مضمون کے اہم نکات
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کے فضائل
سیدنا سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نو آدمیوں کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ جنت میں جائیں گے، اور اگر دسویں کے بارے میں گواہی دوں تو گناہگار نہیں ہوں گا۔ پوچھا گیا وہ کیسے؟ فرمایا: ہم حراء پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حراء ٹھہر جا تجھ پر نبی، صدیق، شہید ہیں۔“ پوچھا گیا: وہ کون تھے؟ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ابو بکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد، عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہم۔ پوچھا گیا: دسویں کون تھے؟ فرمایا: وہ میں ہی تھا۔
سنن ترمذی ، کتاب المناقب، باب سعيد بن زید رضی الله عنه ، الله عنه ، رقم : 3757- البانی رحمہ الله نے اسے ”صحیح“ کہا ہے۔
◈ اسلام کی خاطر سختیاں برداشت کرنا:
قیس بیان کرتے ہیں کہ میں نے سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ کو مسجد کوفہ میں یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے اپنے آپ کو اس حال میں دیکھا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے (اسلام لانے سے قبل) مجھے میرے اسلام لانے کی وجہ سے باندھ رکھا تھا۔
صحیح بخاری ، کتاب مناقب الانصار، رقم : 3862 .
سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے فضائل
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابو بکر جنتی ہے۔ عمر جنتی ہے۔ عثمان جنتی ہے۔ علی جنتی ہے۔ طلحہ جنتی ہے۔ زبیر جنتی ہے۔ عبدالرحمن بن عوف جنتی ہے۔ سعد بن ابی وقاص جنتی ہے۔ سعید بن زید جنتی ہے اور ابو عبیدہ بن جراح جنتی ہے۔“ رضوان اللہ علیہم اجمعین
سنن ترمذی ، کتـاب الـمـنـاقـب، باب مناقب عبدالرحمن بن عوف رضی الله عنه عنه، رقم: 3747 – البانی رحمہ اللہ نے اسے ”صحیح“ کہا ہے ۔
◈ باہمی الفت و محبت:
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم باہمی الفت و محبت نہایت زیادہ رکھتے تھے۔ اس لیے جب کسی صحابی کو کسی قسم کا دکھ درد پہنچتا تھا تو دوسرے صحابہ کے دل بھر آتے تھے۔ ایک دن سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے سامنے کھانا رکھا گیا، ان کو ابتدائے اسلام کا افلاس یاد آ گیا، بولے: ”مصعب بن عمیر مجھ سے بہتر تھے۔ وہ شہید ہوئے اور ایک چادر کے سوا ان کو کفن میسر نہ ہوا۔ حمزہ یا اور صحابی جو مجھ سے بہتر تھے شہید ہوئے اور ایک چادر کے سوا اور ان کو کفن نہ ملا، شاید دنیا ہی میں ہم کو ہمارے طیبات مل گئے۔“ یہ کہہ کر رونے لگے اور کھانا چھوڑ دیا۔
صحيح بخاری ، کتاب الجنائز، رقم: 1274 .
◈ معاش کی خاطر محنت:
سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ہجرت کر کے آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کی مواخات کر دی، اس بنا پر سعد رضی اللہ عنہ نے اپنے مال میں سے ان کو نصف دینا چاہا لیکن انہوں نے کہا: ”یہ مال تم کو مبارک ہو مجھے کوئی تجارتی بازار بتاؤ۔“ انہوں نے سوق قینقاع کا راستہ بتا دیا، وہاں جا کر انہوں نے پنیر اور گھی کی تجارت شروع کر دی اور چند ہی دنوں میں اس قدر فائدہ ہوا کہ شادی کرنے کے قابل ہو گئے۔ اور انہوں نے شادی کر لی۔
صحیح بخاری ، کتاب البيوع، رقم: 2048 .
◈ تقسیم مال:
ام بکر بنت مسور رحمہ اللہ فرماتی ہیں، عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اپنی ایک زمین چالیس ہزار دینار میں بیچی اور یہ ساری رقم قبیلہ بنو زہرہ، غریب مسلمانوں، مہاجرین اور آپ علیہ الصلاۃ والسلام کی ازواج مطہرات میں تقسیم کر دی۔ اس میں کچھ رقم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی آپ خدمت میں بھیجی۔ انہوں نے پوچھا یہ مال کس نے بھیجا ہے؟ میں نے کہا: عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے۔ پھر مال لے جانے والے نے سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے زمین بیچنے اور اس کی ساری قیمت تقسیم کر دینے کا قصہ بتایا۔ اس پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میرے بعد تو ازواج مطہرات کے ساتھ شفقت کا معاملہ صرف صابر لوگ ہی کریں گے۔ (پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دعا دی) اللہ تعالیٰ عبد الرحمن بن عوف کو جنت کے سلسبیل چشمے سے پلائے۔
مستدرك حاكم: 310/3 – حلية الأولياء : 98/1 – طبقات ابن سعد : 94/3.
جعفر بن برقان فرماتے ہیں: ”مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے تیس ہزار گھرانے آزاد کیے۔“
مستدرك حاكم : 308/3 ـ حلية الاولياء: 99/1.
سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے فضائل
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابو عبیدہ بن جراح ہیں۔“
صحيح البخاری، کتاب فضائل اصحاب النبي ﷺ، باب مناقب ابي عبيدة رضی الله عنه، رقم: 3744 .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابو بکر بہت اچھے آدمی ہیں۔ عمر بہت اچھے آدمی ہیں۔ ابو عبیدہ بہت اچھے آدمی ہیں۔“
سنن ترمذی ، کتاب المناقب، باب مناقب معاذ بن جبل و ابي عبيدة بن الجراح رضى الله عنهم ، رقم : 3795 – البانی رحمہ اللہ نے اسے ”صحیح“ کہا ہے ۔
◈ زہد:
عروہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے ہاں تشریف لے گئے تو وہ کجاوے کی چادر پر لیٹے ہوئے تھے اور گھوڑے کو دانہ کھلانے والے تھیلے کو تکیہ بنایا ہوا تھا۔ ان سے عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، آپ کے ساتھیوں نے جو مکان اور سامان بنا لیے وہ آپ نے کیوں نہیں بنائے؟ انہوں نے کہا: اے امیر المؤمنین! قبر تک پہنچنے کے لیے یہ سامان بھی کافی ہے۔ اور معمر کی حدیث میں یہ ہے کہ جب عمر رضی اللہ عنہ ملک شام تشریف لے گئے تو لوگوں نے اور وہاں کے سرداروں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا استقبال کیا، انہوں نے ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے متعلق دریافت کیا، لوگوں نے کہا کہ وہ ابھی آپ کے پاس آجائیں گے۔ چنانچہ وہ آئے تو آپ نے سواری سے نیچے اتر کر انہیں گلے لگالیا۔ پھر ان کے گھر تشریف لے گئے اور انہیں گھر میں صرف یہ چیزیں نظر آئیں، ایک تلوار، ایک ڈھال اور ایک کجاوہ پھر پچھلی حدیث جیسا مضمون ذکر کیا۔
حلية الأولياء : 101/1 – صفة الصفوة : 143/1 – الإصابة : 253/2.