سیدنا ابی بن کعبؓ، ابو ہریرہؓ اور عبد اللہ بن عمرؓ کے فضائل صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے فضائل

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم فرمایا ہے کہ میں تجھے سورۃ البینہ پڑھ کر سناؤں۔“ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا اللہ نے میرا نام لیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ تو اس پر سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ (خوشی سے) رو پڑے۔
صحيح البخاري ، كتاب التفسير سورة لَمْ يَكُن ، رقم: 4959 .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں قرآن کے سب سے بڑے قاری ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں۔“
سنن ترمذی، کتاب المناقب، رقم: 3790 – البانی رحمہ اللہ نے اسے ”صحیح“ کہا ہے۔

◈ پابندی احکام رسول اللہ ﷺ:

ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو زکوۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا، وہ ایک صحابی کے پاس آئے، اور انہوں نے تمام اونٹ حاضر کر دیے وہ سب کا جائزہ لے کر بولے کہ تم کو صرف ایک بچہ دینا ہو گا۔ بولے: ”نہ تو وہ سواری کے قابل ہے، نہ دودھ دیتا ہے، یہ جوان فربہ اونٹنی حاضر ہے۔“ بولے: جب تک مجھ کو حکم نہ دیا جائے میں اس کو قبول نہیں کر سکتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قریب ہی ہیں۔ اگر تم چاہو تو خود آپ کی خدمت میں اس اونٹنی کو پیش کر سکتے ہو، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول فرما لیا تو میں بھی قبول کر لوں گا۔“ وہ اونٹنی لے کر خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ: ”اے اللہ کے نبی! میرے پاس صدقہ وصول کرنے کے لیے آیا تھا، میں نے تمام اونٹ اس کے سامنے حاضر کر دیے، تو اس نے کہا کہ تم پر صرف ایک بچہ فرض ہے۔ لیکن نہ دودھ دیتا ہے، نہ سواری کے قابل تھا اس لیے میں نے اس کو فربہ اونٹنی دی لیکن اس نے انکار کر دیا۔ اب میں اس کو آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”فرض تو تم پر وہی ہے، اس سے زیادہ دو تو صدقہ ہوگا اور ہم اس کو قبول کریں گے۔“ انہوں نے کہا: ”تو یہ حاضر ہے۔“ آپ نے اس کے قبول کرنے کی اجازت دی اور ان کے مال میں برکت کی دعا فرمائی۔
سنن ابو داؤد، کتاب الزكوة، رقم : 1854 – البانی رحمہ اللہ نے اسے حسن کہا ہے۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے فضائل

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابو ہریرہ! تم ہم سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہتے تھے اور حدیث رسول بھی ہم سے زیادہ یاد رکھتے ہو۔
سنن الترمذي ، كتاب المناقب، باب مناقب ابى هريرة رضى الله عنه، رقم: 3836۔ البانی رحمہ اللہ نے اسے ”صحیح“ کیا ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے آپ سے بہت سی احادیث اب تک سنی ہیں، لیکن میں انہیں بھول جاتا ہوں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی چادر پھیلاؤ۔“ میں نے چادر پھیلا دی۔ آپ نے اپنے ہاتھ سے اس میں ایک لپ بھر کر ڈال دی اور فرمایا: ”اسے اپنے بدن پر لگا لو۔“ چنانچہ میں نے لگا لیا اور اس کے بعد کبھی کوئی حدیث نہیں بھولا۔
صحیح بخاری ، کتاب المناقب، رقم: 3648 .

◈ خدمت رسول ﷺ:

صحابہ کرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کو اپنا سب سے بڑا شرف خیال کرتے تھے۔ متعدد صحابہ نے اپنے آپ کو آپ کی خدمت کے لیے وقف کر دیا تھا۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بھی ہمیشہ خدمت مبارک میں حاضر رہتے تھے، اکثر یہ شرف حاصل ہوتا کہ جب آپ رفع ضرورت کے لیے تشریف لے جاتے تو وہ کسی طشت یا کوزہ میں پانی لاتے اور آپ وضو کرتے۔
سنن ابو داؤد، کتاب الطهارة ، رقم: 45 – البانی رحمہ اللہ نے اسے حسن کہا ہے ۔

◈ اہل بیت اور رسول اللہﷺ کے اعزہ و اقارب کی عزت و محبت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلق سے صحابہ کرام اہل بیت رضی اللہ عنہم کو بھی نہایت عزت و محبت کرتے تھے۔ ایک دن سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ امام حسن رضی اللہ عنہ سے ملے اور کہا کہ ”ذرا پیٹ کھولیے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بوسہ دیا تھا، وہیں میں بوسہ دوں گا،“ چنانچہ انہوں نے پیٹ کھولا اور انہوں نے وہیں بوسہ دیا۔
مسند احمد : 488/2 ـ صحيح ابن حبان ، رقم: 5593 ۔ ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے۔

