مضاربت، شراکت اور سرمایہ کاری کے شرعی اصول

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی کتاب اسلام میں حلال و حرام سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد طاھر نقاش صاحب نے کیا ہے۔

محنت اور سرمایہ کا تعاون

بعض لوگ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کے مطابق انسانوں کو اپنی بخششوں سے نوازا ہے۔ چنانچہ کتنے ہی لوگوں کے اندر کاروبار تجارت کی اہلیت اور صلاحیت موجود ہوتی ہے لیکن ان کے پاس دولت نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس کچھ دوسرے لوگوں کے پاس دولت ہوتی ہے لیکن کاروباری صلاحیت کا فقدان ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جس شخص کے پاس مال ہے وہ اپنا مال صاحب صلاحیت کے حوالہ کیوں نہیں کرتا کہ وہ محنت کے ذریعہ اس کو نفع بخش بنائے اور صاحب مال اپنے مال کے عوض منافع میں حصہ دار ہو اس طرح دونوں فائدہ حاصل کر سکتے ہیں؟
اس کے جواب میں ہم عرض کریں گے کہ اسلامی شریعت نے سرمایہ اور صلاحیت یا مال اور محنت کے درمیان تعاون سے ہرگز نہیں روکا ہے۔ بلکہ اس سلسلے میں عدل کی بنیاد پر اور صحیح نہج پر تعاون کی صورت پیدا کی ہے۔ چنانچہ اگر صاحب مال اپنے ساتھی کے ساتھ شراکت کا معاملہ کرنا چاہتا ہو تو اسے شراکت کی ذمہ داری اس کے جملہ نتائج کے ساتھ قبول کرنی چاہیے۔ اسی بنا پر اسلامی شریعت نے اس قسم کے معاملہ میں، جسے فقہاء مضاربت یا قراض کہتے ہیں یہ شرط عائد کی ہے کہ معاملہ کرنے والے دونوں فریق نفع اور نقصان میں شریک ہوں اور اس کا تناسب وہ آپس میں طے کر لیں۔ مثلاً نصف یا ایک تہائی یا ایک چوتھائی ایک فریق کے لیے اور بقیہ حصہ دوسرے فریق کے لیے۔
اس طرح معاملہ طے ہو جانے کے بعد کاروبار میں نفع ہونے کی صورت میں معاہدہ کے مطابق وہ منافع تقسیم کر لیں گے۔ اور خسارہ ہونے کی صورت میں خسارہ منافع میں سے منہا کر لیا جائے گا۔ لیکن اگر منافع سے زیادہ خسارہ ہو تو وہ سرمایہ میں سے منہا کر لیا جائے گا، اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ہے کہ صاحب مال کو اپنے سرمایہ سے خسارہ برداشت کرنا چاہیے کیونکہ اس کے شریک کار کو بھی اپنی محنت اور کوشش کا خسارہ برداشت کرنا پڑتا ہے۔
یہ ہے اس معاملہ میں اسلام کا قانون۔ رہی یہ صورت کہ صاحب مال کے لیے نفع کی حد بندی کی جائے اور اس کی ضمانت دی جائے کہ خواہ نفع ہو یا نقصان، اسے مقررہ منافع ملتا ہی رہے گا تو یہ بات صریحاً عدل کے خلاف ہے اور صلاحیت و محنت کے مقابلہ میں سرمایہ کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دینے کے مترادف ہے۔ نیز یہ ان قوانین حیات کے بھی خلاف ہے جو انسان کے لیے نفع کا بھی سامان کرتے ہیں اور نقصان کا بھی۔ اور اس سے اس رجحان کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے کہ کمائی یقینی طور پر حاصل ہو اور اس کے لیے نہ محنت کرنے کی ضرورت ہو اور نہ خطرہ مول لینا پڑے۔ یہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے خبیث سود ہی ہے۔
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ثابت رحمہ اللہ کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزارعت (بٹائی پر زمین کا کاروبار) سے منع فرمایا ہے اور کرائے پر کام کرنے کی اجازت دی ہے۔ فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں۔
