یہ اقتباس فضیلتہ الشیخ عبدالسلام رُستمی کی کتاب انکار حدیث سے انکار قرآن تک سے ماخوذ ہے۔
حدیث 2: موسیٰ علیہ السلام کا ملک الموت کو طمانچہ مارنا
صحيح البخاري، أحاديث الأنبياء، باب وفاة موسى حديث : 3407
جواب :
اس حدیث میں واضح طور پر موجود ہے کہ ملک الموت انسانی شکل میں آیا اور انہیں (موسیٰ علیہ السلام سے) کہا کہ میں تمہیں مارنے کے لیے بھیجا گیا ہوں۔ موسیٰ علیہ السلام نے انہیں (ملک الموت کو) نہ پہچانا اور اسے طمانچہ مار دیا۔ ظاہر ہے کہ اگر کوئی شخص کہے کہ میں تجھے مارنے آیا ہوں تو اس کے ساتھ اس طرح کا سلوک کیا جا سکتا ہے لیکن جب وہ دوسری مرتبہ آیا تو موسیٰ علیہ السلام نے اسے پہچان لیا اور سر تسلیم خم کر دیا۔