احادیث کی حفاظت، کتابت اور تدوین کی تاریخی حقیقت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ارشاد اللہ مان کی کتاب حق کی تلاش سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

عقائد اہل السنۃ والجماعۃ

سوال: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے منہج کی کیا حیثیت ہے؟

جواب: رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کو اسلام کی تعلیم دی یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ کے براہِ راست تربیت یافتہ تھے۔ لہٰذا صحابہ معیاری مسلمان تھے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے رسول اللہ ﷺ کے اقوال وافعال تابعین نے اخذ کیے، محدثین نے ان کو جمع کیا۔ یہ تمام ادوار اسلام کے عروج کے ادوار ہیں، رسول اللہ ﷺ نے انھیں بہترین زمانے قرار دیا۔ سلف صالحین اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے طریق اور منہج سے وہی شخص انکار کرتا ہے جو قرآن مجید کی من مانی تفسیر کرنا چاہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: [وَ مَنۡ یُّشَاقِقِ الرَّسُوۡلَ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الۡہُدٰی وَ یَتَّبِعۡ غَیۡرَ سَبِیۡلِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰی وَ نُصۡلِہٖ جَہَنَّمَ ؕ وَ سَآءَتۡ مَصِیۡرًا] اور جو شخص سیدھا راستہ معلوم ہونے کے بعد رسول (ﷺ) کی مخالفت کرے اور مومنوں کے راستے کے سوا اور رستے پر چلے تو جدھر وہ چلتا ہے ہم اسے ادھر ہی چلنے دیں گے اور (قیامت کے دن) جہنم میں داخل کریں گے اور وہ بری جگہ ہے۔ (النساء:115)

مومنین کے راستے سے مراد اسلام کی وہ تعبیر وتفسیر ہے جس پر قرونِ اولیٰ کے مسلمان جمع تھے۔ وہ منہج جس میں مردوں سے استغاثہ، قبر پر چلہ کشی اور فیض حاصل کرنے کی اور امرِ رسول ﷺ کے سامنے کسی کی رائے کی کوئی حیثیت یا شریعت کے مقابلے میں دنیا کے کسی اور قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کی کوئی گنجائش نہ تھی۔

سوال: کیا صحابہ رضی اللہ عنہم سنتِ رسول کو بھی وحی (یعنی) اللہ کی بات سمجھتے تھے؟

جواب: جی ہاں صحابہ رضی اللہ عنہم سنتِ رسول ﷺ کو اللہ کی بات سمجھتے تھے۔ اس کی بہت سی مثالیں ہیں۔

صرف ایک ملاحظہ فرمائیں:ایک عورت سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ، کیا آپ کہتے ہیں کہ اللہ نے گودنے والی اور گودوانے والی پر لعنت فرمائی ہے۔ آپ نے فرمایا:ہاں!وہ عورت کہنے لگی کہ: میں نے شروع سے آخر تک قرآن حکیم کی تلاوت کی ہے مگر اس بات کو کہیں نہیں پایا۔ پس آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تو نے قرآن پڑھا ہوتا تو اس میں ضرور پاتی، کیا تو نے یہ آیت نہیں پڑھی: [وَ مَاۤ اٰتٰىکُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوۡہُ وَ مَا نَہٰىکُمۡ عَنۡہُ فَانۡتَہُوۡا] اور جو کچھ میرا رسول (ﷺ) تمہیں دے اسے لے لو اور جس چیز سے منع کرے اس سے رک جاؤ۔ (الحشر:7)

وہ کہنے لگی: ہاں!تب سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ لعنت کرتے ہوئے سنا ہے۔

[بخاری، كتاب التفسير، باب وما آتاكم الرسول فخذوه: 4686]،[مسلم، كتاب اللباس والزينة، باب تحريم فعل ….. إلخ: 2125]

یہ بھی واضح ہوا کہ مسلمانوں پر لازم ہے کہ قرآن وسنت میں تفریق نہ کریں، ان دونوں پر عمل فرض ہے اور شریعتِ اسلامیہ کی بنیاد ان دونوں پر ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:میں تم میں دو باتیں چھوڑے جا رہا ہوں، کتاب اللہ اور میری سنت، جب تک تم انھیں مضبوطی سے تھامے رکھو گے گمراہ نہ ہو گے۔ [موطأ إمام مالك رواية يحيى، كتاب القدر، باب النهي عن القول بالقدر: 3]،[مستدرك حاكم كتاب العلم:318]

