اللہ ہی رزّاق و متین ہے: صفتِ قوت و حلم کا اثبات اور شرک کا رد

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ عبداللہ ناصر رحمانی کی شرح کتاب التوحید من صحیح بخاری سے ماخوذ ہے۔

کتاب التوحید

باب قول الله تعالى: أَنَا الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ (الذاریات:58)

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی قراءت کے الفاظ ہیں: [إِنِّي أَنَا الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ] (سنن ابی داود:3993)

اس آیت میں تاکیدا کہا گیا کہ اللہ رب العزت ہی رزّاق ہے۔ اور قوت والا اور قوی ہے۔

اور اگر اس کے باوجود کوئی شخص غیراللہ کو داتا، گنج بخش، یا فلاں حاجت روا اور مشکل کشا ہے۔ تو اس آیت کریمہ کا صریح انکار ہے، اور اسماء وصفات کے باب کے ساتھ بغاوت ہے اور یہ انتہائی خطرناک قسم کا شرک ہے۔

اس آیت میں اللہ رب العزت نے تاکیدی الفاظ استعمال کیے ہیں۔

7378: حدثنا عبدان، عن أبي حمزة، عن الأعمش، عن سعيد بن جبير، عن أبي عبد الرحمن السلمي، عن أبي موسى الأشعري قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: ما أحد أصبر على أذى سمعه من الله، يدعون له الولد، ثم يعافيهم ويرزقهم.

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ: نبی کریمﷺ نے فرمایا: تکلیف دہ بات سن کر اللہ سے زیادہ صبر کرنے والا کوئی نہیں ہے، کم بخت مشرک کہتے ہیں کہ اللہ اولاد رکھتا ہے اور پھر بھی وہ انہیں معاف کرتا ہے اور انہیں روزی دیتا ہے۔

فوائد و استنباطات: فضيلۃ الشیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ

سیدنا أبو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ، ان کا نام عبداللہ بن قیس ہے۔ یمن سے آئے تھے۔ حبشہ اور مدینہ کی طرف ہجرت کی تھی۔ اور خیبر میں رسول اللہﷺ سے ملاقات ہوئی۔ (اور ہجرت کے سفر میں سیدنا جعفر طیار رضی اللہ عنہ بھی ساتھ تھے)

فضیلت: سیدنا ابو موسی اشعری رضي اللہ عنہ

[عن أبي موسى رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال له: يا أبا موسى، لقد أوتيت مزمارا من مزامير آل داود]

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ: رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اے ابوموسیٰ! تجھے داؤد علیہ السلام جیسی بہترین آواز عطا کی گئی ہے۔ (بخاری:5048)

مکہ میں 42ھ کو فوت ہوئے۔

امام بخاری رحمہ اللہ کا استدلال یہ ہے:

ما أحد أصبر على أذى: تکلیف دہ چیز کو سن کر صبر کرنے والا اللہ رب العزت سے بڑھ کر کوئی نہیں۔ سب سے زيادہ اللہ رب العزت بندوں کی ان باتوں پہ صبر کرتا ہے جو تکلیف دہ اور شریعت سے بغاوت ہوتی ہیں۔ اور یہ تکلیف اللہ تک پہنچتی ہے لیکن اللہ تعالی کو نقصان قطعا نہیں ہوتا۔ (یہاں تاویل کی قطعا ضرورت نہیں بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہاں تکلیف اللہ تعالی کو نہیں اللہ کے اولیاء اور بندوں کو ہوتی ہے۔) اللہ تعالی کو تکلیف پہنچاتے ہیں، لیکن اللہ تعالی کو قطعا نقصان نہیں ہوتا۔ اللہ رب العزت ضرر سے پاک ہے۔

حدیث قدسی ہے: [يا عبادي: إنكم لن تبلغوا ضري، فتضروني ولن تبلغوا نفعي، فتنفعوني]

[میرے بندو! تم کبھی مجھے نقصان پہنچانے کی طاقت نہیں رکھو گے کہ مجھے نقصان پہنچا سکو، نہ کبھی مجھے فائدہ پہنچانے کے قابل ہو گے کہ مجھے فائدہ پہنچا سکو]۔ (صحیح المسلم:2577)

