تابعین کرام کے نزدیک امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ کی قراءت: اقوال و آثار کا تحقیقی جائزہ

فونٹ سائز:
مرتب کردہ: ابو حمزہ سلفی
مضمون کے اہم نکات

نماز میں امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ پڑھنے کا مسئلہ اہلِ علم کے درمیان معروف فقہی اختلافات میں سے ہے۔ اس سلسلے میں بعض حضرات یہ تاثر دیتے ہیں کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے تلامذہ اور تابعین امام کے پیچھے قراءت نہیں کرتے تھے، حالانکہ کتبِ حدیث و آثار میں متعدد تابعین سے امام کے پیچھے قراءت کرنے، سورۂ فاتحہ پڑھنے اور مقتدیوں کو اس کی تلقین کرنے کے واضح اقوال منقول ہیں۔ ان میں بعض اہلِ علم جہری اور سری دونوں نمازوں میں فاتحہ پڑھنے کے قائل تھے، جبکہ بعض نے سری نمازوں میں قراءت اور جہری نمازوں میں امام کی قراءت سننے کی تفصیل بیان کی ہے۔ اس مضمون کا مقصد تابعین کے ان اقوال و آثار کو اصل عربی عبارت، اردو ترجمے اور کتابی حوالوں کے ساتھ پیش کرنا اور یہ واضح کرنا ہے کہ تابعین کی طرف مطلق ترکِ قراءت کی نسبت درست نہیں۔ ساتھ ہی ہر اثر کے مفہوم اور اس سے ثابت ہونے والی بات کو بھی الگ الگ واضح کیا جائے گا۔

امام کے پیچھے قراءت نہ کرنے سے متعلق ایک اثر کا جائزہ

بعض اہلِ علم حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے اصحاب کے حوالے سے مصنف عبدالرزاق کی ایک روایت پیش کرتے ہیں۔

امام عبدالرزاق صنعانی رحمہ اللہ (متوفی 211ھ) نے نقل کیا ہے:

2813 – عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: «كَانَ أَصْحَابُ عَبْدِ اللَّهِ لَا يَقْرَؤُونَ خَلْفَ الْإِمَامِ»

اردو ترجمہ:

ابو اسحاق سبیعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے اصحاب امام کے پیچھے قراءت نہیں کیا کرتے تھے۔

الكتاب: المصنف

المؤلف: أبو بكر عبد الرزاق بن همام بن نافع الحميري اليماني الصنعاني (المتوفى: 211هـ)

رقم الأثر: 2813

وضاحت:

اس اثر میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے اصحاب کا عمومی ذکر ہے، لیکن ان میں سے کسی شخص کا نام صراحتاً بیان نہیں کیا گیا۔ مزید یہ کہ اس کی سند میں ابو اسحاق سبیعی رحمہ اللہ ہیں، جن کے متعلق تدلیس کا مسئلہ معروف ہے۔ اس لیے اس اثر کی سند اور دلالت دونوں کا تحقیقی جائزہ ضروری ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ روایت میں تمام شاگردوں کا لفظ نہیں آیا۔ لہٰذا اس اثر سے یہ نتیجہ نکالنا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے تمام تلامذہ ہر قسم کی نماز میں امام کے پیچھے قراءت کے مخالف تھے، اصل روایت کے الفاظ سے زائد دعویٰ ہے۔

دوسری طرف متعدد تابعین سے امام کے پیچھے قراءت کرنے اور سورۂ فاتحہ پڑھنے کے اقوال و آثار منقول ہیں، جن کی تفصیل درج ذیل ہے۔

امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ کی قراءت کے متعلق تابعین کرام کے آثار

① امام ابو سلمہ بن عبدالرحمن زہری رحمہ اللہ (متوفی 94ھ)

امام ابو سلمہ بن عبدالرحمن زہری رحمہ اللہ مدینہ منورہ کے جلیل القدر تابعی اور ممتاز فقیہ تھے۔ انہوں نے امام کے وقفوں کے دوران سورۂ فاتحہ پڑھنے کی تلقین فرمائی ہے۔

امام بخاری رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے:

165 – حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ قَالَ: حَدَّثَنَا الْبُخَارِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: «لِلْإِمَامِ سَكْتَتَانِ فَاغْتَنِمُوا الْقِرَاءَةَ فِيهِمَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ»

اردو ترجمہ:

امام ابو سلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں: امام کے دو وقفے ہوتے ہیں، لہٰذا ان دونوں وقفوں میں سورۂ فاتحہ کی قراءت کا موقع غنیمت سمجھو۔

الكتاب: جزء القراءة خلف الإمام

المؤلف: محمد بن إسماعيل بن إبراهيم بن المغيرة البخاري، أبو عبد الله (المتوفى: 256هـ)

رقم الأثر: 165

اسی مضمون کا ایک اور اثر امام ابن المنذر رحمہ اللہ نے نقل کیا ہے:

1341 – وَحَدَّثُونَا عَنْ بُنْدَارٍ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَزْمٍ، قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجَ، قَالَ: «صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَلَمَّا كَبَّرَ سَكَتَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ [الفاتحة: 2]» وَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: «لِلْإِمَامِ سَكْتَتَانِ فَاغْتَنِمُوا فِيهِمَا الْقِرَاءَةَ»

اردو ترجمہ:

عبدالرحمن الاعرج رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز پڑھی۔ جب انہوں نے تکبیر کہی تو کچھ دیر خاموش رہے، پھر «الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» کی قراءت کی۔

اور امام ابو سلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں: امام کے دو وقفے ہوتے ہیں، ان دونوں میں قراءت کرنے کا موقع غنیمت سمجھو۔

الكتاب: الأوسط في السنن والإجماع والاختلاف

المؤلف: أبو بكر محمد بن إبراهيم بن المنذر النيسابوري (المتوفى: 319هـ)

رقم الأثر: 1341

وضاحت:

ان آثار سے واضح ہوتا ہے کہ امام ابو سلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ مقتدی کے لیے امام کے وقفوں میں قراءت کے قائل تھے، بلکہ انہوں نے ان وقفوں میں سورۂ فاتحہ پڑھنے کی باقاعدہ ترغیب دی ہے۔

② امام مکحول شامی رحمہ اللہ (متوفی 112ھ)

امام مکحول بن ابی مسلم شامی رحمہ اللہ شام کے مشہور فقہاء تابعین میں شمار ہوتے ہیں۔ ان سے جہری نمازوں میں بھی سورۂ فاتحہ پڑھنے کا عمل اور اس کی تاکید منقول ہے۔

امام ابو داود رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے:

825 – حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ ابْنِ جَابِرٍ، وَسَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَلَاءِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ عُبَادَةَ، نَحْوَ حَدِيثِ الرَّبِيعِ بْنِ سُلَيْمَانَ، قَالُوا: فَكَانَ مَكْحُولٌ، يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ وَالصُّبْحِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ سِرًّا،

اردو ترجمہ:

راوی بیان کرتے ہیں کہ امام مکحول رحمہ اللہ مغرب، عشاء اور فجر کی نمازوں کی ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ آہستہ پڑھا کرتے تھے۔

الكتاب: سنن أبي داود

المؤلف: أبو داود سليمان بن الأشعث بن إسحاق بن بشير بن شداد بن عمرو الأزدي السَِّجِسْتاني (المتوفى: 275هـ)

رقم الحديث: 825

امام مکحول رحمہ اللہ کا ایک اور صریح قول ملاحظہ فرمائیں:

قَالَ مَكْحُولٌ: اقْرَأْ بِهَا فِيمَا جَهَرَ بِهِ الْإِمَامُ إِذَا قَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَسَكَتَ سِرًّا فَإِنْ لَمْ يَسْكُتِ اقْرَأْ بِهَا قَبْلَهُ وَمَعَهُ وَبَعْدَهُ لَا تَتْرُكْهَا عَلَى كُلِّ حَالٍ

اردو ترجمہ:

امام مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس نماز میں امام بلند آواز سے قراءت کرتا ہو، اس میں بھی سورۂ فاتحہ پڑھو۔ جب امام سورۂ فاتحہ پڑھ کر خاموش ہو تو اسے آہستہ پڑھو، اور اگر امام خاموش نہ ہو تو اس سے پہلے، اس کے ساتھ یا اس کے بعد پڑھ لو، لیکن کسی صورت سورۂ فاتحہ کو ترک نہ کرو۔

الكتاب: سنن أبي داود

المؤلف: أبو داود سليمان بن الأشعث بن إسحاق بن بشير بن شداد بن عمرو الأزدي السَِّجِسْتاني (المتوفى: 275هـ)

متعلقہ روایت: 825

وضاحت:

امام مکحول رحمہ اللہ کا قول اس مسئلے میں نہایت واضح ہے۔ وہ جہری نمازوں میں بھی مقتدی کو سورۂ فاتحہ پڑھنے کا حکم دیتے ہیں اور امام کے خاموش نہ ہونے کی صورت میں بھی اس کی قراءت ترک کرنے کے قائل نہیں۔

③ امام حسن بصری رحمہ اللہ (متوفی 110ھ)

امام حسن بن یسار بصری رحمہ اللہ سے امام کے پیچھے ہر نماز میں سورۂ فاتحہ آہستہ پڑھنے کی تلقین منقول ہے۔

امام بیہقی رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے:

2955 – قَالَ: وَثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ يُونُسُ، وَمَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «اقْرَأْ خَلْفَ الْإِمَامِ فِي كُلِّ صَلَاةٍ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فِي نَفْسِكَ»

اردو ترجمہ:

امام حسن بصری رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے: ہر نماز میں امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ اپنے دل میں، یعنی آہستہ آواز سے پڑھو۔

الكتاب: السنن الكبرى

المؤلف: أحمد بن الحسين بن علي بن موسى الخُسْرَوْجِردي الخراساني، أبو بكر البيهقي (المتوفى: 458هـ)

رقم الأثر: 2955

اسی طرح امام ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ نے نقل کیا ہے:

3762 – حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْصُورٌ، وَيُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «اقْرَأْ خَلْفَ الْإِمَامِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فِي نَفْسِكَ»

اردو ترجمہ:

امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے تھے: امام کے پیچھے ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ آہستہ پڑھو۔

الكتاب: الكتاب المصنف في الأحاديث والآثار

المؤلف: أبو بكر بن أبي شيبة، عبد الله بن محمد بن إبراهيم بن عثمان بن خواستي العبسي (المتوفى: 235هـ)

رقم الأثر: 3762

وضاحت:

امام حسن بصری رحمہ اللہ کے دونوں آثار میں مقتدی کو امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پہلے اثر میں ہر نماز اور دوسرے میں ہر رکعت کی صراحت ہے، جو اس مسئلے میں ان کے موقف کو واضح کرتی ہے۔

④ امام عروہ بن زبیر رحمہ اللہ (متوفی 94ھ)

مدینہ منورہ کے مشہور فقیہ اور تابعی امام عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کے متعلق ان کے صاحبزادے ہشام بن عروہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ وہ سری نمازوں میں امام کے پیچھے قراءت کرتے تھے۔

امام مالک رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے:

40 – وَحَدَّثَنِي عَنْ مالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أبِيهِ أَنَّهُ كَانَ «يَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ، فِيمَا لَا يَجْهَرُ فِيهِ الْإِمَامُ بِالْقِرَاءَةِ»

اردو ترجمہ:

ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد کے متعلق بیان کرتے ہیں کہ وہ ان نمازوں میں امام کے پیچھے قراءت کرتے تھے جن میں امام بلند آواز سے قراءت نہیں کرتا تھا۔

الكتاب: موطأ الإمام مالك

المؤلف: مالك بن أنس بن مالك بن عامر الأصبحي المدني (المتوفى: 179هـ)

رقم الأثر: 40

امام عروہ بن زبیر رحمہ اللہ اپنے بیٹوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے تھے:

166 – حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ قَالَ: حَدَّثَنَا الْبُخَارِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «يَا بَنِيَّ اقْرَءُوا فِيمَا يَسْكُتُ الْإِمَامُ وَاسْكُتُوا فِيمَا جَهَرَ وَلَا تَتِمُّ صَلَاةٌ لَا يُقْرَأُ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَصَاعِدًا، مَكْتُوبَةٌ وَمُسْتَحَبَّةٌ»

اردو ترجمہ:

اے میرے بیٹو! جب امام خاموش ہو تو تم قراءت کرو اور جب وہ بلند آواز سے قراءت کرے تو تم خاموش رہو۔ اور وہ نماز مکمل نہیں ہوتی جس میں سورۂ فاتحہ یا اس سے زائد قراءت نہ کی جائے، خواہ نماز فرض ہو یا نفل۔

الكتاب: جزء القراءة خلف الإمام

المؤلف: محمد بن إسماعيل بن إبراهيم بن المغيرة البخاري، أبو عبد الله (المتوفى: 256هـ)

رقم الأثر: 166

وضاحت:

ان دونوں آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ امام عروہ بن زبیر رحمہ اللہ امام کے پیچھے قراءت کے مطلق مخالف نہیں تھے۔ وہ سری نمازوں میں قراءت کرتے اور جہری نمازوں میں امام کی بلند آواز سے قراءت کے وقت خاموش رہنے کی تلقین کرتے تھے۔ ان کے نزدیک قراءت اور انصات کے الگ الگ مواقع تھے۔

⑤ امام عامر شعبی رحمہ اللہ (متوفی 109ھ)

امام عامر بن شراحیل شعبی رحمہ اللہ کوفہ کے مشہور محدث اور فقیہ تابعی تھے۔ ان سے امام کے پیچھے قراءت کی تائید میں متعدد آثار منقول ہیں۔

امام ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے:

3764 – حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «الْقِرَاءَةُ خَلْفَ الْإِمَامِ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ نُورٌ لِلصَّلَاةِ»

اردو ترجمہ:

امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے تھے: ظہر اور عصر کی نمازوں میں امام کے پیچھے قراءت کرنا نماز کے لیے نور ہے۔

الكتاب: الكتاب المصنف في الأحاديث والآثار

المؤلف: أبو بكر بن أبي شيبة، عبد الله بن محمد بن إبراهيم بن عثمان بن خواستي العبسي (المتوفى: 235هـ)

رقم الأثر: 3764

ایک دوسری روایت میں امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

3763 – حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ: أَخْبَرَنَا الشَّيْبَانِيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «اقْرَأْ خَلْفَ الْإِمَامِ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ، وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ»

اردو ترجمہ:

ظہر اور عصر کی نمازوں میں امام کے پیچھے پہلی دو رکعتوں میں سورۂ فاتحہ اور اس کے ساتھ کوئی دوسری سورت پڑھو، جبکہ آخری دو رکعتوں میں صرف سورۂ فاتحہ پڑھو۔

الكتاب: الكتاب المصنف في الأحاديث والآثار

المؤلف: أبو بكر بن أبي شيبة، عبد الله بن محمد بن إبراهيم بن عثمان بن خواستي العبسي (المتوفى: 235هـ)

رقم الأثر: 3763

تیسری روایت میں امام شعبی رحمہ اللہ کے شاگرد مالک بن مغول رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:

3772 – حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ: نا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ «يُحَسِّنُ الْقِرَاءَةَ خَلْفَ الْإِمَامِ»

اردو ترجمہ:

مالک بن مغول رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے امام شعبی رحمہ اللہ کو امام کے پیچھے قراءت کرنے کو اچھا قرار دیتے ہوئے سنا۔

الكتاب: الكتاب المصنف في الأحاديث والآثار

المؤلف: أبو بكر بن أبي شيبة، عبد الله بن محمد بن إبراهيم بن عثمان بن خواستي العبسي (المتوفى: 235هـ)

رقم الأثر: 3772

وضاحت:

