نبی کریمﷺ، آل محمد اور عام مسلمانوں پر درود بھیجنے کا حکم

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب الجواب الباہر فی زوار المقابر سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ شیخ عطا اللہ ثاقب نے کیا ہے۔

عام مسلمانوں پر صلوۃ (درود)

اس میں کسی کو اختلاف نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بذات خود دوسروں کے لیے رحمت کی دعاء مانگا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَصَلِّ عَلَيْهِمْ ۖ
”ان کے حق میں دعائے رحمت کرو۔“
(9-التوبة:103)
صحیحین میں روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعاء کی کہ:
اللهم صل على آل أبى أوفى
”اے اللہ! ابی اوفی کی آل پر رحمت نازل فرما۔“
(صحيح بخاري كتاب الزكاة : باب صلاة الامام و دعائه لصاحب الصدقة حديث : 1497 ، صحيح مسلم كتاب الزكاة : باب الدعاء لمن اتى بصدقة حديث : 1078)
ایک دفعہ ایک عورت نے آکر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرے اور میرے خاوند کے لیے دعاء فرمائیے۔ تو آپ نے یوں دعاء کی کہ:
صلى الله عليك وعلى زوجك
”اللہ تعالیٰ تجھ پر اور تیرے خاوند پر رحمت نازل فرمائے۔“
(مسند احمد 3/ 398 ، سنن ابی داؤد کتاب الوتر : باب الصلاة على غير النبي حديث : 1533)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر صلوۃ (درود)

اس میں بھی کسی کو اختلاف نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آل کے لیے بھی اسی طرح طلب رحمت کی دعاء فرمایا کرتے تھے جیسے آپ نے امت کو تعلیم دی تھی۔ آپ کے تعلیمی کلمات یہ ہیں:
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَعَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَعَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ
”اے اللہ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما جیسے تو نے ابراہیم پر اور ان کی آل پر رحمت نازل کی۔ بے شک تو حمید و مجید ہے اور محمد اور ان کی آل پر برکت نازل فرما جیسے تو نے ابراہیم اور ان کی آل پر برکت نازل کی بے شک تو حمید و مجید ہے۔“
(صحيح بخاري كتاب احاديث الانبياء : باب 10 حديث : 3370 ، صحيح مسلم كتاب الصلاة : باب الصلاة على النبي بعد التشهد حديث : 408)
اگر کوئی شخص انفرادی طور پر کسی کو صلوۃ کہتا ہے جیسے ”صلی اللہ علی ابی بکر، صلی اللہ علی عمر، صلی اللہ علی عثمان یا صلی اللہ علی علی“ تو اس میں دو صورتیں ہیں۔
➊ پہلی یہ کہ جائز ہے کیونکہ امام احمد نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے اس قول سے استدلال کیا ہے جس میں انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور اس سے کہا تھا کہ صلی اللہ علیک۔ امام احمد کے جمہور اصحاب جیسے قاضی ابی یعلی، ابن عقیل اور الشیخ عبدالقادر بھی اس کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس باب میں انہوں نے کسی اختلاف کا تذکرہ نہیں کیا۔
➋ دوسری صورت منع کی ہے۔ امام مالک اور امام شافعی کے اصحاب میں سے ایک گروہ نے منع ہی لکھا ہے۔ اور ہمارے جد امجد ابوالبرکات نے بھی اپنی کتاب کبیر میں یہی کہا ہے ان کی دلیل سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا وہ قول ہے جس میں وہ فرماتے ہیں کہ:
لا أعلم الصلوة تنبغي من أحد على أحد إلا على رسول الله
”میں نہیں سمجھتا کہ رسول مکرم کے علاوہ کسی کی طرف سے کسی اور کو مستحق صلوۃ گردانا جائے۔“
نے فضل الصلاة على النبي صلی اللہ علیہ وسلم القاضي اسمعیل
وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جو لوگ رسول اللہ کے علاوہ کسی اور پر صلوۃ کو ممنوع قرار دیتے ہیں۔ ان کا نقطہ نظر یہ ہے کہ اگر رسول اللہ کے سوا کسی اور پر صلوۃ بھیجی جائے تو اس کے مستحق بھی رسول اللہ ہی ہوں گے۔ البتہ تبعاً دوسرے پر اس کا اطلاق ہو سکتا ہے کیونکہ جو چیز اولاً جائز نہ ہو وہ تبعاً جائز ہوسکتی ہے۔

رسول اللہ پر صلوۃ پڑھنا واجب اور عام مسلمانوں پر پڑھنا مستحب

جن لوگوں نے اس کو جائز قرار دیا ہے وہ کہتے ہیں کہ کتاب وسنت میں اس کی نفی نہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے قول سے استدلال کرتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ رسول اللہ کے سوا کسی کے لیے واجب نہیں ہے۔ آپ کے لیے وجوب کی تخصیص امر کی بنا پر ہے جواز و استحباب کی بنا پر نہیں۔
ایک دلیل یہ بھی دیتے ہیں کہ مومنین کے لیے ملائکہ دعاء کرتے ہیں جیسے صحیحین میں مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أن الملائكة تصلى على أحدكم ما دام فى مصلاه
”بے شک ملائکہ تم میں سے اس شخص کے لیے رحمت کی دعاء کرتے رہتے ہیں جب تک وہ اپنی جانماز کی جگہ پر بیٹھا رہتا ہے۔“
(صحيح بخاري كتاب الاذان : باب فضل صلاة الجماعة حديث : 247 ، صحيح مسلم كتاب المساجد : باب فضل الصلاة المكتوبة في جماعة حديث : 272/ 649 )
لہذا جب ایک مؤمن کے لیے فرشتے طلب رحمت کی دعاء کریں اور اللہ تعالیٰ اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے تو ایک مؤمن کے لیے کیسے ناجائز ہوگا کہ وہ اپنے مؤمن بھائی کے لیے طلب رحمت کی دعاء نہ کرے؟

اہل بدعت کی اصلاح

رہا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول: تو یہ ان اہل بدعت کے لیے ہے جو عام مومنین کو چھوڑ کر صرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لیے صلوۃ کے قائل ہیں، جو بالاتفاق بدعت ہے۔ یہ بدعتی لوگ بنی ہاشم کے تمام افراد اور حسن، علی و حسین اور ان کی ازواج کے تمام افراد کے حق میں رحمت کی دعاء نہیں کرتے۔ حالانکہ صحیحین میں یہ الفاظ بصراحت موجود ہیں:
اللهم صل على محمد وعلى أزواجه وذريته
”اے اللہ! محمد اور آپ کی ازواج مطہرات اور آپ کی اولاد پر رحمت نازل فرما۔“
(صحيح بخاري كتاب احاديث الأنبياء : باب 10 حديث : 326 ، صحيح مسلم كتاب الصلاة : باب الصلاة على النبي بعد التشهد حديث : 407)
اس روایت کے بعد کسی شخص کے پاس کوئی جواز نہیں کہ وہ اہل بیت میں سے چند افراد کو چھوڑ کر بعض کے لیے دعاء کرے یا… چند مومنین کو دعاء کے لیے مخصوص کرے۔