دجال کہاں سے نکلے گا اور کون اس کا ساتھ دے گا؟

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حافظ مبشر حسین لاہوری کی کتاب قیامت کی نشانیاں صحیح احادیث کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

دجال مشرق کی طرف خراسان سے نکلے گا :

عن فاطمة بنت قيس رضي الله عنها قالت أن النبى صلى الله عليه وسلم قال : ألا إنه فى بحر الشام أو بحر اليمن ، لا بل من قبل المشرق ما هو من قبل المشرق ما هو ، من قبل المشرق ما هو وأومأ بيده إلى المشرق
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : خبردار ! وہ (دجال) شام یا یمن کے سمندر میں ہے۔ نہیں ! بلکہ وہ مشرق کی طرف ہے ، وہ تو مشرق کی طرف ہے ، وہ تو مشرق کی طرف ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ بھی کیا۔
مسلم : كتاب الفتن : باب قصة الجساسة (2942) ابو داود (4325) ترمذی (2253) نسانی (3547) ابن ماجة (2045) حمیدی (177/1) احمد (419/6 – 461) المعجم الكبير (956/24) دلائل النبوة (416/5)
وعن أبى بكر الصديق رضى الله عنه قال حدثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : الدجال يخرج من أرض بالمشرق يقال لها خراسان يتبعه أقوام كأن وجوههم المجان المطرقة
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حدیث بیان فرمائی کہ دجال مشرق کی طرف سے ایک ایسی زمین سے نمودار ہوگا جسے خراسان کہا جاتا ہے۔ اس (دجال) کی پیروی کرنے والی کچھ ایسی قومیں ہوں گی جن کے چہرے کوٹی ہوئی (یا موٹی) ڈھالوں کی طرح (چپٹے) ہوں گے۔
ترمذى : كتاب الفتن : باب ماجاء من أين يخرج الدجال (2237) صحيح الجامع الصغير (150/3) احمد (5/1) ابن ماجة (4123) السلسلة الصحيحة (122/4) النهاية (117/1)
عن أنس رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : يخرج الدجال من يهودية أصبهان معه سبعون ألفا من اليهود
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دجال اصبہان کے علاقے ”یہودیہ“ سے خروج کرے گا اور اس کے ساتھ ستر (70) ہزار یہودی ہوں گے۔
مسلم : كتاب الفتن : باب في بقية احاديث من الدجال (2944) فتح الباری (238/13)
عن أنس رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : يتبع الدجال من يهود أصبهان سبعون ألفا عليهم الطيالسة
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دجال کی پیروی اصفہان اصبہان کے ستر ہزار یہودی دجال کی فرمانبرداری کریں گے جن پر سبز یا سیاہ چادریں ہوں گی۔
مسلم : كتاب الفتن : باب في بقية احاديث من الدجال (2944) احمد (283/3) (295/4) حاكم (524/4) ابن ابي شيبة (650/8) الدر المنثور (243/2)
عن النواس بن سمعان رضى الله عنه قال : ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم الدجال ذات غداة … إنه خارج خلة بين الشام والعراق فعاث يمينا وعاث شمالا
حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک صبح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر کیا۔ پھر فرمایا کہ وہ شام اور عراق کے درمیان ریگستانی راستے سے نکلے گا۔ مذکورہ روایات میں بظاہر اختلاف و تضاد معلوم ہوتا ہے کہ دجال شام اور عراق کے درمیان سے نکلے گا یا مشرق سے یا خراسان وغیرہ سے اس شبہ کا تفصیلی جواب فوائد میں ملاحظہ فرمائیں۔
مسلم : كتاب الفتن : باب ذكر الدجال 2937 احمد 248/4 ابو داؤد 4321 ترمذی 2240 ابن ماجة 4126 حاكم 537/4 طبری 95/9

جن لوگوں کا پسندیدہ لیڈر دجال ہوگا !

عن أنس رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : يتبع الدجال من يهود أصبهان سبعون ألفا عليهم الطيالسة
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اصبہان (اصفہان) کے ستر ہزار یہودی دجال کی پیروی کریں گے جن پر سیاہ یا سبز چادریں ہوں گی۔
مسلم : كتاب الفتن باب في بقية أحاديث الدجال 2944 احمد 283/3 حاکم 524/4 ابن أبي شيبة 65/8 الدر المنثور 243/2
عن أبى بكر الصديق رضى الله عنه قال حدثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : الدجال يخرج من أرض بالمشرق يقال لها خراسان يتبعه أقوام كأن وجوههم المجان المطرقة
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حدیث سنائی کہ دجال ایک مشرقی علاقے سے خروج کرے گا جسے خراسان موجودہ افغانستان اور اس کا گرد و پیش کہتے ہیں۔ اس دجال کی پیروی کچھ ایسی قومیں کریں گی جن کے چہرے کوٹی ہوئی ڈھالوں کی طرح چوڑے یا تہہ بہ تہہ ڈھالوں جیسے موٹے ہوں گے۔
ترمذی : كتاب الفتن : باب ما جاء من أين يخرج الدجال 2237 صحيح الجامع الصغير 150/3 احمد 5/1 ابن ماجة 4123 السلسلة الصحيحة 122/4
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد ترک ترکمانستانی لوگ ہیں۔
النهاية : 117/1
عن أنس رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : ليس من بلد إلا سيطؤه الدجال إلا مكة والمدينة ليس له من نقابها نقب إلا عليه الملائكة صافين يحرسونها ثم ترجف المدينة بأهلها ثلاث رجفات فيخرج الله إليه كل كافر ومنافق
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مکہ اور مدینہ کے سوا ہر شہر کو دجال روند ڈالے گا۔ ان مکہ ومدینہ کی ہر گھاٹی پر صف بستہ فرشتے کھڑے ہوں گے جو ان کی حفاظت کریں گے پھر مدینہ کی زمین تین مرتبہ کانپے گی جس سے ایک ایک کافر اور منافق کو اللہ تعالیٰ اس میں سے باہر نکال کر دجال کی طرف بھیج دے گا۔
بخاری : کتاب فضائل المدينة : باب لا يدخل المدينة الدجال 1881 ، 7134 مسلم 2942 احمد 300/2
عن ابن عمر رضي الله عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ينزل الدجال فى هذه السبخة بمرقناة فيكون أكثر من يخرج إليه النساء حتى أن الرجل يرجع إلى حميمه وإلى أمه وابنته وأخته وعمته فيوثقها رباطا مخافة أن تخرج إليه
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دجال مرقناة مدینہ کے قریب ایک وادی کی دلدلی زمین پر پڑاؤ کرے گا تو سب سے زیادہ عورتیں اس کی طرف نکلیں گی یہاں تک کہ آدمی اپنی بیوی، ماں، بیٹی، بہن، اور پھوپھی وغیرہ کے پاس جائے گا اور انہیں رسیوں سے باندھ دے گا مبادا کہ وہ دجال سے نہ ملیں۔
احمد 19/7 بتحقيق احمد شاكر وقال : اسناده صحیح مجمع الزوائد 664/7 واصله في البخاري : كتاب الجهاد : باب قتل اليهود 2925 والمسلم 2921 المعجم الكبير 307/2