مشرک، کتابیہ اور غیر مسلم سے نکاح کے احکام قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی کتاب اسلام میں حلال و حرام سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد طاھر نقاش صاحب نے کیا ہے۔

مشرک عورتیں

مشرک عورتوں سے بھی نکاح حرام ہے۔ مشرکہ یعنی بت پرست عورت، مثلا عرب کی مشرک عورتیں اور ان جیسی دوسری عورتیں۔
ارشاد باری تعالی ہے :
وَلَا تَنكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتَّىٰ يُؤْمِنَّ ۚ وَلَأَمَةٌ مُّؤْمِنَةٌ خَيْرٌ مِّن مُّشْرِكَةٍ وَلَوْ أَعْجَبَتْكُمْ ۗ وَلَا تُنكِحُوا الْمُشْرِكِينَ حَتَّىٰ يُؤْمِنُوا ۚ وَلَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَيْرٌ مِّن مُّشْرِكٍ وَلَوْ أَعْجَبَكُمْ ۗ أُولَٰئِكَ يَدْعُونَ إِلَى النَّارِ ۖ وَاللَّهُ يَدْعُو إِلَى الْجَنَّةِ وَالْمَغْفِرَةِ بِإِذْنِهِ
”اور مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک کہ وہ ایمان نہ لائیں۔ ایک مؤمن لونڈی ایک آزاد مشرکہ سے بہتر ہے اگر چہ تمہیں بھلی معلوم ہو۔ اور اپنی عورتیں مشرکوں کے نکاح میں نہ دو جب تک کہ وہ ایمان نہ لائیں۔ ایک مؤمن غلام ایک آزاد مشرک مرد سے بہتر ہے اگر چہ وہ تمہیں بھلا لگے۔ یہ لوگ آگ کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ اپنے حکم سے تمہیں جنت اور مغفرت (بخشش) کی طرف بلاتا ہے۔“
(البقرة : 221)
اس آیت نے واضح طور سے بیان کر دیا کہ مسلمان عورت کا نکاح مشرک مرد سے جائز نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دو ادیان کے درمیان اختلافات کی وسیع خلیج حائل ہے۔
ایک گروہ جنت کی طرف بلاتا ہے اور دوسرا آگ کی طرف۔
یہ اللہ ، رسالت اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اور وہ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتا ہے، نبوت کا انکار کرتا اور آخرت کا منکر ہے۔ رشتہ ازدواج تو باعث سکون اور ذریعہ مودت ہے مگر یہ دونوں سرے جن کے درمیان کافی فاصلہ ہے، کس طرح ایک دوسرے سے مل سکتے ہیں؟