مسلم ہی کے لیے (صفحہ 22 / ج 5) میں حنظلہ بن قیس رحمہ اللہ کی سند سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے زمین کرائے پر دینے کے بارے میں دریافت کیا تو رافع رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرائے پر دینے کی ممانعت فرمائی ہے۔ میں نے عرض کیا کہ سونے یا چاندی کے عوض زمین کرائے پر دینے کے بارے میں کیا خیال ہے، سیدنا رافع رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ منع کرنے کی وجہ یہ ہے کہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جہاں کھیتی کو سیرابی اچھی ملتی وہاں سے اجرت پر کھیتی باڑی کا کام کرتے تھے۔ ہوتا یوں کھیتی کا ایک حصہ ہلاک ہو جاتا ہے یہ حصہ سلامت رہتا یا ایک حصہ سلامت رہتا دوسرا ہلاک ہو جاتا تو اس سے منع کر دیا گیا، مگر جب کھیتی کی ضمانت معلوم ہو یعنی ساری کھیتی سے جتنی بھی پیداوار ہو، اس کا حصہ (دوسرا یا تیسرا) مقرر کر لیا جائے تو پھر کوئی حرج نہیں۔
ایک روایت میں ہے کہ ہم زمین بٹائی پر دیا کرتے تھے اس میں ہم زمین کا حصہ متعین کر لیتے کہ یہ میرا حصہ ہوگا اور یہ فلاں کا ہوگا۔ بعض اوقات ایک حصہ زمین پیداوار لاتا اور دوسرا حصہ نہ لاتا تو اس طرح نقصان ہو جاتا تھا، تو ہمیں اس سے روک دیا گیا۔ ہاں اگر چاندی وغیرہ سے (یعنی ٹھیکہ پر) ہو تو پھر ممانعت نہ تھی۔
میں کہتا ہوں : کہ یہ حدیث واضح دلالت کرتی ہے کہ زمین کو کرائے پر دینا جائز ہے کیونکہ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا کہ زمین کو اجرت پر کھیتی باڑی کے لیے لینا کوئی حرج والی بات نہیں اور یہ کہنا کہ سونے اور چاندی کے عوض زمین کی کھیتی باڑی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ یہ بات ذہن نشین کرلیں اور پھر مؤلف کے اس قول کے درمیان موازنہ کرنا کہ زمین کو نقدی یا کرائے پر دینا کے تحت بحث کرتے ہوئے جو وہ کہیں گے کہ زمین کو نقدی پر کرائے کے لیے نہ دینا ہی منقول و معقول کے مطابق ہے۔ پھر آپ کے سامنے واضح ہوگا کہ درست موقف و فکر کیا ہے اور غلط کیا ہے۔ ان شاء الله تعاليٰ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو بٹائی پر دینے سے منع فرمایا ہے۔
مسلم کتاب البیوع باب فی المزارعۃ ح : 1549
یعنی اس طرح معاملہ کرنا کہ ایک فریق کو زمین کے مخصوص حصہ کا غلہ ملے یا اس کے لیے غلہ کی مقدار متعین کر لی جائے کیونکہ یہ معاملہ سود اور جوئے سے مشابہت رکھتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس مقدار سے زیادہ پیداوار نہ ہو اور ہو سکتا ہے کہ سرے سے پیداوار ہی نہ ہو۔ ایسی صورت میں ایک فریق پوری طرح فائدے میں رہے گا اور دوسرا فریق پوری طرح گھاٹے میں۔ ظاہر ہے کہ یہ صورت غیر منصفانہ ہے۔
مزارعت کی یہ فاسد شرط، میں سمجھتا ہوں فقہاء کے اس اجماع کی بنیاد پر ہے کہ مضاربت کے معاملہ میں نفع و نقصان کا لحاظ کیے بغیر ایک فریق کے لیے قطعی منافع کی شرط نہیں ہونی چاہیے جس علت کی بنا پر مضاربت کا معاملہ فاسد قرار پاتا ہے اسی طرح مزارعت (بٹائی) کا معاملہ بھی فاسد قرار پاتا ہے۔ چنانچہ فقہاء کہتے ہیں : اگر ایک فریق مقررہ روپے کے نفع کی شرط عائد کرتا ہے اور کاروبار میں نیچے اتنا ہی نفع حاصل ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ پورا نفع ایک ہی فریق لے جائے گا بلکہ امکان اس بات کا ہے کہ سرے سے نفع ہی نہ ہو۔ اور اگر زیادہ نفع حاصل ہوا تو جس نے مقررہ درہم کے نفع حاصل کرنے کی شرط پر معاملہ کیا ہے وہ گھاٹے ہی میں رہے گا۔
(المغنی – ج : 5 ص : 34)
مذکورہ علت اسلام کی روح کے عین مطابق ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی شریعت کے تمام معاملات محکم واضح اور عدل پر مبنی ہیں۔