سوال:رسول اللہ ﷺ نے سنت کی حفاظت کے سلسلے میں کیا اقدام کیے؟

جواب: رسول اللہ (ﷺ) نے سنت کی حفاظت کے سلسلے میں خصوصی توجہ دی۔ جب بھی کوئی مسئلہ بیان فرماتے: تو اس کو تین مرتبہ دہراتے، یہاں تک کہ وہ مسئلہ سمجھ میں آ جاتا۔ [بخاری، كتاب العلم، باب من أعاد الحديث ثلاثاً ليفهم عنه: 95]

ایک دفعہ قبیلہ عبد القیس کا وفد آپ ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ نے انھیں امورِ دین کی تعلیم دینے کے بعد فرمایا: اس کو یاد کرو اور اپنے پیچھے آنے والوں کو اس کی خبر دو۔ [بخاری، کتاب الإيمان، باب أداء الخمس من الإيمان: 53]

یقیناً پیچھے آنے والوں سے مراد آنے والی نسلیں بھی ہیں۔

رسول اللہ ﷺ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو تشہد یوں سکھاتے جیسے قرآن کی سورت۔

[مسلم، کتاب الصلاة، باب التشهد في الصلاة: 403]

نو ہجری میں مدینہ میں بہت سے وفود آئے۔ سیدنا مالک بن حویرث نے بھی نو ہجری میں مدینہ میں قیام کر کے آپ ﷺ کی عملی زندگی کا مشاہدہ کیا اور ضروری تعلیم حاصل کی۔ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا:نماز ایسے پڑھنا جیسے مجھے پڑھتے دیکھتے ہو۔

[بخاری، کتاب الأذان، باب الأذان للمسافرين إذا كانوا جماعة ….. إلخ: 631]

حجتہ الوداع میں منیٰ کے مقام پر آپ ﷺ نے خطبہ دیا، سامعین کی تعداد سوا لاکھ کے لگ بھگ تھی۔ خطبہ کے اختتام پر آپ ﷺ نے فرمایا:حاضر کو چاہیے کہ غائب کو میری باتیں پہنچا دے، اس لیے کہ شاید تم کسی ایسے شخص کو بیان کر سکو جو تم سے زیادہ اس کو محفوظ کر سکے۔

[بخاری، کتاب العلم، باب قول النبي ﷺ ((رب مبلغ أوعى(من) سامع)): 67]

یہ پیشین گوئی حرف بحرف پوری ہوئی۔ محدثین نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی بیان کردہ احادیث کو بالکل محفوظ کر لیا۔

سوال: کیا رسول اللہ ﷺ نے احادیث کی کتابت بھی کروائی؟

جواب: رسول اللہ ﷺ نے مختلف مواقع پر احادیث لکھوائیں، چند حوالے ملاحظہ فرمائیں:

① عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: کہ رسول اللہ ﷺ نے کتاب الصدقہ تحریر کروائی۔ امام محمد بن مسلم فرماتے ہیں کہ آپ کی یہ کتاب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے خاندان کے پاس تھی اور مجھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پوتے سالم نے یہ کتاب پڑھائی اور میں نے پوری طرح اس کو محفوظ کر لیا۔ خلیفہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اس کتاب کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پوتوں سالم اور عبداللہ سے لے کر لکھوایا۔

[أبو داؤد، کتاب الزكاة، باب في الزكاة:1570]

② ابو راشد الحبرانی فرماتے ہیں: کہ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے میرے سامنے ایک کتاب رکھی اور فرمایا:یہ وہ کتاب ہے جو رسول اللہ ﷺ نے لکھوا کر مجھے دی تھی۔ [ترمذی، کتاب الدعوات، باب دعاء علمه ﷺ أبا بكر: 3529]

③ موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس وہ کتاب ہے جو معاذ کے لیے رسول اللہ ﷺ نے لکھوائی تھی۔