کتابیہ سے نکاح

یہودی اور نصرانی کتابیہ سے نکاح ان کے اہل کتاب ہونے کی بنا پر قرآن نے جائز ٹھہرایا ہے۔ اور ان کے ساتھ خصوصی معاملہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اگرچہ انہوں نے اپنے دین میں تحریف کی ہے لیکن بہر حال وہ آسمانی مذہب کے حامل ہیں۔ اسلام نے جس طرح ان کا ذبیحہ جائز قرار دیا ہے، اسی طرح ان کی عورتوں سے رشتہ ازدواج قائم کرنا بھی جائز ٹھہرایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ
”جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی ان کی پاکدامن عورتیں تمہارے لیے حلال ہیں۔“
(المائدة : 5)
اسلامی رواداری کی یہ ایک نادر مثال ہے جو شاید ہی دیگر مذاہب وملل میں مل سکے گی۔ اسلام نے اہل کتاب کو کافر اور گمراہ قرار دینے کے باوجود مسلمان کے لیے جائز کر دیا ہے کہ کتابیہ اس کی بیوی اور اس کے گھر کی مالکہ ہو جس سے وہ سکون حاصل کر سکتا ہے، جو اس کی راز دار بن سکتی ہے اور جو اس کی اولاد کی ماں ہو سکتی ہے۔ اسلام نے اس کی اجازت دی جبکہ زوجیت کے تعلق کے بارے میں قرآن میں ارشاد ہوا ہے :
وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً
”اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں، تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان مودت و رحمت پیدا کی۔“
(الروم: 21)
یہاں ہم اس بات پر متنبہ کرنا ضروری خیال کرتے ہیں کہ دیندار مسلم خاتون جو دین سے گہرا لگاؤ رکھتی ہو، ایک مسلمان کے لیے اس مسلمان عورت سے بہتر ہے جس نے اسلام کو محض وراثت میں پایا ہو۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تعلیم دی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
فأظفر بذات الدين تربت يداك
”دیندار خاتون سے نکاح کرو کہ یہ کامیابی کا باعث ہے۔ تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں۔“ (اگر ایسا نہ کرو)
بخاری کتاب النکاح باب الأکفاء فی الدین ح : 5090 ، مسلم کتاب الرضاع باب استحباب نکاح ذات الدین ح : 1466
اس سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ مسلمان عورت خواہ وہ کیسی ہی ہو مسلمان مرد کے لیے کتابی عورت کے مقابلہ میں بہتر ہے۔ نیز جب کوئی مسلمان اپنی اولاد کے عقیدہ اور تربیت کے تعلق سے ایسی بیوی کی طرف سے اندیشہ محسوس کرے تو دین کی خاطر اس سے اجتناب کرنا اور اس اندیشہ سے بچنا ضروری ہو جاتا ہے۔ علاوہ ازیں اگر کسی ملک میں مسلمان مردوں کی تعداد کم ہو تو ایسی صورت میں مسلمان مردوں پر کتابی عورتوں سے نکاح کرنا مناسب نہیں۔ کیونکہ اس صورت میں اگر مسلمان اپنی عورتوں کو چھوڑ کر کتابی عورتوں سے نکاح کریں گے جبکہ مسلمان عورتیں صرف مسلمان مردوں ہی سے نکاح کر سکتی ہیں، تو گویا مسلمان لڑکیوں کو مبتلائے مصیبت کرنا ہوگا کہ ان کو کوئی پوچھنے والا نہ ہو گا اور وہ بے کار ہو کر رہ جائیں گی۔ یہ صورت مسلم معاشرہ کے لیے سخت مضر ہے اور اس ضرر کا ازالہ اسی طرح ممکن ہے کہ اس مباح چیز کو مشروط مانا جائے اور ایک وقت تک کے لیے اس پر عمل درآمد موقوف رکھا جائے۔

