سجدوں میں بازو بچھانے کی ممانعت، رکوع و سجود کو پورا کرنا اور نماز میں توجہ کے احکام

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

سجدوں میں بازو بچھانے کی ممانعت

① سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اعتدلوا فى السجود ولا يبسطن أحدكم ذراعيه انبساط الكلب
”سجدوں میں اعتدال و اطمینان حاصل کرو اور تم میں سے کوئی اپنے بازو کو کتے کی طرح نہ بچھائے“۔
بخاری، کتاب مواقيت الصلوة 532۔ مسلم، كتاب الصلوة 493/233۔

رکوع و سجود کو پورا کرنا اور اس کے احکامات

① سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أتموا الركوع والسجود
”رکوع و سجود کو پورا کرو“۔
مسلم، كتاب الصلوة 425/111۔
② سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
أتموا الركوع والسجود فوالذي نفسي بيده إني أراكم من بعد ظهري إذا ما ركعتم وإذا ما سجدتم
”رکوع و سجود کو پورا کرو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جب تم رکوع و سجود کرتے ہو تو میں تمہیں اپنی پشت کے پیچھے سے دیکھتا ہوں“۔
بخاری، كتاب الأيمان والنذور، حديث 6644۔

جو چیز نماز سے توجہ ہٹا دے اسے زائل کرنا اور اس کے متعلق احکامات

① سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی بنوائی اسے پہنا، فرمایا:
شغلني هذا عنكم منذ اليوم، إليه نظرة وإليكم نظرة
”اس نے آج میری توجہ تم سے ہٹائے رکھی، میں کبھی اسے دیکھتا اور کبھی تمہیں دیکھتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھینک دیا“۔
النسائی، كتاب الزينة، حديث 5291، روایت حسن ہے۔ مسند احمد 322/1۔
② سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک منقش پردہ تھا جس کے ساتھ انہوں نے اپنے گھر کی ایک جانب کو ڈھانپ رکھا تھا، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا:
أميطي عني، فإنه لا تزال تصاويره تعرض لي فى صلاتي
”اسے مجھ سے دور کر دو اس لیے کہ میری نماز کے دوران اس کی تصاویر میرے سامنے آتی رہی ہیں“۔
بخاری، کتاب اللباس، حدیث 5959۔

فرائض کے ذریعے اللہ کا تقرب

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الله تعالى قال: من عادى لي وليا فقد آذنته بالحرب، وما تقرب إلى عبدي بشيء أحب إلى مما افترضته عليه، ولا يزال عبدي يتقرب إلى بالنوافل حتى أحبه، فإذا أحببته كنت سمعه الذى يسمع به، وبصره الذى يبصر به، ويده التى يبطش بها، ورجله التى يمشي بها، وإن سألني لأعطينه، ولئن استعاذني لأعيذنه
”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جس نے میرے ولی (دوست) سے عداوت رکھا میں اس سے اعلانِ جنگ کرتا ہوں۔ میرا بندہ میری جس پسندیدہ چیز کے ذریعے میرا قرب حاصل کر سکتا ہے وہ میرے فرائض ہیں جو میں نے اس پر فرض کیے ہیں۔ میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ میں اسے محبوب بنا لیتا ہوں۔ پس جب میں اسے محبوب بنا لیتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس کے ذریعے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس کے ذریعے وہ چلتا ہے۔ اگر وہ مجھ سے سوال کرتا ہے تو میں اسے دے دیتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے پناہ طلب کرتا ہے تو میں اسے پناہ دے دیتا ہوں“۔
بخاری، کتاب الرقاق، باب التواضع 6502۔