میت کو قربانی میں شریک کرنا کیسا ہے؟ صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس پروفیسر ڈاکٹر فضل الٰہی کی کتاب مسائل قربانی سے ماخوذ ہے۔

میت کو قربانی میں شریک کرنا

اس بارے میں توفیق الہی سے دو باتیں پیش کی جا رہی ہیں:
⟐ میت کو قربانی میں شریک کرنا درست ہے۔ اس پر دلالت کرنے والی احادیث شریفہ میں سے دو درج ذیل ہیں:
➊ امام مسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت بیان کی ہے:
”أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أمر بكبش أقرن يطأ فى سواد ويبرك فى سواد وينظر فى سواد فأتي به ليضحي به فقال لها: يا عائشة هلمي المدية.
ثم قال: اشحذيها بحجر.
ففعلت ثم أخذها وأخذ الكبش فأضجعه ثم ذبحه ثم قال:
بسم الله اللهم تقبل من محمد وآل محمد ومن أمة محمدﷺ ، ثم ضحي به“

”یقیناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سینگوں والا ایک مینڈھا لانے کا حکم دیا جس کے ہاتھ، پاؤں، پیٹ اور آنکھیں سیاہ ہوں۔ چنانچہ وہ آپ کے پاس لایا گیا تاکہ آپ اس کی قربانی کریں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے عائشہ! چھری لاؤ۔
پھر آپ نے فرمایا: اس کو پتھر پر تیز کرو۔“
انہوں [حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا] نے حکم کی تعمیل کی، پھر آپ نے چھری کو تھاما اور مینڈھے کو ذبح کرنے کے لیے لٹا دیا۔ پھر آپ نے فرمایا:
[جس کا ترجمہ یہ ہے] اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ! اے اللہ! محمد، آل محمد اور امت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے قبول فرمائیے۔“
پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جانور کو ذبح فرمایا۔“
صحيح مسلم، كتاب الأضاحي، باب استحباب الضحية، وذبحها مباشرة بلا توكيل، والتسمية والتكبير، رقم الحديث19.(1967)، 1557/3
آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ قربانی مدینہ طیبہ میں کی اور اس سے پیشتر آپ کی آل اور امت میں سے بہت سے لوگ فوت ہو چکے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سب کو اس قربانی میں شامل فرمایا۔
➋ امام ابو یعلی نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے:
”أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أتي بكبشين أقرنين أملحين عظيمين موجوءين فأضجع أحدهما وقال:
بسم الله والله أكبر عن محمدﷺ وأمته من شهد لك بالتوحيد وشهد لي بالبلاغ“

”یقیناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دو سینگوں والے، چت کبرے، بڑے بڑے خصی مینڈھے لائے گئے۔ آپ نے ان دونوں میں سے ایک کو پچھاڑا اور فرمایا: [جس کا ترجمہ یہ ہے]
اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ، اور اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے اور ان کی امت میں اس شخص کی طرف سے جس نے آپ کی توحید کی گواہی دی اور میرے [پیغام الہی کو] پہنچانے کی شہادت دی۔“
منقول از مجمع الزوائد، كتاب الأضاحي، باب أضحية رسول الله ﷺ، 22/4، حافظ ہیثمی نے تحریر کیا ہے: ”اسے ابو یعلی نے روایت کیا ہے اور اس کی سند( حسن) ہے۔“ (المرجع السابق 22/4)، شیخ البانی نے بھی اس کی سند کو [ حسن] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: إرواء الغليل 251/4)
اس حدیث شریف سے بھی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس قربانی میں امت کے ان سب افراد کو شامل فرمایا جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور آپ کے پیغام حق پہنچانے کی شہادت دے چکے تھے اور ایسے لوگوں میں سے بہت سے حضرات قربانی دینے کے وقت سے پہلے وفات پا چکے تھے۔
⟐جس قربانی میں میت کو زندہ لوگوں کے ساتھ شریک کیا جائے اس کا گوشت قربانی کرنے والے خود بھی کھائیں، مسکینوں کو بھی کھلائیں۔
امام بزار نے حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے کہا:
”كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا ضحى اشترى كبشين سمينين أقرنين أملحين فإذا صلى وخطب أتي بأحدهما وهو فى مصلاه فذبحه ثم قال:
اللهم هذا عن أمتي جميعا من شهد لك بالتوحيد وشهد لي بالبلاغ.
ثم يؤتى بالآخر فيذبحه ثم قال:
اللهم هذا عن محمد وآل محمدﷺ.
فيطعمهما جميعا المساكين ويأكل هو وأهله منهما“

”جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قربانی ( کا ارادہ) فرماتے تو دو فربہ سینگوں والے، چت کبرے مینڈھے خریدتے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز اور خطبہ سے فارغ ہو جاتے تو عید گاہ ہی میں ان دونوں میں سے ایک مینڈھے کو لایا جاتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے ذبح کرتے اور (ذبح کرتے وقت) کہتے:
اے اللہ! یہ میری امت کے ان سب لوگوں کی طرف سے ہے جنہوں نے آپ کی توحید کی گواہی دی اور میرے پیغام (الہی) پہنچانے کی شہادت دی۔
پھر دوسرے کو لایا جاتا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے ذبح کرتے اور (ذبح کرتے وقت) کہتے:
اے اللہ! یہ محمد اور آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے ہے۔
اور آپ ان دونوں مینڈھوں کے گوشت کے مسکینوں کو کھلاتے، خود بھی اس سے تناول فرماتے اور اپنے گھر والوں کو بھی کھلاتے۔“
منقول از مجمع الزوائد، كتاب الأضاحى، باب أضحية رسول الله ﷺ، 21/4-22. حافظ ہیثمی تحریر کرتے ہیں: اسے بزار نے روایت کیا ہے، احمد اور طبرانی نے بھی قریباً اسی طرح اسے روایت کیا ہے اور احمد اور بزار کی سند [حسن] ہے۔ (المرجع السابق 22/4)