ان تینوں آثار میں امام شعبی رحمہ اللہ نے امام کے پیچھے قراءت کو پسندیدہ قرار دیا ہے۔ ان کے اقوال خاص طور پر ظہر اور عصر کی نمازوں سے متعلق ہیں۔ اس لیے ان سے سری نمازوں میں قراءت کی تائید واضح طور پر ثابت ہوتی ہے، البتہ ان آثار سے جہری نمازوں کے بارے میں ان کا مکمل موقف متعین نہیں ہوتا۔

⑥ امام مجاہد بن جبر رحمہ اللہ (متوفی 102ھ)

امام مجاہد بن جبر رحمہ اللہ مکہ مکرمہ کے مشہور تابعی، مفسر اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ممتاز شاگرد تھے۔

ان سے ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ پڑھنے کی اہمیت کے متعلق ایک قول منقول ہے۔

امام ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے:

3626 – حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: «إِذَا لَمْ يَقْرَأْ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَإِنَّهُ يُعِيدُ تِلْكَ الرَّكْعَةَ»

اردو ترجمہ:

امام مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر کوئی شخص ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ نہیں پڑھتا تو اسے وہ رکعت دوبارہ ادا کرنی چاہیے۔

الكتاب: الكتاب المصنف في الأحاديث والآثار

المؤلف: أبو بكر بن أبي شيبة، عبد الله بن محمد بن إبراهيم بن عثمان بن خواستي العبسي (المتوفى: 235هـ)

رقم الأثر: 3626

امام بخاری رحمہ اللہ نے بھی ان کا قول نقل کیا ہے:

28 – وَقَالَ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ: إِذَا نَسِيَ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ لَا تُعَدُّ تِلْكَ الرَّكْعَةُ

اردو ترجمہ:

امام مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر کوئی شخص سورۂ فاتحہ پڑھنا بھول جائے تو وہ رکعت شمار نہیں ہوگی۔

الكتاب: جزء القراءة خلف الإمام

المؤلف: محمد بن إسماعيل بن إبراهيم بن المغيرة البخاري، أبو عبد الله (المتوفى: 256هـ)

رقم الأثر: 28

وضاحت:

یہ دونوں آثار ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کی اہمیت کے متعلق ہیں۔ تاہم ان میں صراحتاً امام کے پیچھے قراءت کا ذکر موجود نہیں۔ اس لیے انہیں مقتدی کے حق میں مستقل اور قطعی دلیل کے طور پر پیش کرنے کے بجائے سورۂ فاتحہ کی اہمیت پر امام مجاہد رحمہ اللہ کے موقف کے طور پر بیان کرنا زیادہ محتاط ہے۔

اس کے علاوہ ان آثار کی سند میں مذکور «لیث» کی تعیین اور روایت کی صحت بھی مستقل تحقیق کی محتاج ہے۔

⑦ امام عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ (متوفی 94ھ)

امام عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ مدینہ منورہ کے ممتاز فقہاء تابعین میں سے تھے۔

ان کے شاگرد حصین بن عبدالرحمن رحمہ اللہ نے ان کے ساتھ نماز پڑھنے کا واقعہ بیان کیا ہے۔

امام ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے:

3750 – حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ: أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ قَالَ: صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ: فَسَمِعْتُهُ يَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ.

اردو ترجمہ:

حصین بن عبدالرحمن رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ کے پہلو میں نماز پڑھی تو میں نے انہیں امام کے پیچھے قراءت کرتے ہوئے سنا۔

الكتاب: الكتاب المصنف في الأحاديث والآثار

المؤلف: أبو بكر بن أبي شيبة، عبد الله بن محمد بن إبراهيم بن عثمان بن خواستي العبسي (المتوفى: 235هـ)

رقم الأثر: 3750

وضاحت:

اس اثر میں ایک تابعی کا عملی طریقہ بیان ہوا ہے۔ راوی نے خود ان کے ساتھ نماز پڑھی اور انہیں امام کے پیچھے قراءت کرتے ہوئے سنا۔ اگرچہ اس روایت میں سورۂ فاتحہ کا نام صراحتاً نہیں آیا، تاہم امام کے پیچھے مطلق قراءت کے جواز کے حوالے سے یہ ایک واضح عملی شہادت ہے۔

⑧ امام ابو الملیح ہذلی رحمہ اللہ (متوفی 98ھ)

امام ابو الملیح ہذلی رحمہ اللہ سے جہری نماز میں امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ پڑھنے کا عمل منقول ہے۔

امام ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے:

3768 – حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: صَلَّيْتُ الْمَغْرِبَ وَالْحَكَمُ بْنُ أَيُّوبَ إِمَامُنَا، وَأَبُو مَلِيحٍ إِلَى جَنْبِ ابْنِ أُسَامَةَ، فَسَمِعْتُهُ يَقْرَأُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، فَلَمَّا سَلَّمَ الْإِمَامُ قُلْتُ لِأَبِي مَلِيحٍ: تَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ وَهُوَ يَقْرَأُ؟ قَالَ: «سَمِعْتَ شَيْئًا؟» قُلْتُ: نَعَمْ

اردو ترجمہ:

یحییٰ بن ابی اسحاق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے مغرب کی نماز پڑھی، اس وقت حکم بن ایوب ہمارے امام تھے اور ابو الملیح (عامر) بن اسامہ میرے پہلو میں تھے۔ میں نے انہیں سورۂ فاتحہ پڑھتے ہوئے سنا۔

