری)، عبداللہ بن موسیٰ، مسدد بصری، اسحاق بن راہویہ، عثمان بن ابی شیبہ، امام محمد بن اسماعیل بخاری (متوفی 256 ہجری) آپ کے شاگرد امام مسلم (متوفی 261 ہجری)، امام ابوداود (متوفی 275 ہجری)، امام ترمذی (متوفی 279 ہجری)، امام نسائی (متوفی 302 ہجری)، امام دارمی (متوفی 255 ہجری) اور امام ابن ماجہ (متوفی 275 ہجری)۔ اس دور میں سینکڑوں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں چھوٹی بڑی کتابیں لکھی گئیں۔
دوسری اور تیسری صدی ہجری میں اللہ تعالیٰ نے ایسے ائمہ بھی پیدا فرمائے جنھیں اللہ تعالیٰ نے نقد و جرح کی پوری استعداد سے نوازا۔ انھوں نے حدیث کے راویوں کی پوری جانچ پڑتال کرتے ہوئے صحیح اور ضعیف احادیث کو الگ الگ کر دیا اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے بے شمار محدثین پیدا فرمائے جنھوں نے ضعیف اور موضوع روایات کو الگ الگ جمع کیا۔
❀ حاصل بحث: اس تفصیل سے واضح ہوا کہ جیسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حفاظت، حفظ اور کتابت کے ذریعے سے فرمائی، اسی طرح احادیث کی حفاظت بھی انھی دو طریقوں سے فرمائی۔ فرق صرف یہ ہے کہ ہم قرآن کریم کے الفاظ کی تلاوت کے مکلف ہیں، جیسا کہ لفظ إقرأ ، اتل، رتل اور اتلوا القرآن اس پر دلیل ہیں۔ قرآنی الفاظ کی جگہ معنی ادا کرنا اور دوسری لغت میں تبدیل کرنا جائز نہیں۔ اس کے برعکس احادیث کے الفاظ کی تلاوت کے ہم مکلف نہیں کیونکہ یہ ایک استحبابی حکم ہے، لہذا الفاظ حدیث کی جگہ روایت بالمعنی اکثر محدثین کے نزدیک جائز ہے لیکن اس کے لیے خاص شرائط ہیں۔ اصولِ حدیث کے علماء نے وہ شرائط تفصیل کے ساتھ لکھی ہیں۔ مضمونِ حدیث تبدیل کرنا ہرگز جائز نہیں۔
پرویزی فرقے سے سوال کیا جا سکتا ہے کہ قرآن کی حفاظت، اس کا جمع کرنا اور اس کی تدوین، احادیث سے ثابت کرنا درست ہے تو پھر احادیث کی حفاظت بذریعہ حفظ و کتابت کیوں قابل اعتراض ہے؟ اس کی مثال ایک عالم نے اس طرح پیش کی ہے کہ کوئی شخص کسی کنویں سے ایک ڈول پانی نکال کر پئے اور کہے کہ پانی صاف اور میٹھا ہے لیکن جب وہ دوسرا ڈول اسی کنویں سے نکالے تو کہے کہ پانی گندا اور کھارا ہے۔ کیا یہ شخص دیوانہ اور پاگل نہیں کہلائے گا؟ اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ جب ثابت ہوا کہ قرآن اور حدیث دونوں محفوظ ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کی حفاظت کی ہے تو پھر حفاظت کا مقصد صرف تلاوت ہی نہیں بلکہ اس کو حجت سمجھ کر اس کے احکام پر عمل کرنا مسلمانوں کے لیے لازمی ہے۔