مرد و عورت کے اختلاط اور ایک دوسرے کی طرف دیکھنے کی ممانعت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

مردوں کے، عورتوں کے درمیان چلنے کی ممانعت

① سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ آدمی دو عورتوں کے درمیان میں چلے۔
ابو داؤد، کتاب الادب 5273۔
② سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا جبکہ آپ مسجد سے باہر تھے اور آدمی راستے میں عورتوں سے گھل مل گئے تھے، فرمایا:
استأخرن فليس لكن أن تحققن الطريق عليكن بحافات الطريق
تم پیچھے ہٹو، تم راستے کے درمیان میں نہ چلا کرو بلکہ تم راستے کے کناروں پر چلا کرو۔
ابو داؤد، کتاب الادب 5272۔
اس کے بعد عورت دیوار کے ساتھ لگ کر چلتی حتی کہ دیوار کے ساتھ لگنے کی وجہ سے اس کا کپڑا دیوار کے ساتھ الجھ جاتا۔

عورتوں کی طرف دیکھنے کی ممانعت

① سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے اچانک اٹھ جانے والی نظر کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اصرف بصرك
اپنی نظر پھیر لو۔
مسلم، کتاب الآداب 2159/45، ابو داؤد، کتاب النکاح 2148، ترمذی، کتاب الادب 2776۔
② سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
يا على لا تتبع النظرة النظرة فإن لك الأولى وليست لك الآخرة
علی! مسلسل نہ دیکھتے رہو، پہلی نظر کا تمہیں حق حاصل ہے، دوسری کا نہیں۔
ابو داؤد، کتاب النکاح 2149، ترمذی، کتاب الادب 2777۔

عورت کا مرد کی طرف دیکھنا منع ہے

① سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی اور اس وقت میمونہ بنت حارث بھی آپ کے پاس تھیں کہ اتنے میں ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ تشریف لائے، یہ حکم حجاب نازل ہونے کے بعد کا واقعہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
احتجبا منه
تم دونوں اس سے پردہ کرو۔ ہم نے عرض کیا، کیا وہ نابینا نہیں ہے؟ وہ ہمیں دیکھتا ہے نہ پہچانتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أفعمياوان أنتما ألستما تبصرانه
کیا تم دونوں بھی نابینا ہو؟ کیا تم اسے نہیں دیکھ رہی ہو؟
ابو داؤد، کتاب اللباس 4112، ترمذی، کتاب الادب 2778۔