سیدنا ابو موسیٰ اشعریؓ، ابو ذر غفاریؓ،عبد اللہ بن مسعودؓ اور سیدہ خدیجہ الکبریؓ کے فضائل صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے فضائل

سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابو موسیٰ ! تجھ کو آل داؤد کی خوش الحانیوں میں سے خوش الحانی دی گئی ہے ۔“
صحيح البخاری کتاب فضائل القرآن باب حسن الصوت بالقراءة للقرآن ، رقم : 5048 .

◈ پابندی جماعت :

سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقائے سفر جب مدینہ آئے تو بقیع بطحان میں قیام کیا، وہاں سے اگر چہ تمام لوگ نماز عشاء میں شریک نہیں ہو سکتے تھے تا ہم باری باندھ لی تھی اور اپنی باری پر لوگ آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشاء پڑھتے تھے۔
صحیح بخاری ، کتاب مواقيت الصلاة ، رقم: 567 .

◈ تلاوت قرآن:

سیدنا ابو موسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہ خوش الحان تھے ۔ بلکہ یہ آپ ہی کی خصوصیت نہیں ، خوش الحانی ان کے تمام قبیلہ کا وصف امتیازی تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ رات کو جب قبیلہ اشعری کے لوگ آتے ہیں تو میں ان کی قرآن خوانی ہی سے ان کے جائے قیام کو پہچان لیتا ہوں ۔“
صحيح مسلم، کتاب الفضائل ، باب من فضائل الاشعريين ، رقم: 2499/166.
ابو عثمان مھدی کا بیان ہے کہ ”میں نے جاہلیت کا زمانہ بھی پایا ہے لیکن میں نے چنگ و بربط کی آواز کو بھی ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی خوش الحانی سے بہتر نہیں پایا۔ وہ ہم کو نماز فجر پڑھاتے تھے تو جی چاہتا تھا کہ پوری سورہ بقرہ پڑھ ڈالتے ۔
الاستيعاب ، تذكره عبدالرحمن بن مل.

◈شوق زیارت رسول اللہ ﷺ :

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شوق زیارت سے لبریز تھے۔ اس لیے جب زیارت کا وقت قریب آتا تو یہ جذبہ اور بھی اُبھر جاتا اور اس کا اظہار مقدس نغمہ سنجیوں کی صورت میں ہوتا ۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ جب اپنے رفقاء کے ساتھ مدینہ کے قریب پہنچے تو سب کے سب ہم آہنگ ہو کر زبانی شوق سے یہ رجز پڑھنے لگے:
غدا نلقى الأحبه محمدا و حزبه
” ہم کل اپنے دوستوں یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے گروہ سے ملیں گے ۔ “
مسند احمد: 223/3

◈ پابندی عہد :

معاہدہ تو ایک بڑی چیز ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم معمولی وعدے کو بھی لازمی طور پر پورا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے انس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ”میں فلاں دن سفر کرنے والا ہوں، میرے سفر کا سامان کر دو ۔“ انہوں نے سامان کرنا شروع کر دیا جب روانگی کا وقت آیا تو بولے کہ ”ذرا کسر رہ گئی ہے، اگر آپ ٹھہر جاتے تو میں اس کو پورا کر دیتا“ بولے: میں گھر کے لوگوں سے کہہ چکا ہوں کہ فلاں دن سفر کروں گا اب اگر ان سے جھوٹ بولتا ہوں تو وہ بھی مجھ سے جھوٹ بولیں گے ۔ ان سے خیانت کرتا ہوں تو وہ بھی مجھ سے خیانت کریں گے ۔ ان سے وعدہ خلافی کرتا ہوں تو وہ بھی مجھ سے وعدہ خلافی کریں گے، چنانچہ وہ روانہ ہو گئے اور اس کمی کی کچھ پرواہ نہ کی کہ سامان سفر نامکمل ہے ۔
طبقات ابن سعد، تذکره ابو موسیٰ اشعری رضی الله عنه .

