مضمون کے اہم نکات
عقائد اہل السنۃ والجماعۃ
سوال: توحید الاسماء والصفات سے کیا مراد ہے؟
جواب: توحیدِ صفات سے مراد یہ ہے کہ اللہ کی تشریح میں درج شدہ تمام صفاتِ باری تعالیٰ پر ایمان لانے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی ان سب صفات کا بھی اقرار کیا جائے جن سے اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں اپنے آپ کو موصوف کیا، مثلاً اللہ تعالیٰ عرش پر مستوی ہے۔ (طہ: 5) اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا۔ (النساء:164) اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو اپنے ہاتھوں سے بنایا۔ (سورۃ ص:75) یا جن صفات کا ذکر احادیثِ صحیحہ میں ہے، مثلاً اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے۔ [مسلم، کتاب صلاۃ المسافرين، باب الترغيب في الدعاء والذكر في آخر الليل والإجابة فيه:758]
یہ تمام صفات اس کمال کو پہنچی ہوئی ہیں جو صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لائق ہیں، کسی مخلوق کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی صفات کو تشبیہ نہیں دی جا سکتی، کیونکہ مخلوق خالق کی صفات کی کیفیت کو جاننے سے قاصر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [لَیۡسَ کَمِثۡلِہٖ شَیۡءٌ] (کائنات کی) کوئی چیز اس کی مثل نہیں۔ [الشوریٰ:11]
اللہ تعالیٰ کی صفات کو حقیقت پر محمول کرتے ہوئے کسی تاویل، کیفیت، تعطیل اور تمثیل کے بغیر ایمان لانا توحیدِ الاسماء و الصفات ہے۔
تاویل:
آیات و احادیث کے ظاہری معنوں کو دوسرے مرادی معانی کی طرف پھیرنا تاویل کہلاتا ہے، مثلاً اللہ تعالیٰ کے عرش پر مستوی ہونے کا مطلب یہ بیان کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ عرش پر غالب ہے، ایسی تاویل کرنا جائز نہیں۔
کیفیت:
اللہ تعالیٰ کی صفت کی کیفیت بیان کرنا جائز نہیں کیونکہ اس کیفیت کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
تمثیل:
تمثیل سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفت کو مخلوق کی صفت کے مشابہ قرار دے دیا جائے۔ مثلاً اللہ کا آسمانِ دنیا پر نزول ہمارے نزول کی طرح مانا جائے، ایسا ماننا حرام ہے۔
تعطیل:
اللہ تعالیٰ کی صفات کی نفی کرنا تعطیل ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کو عرش پر مستوی ماننے کی بجائے اسے بلحاظِ ذات ہر جگہ موجود سمجھا جائے، ایسا سمجھنا گمراہی ہے۔ یقیناً سلف صالحین یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین، تبع تابعین اور ائمہ کرام رحمہم اللہ کا مسلک ہی حق ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کے حقیقی معنی پر ایمان لا کر بغیر کسی تاویل، تمثیل کے ان صفات کی کیفیت کو اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دینا چاہیے۔