سیدنا حسن رضی اللہ عنہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی نظر میں:
علی مرزا صاحب اپنی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے یہاں بھی صرف منفی پہلو کو ہی بیان کر کے جناب معاویہ رضی اللہ عنہ پر تنقید کرتے ہیں، جبکہ ہم نے دلائل کی روشنی میں ثابت کیا ہے کہ وہ روایت ہی ضعیف ہے۔ اب تصویر کا دوسرا رخ دیکھیے، اور اس بات کا فیصلہ کیجیے کہ جناب معاویہ اور اہل بیت رضی اللہ عنہم کے متعلق جو تاثر مرزا صاحب دیتے ہیں وہ کس حد تک درست ہے:
عَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم يَمُصُّ لِسَانَهُ أَوْ قَالَ شَفَتَهُ، يَعْنِي الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ صَلَوَاتُ اللهِ عَلَيْهِ، وَإِنَّهُ لَنْ يُعَذَّبَ لِسَانٌ، أَوْ شَفَتَانِ مَصَّهُمَا رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم۔
”سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ نے ارشاد فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک نے ان کی مبارک زبان یا کہا (راوی کو شک ہے کہ) ان کے ہونٹ مبارک کو چھوا ہے، یعنی حسن بن علی صلوات اللہ علیہ کو، اور اس زبان یا ہونٹوں کو ہرگز عذاب پہنچ ہی نہیں سکتا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوا ہو۔“ (مسند احمد:16848)
اس کی سند صحیح ہے، علامہ شعیب الارنؤوط نے مسند احمد کی تخریج میں اور علامہ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری صاحب نے دفاع صحابہ:ص 432 میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔
اب یہ بات کون فرما رہے ہیں؟ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ! جن کے متعلق مرزا صاحب یہ تاثر دیتے رہتے ہیں کہ نعوذ باللہ وہ اہل بیت کے دشمن ہیں، تو بتائیں کوئی شخص بھلا اپنے دشمن کے فضائل بیان کرے گا؟ اور اس کا تذکرہ بالخیر کرے گا؟ ہم کہتے ہیں جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہو۔ سوال ہے کہ آخر کیوں نہیں انجینئر صاحب یہ روایات عوام الناس کو بیان کرتے؟ جبکہ حق چھپانے کا جھوٹا الزام بھی الٹا آپ ہم ہی پر لگاتے ہیں۔ صاف واضح ہے کہ حق گوئی محض فراڈ ہے۔ آپ کا مقصد صرف اور صرف طعن اور منفی تاثر پھیلانا، اور رافضیت کو promote کرنا ہے، کہ کسی طریقے بس صحابہ اور اہل بیت کو دشمن ثابت کرنا ہے۔
حالانکہ صاف واضح ہو جاتا ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی اہل بیت اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے کوئی دشمنی نہ تھی، بلکہ وہ ان کے لیے محبت بھرے جذبات رکھتے تھے۔ اور اہل سنت کا یہی منہج ہے۔
امام ابو بکر محمد بن الحسین الآجری رحمہ اللہ اہل سنت کے ائمہ میں سے ہیں، آپ رحمہ اللہ نے صحابہ کرام و اہل بیت رضی اللہ عنہم کے دفاع اور اہل سنت کے عقائد پر مشتمل کتاب ”الشریعۃ“ لکھی۔ اس میں آپ رحمہ اللہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل و محاسن اور ذکر خیر کے ذیل میں ایک باب یوں قائم کرتے ہیں:
بَابُ ذِكْرِ تَعْظِيمِ مُعَاوِيَةَ لِأَهْلِ بَيْتِ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم وَإِكْرَامِهِ إِيَّاهُمْ۔
”سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کی تعظیم و تکریم کرنے کا بیان۔“
اس میں ایک روایت آپ رحمہ اللہ یہ بھی لائے ہیں:
عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: لَمَّا قُتِلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَجَاءَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا إِلَى مُعَاوِيَةَ۔ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: لَوْ لَمْ يَكُنْ لَكَ فَضْلٌ عَلَى يَزِيدَ إِلَّا أَنَّ أُمَّكَ امْرَأَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ وَأُمَّهُ امْرَأَةٌ مِنْ كَلْبٍ لَكَانَ لَكَ عَلَيْهِ فَضْلٌ فَكَيْفَ وَأُمُّكَ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم۔
”امام زہری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ کو تو (میرے بیٹے) یزید پر یہی فضیلت کافی تھی کہ آپ کی والدہ قریشی ہیں اور اس کی والدہ بنو کلب کی ایک عورت ہے، لیکن (اس سے بھی کئی گنا بڑی فضیلت تو یہ ہے کہ) آپ کی والدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا ہیں۔“ (الشریعۃ للآجری:1961)
مولانا ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ نے اس کی سند کو حسن قرار دیا۔ (مقام صحابہ:153)
اور پھر امام ابو بکر الآجری رحمہ اللہ ایک شہادت اہل بیت میں سے امام ابو جعفر الباقر رحمہ اللہ سے بسند صحیح لے کر آئے کہ آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
أَنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَانَا يَقْبَلَانِ جَوَائِزَ مُعَاوِيَةَ رَحِمَهُ اللهُ۔
”سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کے وظائف قبول کیا کرتے تھے۔“ (الشریعۃ للآجری:1963)
کیا یہ روایات اہل سنت کی کتب میں موجود نہیں؟ کیا ان کا بیان حق گوئی نہیں؟ پھر آخر کیوں یہ روایات بیان نہیں کی جاتیں؟
مرزا صاحب بھی اس بات کو تسلیم کرنے پر مجبور ہیں کہ جناب معاویہ رضی اللہ عنہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے حسن سلوک فرمایا کرتے۔ چنانچہ آپ ایک ویڈیو میں فرماتے ہیں:
”امام حسن (رضی اللہ عنہ) کے ساتھ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پوری زندگی حسنِ سلوک کرتے رہے ہیں………… لیکن over all حسن و حسین (رضی اللہ عنہما) کے ساتھ attitude حضرت معاویہ (رضی اللہ عنہ) کا بہت اچھا تھا۔“
Hard Talk with Engineer Muhammad Ali Mirza ! 30-Questions Of Dr Ahmed Naseer ! 1:20:33
تو حق گو صاحب! کبھی وہ حسن سلوک والی روایات بھی بیان کر دیا کریں! ہمیشہ صرف منفی پہلو کو ہی کیوں اچھالا جاتا ہے؟ اور لوگوں کے دلوں میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی نفرت کیوں بھری جا رہی ہے؟ اور کیوں ہر وقت یہی تاثر دیا جاتا ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اہل بیت سے عداوت اور دشمنی رکھتے تھے؟
ان کی اس چال بازی کو سمجھنا چاہیے، ان کا مقصد حق گوئی بالکل بھی نہیں ہے۔ آپ کے اسی بیان میں آپ کے ان تمام اشکالات اور اعتراضات کا جواب ہے جو اس سلسلے میں آپ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر لگاتے ہیں، اگر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ جناب حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ ساری زندگی حسنِ سلوک کرتے رہے تو پھر ان کی وفات پر خوش کیسے ہو سکتے ہیں؟ یا (نعوذ باللہ) ان کے قتل میں کس طرح شریک ہو سکتے ہیں؟