قاضی کا منصب طلب کرنے، عدل سے فیصلہ کرنے اور ظالم کی مدد کی ممانعت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

كتاب الأقضية

قاضی کا منصب طلب کرنے کی ممانعت

① سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من ابتغى القضاء وسأل فيها شفعاء وكل إلى نفسه، ومن أكره عليه أنزل الله عليه ملكا يسدده
”جو شخص قاضی کے منصب کی خواہش رکھے اور اس بارے میں سفارش تلاش کرے تو اسے اس کے نفس کے سپرد کر دیا جاتا ہے اور جسے یہ منصب زبردستی دیا جائے تو پھر اللہ اس پر ایک فرشتہ نازل کر دیتا ہے جو اسے درست اور سیدھا رکھتا ہے“۔
ابوداؤد، كتاب الاقضية 3578۔ ترمذی، کتاب الاحكام 6324۔ الفاظ ترمذی کے ہیں۔ مسند احمد، باقی مسند المكثرين 270/3۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من طلب قضاء المسلمين حتى يناله ثم غلب عدله جوره فله الجنة ، وإن غلب جوره عدله فله النار
”جو شخص مسلمانوں کا قاضی بننا چاہے حتی کہ وہ اس منصب پر فائز بھی ہو جائے اور پھر اس کا عدل اس کے ظلم پر غالب آجائے تو اس کے لیے جنت ہے اور اگر اس کا ظلم اس کے عدل پر غالب آ جائے تو اس کے لیے جہنم ہے“۔
ابوداؤد، کتاب الاقضية 3575۔
③ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من جعل قاضيا بين الناس فقد ذبح بغير سكين
”جس شخص کو لوگوں کا قاضی بنا دیا گیا وہ تو چھری کے بغیر ذبح کر دیا گیا“۔
ابوداؤد، کتاب الاقضية 3572۔ ترمذى، كتاب الاحكام 1325۔
④ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من ولي القضاء أو جعل قاضيا بين الناس فقد ذبح بغير سكين
”جسے منصب قضاء دے دیا گیا یا جسے لوگوں کا قاضی بنا دیا گیا، وہ تو چھری کے بغیر ذبح کر دیا گیا۔“
ابوداؤد، كتاب الأقضية۔ ترمذى، كتاب الاحكام۔

عدل سے فیصلہ کرنے کے متعلق احکامات

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، فرمایا:
سبعة يظلهم الله فى ظله يوم القيامة لا ظل إلا ظله : إمام عادل ، وشاب نشأ فى عبادة الله ، ورجل قلبه معلق بالمساجد ، ورجلان تحابا فى الله اجتمعا عليه وتفرقا عليه ، ورجل دعته امرأة ذات منصب وجمال فقال: إني أخاف الله ، ورجل تصدق بصدقة فأخفاها حتى لا تعلم شماله ما تنفق يمينه ، ورجل ذكر الله خاليا ففاضت عيناه
”اللہ قیامت کے دن سات قسم کے لوگوں کو اپنے سائے تلے جگہ نصیب کرے گا جب اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں ہو گا۔ عادل حکمران، وہ نوجوان جو اللہ کی عبادت میں پروان چڑھا، وہ آدمی جس کا دل مسجد کے ساتھ معلق رہتا ہے، دو آدمی جو آپس میں اللہ کی رضا کی خاطر محبت کرتے ہیں وہ اس پر ملتے ہیں اور اسی بنیاد پر جدا ہوتے ہیں، وہ آدمی جسے منصب و جمال والی عورت برائی کی دعوت دے تو وہ کہے میں اللہ سے ڈرتا ہوں، وہ آدمی جو صدقہ کرتا ہے تو اسے اس قدر مخفی رکھتا ہے کہ اس کے بائیں ہاتھ کو پتہ نہیں ہوتا کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے اور وہ آدمی تنہائی میں اللہ کا ذکر کرے تو اس کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو جائیں“۔
بخاری، کتاب الزكاة 6806،1423۔ مسلم، كتاب الزكاة 1031۔
② سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن المقسطين عند الله على منابر من نور الذين يعدلون فى حكمهم وأهليهم وما ولوا
”انصاف کرنے والے اللہ کے ہاں نور کے منبروں پر ہوں گے جو اپنے فیصلوں، اپنے اہل و عیال اور اپنے ماتحتوں کے درمیان عدل کرتے ہیں۔“
مسلم، كتاب الامارة 1827 مسند احمد، مسند المكشرين من الصحابه 2/ 160۔
③ سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
أهل الجنة ثلاثة : ذو سلطان مقسط موفق، ورجل رحيم رقيق القلب لكل ذي قربى ومسلم عفيف متعفف ذو عيال
”جنتی تین قسم کے ہیں: انصاف کرنے والا توفیق یافتہ کامیاب و با مراد بادشاہ، مہربان آدمی جو ہر رشتے دار کے لیے دل میں نرم گوشہ رکھتا ہے، اور عیال دار پاک دامن مسلمان جو سوال کرنے سے بچتا ہے“۔
مسلم، كتاب الجنة وصفة نعيمها و أهلها 2865۔ مسند احمد، مسند الشاميين 4 / 162۔

ظالم کی مدد کرنے کی ممانعت

① سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
من أعان على خصومة بظلم فقد باء بغضب من الله
”جس شخص نے کسی جھگڑے میں ناجائز مدد کی تو وہ اللہ کی ناراضی کا مستحق ٹھہرا۔“
ابو داؤد، کتاب الاقضية 3598۔ ابن ماجه، کتاب الاحکام 2320۔