کیا کائنات خود بہ خود وجود میں آئی ہے؟ ملحدین کو جواب

Read in English
فونٹ سائز:
یہ تحریر علمائے حرمین کے فتووں پر مشتمل کتاب 500 سوال و جواب برائے عقیدہ سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ فضیلۃ الشیخ مولانا محمد یاسر عرفات حفظہ اللہ نے کیا ہے۔

20- کیا کائنات خود بہ خود وجود میں آئی ہے؟

سوال:

اسلام کے متعلق ملحدین کے اعتراضات کا جواب اور ان کے اس عقیدے کا جواب کہ یہ کائنات بذات خود وجود میں آئی ہے اور مختلف تبدیلیوں کے بعد موجودہ شکل اختیار کر گئی؟

جواب:

اس کا جواب ہم اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے ذریعے سے دیتے ہیں جو سورت طور میں ہے:
أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ [الطور: 35]
”یا وہ کسی چیز کے بغیر ہی پیدا ہوگئے ہیں، یا وہ (خود) پیدا کرنے والے ہیں؟“
ایسے لوگوں سے ہمارا پہلا سوال یہ ہے کہ وہ عدم سے وجود میں آئے ہیں؟ یا وہ شروع ہی سے موجود تھے؟ یقیناً ان کا جواب یہ ہوگا کہ پہلے تو ہم نہیں تھے، ہم بعد میں پیدا ہوئے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان بھی ہے:
هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئًا مَذْكُورًا [الدهر: 1]
”کیا انسان پر زمانے میں سے کوئی ایسا وقت گزرا ہے کہ وہ کوئی ایسی چیز نہیں تھا جس کا (کہیں) ذکر ہوا ہو؟“
اگر ان کا یہ جواب ہو کہ ہم عدم سے وجود میں آئے ہیں تو ہمارا دوسرا سوال یہ ہے کہ تمھیں کس نے پیدا کیا؟ تمھارے ماں باپ تمھارے خالق ہیں یا تم خود بہ خود ہی پیدا ہوئے؟ ان کا جواب یہ ہوگا کہ ہمارے خالق ماں باپ نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
أَفَرَأَيْتُمْ مَا تُمْنُونَ أَأَنْتُمْ تَخْلُقُونَهُ أَمْ نَحْنُ الْخَالِقُونَ نَحْنُ قَدَّرْنَا بَيْنَكُمُ الْمَوْتَ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِينَ عَلَى أَنْ نُبَدِّلَ أَمْثَالَكُمْ وَنُنْشِئَكُمْ فِي مَا لَا تَعْلَمُونَ [الواقعة: 58 تا 61]
”تو کیا تم نے دیکھا وہ (نطفہ) جو تم ٹپکاتے ہو؟ کیا تم اسے پیدا کرتے ہو یا ہم ہی پیدا کرنے والے ہیں؟ ہم ہی نے تمھارے درمیان موت کا وقت مقرر کیا ہے اور ہم ہرگز عاجز نہیں ہیں۔ اس بات سے کہ تمھاری جگہ تمھارے جیسے اور لوگ لے آئیں اور نئے سرے سے تمھیں ایسی صورت میں پیدا کر دیں جو تم نہیں جانتے۔“
اگر وہ یہ جواب دیں کہ ہم بغیر خالق ہی کے پیدا ہوئے ہیں تو ہماری طرف سے جواب یہ ہوگا کہ یہ عقل کے خلاف ہے، کیونکہ ہر چیز کا کوئی نہ کوئی موجد ہوتا ہے جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ یقیناً ان کا خالق ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو خود قائم بالذات ہے۔ زمین و آسمان کے متعلق بھی یہی سوال ہے کہ ان کا خالق کون ہے؟ ان کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ زمین و آسمان اپنی اس حالت میں اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے پانی کی شکل میں موجود تھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ [هود: 7]
”وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور اس کا عرش پانی پر تھا۔“
لہٰذا اللہ تعالیٰ نے پانی سے زمین و آسمان کو پیدا فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا [الأنبياء: 30]
”اور کیا جن لوگوں نے کفر کیا، یہ نہیں دیکھا کہ بے شک سارے آسمان اور زمین آپس میں ملے ہوئے تھے تو ہم نے انھیں پھاڑ کر الگ کیا۔“
لہٰذا ان ملحدین (بے دین) کو ہماری طرف سے یہ جواب ہے کہ اگر وہ اپنے موقف کو تبدیل نہ کریں اور اپنے غلط عقیدے پر قائم رہیں تو یہ تکبر ہی کا نتیجہ ہے اور ان پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان صادق آتا ہے جو فرعون اور اس کے حواریوں کے متعلق ارشاد فرمایا:
وَجَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَعُلُوًّا [النمل: 14]
”اور انھوں نے ظلم اور تکبر کی وجہ سے ان کا انکار کر دیا، حالانکہ ان کے دل ان کا اچھی طرح یقین کر چکے تھے۔“ (ابن عثیمین: نور علی الدرب: 8/4)