سیدہ خدیجہ الکبری رضی اللہ عنہا کے فضائل

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: مجھے جتنا رشک سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا پر ہے کسی اور عورت پر نہیں، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے نکاح ان کی وفات کے بعد کیا تھا، یہ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا بہت زیادہ ذکر کرتے تھے، اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو خدیجہ کے لیے جنت کے موتی سے بنے ہوئے گھر کی بشارت دینے کا حکم دیا جس میں نہ شور و غل ہے اور نہ کوئی تکلیف ہے۔
صحيح البخاری، کتاب المناقب الانصار، باب تزويج النبى صلى الله عليه وسلم خديجة و فضلها رضى الله عنها ، رقم: 3817، 3819

◈ سیرت پر ایک نظر :

سب سے پہلی شادی سیّدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ہوئی۔ یہ خاندان قریش کی ایک چالیس سالہ اور پاکیزہ اخلاق خاتون تھیں ۔ طاہرہ ان کا لقب تھا۔ پانچویں پشت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا نسب مل جاتا ہے۔ ان کے والد خویلد ایک معزز قریشی اور یہ خود بڑی صاحب ثروت تھیں۔ ان کی پہلی شادی ابو ہالہ بن زندہ تمیمی سے ہوئی تھی۔ ان کے انتقال کے بعد عتیق ابن عائذ کے ساتھ عقد ہوا۔ ان کے انتقال کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عقد میں آئیں۔ اس وقت سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا سن چالیس سال کا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پچیس سال کا۔ ایک کے سوا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اولادیں ان کے بطن سے تھیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے بڑی محبت تھی۔ ان کی زندگی بھر دوسرا نکاح نہیں فرمایا۔ ہجرت مدینہ سے کئی سال پہلے مکہ ہی میں ان کا انتقال ہو گیا تھا۔ گو ان کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد شادیاں کیں لیکن ان کی محبت کا نقش ہمیشہ دل پر قائم رہا۔
تاریخ اسلام : 134/1، بتعديل يسير.

سیدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کے فضائل

سیدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سنیں اور وہیں اسلام لے آئے۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اب اپنی قوم غفار میں واپس جاؤ اور انہیں میرا حال بتاؤ یہاں تک کہ جب ہمارے غلبے کا تمہیں علم ہو جائے ۔“ ( تو پھر ہمارے پاس آجانا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں ان قریشیوں کے مجمع میں پکار کر کلمہ توحید کا اعلان کروں گا۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں سے واپس وہ مسجد حرام میں آئے اور بلند آواز سے کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ یہ سنتے ہی سارا مجمع ٹوٹ پڑا اور اتنا مارا کہ زمین پر لٹا دیا۔ اتنے میں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ آگئے اور ابو ذر رضی اللہ عنہ کے اوپر اپنے آپ کو ڈال کر قریش سے کہا: افسوس کیا تمہیں معلوم نہیں کہ یہ شخص قبیلہ غفار سے ہے اور شام جانے والے تمام تاجروں کا راستہ ادھر ہی سے پڑتا ہے ، اس طرح سے ان سے بچایا۔ پھر سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ دوسرے دن مسجد الحرام میں آئے اور اپنے اسلام کا اظہار کیا۔ قوم پھر بُری طرح ان پر ٹوٹ پڑی اور مارنے لگی ۔ اس دن بھی سیدنا عباس رضی اللہ عنہ ان پر اوندھے پڑ گئے ۔
صحیح بخاری ، کتاب المناقب، باب قصة اسلام ابی ذر الغفاری رضی الله عنه، رقم: 3522.

◈ تحمل شدائت:

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسلام کے لیے ہر قسم کی تکلیفیں برداشت کیں اور ان کے ایمان میں ذرہ برابر تزلزل واقع نہیں ہوا۔ سیدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ نے جب خانہ کعبہ میں اپنے اسلام کا اعلان کیا تو ان پر کفار ٹوٹ پڑے اور مارتے مارتے زمین پر لٹا دیا ۔
صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابة رضى الله عنهم ، رقم: 2473 .

◈ صدقہ و خیرات:

سیدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سرے سے مال جمع کرنا ہی ناجائز تصور کرتے تھے۔
صحیح بخاری ، کتاب الزكاة ، رقم : 1406 .

◈ جرات و شجاعت :