اللہ تعالی کا نام: الصبور صبر کرنے والا

اللہ تعالی کا نام: الحلیم (یعنی) مراد یہ ہے کہ بندے جب گناہ کرتے ہیں انہیں اللہ رب العزت جلدی سزا نہیں دیتا انہیں ڈھیل دیتا ہے۔ حالانکہ بندے گناہ کرے تو اللہ تعالی کی حجت ان پہ قائم ہو جاتی ہے۔

اور گناہ کرنے والا کیا ہے؟ (نبی علیہ السلام کا فرمان ہے): [إن الله يغار، وغيرة الله أن يأتي المؤمن ما حرم الله]

[کہ اللہ تعالیٰ کو غیرت آتی ہے اور اللہ تعالیٰ کو غیرت اس وقت آتی ہے جب بندہ مومن وہ کام کرے جسے اللہ نے حرام کیا ہے]

(صحیح البخاری:5223)

بعض لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف اولاد منسوب کرتے ہیں، نعوذ باللہ، حالانکہ یہ نہایت ہولناک اور خطرناک عقیدہ ہے۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ کے حلم اور صبر کو دیکھیے کہ وہ انہیں فوراً نہیں پکڑتا، بلکہ انہیں عافیت بھی دیتا ہے اور رزق بھی عطا فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف اولاد منسوب کرنا اتنا بڑا جرم ہے کہ اگر اس عقیدے کی سنگینی آسمانوں، زمین اور پہاڑوں پر ظاہر کر دی جائے تو وہ اس سے پھٹ پڑیں، زمین شق ہو جائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر گر پڑیں۔

اللہ رب العزت کا فرمان ہے: [وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحۡمٰنُ وَلَدًا]،[لَقَدۡ جِئۡتُمۡ شَیۡئًا اِدًّا]،[تَکَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرۡنَ مِنۡہُ وَ تَنۡشَقُّ الۡاَرۡضُ وَ تَخِرُّ الۡجِبَالُ ہَدًّا]،[اَنۡ دَعَوۡا لِلرَّحۡمٰنِ وَلَدًا]

[اور انھوں نے کہا رحمان نے کوئی اولاد بنا لی ہے]،[بلاشبہ یقینا تم ایک بہت بھاری بات کو آئے ہو]،[آسمان قریب ہیں کہ اس سے پھٹ پڑیں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ ڈھے کر گر پڑیں]،[کہ انھوں نے رحمان کے لیے کسی اولاد کا دعویٰ کیا]۔ (سورۃ مریم:88تا91)

اللہ رب العزت کے نام: ،،الرزاق،، کا اثبات

اللہ رب العزت کے نام: ،،المتین،، کا اثبات

ذو القوة: اس صفت کا اثبات، یہ رد ہے جہمیہ  کا جو ناموں کے منکر ہیں۔

اور حدیث میں معتزلہ کا رد ہے۔ کیوں کہ ،،أصبر،، میں ،،ذو القوة،، کا معنی ہے۔ (یعنی) وہ صبر پر قادر ہے۔اور المتین کا معنی اسکی قدرت سے ہٹ کر نہیں ہے۔

يَرْزُقُ: ،،الرَّزَّاقُ،، کے معنی میں ہے۔ صفت ،،یرزق،، کا اثبات

ذُو الْقُوَّةِ اور الْمَتِينُ سے صفتِ ،،أَصْبَرُ،، ثابت ہوئی۔

جہمیہ: ،،الرَّزَّاقُ،، کے منکر ہیں۔

معتزلہ: ،،الرَّزَّاقُ،، کے معنی اور صفت کے منکر ہیں۔

قرآن سے جہمية کا رد ہے اور حدیث سے معتزلہ کا رد ہے۔

اور ہمارا عقیدہ یہ ہوا کہ اللہ رب العزت ،،الرَّزَّاق،، ہے۔ (معنی) یہ ہوا کے روزی دیتا ہے۔ اور یہ معنی بھی ہے کہ وہ اکیلا ،،الرَّزَّاق،، ہے اور کوئی روزي دینے والا نہیں ہے۔