شعبان کے روزوں کی فضیلت اور 15 شعبان کے روزے کی شرعی حیثیت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس کتاب الصوم سے ماخوذ ہے جسے شیخ غلام مصطفٰی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ نے مرتب کیا ہے۔
مضمون کے اہم نکات

شعبان میں روزے

سوال:

کیا شعبان میں کوئی روزہ فرض یا واجب ہے؟

جواب:

شعبان میں کوئی روزہ فرض یا واجب نہیں ہے۔

سوال:

کیا تیرہویں شعبان کا روزہ رکھنا باعث فضیلت ہے؟

جواب:

تیرہویں شعبان کے روزے کی کوئی خاص فضیلت حدیث میں بیان نہیں ہوئی، نہ اسلاف امت کا اس پر عمل ہے۔

سوال:

کیا پندرہ شعبان کو روزہ مسنون ہے؟

جواب:

اس بارے میں کوئی روایت ثابت نہیں۔

سوال:

کیا شعبان میں روزوں کی فضیلت ہے؟

جواب:

شعبان میں روزے رکھنا بافضیلت عمل ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس مہینے میں بکثرت روزے رکھتے تھے، مگر اس مہینے میں کسی دن کو روزے کے ساتھ خاص کرنا بلا دلیل ہے، جیسے پندرہ شعبان وغیرہ۔
❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
لقد كانت إحدانا تفطر في رمضان فما تقدر على أن تقضي حتى يدخل شعبان ما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصوم في شهر ما يصوم في شعبان كان يصومه كله إلا قليلا بل كان يصومه كله
”ہم (ازواج رسول صلی اللہ علیہ وسلم بیماری کی وجہ سے) رمضان کے روزے چھوڑتیں تو شعبان کا مہینہ آنے تک ان کی قضا نہ دے سکتیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جتنے روزے شعبان میں رکھا کرتے تھے اتنے کسی اور مہینے میں نہ رکھتے تھے، چند دن چھوڑ کر آپ شعبان کا پورا مہینہ ہی روزے رکھتے تھے، بلکہ پورا شعبان ہی روزے رکھتے تھے۔“
(صحيح البخاري: 1950، صحيح مسلم: 1146، المنتقى لابن الجارود: 400)

سوال:

درج ذیل روایت کی سند کیسی ہے؟
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا بقي نصف من شعبان فلا تصوموا
”جب نصف شعبان باقی رہ جائے تو روزے مت رکھیں۔“
(سنن أبي داود: 2337، سنن الترمذي: 738)

جواب:

روایت منکر ہے۔
❀ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے سامنے یہ حدیث ذکر کی گئی تو:
أنكره
”آپ رحمہ اللہ نے اسے منکر قرار دیا۔“
(علل الإمام أحمد برواية المروذي، ص 160، الرقم: 278)
❀ نیز فرماتے ہیں:
هذا حديث منكر
”یہ حدیث منکر ہے۔“
(مسائل الإمام أحمد برواية أبي داود: 2002)
❀ امام ابو زرعہ رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
إنه منكر
”یہ روایت منکر ہے۔“
(الضعفاء: 2/388)
❀ حافظ خلیلی رحمہ اللہ نے اس روایت کو شاذ و غیر محفوظ قرار دیا ہے۔
(الإرشاد: 1/218، الرقم: 20)
❀ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے اسے منکر قرار دیا ہے۔
(سير أعلام النبلاء: 6/187)

سوال:

نفلی روزے رکھنا زیادہ افضل ہے یا نفلی نماز پڑھنا؟

جواب:

اگر کوئی شخص استطاعت رکھتا ہے تو وہ نفلی روزے بھی رکھے اور نفلی نماز بھی پڑھے، البتہ اگر نفلی روزے رکھنے کی استطاعت نہیں اور جسم کمزوری محسوس کرے تو نفلی روزے نہ رکھے اور بکثرت نوافل پڑھے۔ یقیناً نفلی روزوں کی بھی بڑی فضیلت ہے اور نفل نماز بھی بڑی اہمیت کی حامل ہے، روز قیامت فرض نمازوں کی کمی نوافل سے ہی پوری ہوگی، اسی لیے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نوافل و نفلی روزوں پر ترجیح دیتے تھے۔
❀ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں ہے:
إنه كان لا يكاد أن يصوم فقال إني إذا صمت ضعفت عن الصلاة والصلاة أحب إلي من الصيام فإن صام صام ثلاثا من الشهر
”آپ رضی اللہ عنہ زیادہ (نفلی) روزے نہیں رکھتے تھے، فرمایا کرتے تھے: اگر میں روزہ رکھ لوں تو کمزوری کی وجہ سے نوافل ادا نہیں کر پاتا، جبکہ نفل نماز مجھے نفلی روزے سے زیادہ محبوب ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ اور اگر نفلی روزے رکھتے تو مہینے بھر میں تین روزے رکھتے تھے۔“
(تهذيب الآثار [مسند عمر] للطبري: 520، المعجم الكبير للطبراني: 9/175، الرقم: 8869، وسنده صحيح)
❀ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أحب الصلاة إلى الله صلاة داود عليه السلام وأحب الصيام إلى الله صيام داود وكان ينام نصف الليل ويقوم ثلثه وينام سدسه ويصوم يوما ويفطر يوما
”اللہ کو سب سے محبوب نماز داود علیہ السلام کی ہے، محبوب روزے بھی داؤد علیہ السلام کے ہیں۔ آپ علیہ السلام آدھی رات سوتے، پھر تہائی رات قیام کرتے اور پھر چھٹے حصہ رات سو جاتے۔ نیز ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن چھوڑ دیتے تھے۔“
(صحيح البخاري: 1131، صحيح مسلم: 1159/181)