سلیمانؑ کا ایک رات میں سو بیویوں کے پاس جانا حدیث پر اعتراض کا جواب

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلتہ الشیخ عبدالسلام رُستمی کی کتاب انکار حدیث سے انکار قرآن تک سے ماخوذ ہے۔

حدیث 3: سلیمان علیہ السلام کا ایک رات میں سو بیویوں کے پاس جانا

صحيح البخاري، الأيمان والنذور، باب كيف كانت يمين النبي صلى الله عليه وسلم ، حديث : 6639
◈ نوٹ: حدیث میں نوے بیویوں کا ذکر ہے۔
طلوع اسلام کی طرف سے اس حدیث پر دو اعتراض ہیں۔
➊ ننانوے یا سو بیویوں کا ایک وقت میں نکاح میں جمع ہونا، روایات میں تعداد کے حوالے سے اضطراب ہے۔
➋ ایک رات میں سب کے ساتھ ایسا جماع کرنا کہ انزال بھی ہوتا کہ ہر ایک بیوی سے بچہ پیدا ہو۔

جواب :

➊ سلیمان علیہ السلام کے لیے ہوا اور جنات مسخر تھے، آپ انہیں قید کرتے اور سزا دیتے تھے، اعلیٰ قسم کے گھوڑے تھے، شاہی شان و شوکت تھی اور دنیا کے اکثر ممالک پر حکومت تھی۔ ان باتوں کا ثبوت قرآن کریم سے ملتا ہے تو ایسے شخص کے لیے سو یا ننانوے بیویاں ہونا عقل سے بعید نہیں۔
➋ بائبل میں سلیمان علیہ السلام کے لیے سات سو مملوکات اور تین سو بیویوں کا ثبوت ملتا ہے۔
سلاطين : 1 ، باب : 11 ، آیت 1-5
اگر صحیح حدیث سے سو بیویوں کا ثبوت مل جائے تو پھر اس پر اعتراض کیوں؟
➌ تعداد (سو یا ننانوے) کے تفاوت سے حدیث میں اضطراب پیدا نہیں ہوتا، اس کی دو وجوہ ہیں:

اول:

عدد کے مفہوم مخالف کے بارے میں اہل علم کا اتفاق ہے کہ یہ معتبر نہیں، یعنی تھوڑے عدد کے ذکر سے زیادہ عدد کی نفی لازم نہیں آتی۔

دوم:

یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کسی راوی نے بیویوں اور لونڈیوں کو اکٹھا شمار کیا ہو اور کسی نے صرف بیویوں کو شمار کیا ہو اور کسی نے صرف ان کو شمار کیا ہو جو حالت طہر میں تھیں تو اس طرح اضطراب ختم ہو سکتا ہے۔
دوسرے اعتراض کا جواب یہ ہے کہ دانشمندوں نے کہا ہے: ”کار پاکاں را قیاس از خود مگیر۔“ مقصد یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے معجزات برحق ہیں اگرچہ وہ ہماری عقل سے ماورا ہوں۔ حدیث میں وارد ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تیس اور ایک دوسری روایت کے مطابق چالیس مردوں کی طاقت عطا کی گئی ہے۔
السنن الكبرى للبيهقي : 54/7
ابن حجر رحمہ اللہ نے نقل کیا ہے: انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم یہ بات کہا کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تیس مردوں اور دوسری روایت کے مطابق چالیس مردوں کی طاقت دی گئی تھی۔ ابو نعیم نے باب صفة الجنة میں مجاہد کی سند سے ایسے نقل کیا ہے، اور آخر میں فرمایا: اس سے جنتی مرد مراد ہیں۔ اور مسند احمد اور سنن نسائی کی روایت جسے امام حاکم نے صحیح قرار دیا ہے، زید بن ارقم رضی اللہ عنہ مرفوع بیان کرتے ہیں کہ جنتی مرد کو سو آدمیوں کے کھانے پینے اور جماع کرنے کی قوت دی جائے گی تو اس حساب سے معلوم ہوا کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تین چار ہزار مردوں کی قوت دی گئی تھی۔
فتح الباري : 324/6
اور مرد سے جنتی شخص مراد ہے جس کی قوت سو آدمیوں کی ہوگی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں تین ہزار یا چار ہزار مردوں کی طاقت ہو تو اس کے لیے ایک رات میں سو بیویوں سے ہم بستری کرنا عقل سے بعید نہیں۔