جرات و شجاعت کا اظہار کبھی عقائد کے اظہار میں ہوتا ہے، کبھی میدانِ جنگ میں اور کبھی ظالم بادشاہ کے سامنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں یہ اخلاقی جوہر موجود تھا ، اس لیے اس کا ظہور ان تمام موقعوں پر ہوتا تھا۔
سیدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ نہایت قدیم الاسلام صحابی ہیں ، وہ مکہ آکر ایمان لائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ہدایت کی کہ اس وقت اپنے وطن کو واپس جاؤ اور اپنی قوم کو میری بعثت کی خبر کرو ، لیکن انہوں نے نہایت پر جوش لہجے میں کہا کہ ”اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں کفار مکہ کے سامنے ہی کلمہ توحید کا اعلان کروں گا ۔“ حالت یہ تھی کہ وہ غریب الوطن تھے، مکہ میں کوئی ان کا حامی و مددگار نہ تھا، لیکن بایں ہمہ وہ مسجد حرام میں آئے اور بآواز بلند کہا: اشهد ان لا اله الا الله واشهد ان محمد رسول الله . اس آواز کا سننا تھا کہ کفار ٹوٹ پڑے اور سخت زدوکوب کی ۔ لیکن انہوں نے دوسرے دن پھر اسی جوش کے ساتھ خانہ کعبہ میں اس کلمے کا اعلان کیا اور کفار نے پھر اسی طرح یورش کی۔
صحیح بخاری ، کتاب المناقب، رقم: 3861.

◈ غلاموں کے ساتھ سلوک :

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم غلاموں کے ساتھ بالکل مساویانہ برتاؤ کرتے تھے۔ ایک بار سیّدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ ایک جبہ پہنے ہوئے تھے اور غلام کو بھی ویسا ہی پہنایا ہوا تھا اس کا سبب دریافت کیا گیا تو بولے: ”میں نے ایک غلام کو ایک دفعہ بُرا بھلا کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابو ذر! تم میں اب تک جاہلیت کا اثر باقی ہے، یہ لوگ تمہارے بھائی ہیں، اللہ نے ان کو تمہارے ہاتھ میں دے دیا ہے تو جس کا بھائی اس کے ہاتھ میں ہو وہ اس کو وہی کھلائے پلائے جو خود کھاتا پیتا ہے ۔“
صحیح بخاری ، کتاب الایمان ، رقم: 30.

سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے فضائل

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”قرآن چار بندوں سے سیکھو :
● عبد اللہ بن مسعود ۔
●سالم مولی ابی حذیفہ۔
● ابی بن کعب ۔
● معاذ بن جبل( رضی اللہ عنہم )
صحيح البخاری کتاب فضائل اصحاب النبي ﷺ باب مناقب عبدالله بن مسعود رضی الله عنه، رقم : 3760.

◈ خدمت رسول ﷺ :

سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ شرف حاصل تھا کہ جب آپ کہیں جاتے تو وہ پہلے آپ کو جوتا پہناتے پھر آگے آگے عصا لے کر چلتے ، آپ مجلس میں بیٹھنا چاہتے تو آپ کے پاؤں سے جوتیاں نکالتے، پھر آپ کو عصا دیتے، آپ اٹھتے تو پھر اسی طرح جوتیاں پہناتے ، آگے عصا لے کر چلتے اور چہرہ مبارک تک پہنچا جاتے ، آپ نہاتے تو پردہ کرتے ، آپ سوتے تو بیدار کرتے ، آپ سفر میں جاتے تو آپ کا بچھونا ،مسواک ، جوتا ، اور وضو کا پانی ان کے ساتھ ہوتا ، اس لیے وہ صاحب سواد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یعنی آپ کے میر سامان کہے جاتے تھے۔
طبقات ابن سعد، تذکره عبدالله بن مسعود رضي الله عنه .

◈ تفقہ فی الدین:

مسروق فرماتے ہیں کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: والذي لا إله غيره ”مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے ۔ قرآن مقدس کی کوئی ایسی سورت نہیں ہے کہ جس کے متعلق میں یہ نہ جانتا ہوں کہ یہ کہاں اور کب نازل ہوئی ، اور قرآن کی ہر آیت کے متعلق جانتا ہوں کہ اس کا شانِ نزول کیا ہے؟ پھر فرمایا: اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ قرآنِ مقدس کا کوئی شخص مجھ سے بڑا عالم موجود ہے تو میں اس کے پاس جا کر علم حاصل کرتا اگر چہ وہ اتنا دور دراز رہتا ہوتا کہ وہاں صرف اونٹ کے ذریعے پہنچا جا سکتا ہو۔
صحیح بخاری ، فضائل القرآن ، رقم: 5002

◈ اتباع رسولﷺ:

عبدالرحمن بن یزید فرماتے ہیں کہ ہم نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کوئی ایسا شخص بتائیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت والا ہوتا کہ ہم اس سے (علم) حاصل کریں ، تو انہوں نے فرمایا: ”میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو بہت زیادہ اپنانے والا شخص ابن ام معبد ( یعنی عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ) کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ “
صحیح بخاری ، کتاب فضائل الصحابة ، رقم: 3762.