جب امام نے سلام پھیرا تو میں نے ابو الملیح سے پوچھا: کیا آپ امام کے پیچھے بھی قراءت کرتے ہیں، جبکہ امام خود قراءت کر رہا ہوتا ہے؟

انہوں نے پوچھا: کیا تم نے کچھ سنا تھا؟

میں نے عرض کیا: جی ہاں۔

الكتاب: الكتاب المصنف في الأحاديث والآثار

المؤلف: أبو بكر بن أبي شيبة، عبد الله بن محمد بن إبراهيم بن عثمان بن خواستي العبسي (المتوفى: 235هـ)

رقم الأثر: 3768

وضاحت:

اس اثر میں جہری نماز، یعنی مغرب، میں مقتدی کی حیثیت سے سورۂ فاتحہ پڑھنے کا عمل صراحت کے ساتھ موجود ہے۔ یہ روایت اس اعتبار سے اہم ہے کہ اس میں صرف فتویٰ یا قول بیان نہیں ہوا، بلکہ ایک تابعی کے عملی طریقے کی شہادت دی گئی ہے۔

⑨ امام محمد بن شہاب زہری رحمہ اللہ (متوفی 124ھ)

امام محمد بن شہاب زہری رحمہ اللہ سے ظہر اور عصر کی نمازوں میں قراءت کے متعلق ایک قول منقول ہے۔

امام عبدالرزاق صنعانی رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے:

2783 – عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: «يَقْرَأُ الْإِمَامُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَسُورَةٍ أُخْرَى فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ»

اردو ترجمہ:

امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: امام ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورۂ فاتحہ اور اس کے ساتھ کوئی دوسری سورت پڑھتا ہے۔

الكتاب: المصنف

المؤلف: أبو بكر عبد الرزاق بن همام بن نافع الحميري اليماني الصنعاني (المتوفى: 211هـ)

رقم الأثر: 2783

وضاحت:

اس روایت میں امام زہری رحمہ اللہ نے امام کی قراءت کا طریقہ بیان کیا ہے، نہ کہ مقتدی کی قراءت کا حکم۔ لہٰذا یہ اثر ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں امام کی قراءت کے متعلق ہے اور اسے امام کے پیچھے فاتحہ پڑھنے کی براہِ راست دلیل قرار نہیں دیا جا سکتا۔

⑩ امام حکم بن عتیبہ رحمہ اللہ (متوفی 115ھ)

امام حکم بن عتیبہ رحمہ اللہ کوفہ کے ممتاز فقہاء و محدثین میں شمار ہوتے ہیں۔

ان سے سری نمازوں میں امام کے پیچھے قراءت کرنے کی واضح تلقین منقول ہے۔

امام ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے:

3766 – حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْحَكَمِ قَالَ: «اقْرَأْ خَلْفَ الْإِمَامِ فِيمَا لَمْ يَجْهَرْ فِي الْأُولَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ، وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ».

اردو ترجمہ:

امام حکم بن عتیبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جن نمازوں میں امام بلند آواز سے قراءت نہیں کرتا، ان میں امام کے پیچھے پہلی دو رکعتوں میں سورۂ فاتحہ اور اس کے ساتھ کوئی دوسری سورت پڑھو، جبکہ آخری دو رکعتوں میں صرف سورۂ فاتحہ پڑھو۔

الكتاب: الكتاب المصنف في الأحاديث والآثار

المؤلف: أبو بكر بن أبي شيبة، عبد الله بن محمد بن إبراهيم بن عثمان بن خواستي العبسي (المتوفى: 235هـ)

رقم الأثر: 3766

وضاحت:

اس اثر میں امام حکم بن عتیبہ رحمہ اللہ نے مقتدی کو سری نمازوں کی پہلی دو رکعتوں میں سورۂ فاتحہ اور دوسری سورت، جبکہ آخری دو رکعتوں میں صرف سورۂ فاتحہ پڑھنے کا حکم دیا ہے۔ اس طرح سری نمازوں میں امام کے پیچھے قراءت کا ان کا موقف واضح طور پر سامنے آتا ہے۔

⑪ امام عبدالرحمن بن عمرو اوزاعی رحمہ اللہ (متوفی 157ھ)

امام اوزاعی رحمہ اللہ شام کے مشہور فقیہ اور امام تھے۔ آپ کا شمار تبع تابعین میں ہوتا ہے، تاہم آپ نے تابعین کا زمانہ پایا اور ان سے علم حاصل کیا، اس لیے آپ کا موقف بھی یہاں ذکر کیا جا رہا ہے۔ ان سے امام کے وقفوں میں مقتدی کے سورۂ فاتحہ پڑھنے کے متعلق ایک واضح موقف منقول ہے۔

حافظ ابن عبدالبر رحمہ اللہ نے امام اوزاعی، امام شافعی اور امام ابو ثور رحمہم اللہ کا موقف نقل کیا ہے:

قال الأوزاعي والشافعي وأبو ثور: حق على الإمام أن يسكت سكتة بعد التكبيرة الأولى، وسكتة بعد فراغه بقراءة فاتحة الكتاب

اردو ترجمہ:

امام اوزاعی، امام شافعی اور امام ابو ثور رحمہم اللہ فرماتے ہیں: امام کو چاہیے کہ تکبیرِ اولیٰ کے بعد ایک وقفہ کرے اور سورۂ فاتحہ کی قراءت مکمل کرنے کے بعد بھی ایک وقفہ کرے۔