[الدارقطنی: ح: 1914]،[مسند أحمد: ح: 21989]،[مستدرک حاکم:1457]،[البیہقی: ح7548]

جب رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کو یمن کا عامل بنا کر بھیجا تو اہل یمن کے لیے ایک کتاب لکھوا کر دی جس میں فرائض، سنت اور دیت کے مسائل تحریر تھے۔ امام زہری فرماتے ہیں کہ میں نے اس کتاب کو پڑھا، یہ کتاب ابو بکر بن حزم کے پاس تھی۔ سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے بھی اس کتاب کو پڑھا۔ [نسائی، کتاب القسامة ، باب عقل الأصابع : 4850 (و باب ) ذكر حديث عمرو بن حزم في العقول و اختلاف الناقلين له: 4857]

سوال: کیا صحابہ نے بھی احادیث لکھیں؟

جواب: جی ہاں! خود رسول اللہ ﷺ نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو احادیث لکھوائیں۔

① آپ ﷺ نے سیدنا عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا:احادیث لکھا کرو، قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس منہ سے حق کے سوا کوئی بات نہیں نکلتی۔

[أبو داود، كتاب العلم، باب كتابة العلم: 3646]

② سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جب ان کو یمن کا حاکم بنا کر بھیجا تو زکوٰۃ کے فرائض لکھ کر دیے۔

[بخاری، کتاب الزکوۃ، باب زکوٰۃ الغنم: 1454]

③ حماد بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ کتاب سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے پوتے ثمامہ سے حاصل کی۔

[نسائی، کتاب الزکاة ، باب زکاة الإبل: 2449]

④ خلیفہ ثانی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی زکوٰۃ کے متعلق ایک کتاب تحریر فرمائی تھی۔ امام مالک فرماتے ہیں: کہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی کتاب پڑھی۔

[موطأ إمام مالك، كتاب الزكاة، باب صدقة الماشية: 23]

⑤ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:ہمارے پاس کوئی چیز نہیں سوائے کتاب اللہ کے اور اس صحیفہ کے جس میں رسول اللہ ﷺ کی احادیث ہیں۔

[بخاری، کتاب فضائل المدينة، باب حرم المدينة:1870]،[مسلم، کتاب الحج، باب فضل المدينة……الخ:1370]

⑥ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کوئی شخص مجھ سے زیادہ نبی اکرم ﷺ کی احادیث بیان نہیں کرتا سوائے عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے، اس لیے کہ وہ لکھ لیا کرتے تھے اور میں لکھتا نہیں تھا۔

[بخاری، کتاب العلم، باب كتابة العلم: 113]

سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے یہ کتاب ان کی اولاد میں منتقل ہوتی رہی اور ان کے پڑپوتے عمرو بن شعیب رحمہ اللہ سے محدثین نے حاصل کر کے ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لی۔ ایسے کئی واقعات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مروی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ احادیث لکھا کرتے تھے۔

سوال: کیا 250 سال تک احادیث تحریر میں نہیں آئیں؟

جواب: یہ صرف منکرینِ حدیث کا پروپیگنڈا ہے۔ خلفائے راشدین اور صحابہ نے احادیث کی حفاظت کا خاص اہتمام کیا پھر تابعین کے دور میں کئی کتب لکھی گئیں۔ موطأ امام مالک اب بھی موجود ہے جو صرف سو سال بعد لکھی گئی ہے۔ ان کی سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت میں صرف امام نافع راوی ہیں۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں امام زہری راوی ہیں۔ غرض موطأ میں سینکڑوں سندیں ایسی ہیں جن میں صحابہ رضی اللہ عنہم اور امام مالک کے درمیان ایک یا دو راوی ہیں اور وہ زبردست امام ہیں۔ امام بخاری سے پہلے کی کتب صحیفہ صادقہ، مسند احمد، مسند حمیدی، موطأ امام مالک، مصنف ابن ابی شیبہ، مصنف عبد الرزاق، مسند شافعی آج بھی موجود ہیں۔ دیگر ائمہ نے بھی درس و تدریس کا ایسا اہتمام کیا ہوا تھا کہ کوئی کذاب حدیث گھڑ کر احادیثِ صحیحہ میں شامل نہ کر سکا۔