میت کی طرف سے مستقل قربانی کرنا
بعض علمائے امت کی رائے میں فوت شدہ شخص کی طرف سے مستقل قربانی کرنا بھی درست ہے۔ انہوں نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے جس کو حضرات ائمہ احمد، ابوداؤد، ترمذی اور حاکم نے حضرت حنش سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے بیان کیا:
”ضحى على بكبشين: كبش عن النبى صلى الله عليه وسلم وكبش عن نفسه وقال: أمرني رسول الله صلى الله عليه وسلم أن أضحي فأنا أضحي أبدا“
”حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دو مینڈھوں کی قربانی کی: ایک مینڈھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے اور ایک مینڈھا اپنی طرف سے، اور فرمایا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ میں ان کی طرف سے قربانی کروں۔ لہذا میں ہمیشہ [ان کی طرف سے] قربانی کرتا رہوں گا۔“
المسند، رقم الحديث 1278، 316/2-317 ( ط: دار المعارف بمصر)؛ وسنن أبي داود، كتاب الضحايا، باب الأضحية عن الميت، رقم الحديث 344/7،2787؛ وجامع الترمذي، أبواب الأضاحي، باب فى الأضحية بكبشين ، رقم الحديث 1528، 465/5 والمستدرك على الصحيحين، كتاب الأضاحي، 229/4 – 230 – الفاظ حدیث المستدرک کے ہیں۔
هذا دليل على أنه لو ضحى عمن مات جاز
” یہ اس بات کی دلیل ہے، کہ اگر کوئی شخص میت کی طرف سے قربانی کرے گا، تو ایسا کرنا جائز ہوگا۔“
شرح الطيبي 1304/4؛ نیز ملاحظہ ہو: مرقاة المفاتيح 569/3
شیخ الاسلام ابن تیمیہ اس بارے میں رقم طراز ہیں:
”وتجوز الأضحية عن الميت كما يجوز الحج عنه والصدقة عنه ويضحي عنه فى البيت ولا يذبح عند القبر أضحية ولا غيرها“
”جس طرح میت کی طرف سے حج اور صدقہ کرنا جائز ہے اسی طرح اس کی طرف سے قربانی کرنا درست ہے۔ میت کی طرف سے قربانی گھر میں کی جائے گی۔ اس کی قبر پر نہ تو قربانی کا جانور ذبح کرنا جائز ہے اور نہ ہی کوئی اور جانور۔“
مجموع الفتاوى 306/26.
بعض علمائے امت میت کی طرف سے مستقل قربانی کرنے کو درست نہیں سمجھتے۔ انہوں نے مذکورہ بالا حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے۔
ملاحظہ ہو: تحفة الأحوذي 65/5 ؛ وهامش مشكاة المصابيح 460/1 ؛ وضعيف سنن أبى داود ص 273؛ و هامش المسند للشيخ شعيب الأرناؤوط وزملائه 206/2.
میت کی طرف سے قربانی کے جواز کے متعلق مذکورہ بالا حدیث سے استدلال کرنے والے حضرات کا موقف یہ ہے کہ یہ حدیث ثابت ہے۔ امام حاکم نے اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔
ملاحظہ ہو: المستدرك على الصحيحين كتاب الأضاحي 230/4
حافظ ذہبی نے ان کی تائید کی ہے۔
ملاحظه هو : التلخيص 230/4.
مشہور مصری محدث شیخ احمد شاکر نے بھی اس حدیث کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔
ملاحظہ ہو : هامش المسند للشيخ احمد شاکر 152/2.
امام ابوداؤد نے اس کے بارے میں سکوت اختیار کیا ہے اور اس پر درج ذیل باب قائم کیا ہے: [باب الأضحية عن الميت] ”میت کی طرف سے قربانی کے متعلق باب“۔
سنن أبی داود کتاب الضحايا، 344/7