◈ ماں باپ کے ساتھ سلوک:

مروان اکثر سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو اپنا خلیفہ مقرر کیا کرتا تھا، اس تعلق سے وہ ایک بار ذی الحلیفہ میں مقیم تھے اور ان کی والدہ الگ دوسرے گھر میں تھیں۔ جب وہ اپنے گھر سے نکلتے تو ان کے گھر کے دروازے پر کھڑے ہو کر کہتے ”السلام علیکم یا امتاه ورحمۃ اللہ و برکاتہ“ وہ فرماتی: ”وعلیک یا بنی ورحمتہ اللہ و برکاتہ“ پھر وہ فرماتے: ”اللہ تم پر اسی طرح رحم کرے جس طرح تم نے بچپن میں مجھ کو پالا۔“ وہ جواب دیتیں کہ اللہ تم پر بھی اسی طرح رحم کرے جس طرح تم نے بڑے ہو کر میرے ساتھ سلوک کیا۔ جب گھر میں داخل ہوتے تب بھی اس طرح آداب بجالاتے۔
الأدب المفرد للبخارى ، باب جزاء الوالدين، رقم: 12 .
ان کی والدہ جب تک زندہ رہیں انہوں نے ان کو چھوڑ کر حج کرنا پسند نہیں کیا۔
صحیح مسلم، باب ثواب العبد واجره اذا نصح لسيده وأحسن

◈ ذوق علم:

آپ کو علم کی بڑی جستجو تھی اور ان کا ذوق علم حرص کے درجہ تک پہنچ گیا تھا۔ اسی طرح وہ چاہتے تھے کہ ہر مسلمان کے دل میں طلب علم کا یہی درجہ پیدا ہو جائے۔ چنانچہ ایک دن بازار جا کر لوگوں کو پکارا کہ تم کو کس چیز نے مجبور کر رکھا ہے؟ لوگوں نے پوچھا کس شے سے؟ کہا: وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث تقسیم ہو رہی ہے اور تم لوگ یہاں بیٹھے ہو! لوگوں نے پوچھا: کہاں تقسیم ہو رہی ہے؟ کہا کہ مسجد میں! لوگ دوڑے دوڑے مسجد میں گئے، لیکن وہاں کوئی مادی میراث نہ تھی۔ اس لیے لوگ لوٹ گئے اور کہا کہ وہاں تو کچھ بھی تقسیم نہیں ہو رہا۔ البتہ کچھ لوگ نماز (نفل) پڑھ رہے ہیں، کچھ تلاوت قرآن پاک میں مشغول ہیں، کچھ حلال و حرام پر گفتگو کر رہے ہیں۔ بولے: تم لوگوں پر افسوس ہے یہی تو تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث ہے۔
طبرانی اوسط: 221/1

◈ محبت رسول ﷺ:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی محبت انتہا درجہ تک تھی۔ ایک لمحہ کے لیے بھی آپ سے جدا نہ ہوتے تھے۔ تمام مہاجرین و انصار اپنے اپنے کاموں میں لگے رہتے لیکن ان کا کام صرف یہ تھا کہ جمال نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار سے شوق کی آگ بجھائیں۔ ایک موقع پر اس کا اظہار فرمایا کہ یا رسول اللہ! آپ کا مشاہدہ جمال میرا سرمایہ حیات اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد لطیف غذا کھانے سے محض اس لیے پرہیز کرتے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا۔ ایک دن ان کو لوگوں نے بھنی ہوئی بکری کی دعوت دی۔ انہوں نے محض اس لیے انکار کر دیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے اس حال میں رخصت ہو گئے کہ کبھی جو کی روٹی بھی آسودہ ہو کر نہیں کھائی۔
صحیح بخاری ، کتاب الأطعمة ، رقم: 5414.

◈ اخلاق و عادات:

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ خیر میں دارالاسلام آئے اس حساب سے ان کو اڑھائی تین سال صحبت نبوی سے فیض یاب ہونے کا موقع ملا۔ اگرچہ بظاہر یہ مدت کم معلوم ہوتی ہے لیکن اس حیثیت سے کہ اس مدت میں سفر و حضر، خلوت و جلوت میں ایک لمحہ کے لیے بھی خدمت اقدس سے جدا نہ ہوئے اور اس قلیل مدت میں جو لمحات بھی میسر آئے ان سے پورا فائدہ اٹھایا۔ یہ تھوڑی مدت کیفیت کے اعتبار سے بڑی طویل مدت کے برابر ہو جاتی ہے۔ اس ملازمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نتیجہ یہ تھا کہ آپ پر تعلیمات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا بہت گہرا رنگ چڑھا تھا اور آپ اسلامی تعلیمات کا مکمل نمونہ بن گئے تھے۔
سير أعلام النبلاء: 519/3 .

