عقیدہ اور دینی معاملات میں اہل سنت کے اصول

فونٹ سائز:
یہ تحریر علمائے حرمین کے فتووں پر مشتمل کتاب 500 سوال و جواب برائے عقیدہ سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ فضیلۃ الشیخ مولانا محمد یاسر عرفات حفظہ اللہ نے کیا ہے۔

1- عقیدہ اور دینی معاملات میں اہل سنت کے اصول

عقیدہ اور دینی امور میں اہل سنت کا اصول کتاب اللہ اور سنت رسول اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آنے والے ہدایت یافتہ خلفاء کی سنت کی مکمل اتباع ہے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:
قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ [آل عمران: 31]
”کہہ دے اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمھیں تمھارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔“
نیز فرمایا:
مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ وَمَنْ تَوَلَّى فَمَا أَرْسَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا [النساء: 80]
”جو رسول کی فرماں برداری کرے تو بے شک اس نے اللہ کی فرماں برداری کی اور جس نے منہ موڑا تو ہم نے تجھے ان پر کوئی نگہبان بنا کر نہیں بھیجا۔“
وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا [الحشر: 7]
”اور رسول تمھیں جو کچھ دے تو وہ لے لو اور جس سے تمھیں روک دے تو رک جاؤ۔“
اس آیت کا اگرچہ ظاہراً تعلق مال غنیمت سے ہے لیکن شرعی معاملات کے ساتھ بالاولیٰ اس کا تعلق ہے، اور اس وجہ سے بھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمایا کرتے تھے:
« أَمَّا بَعْدُ: فَإِنَّ خَيْرَ الْحَدِيْثِ كِتَابُ اللّٰهِ، وَخَيْرَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم وَشَرَّ الْأُمُوْرِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلُّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ، وَكُلُّ ضَلَالَةٍ فِيْ النَّارِ » (سنن النسائي، رقم الحديث [1578])
”حمد و ثنا کے بعد: سب سے بہترین کتاب اللہ کی کتاب (قرآن مجید ہے) اور سب سے بہترین طریقہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا ہے اور سب سے برے کام دین میں نئے کام ہیں اور ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے۔“
اس کی ایک اور دلیل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بھی ہے:
« عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِيْ، وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِيْنَ الْمَهْدِيِّيْنَ مِنْ بَعْدِيْ، تَمَسَّكُوْا بِهَا، وَعَضُّوْا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ، وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُوْرِ، فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ » (سنن أبي داود، رقم الحديث [4607])
”میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفا کی سنت پر انتہائی مضبوطی اور پختہ انداز سے عمل کرو اور دین میں نئے کام ایجاد کرنے سے پرہیز کرو، کیونکہ ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔“
خلاصہ یہ ہے کہ اہل سنت کا طریقہ اور منہج کتاب و سنت اور خلفاء راشدین کی سنت کی مکمل اتباع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہل سنت کا شیوہ دین کی پیروی اور تفرقہ بازی سے مکمل اجتناب ہے۔ اس معاملے میں وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو مدنظر رکھتے ہیں:
شَرَعَ لَكُمْ مِنَ الدِّينِ مَا وَصَّى بِهِ نُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ [الشوریٰ: 13]
”اس نے تمھارے لیے دین کا وہی طریقہ مقرر کیا جس کا تاکیدی حکم اس نے نوح کو دیا اور جس کی وحی ہم نے تیری طرف کی اور جس کا تاکیدی حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا، یہ کہ اس دین کو قائم رکھو اور اس میں جدا جدا نہ ہو جاؤ۔“
اگرچہ اہل سنت میں کچھ اختلافات موجود ہیں، لیکن وہ اجتہاد کی بنا پر ہیں، کوئی ذاتی اختلاف نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت، مودت اور مروت بدرجہ اتم موجود ہے۔ (ابن عثیمین: مجموع الفتاویٰ والرسائل: 6)