قبولیتِ قربانی کی شرطیں
قبولیتِ قربانی کی بنیادی شرطیں دو ہیں :
① تقویٰ و للهیت :
تقویٰ اور پرہیز گاری قربانی کی قبولیت کی اہم شرط ہے اور قربانی کی قبولیت میں تقویٰ اور رضائے الہی کا حصول بنیادی حیثیت کا حامل ہے اور اگر قربانی میں شہرت اور دکھلاوا مقصود ہو تو ایسی قربانی رد کر دی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ سیدنا آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں کی قربانی کا احوال بیان کرتے ہیں :
﴿وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ ابْنَيْ آدَمَ بِالْحَقِّ إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ أَحَدِهِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الْآخَرِ قَالَ لَأَقْتُلَنَّكَ ۖ قَالَ إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ﴾
”اور ان پر آدم کے دو بیٹوں کی خبر کی تلاوت حق کے ساتھ کر، جب ان دونوں نے کچھ قربانی پیش کی تو ان میں سے ایک کی قبول کر لی گئی اور دوسرے کی قبول نہ کی گئی۔ اس نے کہا : میں تجھے ضرور ہی قتل کر دوں گا۔ اس نے کہا : بے شک اللہ متقی لوگوں ہی سے قبول کرتا ہے۔“
المائدة : 27
یہ آیت واضح ہے کہ قربانی کی قبولیت میں تقویٰ اہم شرط ہے اور اگر تقویٰ کا حصول مطلوب نہ ہوا تو قربانی قبول نہیں ہو گی۔
② رزقِ حلال :
جس شخص کی آرزو ہے کہ اس کی قربانی کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شرفِ قبولیت حاصل ہو، اس پر لازم ہے کہ اس کے ذرائع آمدن حلال کمائی پر مشتمل ہوں اور قربانی کا جانور حلال کمائی سے خریدا گیا ہو، حرام کھانے والے اور حلال مال میں حرام کی آمیزش کرنے والے کی قربانی قبول نہیں ہوتی، اس کی دلیل درج ذیل حدیث ہے :
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
أيها الناس، إن الله طيب لا يقبل إلا طيبا، و إن الله أمر المؤمنين بما أمر به المرسلين، فقال : ﴿يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا ۖ إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ﴾ (المؤمنون : 51) و قال : ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ﴾ (البقرة : 172) ثم ذكر الرجل ، يطيل السفر، أشعث أغبر ، يمد يديه إلى السماء، يا رب ! يا رب ! و مطعمه حرام، و مشربه حرام، و ملبسه حرام، وغذي بالحرام، فأنى يستجاب لذلك
”لوگو ! بلاشبہ اللہ پاک ہے اور وہ پاکیزہ مال ہی قبول کرتا ہے اور بے شک اللہ تعالیٰ نے مؤمنوں کو وہی حکم دیا جو انبیاء و رسل کو حکم ارشاد کیا، فرمایا : ”اے رسولو ! پاکیزہ چیزوں سے کھاؤ اور نیک عمل کرو، یقیناً جو تم کرتے ہو، میں اسے خوب جاننے والا ہوں۔“ اور اہل ایمان سے کہا : ”اے مومنو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں رزق دی ہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا : ”ایک شخص لمبا سفر کرتا ہے، اس کے بال پراگندہ اور قدم غبار آلود ہیں، وہ اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف بلند کر کے یا رب! یا رب ! پکارتا ہے، جب کہ اس کا کھانا حرام، اس کا پینا حرام اور اس کا لباس حرام ہے اور اسے حرام غذا دی گئی ، پس ایسے شخص کی دعا کیونکر قبول ہو گی ؟“
صحیح مسلم كتاب الزكاة، باب قبول الصدقة من الكسب الطيب : 1015 – جامع ترمذى كتاب التفسير باب و من سورة البقرة : 2989 – مسند أحمد : 328/2۔
فوائد :
① اس حدیث میں حلال مال سے خرچ کرنے کی ترغیب اور حرام مال سے خرچ کرنے کی ممانعت ہے۔
شرح النووى : 99/7 – تحفة الأحوذى : 229/8۔
② قربانی اور زکاۃ و صدقات کی قبولیت کے لیے رزقِ حلال شرط ہے اور حرام مال سے دی گئی قربانی اور زکاۃ و صدقات بارگاہِ الہی میں قبول نہیں ہوتے۔