قبر نبوی کے پاس عبادت کے بجائے مسجد میں عبادت: صحابہ اور امام مالک کا مؤقف

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب الجواب الباہر فی زوار المقابر سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ شیخ عطا اللہ ثاقب نے کیا ہے۔

عبادت کے لیے صحابہ قبر پر نہیں مسجد میں جایا کرتے تھے

پس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نماز، دعا، ذکر اور اذکار کے لیے مساجد ہی کا رخ کرتے تھے جو صرف اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے تعمیر کی گئی تھیں۔ انبیاء و صالحین کی قبروں کی طرف جنہیں عبادت گاہ بنانے سے روکا گیا تھا، جانے کی کوشش بھی نہ کرتے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اسی طرح عمل کرتے رہے جس طرح وہ رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں کیا کرتے تھے۔

امام مالک کا مؤقف اور توثیق بالحدیث

علماء اسلام خصوصاً امام مالک کا یہ نقل کرنا اہل مدینہ مسجد نبوی میں داخل اور نکلتے وقت قبر مکرم کے پاس جانے کو مکروہ سمجھتے تھے خواہ ان کا ارادہ فقط درود و سلام ہی کا ہو۔ ان کے اس مسلک کی تائید مندرجہ ذیل دلائل و براہین سے ہوتی ہے۔
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يأتى قباء كل سبت راكبا وماشيا فيصلى فيه ركعتين
”رسول اللہ ہر ہفتہ کبھی پیدل اور کبھی سواری پر مسجد قبا تشریف لے جاتے اور وہاں دو رکعت نماز ادا کرتے۔“
(صحيح بخارى كتاب فضل الصلاة في مسجد مكة والمدينة : باب اتيان مسجد قباء ماشياء و راكبا حديث : 1194 ، صحيح مسلم كتاب الحج : باب فضل مسجد قباء و فضل الصلاة فيه حديث : 1399)
ابن عمر رضی اللہ عنہما کا معمول بھی یہی تھا۔
مندرجہ بالا صحیح حدیث اس پر شاہد ہے کہ رسول اللہ مسجد میں نماز جمعہ ادا فرمانے اور ہفتہ کے دن مسجد قباء تشریف لے جاتے اور دو رکعت نماز ادا فرماتے ۔ مسجد قباء اور مسجد نبوی دونوں کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے جس کی شہادت خود رب کریم نے دی:
لَا تَقُمْ فِيهِ أَبَدًا ۚ لَّمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَىٰ مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَن تَقُومَ فِيهِ ۚ فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَن يَتَطَهَّرُوا ۚ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ ‎﴿١٠٨﴾
”جو مسجد اول روز سے تقویٰ پر قائم کی گئی تھی وہی اس کے لیے زیادہ موزوں ہے کہ تم (عبادت کے لیے) کھڑے ہو۔ اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنا پسند کرتے ہیں اور اللہ کو پاکیزگی اختیار کرنے والے ہی پسند ہیں۔“
(9-التوبة:108)
کتب حدیث میں یہ روایت کئی طرق سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل قباء سے پوچھا کہ تم کون سا عمل کرتے ہو جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے تمہاری تعریف کی ہے؟ انہوں نے عرض کی کہ ہم پانی سے بھی استنجا کرتے ہیں۔ سنن ابی داؤد کی روایت کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
نزلت هذه الآية فى مسجد اهل قباء فيه رجال يحبون أن يتطهروا قال كانوا يستنجون بالماء فنزلت فيهم هذه الآية
”یہ آیت مسجد قباء والوں کے حق میں نازل ہوئی ہے کہ اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاکیزگی کو پسند کرتے ہیں۔ راوی کہتا ہے! کہ اہل قباء پانی سے بھی استنجا کرتے تھے۔ ان ہی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔“
(سنن ابی داؤد كتاب الطهارة : باب في الاستنجاء بالماء حديث : 44 ، سنن ترمذی كتاب تفسير القرآن : باب ومن سورة التوبة حديث : 3100 ، سنن ابن ماجه – كتاب الطهارة : باب الاستنجاء بالماء حديث : 357)
صحیحین میں سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
أنه سأل النبى صلى الله عليه وسلم عن المسجد الذى أسس على التقوى وهو فى بيت بعض أزواجه فأخذ كفا من حصى فضرب بالأرض ثم قال هو مسجدكم هذا لمسجد المدينة
”انہوں نے رسول اللہ سے اس مسجد کے بارے میں دریافت کیا جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی تھی جبکہ آپ اپنے کسی ایک گھر میں تشریف فرما تھے۔ آپ نے ایک مٹھی بھر کنکریاں اٹھا کر زمین پر ماریں اور فرمایا۔ وہ تمہاری یہی مسجد ہے۔ یعنی مسجد مدینہ۔“
(صحيح مسلم كتاب الحج باب بيان المسجد الذي اسس على التقوى حديث : 1398 ، عن ابي سعيد الخدري و لم اجده في الصحيحين عن سعد والله اعلم !)
ان روایات سے ثابت ہوا کہ ان دونوں مساجد کی بنیاد تقویٰ پر تھی۔ البتہ ان میں سے مسجد نبوی اس نام کی زیادہ مستحق ہے اور مسجد قباء کے بارے میں آیت مذکورہ نازل ہوئیں۔ کیوں کہ اسی مسجد کے پڑوس میں منافقین نے مسجد ضرار تعمیر کی تھی۔ جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی طرف سے نماز ادا کرنے سے روک دیا گیا تھا۔
مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ہر ہفتہ مسجد قباء تشریف لے جایا کرتے تھے۔ جسے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنا معمول بنا لیا تھا۔ یہ بھی یاد رکھئے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی جب تک مدینہ منورہ میں رہتے وہ ہر روز اور ہر ہفتہ قبر مکرم کے پاس نہ جاتے تھے۔ ہاں! جب کبھی سفر سے واپس تشریف لاتے تو قبر مکرم کے پاس جا کر سلام عرض کرتے تھے۔ اسی طرح اکثر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جب سفر سے واپس آتے تو پھر بھی قبر مکرم کے پاس نہ آتے۔ نہ سلام کے لیے نہ دعاء وغیرہ کے لئے۔ اور نہ ہی ان کی یہ عادت تھی کہ حجرہ مبارک سے باہر کھڑے رہیں، نہ اندر داخل ہونے کی کوشش کرتے جیسے ابن عمر رضی اللہ عنہما کا معمول تھا۔ اگر کبھی ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے کوئی سوال پوچھنا مقصود ہوتا تو پھر حجرہ مبارک میں چلے جاتے۔ اس موقع پر اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام عرض کرتے جیسے آپ کی زندگی میں کیا کرتے تھے۔