مسلمان عورت کا غیر مسلم سے نکاح

مسلمان عورت پر غیر مسلم سے نکاح کرنا حرام ہے خواہ غیر مسلم کتابی ہو یا غیر کتابی۔ اس کے لیے مسلمان عورت کا کسی حال میں بھی غیر مسلم سے نکاح جائز نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
وَلَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِينَ حَتَّى يُؤْمِنُوا
”اپنی عورتوں کو مشرکین کے نکاح میں مت دو جب تک کہ وہ ایمان نہ لائیں۔“
(البقرة : 221)
اور مؤمن مہاجر عورتوں کے بارے میں فرمایا :
فَإِنْ عَلِمْتُمُوهُنَّ مُؤْمِنَاتٍ فَلَا تَرْجِعُوهُنَّ إِلَى الْكُفَّارِ لَا هُنَّ حِلٌّ لَهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ
”پھر جب تمہیں معلوم ہو جائے کہ وہ (مہاجر) عورتیں مؤمن ہیں تو انہیں کفار کی طرف واپس نہ کرو۔ وہ نہ کفار کے لیے حلال ہیں اور نہ کفار ان کے لیے حلال۔“
(الممتحنة : 10)
اور کوئی نص ایسی وارد نہیں ہوئی جس میں اہل کتاب کو اس حکم سے مستثنیٰ کر دیا گیا ہو لہذا مسلمانوں کا اس کی حرمت پر اجماع ہے۔ اسلام نے مسلمانوں کو یہودی اور نصرانی عورتوں سے نکاح کرنے کی اجازت دی ہے لیکن مسلمان عورتوں کو یہودیوں اور نصرانیوں سے نکاح کی اجازت نہیں دی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مرد گھر کا مالک ہوتا ہے اور عورت کے لیے قوام کی حیثیت رکھتا ہے نیز اس کے بارے میں جوابدہ ہوتا ہے۔ مزید برآں یہ حقیقت ہے کہ اسلام نے کتابیہ بیوی کو آزادی عقیدہ کی ضمانت دی ہے اور شرعی قوانین و احکامات کے ذریعہ اس کے حقوق متعین کیے ہیں اور اس کی حرمت کا تحفظ کیا ہے۔ لیکن دیگر مذاہب مثلاً یہودیت اور نصرانیت نے کسی اور مذہب سے تعلق رکھنے والی بیوی کے لیے نہ کسی قسم کی آزادی کی ضمانت دی ہے اور نہ اس کے حقوق کا تحفظ کیا ہے۔ ایسی صورت میں اسلام کس طرح اپنی بیٹیوں کے مستقبل کو خطرہ میں ڈال سکتا ہے؟ اور ان کو ایسے لوگوں کے حوالے کر سکتا ہے جو ان عورتوں کے دین کے معاملہ میں نہ رشتہ داری کا خیال کریں اور نہ عہد کا ؟
دراصل مرد کو اپنی بیوی کے عقیدہ کا احترام کرنا چاہیے تا کہ دونوں کے درمیان بہتر تعلقات قائم رہیں۔ اور جہاں تک مسلمان کے عقیدہ کا تعلق ہے وہ یہودیت و نصرانیت کو اپنی اصل کے اعتبار سے ان کی تحریفات سے قطع نظر کرتے ہوئے، آسمانی مذہب خیال کرتا ہے وہ تورات و انجیل پر ایمان رکھتا ہے اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام جیسے اولو العزم رسولوں کو بھی مانتا ہے۔ اس لیے کسی کتابی عورت کے لیے ایسے مرد کے پہلو میں زندگی گزارنا مشکل نہیں ہے جو اس کے اصل دین اس کی کتاب اور اس کے نبی کا احترام کرتا ہو اور احترام ہی نہیں بلکہ ان کی باتوں کو مانے بغیر ایمان ہی صحیح نہ قرار پاتا ہو۔ اس کے برخلاف یہودی اور نصرانی اسلام کا کوئی اعتراف نہیں کرتے ، نہ اسلام کی کتاب کا اور نہ اس کے رسول کا۔ لہذا یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک مسلمان عورت اس قسم کا عقیدہ رکھنے والے مرد کے زیر سایہ زندگی گزارے؟ جبکہ مسلمان عورت کا دین اس سے شعائر و عبادات اور فرائض و واجبات کا مطالبہ کرتا ہے اور کتنی چیزوں کو حلال اور کتنی ہی چیزوں کو حرام قرار دیتا ہے؟ ایسی صورت میں مسلمان عورت کے لیے اپنے عقیدہ اور اپنے دین کا تحفظ کرنا جبکہ مرد قوام ہو کر اس کا پوری طرح منکر ہو ایک امر محال ہے۔
یہاں اسلام کی اس معقولیت کا اندازہ ہو جاتا ہے کہ اس نے مسلمان کا بت پرست مشرکہ سے نکاح کیوں حرام ٹھہرایا ہے ! واقعہ یہ ہے کہ اسلام شرک اور بت پرستی کا سخت مخالف ہے۔ بنابریں زوجین کے درمیان سکون، مودت اور رحمت کی صورت کس طرح پیدا ہوسکتی ہے؟