دعا (یعنی) پکارنا، مانگنا، بلانا:
اب ہم دعا کے بارے میں تفصیلی گفتگو کریں گے۔ دعا اور اس کے متعلق جو الفاظ ،،دعو،، سے نکلے ہیں۔ ان کے معنی ہیں بلانا، مانگنا یا پکارنا یا دعا مانگنا۔ اس سلسلہ میں قرآن و حدیث سے چند دلائل ملاحظہ فرمائیں:
[1] مدد نیکی اور پرہیز گاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو، اور گناہ اور ظلم کی باتوں میں مدد نہ کیا کرو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو، کچھ شک نہیں کہ اللہ کا عذاب سخت ہے۔ [المائدۃ:2]
[2] رحمۃ للعالمینﷺ کا فرمان ہے:
[والله في عون العبد ما كان العبد في عون أخيه]
اور اللہ اپنے بندے کی مددفرماتا ہے،جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے۔
[مسلم، كتاب الذكر والدعاء، باب فضل الاجتماع على تلاوة ….. الخ:2699]
فرمایا:
مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ ہی بے یار و مددگار چھوڑتاہے۔
[مسلم، كتاب البر والصلة، باب تحريم ظلم المسلم و خذله… الخ:2564]
[3] قرآن کریم میں ہے: وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے جب تم لوگ دور بھاگ رہے تھے۔ اور کسی کو پیچھے پھر کر نہیں دیکھتے تھے اور رسول تمھارے پیچھے کھڑے پکار رہے تھے۔ [آل عمران:153] (یہاں لفظ ،،یدعو،، ہے، احمد رضا خاں صاحب نے ترجمہ پکارنا کیا) اور فرمایا: کہنے لگی کہ میرے باپ آپ کو بلا رہے ہیں، تا کہ آپ نے ہمارے جانوروں کو جو پانی پلایا ہے اس کی اجرت آپ کو دے۔ [القصص:25] (یہاں احمد رضا خاں صاحب نے ،،یدعو،، کا ترجمہ بلاتا ہے، کیا ہے)
[4] سیدنا نوح علیہ السلام نے کہا: اے میرے پروردگار! میں نے اپنی قوم کو رات دن تیری طرف پکارا [نوح:5] (یہاں ،،دعو،، کا ترجمہ احمد رضا خاں صاحب نے ،،بلایا،، کیا)
[5] اللہ تعالی کا حکم ہے: اور بے شک مسجدیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں پس تم اللہ تعالی کے ساتھ کسی کو مت پکارو۔ [الجن:18] اور فرمایا:نہ پکارو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو [القصص:88]،اور فرمایا: اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہو سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے سوا ایسے کو پکارے جو قیامت تک اسے جواب نے دے سکے اور وہ تو ان کی پکار سے بے خبر ہیں۔ [الاحقاف:5] اور فرمایا: ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔ [الفاتحہ:4] اور قرآن مجید میں مندرجہ ذیل مقامات پر غیر اللہ کو پکارنا شرک یا کفر یا غیر اللہ کی عبادت قرار دیا گیا ہے۔ [النساء:117،116]،[الانعام:71،64،63،56،41،40]،[الجن:20] التحیات اور قرآن مجید میں جگہ جگہ ان چار عبادتوں کا ذکر ہے، جن کی تفصیل گزر چکی ہے۔
میں نے جو دلائل (1 تا 4) پیش کیے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک دوسرے کی مدد کرنا ضروری ہے، اور مدد مانگنا ضروری ہے۔ اور اسی طرح ایک دوسرے کو کسی ضرورت میں پکارنا اور آواز دینا بھی جائز ہے۔ اور نمبر5 کے تحت جو دلائل لکھے ہیں، ان سے معلوم ہو رہا ہے کہ مدد صرف اللہ تعالیٰ ہی سے مانگنی چاہیے۔ اور صرف اسی کو پکارنا چاہیے اور غیر اللہ سے مدد مانگنا اور غیراللہ کوپکارنا کفر و شرک اور گمراہی ہے۔
خلاصه بحث:
