عقیقہ کے بجائے رقم صدقہ کرنا
کچھ لوگ عقیقہ کرنے کے بجائے اتنی رقم صدقہ کر دیتے ہیں، لیکن احادیثِ عقیقہ کی لغوی و شرعی تعریف اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کی رو سے عقیقہ کا جانور ذبح کرنا لازم ہے، رقم صدقہ کرنے سے عقیقہ نہیں ہو گا۔ ابن قدامہ حنبلی رحمہ اللہ نے بیان کرتے ہیں کہ عقیقہ کی رقم صدقہ کرنے کے بجائے عقیقہ کرنا افضل ہے۔ امام احمد رحمہ اللہ نے اس پر نص بیان کی ہے اور وہ کہتے ہیں: جب عقیقہ کرنے والے کے پاس عقیقہ کرنے کی گنجائش نہ ہو اور وہ قرض لے کر عقیقہ کرے تو مجھے قوی امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے احیائے سنت کے عوض بہتر نعم البدل دے گا۔ ابن منذر رحمہ اللہ کا قول ہے کہ امام احمد رحمہ اللہ کا قول مبنی بر حق ہے، کیونکہ سنت کا احیاء اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع افضل ہے، نیز عقیقہ کے متعلق روایات میں جتنی تاکید آئی ہے، دیگر مسائل میں اتنی تاکید وارد نہیں ہوئی۔ پھر اس ذبیحہ کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم بھی دیا ہے سو ولیمہ اور قربانی کی طرح عقیقہ ذبح کرنے کا اہتمام اولیٰ و افضل ہے۔
المغنى مع الشرح الكبير : 121/11.
عقیقہ میں جانور کے عوض گوشت دینا:
عقیقہ میں جانور ذبح کرنے کے بجائے اتنی مقدار میں گوشت تقسیم کرنے سے عقیقہ کی فرضیت ساقط نہیں ہوتی، کیونکہ عقیقہ میں لڑکے کی طرف سے دو اور لڑکی کی طرف سے ایک جانور ذبح کرنے کا حکم ہے، گوشت تقسیم کرنے سے حکم کی تعمیل نہیں ہوتی، کیونکہ اس سے عقیقہ کا فرض ادا نہیں ہوتا۔
عبد اللہ محدث روپڑی رحمہ اللہ کا فتویٰ:
سوال: عقیقہ کے لیے جانور ذبح کرنا ضروری ہے یا اس کے عوض گوشت بھی کافی ہے؟
جواب: حدیث میں لڑکے کی طرف سے دو جانور اور لڑکی کی طرف سے ایک جانور کا ذکر ہے، اس لیے گوشت کفایت نہیں کر سکتا، کیونکہ گوشت جانور نہیں ہے۔
فتاوى اهل حديث : 549/2۔