قربانی کرنے والا ہلال ذوالحجہ کے بعد بالوں اور ناخنوں کو نہ چھیڑے
جس شخص نے قربانی کا ارادہ کیا ہو، وہ ذوالحجہ کے چاند کے بعد اپنے بالوں اور ناخنوں سے باز رہے۔ ذیل میں توفیق الہی سے اس بارے میں چھ باتیں پیش کی جا رہی ہیں:
➊ اس کی دلیل وہ حدیث ہے جس کو امام مسلم نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ یقیناً نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”إذا رأيتم هلال ذي الحجة وأراد أحدكم أن يضحي فليمسك عن شعره وأظفاره“
”جب تم ذوالحجہ کا چاند دیکھ لو اور تمہارا قربانی کرنے کا ارادہ ہو تو اپنے بالوں اور ناخنوں کو [کاٹنے اور تراشنے] سے بچو۔“
صحیح مسلم، کتاب الأضاحي، باب نهي من دخل عليه عشر ذي الحجة، وهو مريد التضحية، أن يأخذ من شعره وأظفاره شيئًا، رقم الحديث 41 – 1977)، 1565/3
➋ ناخنوں سے بچنے سے مراد یہ ہے کہ وہ نہ ناخنوں کو قلم کرے اور نہ ہی توڑے۔ بالوں سے بچنے کا معنی یہ ہے کہ وہ بال مونڈے، نہ ہلکے کرے، نہ نوچے اور نہ ہی جلا کر انہیں ختم کرے۔ بال جسم کے کسی بھی حصے، سر، مونچھوں، بغلوں، زیر ناف یا کسی اور عضو کے ہوں، انہیں چھیڑنا نہیں۔
ملاحظہ ہو: شرح النووي 138/13-139
➌ حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم بھی اسی بات کی لوگوں کو تلقین فرماتے۔ امام ابن حزم نے ابن ابی کثیر سے روایت کی ہے:
أن يحيى بن يعمر كان يفتي بخراسان أن الرجل إذا اشترى أضحية ودخل العشر أن يكف عن شعره وأظفاره حتى يضحي.
قال سعيد: قال قتادة: فذكرت ذلك لسعيد بن المسيب فقال: نعم.
فقلت: عمن يا أبا محمد؟
قال: عن أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم“
خراسان میں یحیی بن یعمر فتوی دیا کرتے تھے کہ: ”جو شخص قربانی کا جانور خرید لے اور ذوالحجہ کا عشرہ داخل ہو جائے تو پھر وہ قربانی کرنے تک اپنے بالوں اور ناخنوں سے باز رہے۔“
سعید نے قتادہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے یہ بات سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ کو بتلائی تو انہوں نے فرمایا: ”ہاں“ [مسئلہ ایسے ہی ہے]۔
میں [قتادہ] نے کہا: ”ابو محمد! انہوں نے یہ فتوی کس سے لیا؟“
انہوں نے جواب میں فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ سے“۔
المحلي، مسألة 976، 28/8
➍ امام ابن حزم نے سلیمان تیمی سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے بیان کیا:
كان ابن سيرين يكره إذا دخل العشر أن يأخذ الرجل من شعره حتى يكره أن يحلق الصبيان فى العشر
”ابن سیرین نے اس بات کو مکروہ قرار دیا کہ کوئی شخص عشرہ ذوالحجہ شروع ہونے کے بعد اپنے بالوں کو لے [مونڈے یا تراشے]، بلکہ انہوں نے اس عشرہ کے دوران بچوں کے سر کو منڈانا بھی ناپسند کیا۔“
المحلي، مسألة 29/8،976
➎ حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ بھی عشرہ ذوالحجہ داخل ہونے کے بعد زیر ناف بالوں کے مونڈنے کو مکروہ قرار دیتے اور اس سے منع فرماتے۔ امام مسلم نے عمرو بن مسلم سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا:
كنا فى الحمام قبيل الأضحى فأطلى فيه ناس فقال بعض أهل الحمام: إن سعيد بن المسيب يكره هذا أو ينهى عنه
فلقيت سعيد بن المسيب فذكرت ذلك له فقال: يا ابن أخي هذا حديث قد نسي وترك حدثتني أم سلمة رضي الله عنه زوج النبى صلى الله عليه وسلم“
”ہم عید الاضحیٰ سے پہلے ایک حمام میں تھے تو کچھ لوگوں نے زیر ناف بال مونڈے۔ حمام والوں میں سے بعض لوگوں نے کہا: سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ اس کو ناپسند کرتے ہیں یا اس سے منع کرتے ہیں۔
میری سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو میں نے اس [واقعہ] کا ان سے ذکر کیا تو فرمانے لگے: اے بھتیجے! اس حدیث کو بھلایا جا چکا ہے اور اس کے مطابق عمل کرنا چھوڑ دیا گیا ہے۔ یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے بیان کی۔“
صحيح مسلم، كتاب الأضاحي، باب نهي من دخل عليه عشر ذي الحجة وهو مريد التضحية، أن يأخذ من شعره أو أظفاره شيئًا، جزء من رقم الرواية (1977)، 1566/3
➏ اگر قربانی کا ارادہ کرنے والا ان دس دنوں میں اپنے بالوں یا ناخنوں کو کاٹ لے تو اس پر کوئی فدیہ نہیں، البتہ عمداً کاٹنے کی صورت میں اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کرے کیونکہ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیم کی نافرمانی کر کے گناہ کا ارتکاب کیا ہے۔ امام ابن قدامہ نے تحریر کیا ہے کہ اگر وہ ایسا کرے [بال یا ناخن تراش لے] تو اللہ تعالیٰ سے استغفار کرے اور اس پر کوئی فدیہ نہیں، خواہ اس نے عمداً کیا ہو یا بھول کر۔
المغني 362/13