حافظ ابن عبدالبر رحمہ اللہ کی نقل کے مطابق اس وقفے کا مقصد مقتدی کو سورۂ فاتحہ پڑھنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔ ان ائمہ کے نزدیک اگر امام وقفہ نہ کرے تو مقتدی کو امام کے ساتھ سورۂ فاتحہ پڑھنی چاہیے۔

الكتاب: الاستذكار الجامع لمذاهب فقهاء الأمصار وعلماء الأقطار

المؤلف: أبو عمر يوسف بن عبد الله بن محمد بن عبد البر القرطبي (المتوفى: 463هـ)

الجزء: 4، الصفحة: 238

وضاحت:

اس قول سے معلوم ہوتا ہے کہ امام اوزاعی رحمہ اللہ مقتدی کے لیے سورۂ فاتحہ پڑھنے کا موقع فراہم کرنے کے قائل تھے۔ ان کے نزدیک امام کو مناسب وقفہ کرنا چاہیے تاکہ مقتدی سورۂ فاتحہ پڑھ سکے، اور اگر امام وقفہ نہ کرے تو مقتدی اس کے ساتھ قراءت کرے۔

یہ موقف جہری نماز میں سورۂ فاتحہ کی قراءت کے متعلق ان کی فقہی رائے کو واضح کرتا ہے۔

⑫ امام عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ (متوفی 114ھ)

امام عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ مکہ مکرمہ کے عظیم فقیہ اور جلیل القدر تابعی تھے۔

ان سے جہری نمازوں میں مقتدی کی قراءت کے متعلق ایک اہم قول منقول ہے۔

امام عبدالرزاق صنعانی رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے:

2788 – عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: «إِذَا كَانَ الْإِمَامُ يَجْهَرُ فَلْيُبَادِرْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ، أَوْ لِيَقْرَأْ بَعْدَمَا يَسْكُتُ، فَإِذَا قَرَأَ فَلْيُنْصِتُوا كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ»

اردو ترجمہ:

امام عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب امام بلند آواز سے قراءت کر رہا ہو تو مقتدی کو چاہیے کہ سورۂ فاتحہ پڑھنے میں جلدی کرے یا امام کے خاموش ہونے کے بعد اسے پڑھ لے۔ پھر جب امام قراءت کرے تو مقتدی خاموشی سے توجہ کے ساتھ سنے، جیسا کہ اللہ عزوجل نے حکم دیا ہے۔

الكتاب: المصنف

المؤلف: أبو بكر عبد الرزاق بن همام بن نافع الحميري اليماني الصنعاني (المتوفى: 211هـ)

رقم الأثر: 2788

وضاحت:

امام عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کے اس قول میں دو باتیں جمع ہیں: سورۂ فاتحہ کی قراءت اور امام کی قراءت کے دوران خاموش رہنا۔

ان کے نزدیک مقتدی کو سورۂ فاتحہ پڑھنے کا موقع اختیار کرنا چاہیے، جبکہ امام کی باقی قراءت کے وقت خاموشی سے سننے کا اہتمام کرنا چاہیے۔

⑬ امام قاسم بن محمد بن ابی بکر رحمہ اللہ (متوفی 106ھ)

امام قاسم بن محمد بن ابی بکر رحمہ اللہ مدینہ منورہ کے مشہور فقہاء تابعین میں شمار ہوتے ہیں۔

ان سے سری نمازوں میں امام کے پیچھے قراءت کرنے کا عمل منقول ہے۔

امام مالک رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے:

41 – وَحَدَّثَنِي عَنْ مالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَعَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ كَانَ «يَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ فِيمَا لَا يَجْهَرُ فِيهِ الْإِمَامُ بِالْقِرَاءَةِ»

اردو ترجمہ:

یحییٰ بن سعید اور ربیعہ بن ابی عبدالرحمن رحمہما اللہ بیان کرتے ہیں کہ امام قاسم بن محمد رحمہ اللہ ان نمازوں میں امام کے پیچھے قراءت کرتے تھے جن میں امام بلند آواز سے قراءت نہیں کرتا تھا۔

الكتاب: موطأ الإمام مالك

المؤلف: مالك بن أنس بن مالك بن عامر الأصبحي المدني (المتوفى: 179هـ)

رقم الأثر: 41

وضاحت:

اس اثر سے معلوم ہوتا ہے کہ امام قاسم بن محمد رحمہ اللہ سری نمازوں میں امام کے پیچھے قراءت کیا کرتے تھے۔ لہٰذا ان کا عملی طریقہ اس بات کی تائید کرتا ہے کہ تابعین میں امام کے پیچھے قراءت کا عمل موجود تھا۔

⑭ امام نافع بن جبیر بن مطعم رحمہ اللہ (متوفی 99ھ)

امام نافع بن جبیر بن مطعم رحمہ اللہ بھی مدینہ منورہ کے ممتاز تابعین میں شمار ہوتے ہیں۔

امام مالک رحمہ اللہ نے ان کا عمل نقل کیا ہے:

42 – وَحَدَّثَنِي عَنْ مالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ كَانَ «يَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ فِيمَا لَا يَجْهَرُ فِيهِ بِالْقِرَاءَةِ» قَالَ مَالِكٌ: «وَذَلِكَ أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَيَّ فِي ذَلِكَ»

اردو ترجمہ:

یزید بن رومان رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ نافع بن جبیر بن مطعم رحمہ اللہ ان نمازوں میں امام کے پیچھے قراءت کیا کرتے تھے جن میں امام بلند آواز سے قراءت نہیں کرتا تھا۔

امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے اس مسئلے میں جو کچھ سنا ہے، اس میں یہ طریقہ مجھے سب سے زیادہ پسند ہے۔

الكتاب: موطأ الإمام مالك

المؤلف: مالك بن أنس بن مالك بن عامر الأصبحي المدني (المتوفى: 179هـ)

رقم الأثر: 42

وضاحت:

اس اثر میں دو اہم باتیں موجود ہیں: پہلی یہ کہ امام نافع بن جبیر رحمہ اللہ سری نمازوں میں امام کے پیچھے قراءت کرتے تھے، اور دوسری یہ کہ امام مالک رحمہ اللہ نے اس طریقے کو پسندیدہ قرار دیا ہے۔

اس سے سری نمازوں میں مقتدی کی قراءت کے متعلق ایک تابعی کا عملی طریقہ اور ایک بڑے امام کی اس پر تائید سامنے آتی ہے۔

⑮ امام سعید بن جبیر رحمہ اللہ (متوفی 95ھ)

امام سعید بن جبیر رحمہ اللہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ممتاز شاگرد، مشہور مفسر اور جلیل القدر تابعی تھے۔

ان سے امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ پڑھنے کی صریح تاکید منقول ہے۔

امام عبدالرزاق صنعانی رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے:

2789 – عَنْ مَعْمَرٍ، وَابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّهُ قَالَ: «لَا بُدَّ أَنْ تَقْرَأَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ مَعَ الْإِمَامِ، وَلَكِنْ مَنْ مَضَى كَانُوا إِذَا كَبَّرَ الْإِمَامُ سَكَتَ سَاعَةً لَا يَقْرَأُ قَدْرَ مَا يَقْرَؤُنَ أُمَّ الْقُرْآنِ»

اردو ترجمہ:

امام سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: تمہیں امام کے ساتھ سورۂ فاتحہ ضرور پڑھنی چاہیے۔ البتہ پہلے لوگوں کا طریقہ یہ تھا کہ جب امام تکبیر کہتا تو کچھ دیر قراءت کیے بغیر خاموش رہتا، اتنی دیر کہ مقتدی سورۂ فاتحہ پڑھ لیتے تھے۔

الكتاب: المصنف

المؤلف: أبو بكر عبد الرزاق بن همام بن نافع الحميري اليماني الصنعاني (المتوفى: 211هـ)

رقم الأثر: 2789

وضاحت:

امام سعید بن جبیر رحمہ اللہ کا یہ قول مسئلۂ قراءت خلف الامام میں نہایت اہم ہے۔ انہوں نے نہ صرف امام کے ساتھ سورۂ فاتحہ پڑھنے کی تاکید کی ہے، بلکہ سابقہ اہلِ علم کا یہ طریقہ بھی بیان کیا ہے کہ امام تکبیر کے بعد اتنا وقفہ کرتا تھا جس میں مقتدی سورۂ فاتحہ پڑھ سکیں۔

اس اثر سے امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ کی قراءت اور اس کے لیے وقفہ اختیار کرنے کے تصور کی تائید ہوتی ہے۔

تابعین کرام کے اقوال و آثار سے حاصل ہونے والے اہم نتائج

مذکورہ آثار کا مجموعی جائزہ لینے سے چند اہم حقیقتیں سامنے آتی ہیں۔

اول: امام کے پیچھے مطلق ترکِ قراءت کو تمام تابعین کا متفقہ موقف قرار دینا درست نہیں۔ مختلف علاقوں کے تابعین سے امام کے پیچھے قراءت کرنے اور اس کی تلقین کے آثار منقول ہیں۔

دوم: امام ابو سلمہ بن عبدالرحمن، امام مکحول، امام حسن بصری، امام عطاء بن ابی رباح اور امام سعید بن جبیر رحمہم اللہ کے منقول اقوال میں سورۂ فاتحہ پڑھنے کی صریح تاکید موجود ہے۔ بعض نے امام کے وقفے میں اور بعض نے وقفہ نہ ہونے کی صورت میں بھی قراءت کی صورت بیان کی ہے۔

سوم: امام عروہ بن زبیر، امام شعبی، امام حکم بن عتیبہ، امام قاسم بن محمد اور امام نافع بن جبیر رحمہم اللہ کے آثار سے سری نمازوں میں امام کے پیچھے قراءت کا عمل ثابت ہوتا ہے۔ تاہم ان آثار کی بنیاد پر ان حضرات کے بارے میں یہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ لازماً جہری نمازوں میں بھی اسی طریقے کے قائل تھے۔

چہارم: امام ابو الملیح ہذلی رحمہ اللہ کے متعلق مغرب کی نماز میں امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ پڑھنے کا عملی واقعہ منقول ہے، جو جہری نماز میں فاتحہ پڑھنے کے موضوع پر خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔

پنجم: امام اوزاعی رحمہ اللہ کا منقول موقف یہ ہے کہ امام مناسب وقفہ کرے تاکہ مقتدی سورۂ فاتحہ پڑھ سکیں۔ اس طرح ان کے نزدیک امام کی قراءت اور مقتدی کی قراءت میں عملی تطبیق کی ایک صورت موجود ہے۔