سرمایہ لگانے والوں کا اشتراک

جس طرح انفرادی طور پر اپنی مرضی سے اپنے مال کو کسی مباح کام میں لگانا اور اس سے فائدہ اٹھانا نیز اپنا مال کسی تجربہ کار اور باصلاحیت شخص کے حوالہ کر کے اس کے ساتھ مضاربت کا معاملہ کرنا جائز ہے اسی طرح یہ بھی جائز ہے کہ سرمایہ لگانے والے اصحاب کسی صنعتی یا تجارتی فرم یا کسی اور کاروبار میں باہم اشتراک کر لیں۔ ویسے بھی بہت سے کاروبار اور اسکیمیں ایسی ہوتی ہیں کہ ان کے لیے بہت سے ہاتھوں، دانشوروں اور کافی سرمایہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور یہ ضرورت باہمی تعاون اور اشتراک ہی کے ذریعہ پوری ہو سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى
”نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں تعاون کرو۔“
(سورۃ المائدة : 2)
اور ہر وہ عمل جو افراد یا معاشرہ کی بھلائی کا باعث یا شر کو دفع کرنے والا ہو، وہ نیکی اور تقویٰ کا کام ہے بشرطیکہ اس کو نیک نیتی کے ساتھ انجام دیا جائے۔
اسلام اشتراک کو نہ صرف جائز بلکہ باعث برکت قرار دیتا ہے اور دنیا میں معونت الہی اور آخرت میں اجر کا وعدہ کرتا ہے بشرطیکہ جواز کے دائرہ میں رہ کر سود، دھوکہ بازی، ظلم، لالچ اور خیانت سے پوری طرح اجتناب کرتے ہوئے شراکت کا کاروبار کیا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی کاروباری شرکاء کے بارے میں فرمایا ہے :
يد الله على الشريكين ما لم يخن أحدهما صاحبه فإذا خان احدهما صاحبه رفعها عنهما
”اللہ کا ہاتھ اشتراک کرنے والوں پر ہے بشرطیکہ وہ ایک دوسرے کی خیانت نہ کریں۔ لیکن اگر کوئی شریک اپنے ساتھی کے ساتھ خیانت کا معاملہ کرتا ہے تو اللہ اپنا ہاتھ اٹھا لیتا ہے۔“
سنن الدار قطنی : 3/ 35 و اسنادہ ضعیف
اللہ کے ہاتھ سے مراد اس کی توفیق اعانت اور برکت ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب سے روایت کرتے ہیں کہ وہ فرماتا ہے :
أنا ثالث الشريكين ما لم يخن أحدهما صاحبه فإذا خان احدهما صاحبه خرجت من بينهما وجاء الشيطان
”دو اشتراک کرنے والوں کے ساتھ تیسرا میں ہوتا ہوں، جب تک کہ ایک شریک دوسرے کی خیانت نہیں کرتا، لیکن جب کوئی خیانت کرتا ہے تو میں ان کے درمیان سے نکل جاتا ہوں اور شیطان وہاں پہنچ جاتا ہے۔“
ابو داود کتاب البیوع باب فی الشركۃ ح : 3383 ، مستدرک حاکم : 52/2 اسنادہ ضعیف