قولِ رسول ﷺ پر یقینِ کامل رکھتے ہوئے ایک صحابی شہید ہوئے

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابی عبد الصبور عبد الغفور دامنی کی کتاب فضائل الجہاد سے ماخوذ ہے۔

عن أبى بكر بن عبد الله بن قيس عن أبيه قال سمعت أبى وهو بحضرة العدو يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن أبواب الجنة تحت ظلال السيوف فقام رجل رث الهيئة فقال يا أبا موسى أنت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول هذا قال نعم قال فرجع إلى أصحابه فقال أقرأ عليكم السلام ثم كسر جفن سيفه فألقاه ثم مشى بسيفه إلى العدو فضرب به حتى قتل
”ابو بکر بن عبداللہ بن قیس اپنے والد سے بیان کرتے ہیں، کہتے ہیں میں نے دشمن کی موجودگی میں اپنے والد سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”بیشک جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔ “ یہ سن کر ایک شخص غریب میلا کچیلا کھڑا ہوا اور کہنے لگا: اے ابو موسیٰ! کیا آپ نے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات کہی ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ کہتے ہیں وہ شخص اپنے ساتھیوں کے پاس آیا، کہا: میں تمہیں سلام کرتا ہوں، پھر انہوں نے تلوار کی نیام توڑی اور اسے پھینک دیا، پھر اپنی تلوار لے کر دشمن کی طرف چلا گیا اور دشمن پر حملے کیے یہاں تک کہ وہ شہید ہو گیا۔ “
( صحیح مسلم ) (رواه مسلم: كتاب الامارة باب ثبوت الجنة للشهيد الرقم: 1902)

فوائد مستنبطہ

➊ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ان ابواب الجنة تحت ظلال السيوف“ کا مطلب علماء نے یہ بیان کیا ہے کہ جہاد اور قتال کے معرکے میں حاضر ہونا یہ جنت کا راستہ اور جنت میں داخلے کا ذریعہ ہے۔ (شرح صحیح مسلم)
➋ ایک غریب اور مسکین صحابی کا جذبہ جہاد کس قدر قابلِ ستائش ہے کہ جب انہوں نے یہ یقین کر لیا کہ ”ان ابواب الجنة تحت ظلال السيوف“ (الحدیث) یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے تو پھر جنت کی حرص میں بلا تاخیر میدانِ جہاد میں کود پڑے۔
➌ عملِ خیر کی تحقیق کرنا: حدیث مذکور سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عملِ مرغوب کی تحقیق کرنی چاہیے، جیسا کہ جب اس شخص کو ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے ذریعے قولِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ”ان الجنة تحت ظلال السيوف“ کا علم ہوا تو فوراً اس نے ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے تاکیداً کہا کہ اے ابو موسیٰ! کیا واقعی تم نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