کسی سے اسباب و وسائل کے تحت مدد طلب کرنا اور اسے پکارنا شرک نہیں ہے۔ اور کسی کو اسباب و وسائل سے برتر اور بے نیاز سمجھ کر مدد طلب کرنا یا پکارنا شرک ہے۔ کیونکہ اسباب و وسائل سے برتر و بالا ہو کر مدد کرنے اور پکارنے والے کی دادرسی کرنے کی قدرت رکھنے والا اور پکارنے والے کی پکار کا جواب دینے والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو آیتیں پکار والی ہیں کہ غیر اللہ کو پکارنا جائز نہیں، کیا یہ بتوں کے بارے میں ہیں؟ تو اس سلسلہ میں معمولی سمجھ بوجھ والا انسان بھی سمجھ سکتا ہے کہ قرآن مجید میں جہاں بھی ،،الا الله،، (یعنی) اللہ کے سوا ، یا ،،الا هو،، (یعنی) اس کے سوا آئے گا۔ وہاں وہ چیز اللہ کے لیے مخصوص ہو جائے گی اور اللہ کے سوا باقی تمام مخلوق عرش سے فرش تک کی نفی ہو جائے گی۔ صرف بتوں ہی کی نفی نہ ہو گی مثلاً [لا إله إلا الله] (یعنی) کلمہ میں اللہ تعالی کا اثبات ہے اور باقی سب مخلوق کی نفی ہے۔ حتی کہ کسی بڑے سے بڑے پیغمبر کی بھی عبادت نہیں ہو سکتی۔ جو شخص کسی پیغمبر کی بھی عبادت کرے گا وہ کافر اور مشرک ہو جائے گا، جس میں سر فہرست غیراللہ کو پکارنا شامل ہے، جیسا کہ عیسائیوں نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی بندگی کی اور وہ کافر اور مشرک ٹھہرے۔ قرآن اس پر گواہ ہے۔ عیسائیوں نے سیدنا عیسی علیہ السلام کی بندگی کی [المائدۃ:72 تا 77] اور عیسائیوں نے عیسی علیہ السلام کو گرجوں میں پکارا۔ [الجن:18 تا 20] ان باتوں کی تفصیل [کیا امت مسلمہ شرک کر سکتی ہے؟] کے تحت پہلے آچکی ہے۔ اسی طرح قرآن مجید میں جہاں جہاں ،،من دون الله،، (یعنی) اللہ کے سوا، یا ،،من دونه،، (یعنی) اس کے سوا آئے گا۔ وہ چیز اللہ کے لیے مخصوص ہو جائے گی اور باقی تمام مخلوق عرش سے فرش تک کی نفی ہو جائے گی۔ صرف بتوں ہی کی نفی نہ ہو گی۔ مثلاً [المائدة:72 تا77] جیسا کہ گزر چکا ہے۔ اسی طرح قرآن مجید میں جہاں ،،غیر اللہ،، یا ،،غیرہ،، آئے گا تو وہاں وہ چیز اللہ کے لیے مخصوص ہو جائے گی اور باقی سب مخلوق عرش سے فرش تک کی نفی ہو جائے گی۔ صرف بتوں ہی کی نفی نہ ہوگی۔ مثلاً: [الانعام:46،40،14] قرآن مجید میں اور بے شمار جگہ یہی بات آئی ہے اور یہی بات ،،مع الله،، یا ،،معہ،، (یعنی)اللہ کے ساتھ یا اس کے ساتھ) مثلا: [الجن:18]،[الانعام:19]،[الحجر:96] کے لیے ہے۔ اور یہی بات ،،أَحداً،، کے لیے ہے مثلا: [الجن: 22،20،18،2] یہی بات ،،شَيْئًا،، کے لیے ہے۔ مثلا: [الأنعام:151]،[ يوسف39،38]،[النور:55] وغیرہ۔ اور یہی بات ،،خالق،، کے لیے ہے۔مثلا: [النحل:20]،[الأحقاف:4]،[الأعراف: 189 تا 199] اور یہی بات ،،آخر،، کے لیے ہے۔ [الحجر:96]
مندرجہ بالا آیات سے یہ بات واضح ہے کہ اللہ کے سوا دوسروں کو پکارنے والی آیات بتوں کے لیے نہیں بلکہ یہ سب مخلوق کے لیے ہیں، ان میں سب مخلوق کی نفی ہے، کیونکہ یہ مندرجہ بالا الفاظ کے ساتھ قرآن مجید میں مذکور ہیں۔
اس کے علاوہ یہ بھی یادر ہے کہ بخاری شریف میں درج ہے کہ قوم نوح اور مکہ کے مشرک جن بتوں کی پوجا کرتے تھے وہ بزرگوں اور نبیوں کے تھے، وہ لوگ محض اتنے بھی پاگل نہ تھے کہ پتھروں کے بت بنا کر ان کی پوجا کرتے بلکہ بزرگوں اور نبیوں کے بت بناتے تھے۔ اور یہ کہ خانہ کعبہ میں ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام کے بت تھے۔ [بخاری، کتاب الحج، باب من كبر في نواحي الكعبة:4288،1601]
اور یہ کہ خانہ کعبہ میں ابراہیم علیہ السلام اور بی بی مریم کے بت تھے۔ [بخاري، كتاب أحاديث الأنبياء، باب قول الله تعالى واتحذ الله إبراهيم …… الخ:3351]
اور یہ کہ لات اور عزّی کے بیان میں سیدنا ابن عباس رضي اللہ عنہما نے کہا کہ لات ایک شخص کا نام تھا جو حاجیوں کے لیے ستو گھولا کرتا تھا۔ [بخاری، کتاب التفسير (سورة والنجم) باب أفرئيتم الات والعزى:4859]
اور یہ کہ ود، سواع، یغوث، یعوق، نصر، قوم نوح کے نیک بخت شخص تھے جن کے بتوں کی پوجا کی جاتی تھی۔ [بخاری، کتاب التفسیر، باب (ودا ولا سواعًا ولا يغوث ويعوق ):4920]