ششم: تمام آثار استدلال کے اعتبار سے یکساں نہیں ہیں۔ بعض میں سورۂ فاتحہ کی صریح تاکید ہے، بعض میں مطلق قراءت کا ذکر ہے اور بعض صرف سری نمازوں سے متعلق ہیں۔ اسی طرح امام مجاہد رحمہ اللہ سے منقول اثر سورۂ فاتحہ کی عمومی اہمیت پر دلالت کرتا ہے، جبکہ امام زہری رحمہ اللہ کا مذکورہ قول امام کی قراءت سے متعلق ہے۔ لہٰذا ہر روایت سے اسی قدر استدلال کرنا چاہیے جس قدر اس کے الفاظ اجازت دیتے ہیں۔

خلاصہ و نتیجہ

تابعین کرام کے مذکورہ اقوال و آثار سے واضح ہوتا ہے کہ امام کے پیچھے قراءت کرنا کوئی ایسا عمل نہیں تھا جس سے تمام تابعین متفقہ طور پر منع کرتے ہوں، بلکہ متعدد معروف تابعین سے امام کے پیچھے قراءت کرنے، سورۂ فاتحہ پڑھنے اور اس کی تلقین کرنے کے اقوال و اعمال منقول ہیں۔

ان آثار میں بعض حضرات نے سری نمازوں میں قراءت کی تائید کی، بعض نے جہری نمازوں میں بھی سورۂ فاتحہ پڑھنے کا حکم دیا، اور بعض نے امام کی قراءت کے دوران خاموش رہنے اور اس کے وقفے میں سورۂ فاتحہ پڑھنے کی تفصیل اختیار کی۔

چنانچہ کسی ایک عمومی اثر کی بنیاد پر تمام تابعین یا کسی صحابی کے تمام شاگردوں کی طرف مطلق ترکِ قراءت کا موقف منسوب کرنا علمی احتیاط کے خلاف ہے۔ درست طریقہ یہی ہے کہ ہر اثر کی سند، الفاظ، سیاق اور دلالت کو الگ الگ دیکھا جائے۔

البتہ ان آثار کا وجود بذاتِ خود اس مسئلے میں کسی ایک فقہی موقف پر اجماع ثابت نہیں کرتا اور نہ ہی تمام روایات کی اسنادی صحت کو یکساں قرار دیا جا سکتا ہے۔ سورۂ فاتحہ خلف الامام کے حکم کا حتمی تعین قرآن و سنت کے دلائل، صحابۂ کرام کے آثار اور ائمہ کے مجموعی استدلال کی روشنی میں کیا جانا چاہیے۔

حاصلِ بحث یہ ہے کہ امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ پڑھنے کا قول و عمل متعدد تابعین سے منقول ہے، لہٰذا اسے تابعین کے طریقے کے سراسر خلاف قرار دینا درست نہیں۔

واللہ تعالیٰ أعلم بالصواب۔

اہم حوالوں کے سکین

تابعین کرام کے نزدیک امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ کی قراءت: اقوال و آثار کا تحقیقی جائزہ – 01 تابعین کرام کے نزدیک امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ کی قراءت: اقوال و آثار کا تحقیقی جائزہ – 02 تابعین کرام کے نزدیک امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ کی قراءت: اقوال و آثار کا تحقیقی جائزہ – 03 تابعین کرام کے نزدیک امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ کی قراءت: اقوال و آثار کا تحقیقی جائزہ – 04 تابعین کرام کے نزدیک امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ کی قراءت: اقوال و آثار کا تحقیقی جائزہ – 05 تابعین کرام کے نزدیک امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ کی قراءت: اقوال و آثار کا تحقیقی جائزہ – 06 تابعین کرام کے نزدیک امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ کی قراءت: اقوال و آثار کا تحقیقی جائزہ – 07 تابعین کرام کے نزدیک امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ کی قراءت: اقوال و آثار کا تحقیقی جائزہ – 08 تابعین کرام کے نزدیک امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ کی قراءت: اقوال و آثار کا تحقیقی جائزہ – 09 تابعین کرام کے نزدیک امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ کی قراءت: اقوال و آثار کا تحقیقی جائزہ – 10 تابعین کرام کے نزدیک امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ کی قراءت: اقوال و آثار کا تحقیقی جائزہ – 11 تابعین کرام کے نزدیک امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ کی قراءت: اقوال و آثار کا تحقیقی جائزہ – 12 تابعین کرام کے نزدیک امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ کی قراءت: اقوال و آثار کا تحقیقی جائزہ – 13 تابعین کرام کے نزدیک امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ کی قراءت: اقوال و آثار کا تحقیقی جائزہ – 14 تابعین کرام کے نزدیک امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ کی قراءت: اقوال و آثار کا تحقیقی جائزہ – 15 تابعین کرام کے نزدیک امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ کی قراءت: اقوال و آثار کا تحقیقی جائزہ – 16 تابعین کرام کے نزدیک امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ کی قراءت: اقوال و آثار کا تحقیقی جائزہ – 17 تابعین کرام کے نزدیک امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ کی قراءت: اقوال و آثار کا تحقیقی جائزہ – 18 تابعین کرام کے نزدیک امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ کی قراءت: اقوال و آثار کا تحقیقی جائزہ – 19 تابعین کرام کے نزدیک امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ کی قراءت: اقوال و آثار کا تحقیقی جائزہ – 20 تابعین کرام کے نزدیک امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ کی قراءت: اقوال و آثار کا تحقیقی جائزہ – 21