قربانی کے احکام و مسائل
غیر اللہ کے نام کی قربانی:
درج ذیل آیات میں محض اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر قربانی کرنے کا حکم ہے۔
① اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
﴿قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾
”کہہ دے بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ کے لیے ہے، جو جہانوں کا رب ہے۔“
سورة الأنعام: 162
②دوسرے مقام پر فرمایا:
﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ﴾
”پس تو اپنے رب کے لیے نماز پڑھ اور قربانی کر۔“
سورة الکوثر: 2
ان دو آیات میں اللہ تعالیٰ نے خالص رضائے الہی کے حصول کے لیے قربانی کرنے کا حکم دیا ہے اور مشرکین جو غیر اللہ کے نام پر جانور ذبح کرتے تھے ان کی مخالفت کا حکم ہے، نیز غیر اللہ کے نام پر جانور قربان کرنا حرام اور شریعت کی نظر میں ایسا شخص ملعون ہے۔
③ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
لعن الله من لعن والديه، و لعن الله من ذبح لغير الله، ولعن الله من آوى محدثا، و لعن الله من غير منار الأرض
اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جو اپنے والدین پر لعنت بھیجے، جو شخص غیر اللہ کے لیے ذبح کرے اللہ اس پر لعنت کرے، جو شخص بے دین کو پناہ دے اللہ اس پر لعنت کرے اور اللہ اس شخص پر لعنت کرے جو زمین کی علامات تبدیل کرے۔
صحيح مسلم، کتاب الأضاحي، باب تحريم الذبح لغير الله: 1978۔ سنن نسائی، کتاب الضحايا، باب من ذبح لغير الله: 4427
فوائد:
امام نووی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
”غیر اللہ کے لیے ذبح کرنے سے مقصود غیر اللہ کے نام یعنی بت، صلیب، موسیٰ علیہ السلام، عیسیٰ علیہ السلام یا کعبہ کی خاطر جانور ذبح کرنا ہے، قربانی کی یہ تمام صورتیں حرام ہیں اور ایسا ذبیحہ کھانا حلال نہیں، خواہ ذبح کرنے والا مسلم، عیسائی یا یہودی ہو۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے ایسے ذبیحوں کی حرمت پر نص بیان کی ہے اور شافعیہ کا ایسے ذبیحوں کی حرمت پر اتفاق ہے۔ پھر ذبح کرنے والا اگر غیر اللہ کے نام پر جانور ذبح کرنے کے ساتھ مذبوح لہ ”جس مقدس ہستی کی خاطر جانور ذبح کیا جا رہا ہے“ کی تعظیم و عبادت کا اعتقاد رکھے تو ایسا اعتقاد کفر ہے اور ذبح کرنے والا اگر اس عمل سے قبل مسلمان ہو تو اس باطل عمل کی وجہ سے مرتد ہو جائے گا۔“
شرح النووی: 13 / 140
مذکورہ بحث کو اگر مزید گہرائی سے دیکھیں تو یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ و سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور پیر و مرشد کے نام پر جانور ذبح کرنا اور ان مقدس ہستیوں کی رضا کی خاطر قربانی کرنا حرام اور شرک ہے، جس سے انسان دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ لہٰذا پنجتن پاک سمیت کسی ولی، پیر، مرشد کے نام کی قربانی کرنے سے گریز کیا جائے اور خالص رضائے الہی کے لیے قربانی کی جائے۔