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، میں نے خواب میں دیکھا گویا کہ میرے ہاتھ میں ریشم کا ایک ٹکڑا ہے۔ میں جنت کے جس مقام کی طرف اشارہ کرتا ہوں وہ مجھے اس طرف لے کر اڑ جاتا ہے، میں نے یہ خواب ام المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا۔ انہوں نے نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو انہوں نے فرمایا: ”آپ کا بھائی نیک آدمی ہے۔“ یا فرمایا: ”عبد اللہ نیک آدمی ہے۔“
سنن ترمذی، کتاب المناقب، باب مناقب عبدالله بن عمر رضی الله عنهما ، رقم : 3825۔ البانی رحمہ اللہ نے اسے ”صحیح“ کہا ہے ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عبد اللہ بہت اچھا لڑکا ہے۔ کاش رات میں وہ تہجد کی نماز پڑھا کرتا۔“ سالم نے بیان کیا، سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہما اس کے بعد رات میں بہت کم سویا کرتے تھے۔
صحیح بخاری ، کتاب فضائل اصحاب النبي ﷺ، باب مناقب عبدالله بن عمر بن الخطاب رضى الله عنهما، رقم: 3739

◈ نفل و نوافل:

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جس شوق و مستعدی کے ساتھ نماز مفروضہ ادا فرماتے تھے، اسی طرح نوافل، اشراق، کسوف اور دوسری نمازوں کا اہتمام فرماتے۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سفر میں ہوتے تھے تو سواری کے اوپر ہی بیٹھے بیٹھے نفل نمازیں پڑھ لیتے تھے اور اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سمجھتے تھے۔
صحيح مسلم، کتاب الصلواة ، رقم: 700/31.

◈ پابندی جماعت :

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ہم لوگ ایک شب نماز عشاء کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے، ایک تہائی رات گزر گئی تو آپ تشریف لائے اور فرمایا کہ ”اگر امت پر شاق نہ گزرتا تو میں اسی وقت نماز عشاء ادا کرتا۔“
صحیح مسلم کتاب المساجد، رقم: 220/ 639 .

◈ اپنے بہترین مال کا انفاق:

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا معمول تھا کہ ان کو اپنی چیز جو پسند آتی اس کو اللہ کی راہ میں دے دیتے۔ ایک بار سفر حج میں تھے کہ اپنی اونٹنی کی چال پسند آئی تو اس سے اتر گئے اور اپنے غلام نافع سے کہا کہ اس کو قربانی کے جانوروں میں داخل کر لو۔
طبقات ابن سعد، تذكر عبدالله بن عمر.

◈ اتباع سنت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے اتباع میں تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما خاص طور پر ممتاز تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر حج سے واپس آئے تو مسجد کے دروازہ پر ناقہ کو بٹھا کر پہلے دو رکعت نماز ادا فرمائی، پھر گھر کے اندر تشریف لے گئے۔ اس کے بعد عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی یہی معمول کر لیا۔
سنن ابو داؤد، کتاب الجهاد، رقم: 2782 – علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے حسن صحیح کہا ہے۔
زرد رنگ کا خضاب لگاتے تھے۔ اور فرماتے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا ہے۔
سنن ابو داؤد، کتاب اللباس، رقم: 6064 – البانی رحمہ اللہ نے اسے ”صحیح الاسناد “کہا ہے۔
اتباع سنت کے واقعات کی ایک لمبی فہرست ہے۔ لیکن یہ مقام تفصیل نہ ہے۔

◈ گریہ و بکا:

اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دلوں کو موم کی طرح نرم و گداز کر دیا تھا، اس لیے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبات و مواعظ سنتے، قرآن مجید پڑھتے یا خشیت الہی کا موقع آتا تو ان پر رقت طاری ہو جاتی اور آنکھوں سے بے اختیار آنسو نکل پڑتے۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب قرآن مجید کی یہ آیت ﴿أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ﴾ (57-الحديد:16) ”کیا ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ اللہ کے ذکر پر ان کے دل گداز ہوں۔“ پڑھتے تھے تو بے اختیار رو پڑتے تھے، اور دیر تک روتے رہتے تھے۔
أسد الغابة ، تذكره عبدالله بن عمر رضی الله عنه .

◈ رسول اللہ ﷺ کے دوستوں کی عزت اور محبت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جن لوگوں سے محبت رکھتے تھے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی ان کی نہایت توقیر و عزت کرتے تھے۔ ایک بار عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے دیکھا کہ ایک شخص مسجد کے گوشے میں دامن گھسیٹتا ہوا پھر رہا ہے، بولے یہ کون شخص ہے؟ ایک آدمی نے کہا: آپ ان کو نہیں پہچانتے؟ یہ محمد بن اسامہ ہیں۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ سن کے گردن نیچے جھکا لی اور زمین پر ہاتھ مار کر کہا: ”اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو دیکھتے تو ان سے محبت کرتے۔“
صحیح بخاری ، کتاب فضائل اصحاب النبي ، رقم : 3734 .