توحید کی پہچان

Read in English
فونٹ سائز:
یہ تحریر علمائے حرمین کے فتووں پر مشتمل کتاب 500 سوال و جواب برائے عقیدہ سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ فضیلۃ الشیخ مولانا محمد یاسر عرفات حفظہ اللہ نے کیا ہے۔

17- توحید کی پہچان

ایک مسلمان نے اگر توحید کو جاننا ہو تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس انداز سے کرے کہ اس میں ریا کاری کا شائبہ تک نہ ہو، خالص اللہ کی عبادت کرے۔ یہ توحید عبادت کا مسئلہ ہے جسے توحید عبودیت کہا جاتا ہے۔ اس کی پہچان یہ ہے کہ بندے کا پورا اعتماد اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہو، اللہ کے علاوہ کسی سے مدد طلب نہ کرے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا زاد عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا:
« يَا غُلَامُ! إِنِّيْ أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ: اِحْفَظِ اللّٰهَ يَحْفَظْكَ، اِحْفَظِ اللّٰهَ تَجِدْهُ تُجَاهَكَ، إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللّٰهَ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللّٰهِ، وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّةَ لَوِ اجْتَمَعُوْا عَلٰى أَنْ يَّنْفَعُوْكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَنْفَعُوْكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللّٰهُ لَكَ، وَلَوِ اجْتَمَعُوْا عَلٰى أَنْ يَّضُرُّوْكَ بِشَيْءٍ لَّمْ يَضُرُّوْكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللّٰهُ عَلَيْكَ »
”اے لڑکے! میں آپ کو کچھ کلمات سکھائے دیتا ہوں: اللہ تعالیٰ پر بھروسا کر، وہ تیری حفاظت کرے گا اور تو اللہ کو اپنے سامنے پائے گا، جب مانگنے کی ضرورت پڑے تو اللہ تعالیٰ سے سوال کر اور اگر مدد کی ضرورت پڑے تو اسی سے مدد مانگ اور یہ بات تجھے معلوم ہونی چاہیے کہ اگر ساری امت جمع ہو کر تجھے کوئی فائدہ پہنچانا چاہے تو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق تیری قسمت میں جو لکھا ہے وہی تجھے حاصل ہوگا۔ اور اگر سارے جمع ہو کر تیرا کوئی نقصان کرنا چاہیں تو نہیں کر سکتے مگر جو اللہ تعالیٰ نے تیری قسمت میں لکھ دیا ہے۔“
انسان کو ہر وقت دعا کرتے رہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اسے حق اور توحید پر ہمیشہ ثابت قدم رکھے۔ لوگوں کی کثیر تعداد ایسی ہے جن کے پاس توحید کی اصل تو موجود ہوتی ہے، مگر اس کے ساتھ ایسی چیزیں بھی ہوتی ہیں جن کی وجہ سے توحید میں نقص واقع ہو جاتا ہے۔
اس کی معروف ترین مثال یہ ہے کہ لوگ سارے کا سارا اعتماد اسباب پر کرتے ہیں۔ یہ بات طے شدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے لیے کوئی نہ کوئی سبب مقرر فرمایا ہے۔ بیماری سے شفایاب ہونے کے اسباب مقرر فرمائے ہیں۔ اسی طرح جہالت و لاعلمی سے بچنے کے لیے اور اولاد کو پانے کے لیے اسباب متعین فرمائے ہیں۔ یہی معاملہ تمام اشیاء کا ہے، لیکن کچھ لوگ مکمل اعتماد اسباب پر کرتے ہوئے یوں خیال کرتے ہیں کہ بیمار ہونے کی صورت میں شفا ہسپتالوں اور ڈاکٹروں سے ملتی ہے۔ یہ بات تو اسے یاد ہی نہیں رہتی کہ ہسپتال اور ڈاکٹر تو صرف ذریعہ ہیں، کبھی ان سے فائدہ حاصل ہو جاتا ہے اور کبھی نہیں۔ اگر فائدہ حاصل ہو اور یقینی صحت نصیب ہو جائے تو یہ اللہ کا فضل و احسان ہے اور اگر فائدہ حاصل نہ ہو تو یہ عین اس کا انصاف ہے، لہٰذا ہر انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اسباب پر غور و فکر کرنے سے پہلے مسبب الاسباب کی طرف ضرور توجہ کرے۔
اس بات کا انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اسباب ضرور اثر انداز ہوتے ہیں، لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی رضا پر موقوف ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے جادوگروں کے متعلق ارشاد فرمایا ہے:
فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ وَمَا هُمْ بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ [البقرة: 102] ”پھر وہ ان دونوں سے وہ چیز سیکھتے جس کے ساتھ وہ مرد اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی ڈال دیتے اور وہ اس کے ساتھ ہرگز کسی کو نقصان پہنچانے والے نہ تھے مگر اللہ کے اذن کے ساتھ۔“
خلاصہ کلام یہ ہے کہ توحید اس بات کا نام ہے کہ انسان کا دلی تعلق اللہ رب العالمین کے ساتھ اس طرح مضبوط ہو کہ وہ اس کی رحمت کا امید وار بھی ہو اور اس کے عذاب سے ڈرنے والا بھی ہو اور عبادت بھی خالصتاً صرف اللہ تعالیٰ ہی کی کرتا ہو۔ (ابن عثیمین: نور علی الدرب: 15/1)