سرپرست کے بغیر نکاح کرنے کی ممانعت
① سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أيما امرأة نكحت بغير إذن وليها فنكاحها باطل ، فإن دخل بها فالمهر لها بما استحل من فرجها ، فإن اشتجروا فالسلطان ولي من لا ولي له
”جس عورت نے اپنے سرپرست کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے۔ اگر اس نے اس کے ساتھ تعلق زن و شوہر قائم کر لیا ہے تو وہ مہر کی مستحق ہے کیونکہ اسی کی وجہ سے اس کی شرم گاہ اس مرد کے لیے حلال ہوئی ہے، اگر وہ آپس میں اختلاف و انتشار کا شکار ہو جائیں تو پھر جس کا کوئی سرپرست نہ ہو اس کا سرپرست بادشاہ ہوتا ہے“۔
ابوداؤد، کتاب النکاح 2083۔ ترمذی، کتاب النکاح 1102۔
② سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا نكاح إلا بولي
”ولی (سرپرست) کے بغیر نکاح نہیں ہوتا“۔
ابوداؤد، کتاب النکاح 2085، ترمذی، کتاب النکاح 1101۔
حاملہ قیدی باندی سے جماع کرنے کی ممانعت
① سیدنا رویفع بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے غزوہ حنین کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
لا يحل لامرئ يؤمن بالله واليوم الآخر أن يسقي ماءه زرع غيره – يعني إتيان الحبالىٰ – ولا يحل لامرئ يؤمن بالله واليوم الآخر أن يقع علىٰ امرأة من السبي حتىٰ يستبرئها ، ولا يحل لامرئ يؤمن بالله واليوم الآخر أن يبيع مغنما حتىٰ يقسم
”جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنا پانی کسی اور کی کھیتی کو دے یعنی حاملہ خاتون سے جماع کرے، اور جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو اس کے لیے حلال نہیں کہ وہ کسی قید ہو کر آنے والی باندی سے جماع کرے حتیٰ کہ حیض آنے سے اس کا رحم صاف ہو جائے، اور کسی شخص کے لیے جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے حلال نہیں کہ وہ مالِ غنیمت کی تقسیم سے پہلے اسے فروخت کرے“۔
ابوداؤد، كتاب النكاح 2158۔ ترمذی، کتاب النكاح 1131۔