سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ،معاویہ بن ابی سفیانؓ اور اسامہ بن زیدؓ کے فضائل صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے فضائل

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے حق میں دو بار دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ مجھے قرآن کا فہم عطا فرمائے۔
سنن الترمذی ، کتاب المناقب، باب مناقب عبدالله بن عباس رضي الله عنهما، رقم: 3822 البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے سینہ مبارک سے لگایا اور فرمایا: ”اے اللہ! اسے حکمت سکھا دے۔“
صحیح بخاری ، کتاب فضائل اصحاب النبي ﷺ، باب ذکر ابن عباس رضی الله عنهما، رقم: 3756

◈ رسول اللہﷺ کے ساتھ تہجد اور نوافل میں شرکت:

یہ شوق عبادت اس قدر ترقی کر گیا تھا کہ چھوٹے چھوٹے بچوں کا دل بھی اس سے خالی نہ تھا۔ چنانچہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما عہد نبوت میں نہایت صغیر السن تھے لیکن اس شوق میں ایک رات اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں سوئے، آدھی رات ہوئی تو آپ نے اٹھ کر پہلے سورۃ آل عمران کی چند آیتیں تلاوت فرمائیں پھر وضو کر کے نماز شروع کی۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بھی ان اعمال کی پیروی کی اور آپ کے پہلو میں کھڑے ہو کر نماز ادا کی۔
صحیح بخاری ، ابواب الوتر، رقم: 992 .

◈ صبر و ثبات:

مردوں پر نوحہ و بکا کرنا، بال نوچنا، کپڑے پھاڑنا، مدتوں مرثیہ خوانی کرنا عرب قوم کا قومی شعار تھا، لیکن فیض نبوی نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو صبر و ثبات کا خوگر بنا دیا تھا۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ایک سفر میں تھے اسی حالت میں اپنے بھائی قثم بن عباس رضی اللہ عنہ کے انتقال کی خبر سنی، پہلے إنا لله پڑھا، پھر راستے سے ہٹ کر دو رکعت نماز ادا کی، نماز سے فارغ ہو کر اونٹ پر سوار ہوئے اور یہ آیت تلاوت کی:
﴿وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ۚ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلَّا عَلَى الْخَاشِعِينَ ‎﴾
(2-البقرة:45)
”(مصیبت میں) صبر اور نماز کا سہارا پکڑو، نماز عجز، خشوع و خضوع کرنے والوں کے علاوہ سب پر گراں ہے۔“
أسد الغابة ، تذكره قثم بن عباس رضی الله عنه.

سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کے فضائل

سیدنا عبد الرحمن بن ابی عمیرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاویہ کے حق میں دعا کی: ”اے اللہ! اسے ہدایت دینے والا، ہدایت یافتہ بنا دے اور لوگوں کو اس کے ذریعہ ہدایت نصیب فرما۔“
سنن ترمذی، کتاب المناقب، باب مناقب معاویه بن سفیان رضی الله عنهما ، رقم: 3842۔ سلسلة الصحيحة، رقم: 1969

◈ فضل و کمال:

علمی اعتبار سے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ تہی دامن نہ تھے۔ ابتدا سے لکھنے پڑھنے میں مہارت رکھتے تھے۔ اسی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کاتب وحی بنایا تھا۔
مذہبی علوم میں اتنا ادراک تھا کہ صاحب علم وافتاء صحابہ رضی اللہ عنہم میں شمار تھا۔
اعلام الموقعين : 13/1.

◈ خوف و خشیت الہی:

انہیں دنیا کی مختلف آزمائشوں میں مبتلا ہونا پڑا، ان کا دل خوف و خشیت الہی سے خالی نہ تھا۔ وہ مواخذہ قیامت کے خوف سے لرزہ براندام رہتے تھے اور اس کے عبرت آموز واقعات سن کر بہت زیادہ رویا کرتے تھے۔
فهرست ابن ندیم، ص: 32.

◈ امہات المؤمنین کی خدمت:

تمام خلفاء امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کی خدمت باعث سعادت سمجھتے تھے۔ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی اس سعادت سے محروم نہ رہے، وہ ایک ایک مشت ایک ایک لاکھ رقم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں پیش کرتے تھے۔
أسد الغابة : 387/4.

◈ حق پسندی :

اگر خود امراء و سلاطین میں حق پسندی کا مادہ موجود نہ ہو تو رعایا کی آزادی، نکتہ چینی اور حقوق طبعی بالکل بیکار ہے۔ لیکن صحابہ کرام کے دور میں خود خلفاء میں حق پسندی کا اس قدر مادہ موجود تھا کہ ہر جائز نکتہ چینی کے سامنے سرتسلیم خم کر دیتے تھے۔ ایک بار ابو مریم ازدی رضی اللہ عنہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دربار میں آئے، ان کو ان کا آنا ناگوار ہوا اور بولے کہ ”ہم تمہارے آنے سے خوش نہیں ہوئے۔“ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ جس کو مسلمانوں کا والی بنائے اگر وہ ان کی حاجتوں سے آنکھ بند کر کے پردہ میں بیٹھ جائے تو اللہ تعالیٰ بھی قیامت کے دن اس کی حاجتوں کے سامنے پردہ ڈال دے گا۔ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اس کا یہ اثر ہوا کہ لوگوں کی حاجت براری کے لیے ایک مستقل شخص مقرر کر دیا۔
سنن ابو داؤد، کتاب الخراج والإمارة ، رقم : 2948 – البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے ۔

سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے فضائل

سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری بڑھ گئی تو میں اور دوسرے لوگ مدینہ میں آئے۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، آپ اس وقت بات نہیں کر سکتے تھے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھ مبارک مجھ پر رکھتے اور پھر انہیں اٹھاتے تو میں جان گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے حق میں دعا فرما رہے ہیں۔
سنن ترمذی، کتاب المناقب، باب مناقب أسامه بن زید رضی الله عنهما ، رقم: 3817 البانی رحمہ اللہ نے اسے حسن کہا ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسامہ بن زید کی ناک صاف کرنے لگے۔ (جب وہ چھوٹےتھے ) تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: مجھے دیں میں صاف کر دیتی ہوں ، تو آپ نے فرمایا : ”اے عائشہ ! تو اسے محبت کر ، اس لیے کہ میں بھی اس سے محبت کرتا ہوں ۔“
سنن الترمذی ، أيضاً، رقم: 3818۔ البانی رحمہ اللہ نے اسے ”صحیح“ کہا ہے ۔

◈ سوموار اور جمعرات کے روزے:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں دنوں کے روزے رکھتے تھے اور فرماتے تھے کہ ”ان دونوں دنوں میں اللہ تعالیٰ کے سامنے بندوں کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں۔“ بعض صحابہ نے بھی اس کا التزام کر لیا تھا۔ چنانچہ ایک دن سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ وادی قریٰ کو گئے ، اور ان دنوں کے روزے رکھے، غلام نے کہا ، آپ تو بوڑھے ہیں، ان دونوں میں کیوں روزہ رکھتے ہیں؟ بولے: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کے روزے رکھا کرتے تھے ۔“
سنن ابو داؤد، کتاب الصوم، رقم: 2436 ـ البانی رحمہ اللہ نے اسے ”صحیح“ کہا ہے۔