زرعی زمین سے فائدہ اٹھانا
مسلمان جب زرعی زمین کا شرعی طریقہ پر مالک ہو تو اسے زمین کی کاشت کرنے یا درخت لگا کر اس سے فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ بغیر زراعت کے زمین کو بیکار چھوڑنا، اسلام کے نزدیک ایک ناپسندیدہ عمل ہے۔ کیونکہ ایسی صورت میں نعمتِ الہی کی ناقدری ہوگی۔ نیز یہ مال کا ضیاع بھی ہے۔ جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مال کو ضائع کرنے سے منع فرمایا ہے۔
بخاری کتاب الرقاق باب ما يكره من قيل وقال : 6473 ، مسلم كتاب الأقضية باب النهي عن كثرة المسائل ح : 593/14
زمین کا مالک اس سے فائدہ اٹھانے کے مندرجہ ذیل مختلف طریقے اختیار کر سکتا ہے۔
زمین سے فائدہ حاصل کرنے کے طریقے
خود زراعت کرے یا درخت لگائے اور اس کی آب پاشی اور نگہداشت کا اہتمام کرے یہاں تک کہ وہ برگ و بار لائے۔ یہ ایک پسندیدہ کام ہے۔ اور جو انسان پرندے اور حیوانات، اس کھیتی سے فائدہ اٹھائیں گے اس کا ثواب اسے ملے گا۔ اور یہ بھی واقع ہے کہ بڑے بڑے صحابہ رضی اللہ عنہم خود زراعت کی خدمت انجام دیتے تھے۔
دوسرا طریقہ
خود زراعت نہ کر سکتا ہو تو اپنی زمین ایسے شخص کو عاریہ دے دے جو اپنے آلات مزدوروں، بیج اور جانوروں کے ذریعہ کاشت کر سکتا ہو اور اس سے وہ مالک اراضی کچھ نہ لے۔ اس طرح عاریہ زمین دینا اسلام میں مطلوب مستحب ہے اور دوسرے بھائی کی خیر خواہی بھی۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
من كانت له أرض فليزرعها أو ليمنحها أخاه
”جس کے پاس زمین ہو وہ خود کاشت کرے یا اپنے بھائی کو بلا اجرت کاشت کے لیے دے دے۔“
بخاری کتاب الحرث باب ما كان من اصحاب النبي صلی اللہ علیہ وسلم يواسى بعضهم ح : 2341 ، مسلم كتاب البيوع باب كراء الارض ح : 1544
بعض سلف کا مسلک مذکورہ حدیث کے پیش نظر یہ ہے کہ زمین سے استفادہ کی دو ہی صورتیں ہیں۔ ایک صورت یہ ہے کہ زمین کا مالک خود زراعت کرے اور دوسری یہ کہ بلا معاوضہ کسی شخص کو زراعت کے لیے دیدے۔ اس صورت میں زمین تو اپنے مالک ہی کی رہے گی لیکن اس کی کل پیداوار کاشت کرنے والے کو ملے گی۔
امام ابن حزم رحمہ اللہ نے اوزاعی رحمہ اللہ کی طرف منسوب کر کے یہ روایت بیان کی ہے کہ عطاء رحمہ اللہ، مکحول رحمہ اللہ، مجاہد رحمہ اللہ اور حسن بصری رحمہ اللہ کہتے تھے کہ زمین کو درہم و دینار کے عوض کاشت کے لیے دینا درست نہیں ہے اور نہ ہی کسی اور قسم کا معاملہ کرنا درست ہے، بجز اس کے کہ زمین کا مالک خود کاشت کرے یا دوسرے شخص کو کاشت کے لیے بلا معاوضہ دیدے۔
اور سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان احادیث میں زمین کو بلا معاوضہ کاشت کے لیے دینے کی جو ہدایت کی گئی ہے وہ وجوب کا حکم نہیں رکھتی، بلکہ مندوب اور مستحب ہے۔ چنانچہ امام بخاری رحمہ اللہ نے عمرو بن دینار رحمہ اللہ سے روایت بیان کی ہے کہ وہ کہتے ہیں میں نے طاؤس رحمہ اللہ سے پوچھا اگر میں مخابره بٹائی ترک کر دوں تو کیسا رہے گا؟ کیونکہ لوگ سمجھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔
طاؤس رحمہ اللہ نے کہا : سب سے بڑے عالم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتلائی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ممانعت نہیں کی بلکہ اس طرح فرمایا ہے :
ألان يمنح أحدكم أخاه خير من أن يأخذ عليها خراجا معلوما
”تمہارا اپنے بھائی کو بلا معاوضہ زمین دے دینا اس سے بہتر ہے کہ تم اس سے کچھ محصول وصول کرو۔ یعنی بلا معاوضہ دینا کچھ وصول کرنے سے بہتر ہے۔“
بخاري كتاب الحرث باب 10 ح : 2330 ، مسلم کتاب البیوع باب الارض تمنح ح : 1500