انصار سے محبت، تکلیف دہ بات پہنچانے اور صحابہ سے بغض کی ممانعت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

انصار سے محبت کے متعلق احکامات

① سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انصار کے بارے میں بیان کرتے ہوئے سنا:
لا يحبهم إلا مؤمن ولا يبغضهم إلا منافق، فمن أحبهم أحبه الله ومن أبغضهم أبغضه الله
”صرف مومن ان سے محبت کرے گا اور صرف منافق ان سے بغض رکھے گا۔ پس جو شخص ان سے محبت کرے گا تو اللہ اس سے محبت کرے گا، اور جو ان سے بغض رکھے گا تو اللہ اس سے بغض رکھے گا۔“
بخاری، کتاب المناقب 3783، مسلم، کتاب الایمان 75، ترمذی، کتاب المناقب 3900۔
② سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الإيمان حب الأنصار، وآية النفاق بغض الأنصار
”انصار سے محبت ایمان ہے اور انصار سے بغض رکھنا نفاق کی علامت ہے۔“
بخاری، کتاب المناقب 3784، مسلم، کتاب الایمان 74، مسند احمد، باقی مسند المکثرین 3/ 130۔

تکلیف دہ بات پہنچانے کی ممانعت

① سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يبلغني أحد منكم عن أحد من أصحابي شيئا فإني أحب أن أخرج إليهم وأنا سليم الصدر
”تم میں سے کوئی میرے کسی صحابی کی کوئی بات مجھ تک نہ پہنچائے، اس لیے کہ میں چاہتا ہوں کہ جب میں ان کے پاس آؤں تو ان کے متعلق میرا سینہ (ہر قسم کی ناراضی سے) محفوظ ہو۔“
ابو داؤد، کتاب الادب 4860۔
اور ترمذی شریف کی روایت میں ہے:
لا يبلغني أحد عن أحد شيئا
”تم میں سے کوئی کسی کے متعلق مجھے کوئی چیز نہ پہنچائے۔“
ترمذی، کتاب المناقب 3896۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بغض رکھنے کی ممانعت

① سیدنا عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
الله الله فى أصحابي، الله الله فى أصحابي، لا تتخذوهم غرضا بعدي، فمن أحبهم فبحبي أحبهم ومن أبغضهم فببغضي أبغضهم، ومن آذاهم فقد آذاني ومن آذاني فقد آذى الله، ومن آذى الله يوشك أن يأخذه
”میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا، میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا، میرے بعد انہیں نشانہ نہ بنا لینا، پس جس نے ان سے محبت کی تو اس نے میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا تو اس نے میرے ساتھ بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھا، اور جس نے انہیں اذیت پہنچائی اس نے مجھے اذیت پہنچائی اور جس نے مجھے اذیت پہنچائی اس نے اللہ کو اذیت پہنچائی، اور جس نے اللہ کو اذیت پہنچائی تو عنقریب ہے کہ اللہ اسے پکڑ لے۔“
ترمذی، کتاب المناقب 3862۔ مسند احمد، اول مسند المدنیین اجمعین 5 / 67، حدیث 20574۔