سیدنا انسؓ، خالد بن ولیدؓ اور مصعب بن عمیرؓ کے فضائل صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے فضائل

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ہمارے پاس سے) گزرے تو میری والدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے آپ سے عام کی آواز سن کر عرض کیا: اللہ کے رسول ! میرے والدین آپ پر قربان ہوں، یہ میرا چھوٹا سا انس ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے تین دعائیں کیں:
ان دو کی قبولیت تو میں دنیا میں دیکھ چکا ہوں، اور تیسری کی آخرت میں اُمید رکھتا ہوں۔
سنن ترمذی، کتاب المناقب، باب مناقب انس بن مالك رضى الله عنه، رقم: 3827 البانی رحمہ اللہ نے اسے ”صحیح“ کہا ہے۔

◈ پابندی جماعت:

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عشاء کا انتظار اتنی دیر تک کرتے تھے کہ نیند کے مارے ان کی گردنیں جھک جاتی تھیں ۔
سنن ابو داؤد، کتاب الطهارة ، رقم: 200 ۔ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے ۔

◈ محبت رسول ﷺ:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو چیز محبوب ہوتی وہ آپ کی محبت کی وجہ سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی محبوب ہو جاتی۔ کدو آپ کو بہت مرغوب تھا، اس لیے سیدنا انس رضی اللہ عنہ بھی اس کو نہایت پسند فرماتے تھے ۔
سنن ترمذی ، كتاب الأطعمة ، رقم : 1850 – البانی رحمہ اللہ نے اسے "صحیح” کہا ہے۔

سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے فضائل

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اللہ کا اچھا بندہ ہے، اور اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے ۔“
سنن ترمذی، کتاب المناقب، باب مناقب خالد بن ولید رضی الله عنه، رقم: 3846۔ البانی رحمہ اللہ نے اسے "صحیح” کہا ہے۔

◈ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر فتح:

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ (جنگ موتہ ) سے زید، جعفر اور عبد اللہ بن رواحہ کی شہادت کی اطلاع آنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (مدینہ منورہ میں ) ان کی شہادت کی اطلاع دی تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پہلے زید بن حارثہ نے جھنڈا اٹھایا انھیں شہید کر دیا گیا۔ پھر جعفر نے جھنڈا لیا تو وہ بھی شہید ہو گئے ۔ پھر عبد اللہ بن رواحہ نے جھنڈا لیا وہ بھی شہید ہو گئے ۔اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے (پھر فرمایا ) کہ پھر اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ( یعنی خالد بن ولید ) نے جھنڈا پکڑ لیا پھر ان کے ہاتھوں جنگ فتح ہو گئی ۔
صحیح بخاری، کتاب المناقب، رقم : 3757.

سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے فضائل

جب سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ فوت ( شہید ) ہوئے تو انہوں نے صرف ایک چادر چھوڑی ۔ صحابہ (کفن دیتے وقت ) جب اس چادر کے ساتھ سر ڈھانپتے تو پاؤں ننگے ہو جاتے اور جب پاؤں ڈھانپتے تو سر ننگا ہو جاتا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کا سر ڈھانپ دو، اور پاؤں پر اذخر گھاس رکھ دو ۔“
سنن ترمذی، کتاب المناقب، باب مناقب مصعب بن عمیر رضى الله عنه، رقم: 3853۔ البانی رحمہ اللہ نے اسے ”صحیح“ کہا ہے ۔

◈ لباس:

سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ جب تک اسلام نہیں لائے تھے ناز و نعم کے ساتھ زندگی بسر کرتے تھے اور نہایت عمدہ جوڑے پہنتے تھے۔
الاصابة، تذكرة مصعب بن عمير رضى الله عنه .

◈ غربت و افلاس :

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نہایت فقر و فاقہ اور غربت و افلاس کی زندگی بسر کرتے تھے۔ سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ غزوہ احد میں شہید ہوئے تو کفن تک میسر نہ تھا، بدن پر صرف ایک چادر تھی اس کا کفن بنایا گیا ، لیکن وہ اس قدر مختصر تھی کہ سر ڈھکتے تھے تو پاؤں کھل جاتا تھا، پاؤں چھپاتے تھے تو سر پر کچھ نہیں رہتا تھا، بالآخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چادر سے سر کو اور پاؤں کو اذخر گھاس سے چھپا دو ۔
صحیح بخاری ، کتاب المغازی، رقم: 4045 4047 .